Original Articles

Bhuttos’ Rendezvous With Death

Shahnawaz, Benazir, Murtaza, Sanam, Nusrat and Zulfikar Ali Bhutto in northern Pakistan

I Have A Rendezvous With Death
— by Alan Seeger

I have a rendezvous with Death
At some disputed barricade,
When Spring comes back with rustling shade
And apple-blossoms fill the air—
I have a rendezvous with Death
When Spring brings back blue days and fair.

It may be he shall take my hand
And lead me into his dark land
And close my eyes and quench my breath—
It may be I shall pass him still.
I have a rendezvous with Death
On some scarred slope of battered hill
When Spring comes round again this year
And the first meadow-flowers appear.

God knows ’twere better to be deep
Pillowed in silk and scented down,
Where Love throbs out in blissful sleep,
Pulse nigh to pulse, and breath to breath,
Where hushed awakenings are dear…
But I’ve a rendezvous with Death
At midnight in some flaming town,
When Spring trips north again this year,
And I to my pledged word am true,
I shall not fail that rendezvous.

About the author

Abdul Nishapuri

3 Comments

Click here to post a comment
  • Here’s another one:

    Loss And Gain
    — by Henry Wadsworth Longfellow

    When I compare
    What I have lost with what I have gained,
    What I have missed with what attained,
    Little room do I find for pride.

    I am aware
    How many days have been idly spent;
    How like an arrow the good intent
    Has fallen short or been turned aside.

    But who shall dare
    To measure loss and gain in this wise?
    Defeat may be victory in disguise;
    The lowest ebb is the turn of the tide.

  • وقتِ اشاعت: Saturday, 29 December, 2007, 17:28 GMT 22:28 PST

    ’ہم نے لڑنا بند نہیں کیا‘

    جاوید سومرو
    بی بی سی اردو، لندن

    حکومت کا دعوی ہے کہ بے نظیر کی موت میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا

    میری ہمیشہ ان سے لڑائی رہتی تھی۔ کبھی وڈیروں کو ٹکٹ دینے پر، کبھی آصف زرداری کو قابو میں نہ رکھنے پر، کبھی بدعنوانی کے الزامات پرکان نہ دھرنے پر، کھبی حسین حقانی کو پارٹی میں جگہ دینے پر تو کبھی پس پردہ جنرل مشرف سے بات چیت کرنے پر۔
    لیکن بے نظیر بھٹو ہمیشہ کہتی تھیں’ آپ میرے شہر کے ہو اور آپ سے مل کر مجھے ہمیشہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کی ناراضگی اس لیے ہے کیونکہ آپ سب کچھ بہت اعلیٰ ویلیوز پر پرکھتے ہیں۔ جو پاکستان کی عملی سیاست میں ہروقت ممکن نہیں ہوتا۔‘

    آپ کی ناراضگی اس لیے ہے کیونکہ آپ سب کچھ بہت اعلیٰ ویلیوز پر پرکھتے ہیں۔ جو پاکستان کی عملی سیاست میں ہروقت ممکن نہیں ہوتا

    بے نظیر
    ہم کبھی متفق نہیں ہوئے۔

    لیکن نہ ایک دوسرے کی عزت کرنا ترک کیا نہ ملنا ترک کیا اور نہ ہی لڑنا۔ ترک کرتے بھی کیسے چند دن یا مہینوں کا تو رشتہ تھا نہیں۔ سترہ برس ہوگئے۔

    سترہ برس قبل 1990 میں ان کا پہلا دور ِاقتدار ختم کیا گیا تھا اور بس اسی وقت میں نے بھی باقاعدہ صحافت کا آغاز کیا تھا۔ ہر نوجوان صحافی کی طرح مجھے بھی وہم تھا کہ قلم سے معاشرے کی تمام خرابیاں ختم کی جا سکتی ہیں اس لیے بے نظیر قلم کی زد میں رہتی تھیں کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کو ٹھیک نہیں کیا۔

