Newspaper Articles

What is the difference between ZAB, Benazir Bhutto and other politicians? – by Munno Bhai

Munno Bhai’s article on this topic:

ماں کے ہاتھ کی پکی روٹی اور اپنی پسند کی موت…گریبان…منوبھائی

یہ تو معلوم نہیں کہ ”اقوال زریں“ کیسے وجود میں آتے ہیں مگر یہ عالمی سچائی ضرب المثل بن چکی ہے کہ ”تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کبھی کسی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا“۔ اس میں یہ اضافہ بھی عالمی سچائی کا درجہ رکھتا ہے کہ تاریخ سے سبق حاصل نہ کرنے والے تاریخ کے دہرائے جانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو مسلسل اور متواتر دہراتی چلی جاتی ہے تاریخ کو آگے بڑھانے، وقت کی رفتار تیز کرنے اور تاریخ کو نئی راہوں پر نئی سمت میں چلانے والے لوگ اور حالات تاریخ میں کبھی کبھار آتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پاکستان پیپلز پارٹی کی طرح اپنی طبعی عمر سے بہت زیادہ لمبی زندگی پاتے ہیں بلکہ اپنی شہادت کے بعد کے اکتیس سالوں میں تیسری مرتبہ اپنے ملک پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کے اس قبرستان میں بے شمار سیاسی جماعتیں بہت ہی صغیر سنی میں اپنے بانی رہنماؤں کے کفن اوڑھ کر ابدی نیند سو رہی ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کے ایک معروف سیاسی کردار نے گزشتہ دنوں ایک ٹیلیویژن چینل پر بتایا کہ بھٹو شہید کی پھانسی سے کچھ عرصہ پہلے چند پا کستانی فوجی افسروں نے جو پاکستان کی فوجی وردیوں پر بھٹو کے خون کے دھبے نہیں دیکھنا چاہتے تھے جنرل ضیاء الحق کی جیل کی کال کوٹھڑی سے ذوالفقار علی بھٹو کو اغواء کرکے افغانستان لے جانے کا منصوبہ تیار کیا تھا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی مخالفت عدم تعاون یا انکار کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل نہ ہوسکا۔ یہ سوال کچھ اتنا ضروری نہیں کہ مذکورہ بالا سیاسی کردار کو یہ بات بھٹو کی شہادت کے اکتیس سال بعد کیوں اور کیسے یاد آئی کیونکہ ہمارے بیشتر سیاسی کردار اپنے ملک کے سیاسی حقائق بیان کرنے سے پہلے ان حقائق کی تصدیق یا تردید کرنے والوں کی اس جہان فانی سے رخصتی کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ بلا خوف تردید یہ حقائق ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں منظر عام پر لے آئیں۔

ان حقائق کے پیچھے ایک اور حقیقت کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے ملک کے جرنیلوں کے ہاتھوں مارے جانے کو تیار تھے مگر تاریخ کے ہاتھوں مارے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور ان کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو اس سے بخوبی آگاہ تھیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ مرکنٹائل کلاس سے تعلق رکھنے والے سیاستدان سزائے موت سے بچنے کے لئے کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرسکتے ہیں اور پھر واپس اپنی مرکنٹائل کلاس کی سیاست میں شامل ہونے کے لئے اور تیسری بار اقتدار سنبھالنے کے لئے وطن عزیز میں آسکتے ہیں مگر ورکنگ کلاس کی لیڈر شپ پھانسی کے پھندے کو چومے بغیر موت کے بعد کی سیاسی زندگی حاصل نہیں کرسکتی ہے۔