    جاوید کیسے سندھی ہو، مہمانوں کو چائے کا نہیں پوچھو گے

    بے نظیر
    بلاول ہاؤس میں ایک ملاقات میں بینظیر بھٹو صاحبہ نے پوچھا ’تمہیں باقی سیاستدانوں کی خرابیاں نظر نہیں آتیں۔ ہر وقت مجھ سے الجھتے رہتے ہو‘۔ میں نے بڑی صاف گوئی سے ان سے کہا کہ دیکھیں دوسرے سیاستدانوں سے ہمیں کوئی امید بھی نہیں ہے تو ان سے شکوہ کیا۔ آپ سے امید ہے تو جھگڑتے ہیں۔ تو مسکرا دیں اور کہا ’تمہاری امید مجھے بہت مہنگی پڑ رہی ہے‘۔

    بینظیر بھٹو صحاحبہ کی شخصیت کے ایسے حساس پہلو میں نے دیکھے کہ کبھی تو شک ہونے لگتا تھا کہ کیا یہ وہی رہنما ہیں جن کے جاہ وجلال کے قصے ان کی پارٹی کے بہت اعلیٰ رہنما اور کئی بیوروکریٹ بیان کرتے رہتے ہیں۔ میں نے سکریٹری سطح کے افسران کے گلے ان کے سامنے خشک ہوتے ہوئے دیکھے اور کئی دبنگ وڈیرے ان کے سامنے آنے سے کتراتے پھرتے تھے۔

    واجد شمس الحسن صاحب کے ساتھ ایک بار لندن میں واقع بش ہاؤس آئیں۔ کافی باتیں ہوئیں، ان کے انٹرویوز ہوئے اور جب جانے لگیں تو کہنے لگیں ’جاوید کیسے سندھی ہو، مہمانوں کو چائے کا نہیں پوچھو گے‘۔

    بہت شرمندگی ہوئی۔ میں نے کہا بی بی چائے کا اس لیے نہیں پوچھا کہ آپ کا بہت وقت لے لیا ہے شاید اب آپ کے پاس وقت نہیں ہو۔ کہنے لگیں ’آپ پوچھیں تو سہی پھر ہماری مرضی‘۔

    شیری رحمان کہتی ہیں کہ بی بی کی موت گولی لگنے سے ہوئی
    میں نے کہا آئیے چلتے ہیں نیچے کیفے ٹیریا میں آپ چائے پیئں، کافی پیئیں یا کچھ اور۔ واجد صاحب بینظیر بھٹو صاحبہ اور میں جیسے ہی کیفے ٹیریا میں داخل ہوئے بینظیر بھٹوکی نظر کیفے کے فرج پر پڑی۔ ایک دم انہوں نے اعلان کیا کہ میں کولڈ ڈرنک پیوں گی۔ پھر میری طرف مڑ کر پوچھا’ کیا یہاں فانٹا ملتی ہے؟ پاکستان میں مجھے فانٹا پینا پسند تھی، یہاں بہت زمانے سے نہیں پی۔‘

    میں نے انہیں بتایا کہ جی ہاں فانٹا ملتی ہے یہ سننا تھا کہ ان کی آنکھوں میں خوشی کی چمک آگئی۔ بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ لپک کر فرج کا دروازہ کھولا اور فٹ سے فانٹا نکال لی۔ انتہائی مسرور دکھائی دے رہیں تھیں۔ میں ہکا بکا انہیں دیکھ رہا تھا۔ کیفے ٹیریا میں کئی انگریز، افریقی اور ایشائی لوگ انہیں جانتے تھے، وہ بھی حیران تھے۔ ابھی انہوں نے میز کرسی پر بیٹھ کر فانٹا کے چند گھونٹ لیے تھے کہ کئی لوگ ان کے پاس آ گئے آٹو گراف لینے۔ انہوں نے مزے سے اپنی کولڈ ڈرنک ختم کی، آٹو گراف دیے اور واپسی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میں انہیں باہر کے دروازے تک چھوڑنے آیا۔

    اسے اتفاق کہیے کہ ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو جب پاکستان واپس آئے تو ان سے بھی میری بہت اچھی دعا سلام ہو گئی۔ صحافتی اعتبار سے میں کبھی ان پر نکتہ چینی کرنے سے نہیں گھبرایا لیکن ذاتی سطح پر کچھ قربت رہی۔

    سنا ہے میر صاحب آپ سے اچھے روابط رکھتے ہیں ان سے کہیں کہ میں ان کی بہن ہوں، برا نہیں چاہتی ان کا، لیکن وہ ضرور بندوق بازوں سے پیچھا چھڑائیں

    بی بی
    ایک مرتبہ کراچی سے لاڑکانہ جانے والے فوکر طیارے میں مرتضیٰ بھٹو ملے۔ مجھے دیکھا تو اپنے ساتھ بیٹھے اپنے ایک کارکن سے کہا تم جاوید کی جگہ بیٹھو اور اسے یہاں بٹھاؤ۔ اس طیارے میں پیپلز پارٹی کے ایک لاڑکانہ کے رہنما بھی تھے۔ انہوں نے غالباً اسی واقعہ کا ذکر بینظیر بھٹو سے کیا۔ کچھ دنوں بعد ان سے ملاقات ہوئی تو کہتی ہیں ’سنا ہے میر صاحب آپ سے اچھے روابط رکھتے ہیں ان سے کہیں کہ میں ان کی بہن ہوں، برا نہیں چاہتی ان کا، لیکن وہ ضرور بندوق بازوں سے پیچھا چھڑائیں‘۔

    میں نے ان سے کہا بی بی یہ آپ کا اندرونی معاملہ ہے۔ آپ ان کی بہن ہیں خود بات کریں۔ ان کو برا لگا لیکن مسکراتے ہوئے کہنے لگیں مجھے پتا ہونا چاہیے آپ سے کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم بعد ازاں میں نے بینظیر بھٹو کی بات چیت پر مشتمل ایک خبر چلائی کہ اگر مرتضیٰ بھٹو ہتھیاروں سے چھٹکارہ حاصل کر لیں تو معاملات ان کے ساتھ بن سکتے ہیں۔

    لیکن بہن بھائی کے درمیان معاملات نہ بن سکے اور پھر وہ رات آئی جب میں کراچی کے مڈ ایسٹ ہسپتال میں تھا، برابر والے کمرے میں مرتضیٰ بھٹو کی لاش پڑی تھی۔ فجر سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم بینظیر بھٹو دہاڑیں مارتی ننگے پیر ہسپتال میں داخل ہوئیں۔ اس زمانے میں کئی لوگ الزام لگا رہے تھے کہ بینظیر بھٹو وزیراعظم ہیں اور انہوں نے بھائی کو مروایا ہوگا۔

    لیکن جس نے بھی بینظیر بھٹو کو اس رات دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا ہوگا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہی خاتون اپنے بھائی کے قتل میں ملوث ہو سکتی ہے۔ بینظیر کی اپنی ہلاکت پر ملک میں کروڑوں لوگ دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں۔ وہ ایک ایسی خاتون کی موت کا سوگ منا رہے ہیں جو سیاست کے تمام گر جاننے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا دل بھی رکھتی تھیں جو انسانی جذبوں سے لبریز تھا۔

    سیاست، نظریات اور فلسفے سب بے معنی ہیں’ صرف زندگی بامعنی ہے‘ وہ معصوم سے جذبے بامعنی ہیں جو زندگی کے رنگوں کی نوید دیتے ہیں۔ میں ایک ایسے ہی جذبے کے اظہار کو روکنے کی جستجو میں ہوں۔ اس بم دھماکے کے بعد سے یہ جستجو جاری تھی لیکن میں ہار گیا ہوں۔ دو آنسو اپنا راستہ بنا چکے تھے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/12/071229_javed_bb.shtml