یقینا یہی وجہ تھی کہ جب لاہور میں کھوسہ صاحب کے گھر میں اپنی شہادت سے پہلے کی آخری میڈیا ملاقات میں ہم (صحافیوں) نے محترمہ بے نظیر شہید سے کہا کہ محترمہ آپ کو قتل کیا جاسکتا ہے اور اس کا شدید اندیشہ ہے تو محترمہ نے جواب دیا ”میں جانتی ہوں مگر اس سے روگردانی نہیں کرسکتی میں موت سے نہیں ڈرتی۔ جب میڈیا کے لوگوں نے کہا کہ محترمہ ملک اور قوم کو اور خاص طور پر جمہوریت کو آپ کی ضرورت ہے تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا ”یہ بھی جانتی ہوں مگر تم بتاؤ کہ میں کیا کروں پاکستان کو چھوڑ دوں، پاکستان کے محنت کشوں اور جیالوں کو چھوڑ دوں، پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ دوں، ذوالفقار علی بھٹو شہید کی بیٹی ہونا چھوڑ دوں“؟ سوچا جا سکتا ہے کہ محترمہ بے نظیر شہید کے اس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوسکتا تھا۔ محترمہ شہید تاریخ کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ سے پہلو تہی نہیں کرسکتی تھیں چنانچہ انہوں نے اپنی شہادت کے ذریعے نئی سیاسی زندگی پائی۔
کہا جاتا ہے کہ غلطی معاف کی جاسکتی ہے مگر غلطی کو دہرانا صرف حماقت ہی نہیں جرم بھی ہے اور غلطی کو دہراتے چلے جانا گناہ ہے جس کی سزا زندگی کے دوران ہی مل سکتی ہے مگر تاریخ کے تقاضے کو پورا کرنا شہادت کے مرحلے سے گزرنے کے بعد سر خرو ہونا ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد شاہنواز، میر مرتضیٰ اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کی صورت میں تاریخ کے تقاضے پورے کرتے چلے جانا ہی اصل سیاست ہے۔

بھٹو اور بھٹو فیملی نے تاریخ کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدے جس انداز میں پورے کئے اس سے متاثر ہمارے بہت سارے سیاستدان تاریخ کے صفحوں پر اپنا نام چھوڑ جانا چاہتے ہیں مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس سلسلہ میں کیا کریں۔ کچھ عرصہ پہلے وکیلوں کی عدلیہ کو آزاد کرانے کی تحریک کے دوران ہمارے صحافت کی دنیا کے ایک نمایاں مدیر نے چیف جسٹس پاکستان کو ایک ملاقات میں تاریخ کے صفحات پر اپنا نام چھوڑ جانے کے سلسلے میں جس مشورے سے نوازا تھا وہ چیف جسٹس کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی طرح ایک انگریزی کالم میں ہمارے ایک تجزیہ نگار نے پاکستان کے منصب اعلیٰ کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اٹھارہویں ترمیم میں پائی جانے والی ایک تجویز میں پاکستان کے جج صاحبان کے انتخابات کرنے والی کمیٹی یا کونسل سے اپنا نام واپس لے لیں گے تو تاریخ میں صحیح معنوں میں اپنا نام درخشاں حروف میں چھوڑ جائیں گے۔ مذکورہ بالا دونوں مشورے جب میرے نوٹس میں لائے گئے تو مجھے بہت اچھے لگے پھر اچانک یاد آیا کہ یہ دونوں کالم نگار حضرات مختلف مواقع پر مجھے بھی ایسے مشورے دے چکے ہیں جن پر عملدرآمد میرے اور میرے بچوں کے بہتر مستقبل کو یقینی نہیں بناتا تھا چنانچہ ان کے ان قیمتی مشوروں کو شکریے کے ساتھ واپس کرنا پڑا کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ تاریخ سے آج تک کسی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور فلسطین کے محمد درویش اپنے پیچھے جو بے پناہ شاعری چھوڑ گئے ہیں اس میں وہ ”آزادی“ کو وہ ”ماں کے ہاتھ کی پکی روٹی کھانے اور اپنی پسند کی موت مرنے کا نام دیتے ہیں اپنی پسند کی موت ہی سیاستدانوں کو ان کی موت کے بعد کی زندگی فراہم کرتی ہے۔ اپنی پسند کی زندگی بسر کرنے والوں میں سے اکثریت کی تاریخ وفات بھی لوگوں کو یاد نہیں ہوتی۔

Source: Jang, 23 Apr 2010

About the author

SK

2 Comments

Click here to post a comment