Newspaper Articles

In defence of the ANP and Kyber Pakhtunkhwa – by Hamid Mir

آئیے ذرا آج اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے خود کو مفتیان کرام اور سپریم کورٹ کے ججوں کی جگہ پر فائز کر رکھا ہے؟

جی ہاں مفتیاں کرام اور جج حضرات ثبوت حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، گواہوں کے بیانات سنتے ہیں، قانون و شریعت کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر جاکر کوئی فتویٰ یا فیصلہ لکھتے ہیں

لیکن ہمیں نہ تو کسی کے خلاف فتویٰ دینے کے لئے ثبوت اور گواہ کی ضرورت ہے نہ ہم قانون کی باریکیوں میں جاتے ہیں بلکہ جس کسی کی رائے ہمیں اچھی نہ لگے یا پھر اس کی شکل اچھی نہ لگے تو ہم اپنے موبائل فون سے چند الفاظ پر مبنی ایس ایم ایس کے ذریعہ فتویٰ جاری کرتے ہیں اور کسی بھی شخص کو جھوٹا ، دغا باز اور رشوت خور قرار دے ڈالتے ہیں۔

معاملہ سیاست کا ہو اور آپ کو ای میل کرنی آتی ہو تو آپ اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو اور انگر یزی میں سیاسی مخالفین کو امریکی سی آئی اے، بھارتی خفیہ ادارے ”را“ اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ایجنٹ قرار دینے میں محض چند منٹ لگائیں گے۔ ہم ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعہ غداری اور ملک دشمنی کے فتوے اس طرح بانٹتے ہیں جس طرح بچوں میں ٹافیاں بانٹی جاتی ہیں۔

ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم مسلمان ہیں اور دوسرے مسلمان پر بغیر ثبوت کے رشوت خوری اور ملک دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے کہیں خود بہت بڑے گناہ کا ارتکاب تو نہیں کررہے ؟

ایس ایم ایس اور ای میل تو دور جدید کی پیداوار ہے لیکن ہم ایک دوسرے پر کرپشن اور ملک دشمنی کے الزامات 1947ء سے لگا رہے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ 1947ء سے پہلے جو ”محب وطن“ انگریزوں
کے ساتھ تھے، 1947ء کے بعد انہوں نے قائداعظم کے ساتھیوں کو غدار قرار دینے کا بزنس شروع کیا اور اس بزنس کے نتیجے میں آدھا پاکستان گنوادیا۔

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ لاہور یا کراچی میں نہیں بلکہ ڈھاکہ میں تشکیل پائی تھی۔ یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ 1937ء میں پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے سر سکندر حیات نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جبکہ بنگال میں مسلم لیگ نے کرشک پرجا پارٹی کے فضل الحق کے ساتھ مل کر حکومت بنالی تھی۔ یہی فضل الحق تھے جنہوں نے 23/مارچ 1940ء کو قرار داد لاہور پیش کی۔ جب سر سکندر حیات نے پنجاب میں مسلم لیگ کا ناطقہ بند کر رکھا تھا تو بنگال میں قائداعظم کو کلکتہ سے ڈھاکہ تک کہیں بھی جلسے جلوس کرنے کی مکمل آزادی تھی۔

بنگال کے بعد مسلم لیگ کی طاقت کا مر کز سندھ بنا۔ 1946ء میں مسلم لیگ نے بنگال اور سندھ میں واضح اکثریت حاصل کی لیکن پنجاب میں کانگریس نے یونینسٹ پارٹی کے خضر حیات ٹوانہ کے ساتھ مل کر حکومت بنالی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر بنگالی مسلمان تحریک پاکستان میں شامل نہ ہوتے تو کیا آپ کو پاکستان ملتا؟ میرا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ پاکستان بنانے میں بنگالیوں کا سیاسی کردار زیادہ تھا۔

پنجاب کے نچلے اور متوسط طبقے کے مسلمان یقیناً قائداعظم کے ساتھ تھے لیکن اکثر جاگیردار قائداعظم کے مخالف تھے۔ جب پاکستان بن گیا تو ان جاگیرداروں نے مسلم لیگ میں شامل ہونا شرو ع کردیا۔ جیسے ہی قائداعظم نے وفات پائی تو پنجاب کے جاگیردار پاکستان کے کرتا دھرتا بن گئے۔

قائداعظم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے لیکن جاگیرداروں نے اسے ذاتی فلاحی مملکت بنادیا۔ سب سے پہلے قائداعظم کے ساتھیوں فضل الحق ، حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمان کو غدار قرار دیا گیا لہٰذا سہروردی نے 1949ء میں عوامی لیگ بنالی۔ خان عبدالغفارخان کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اور کتابیں لکھنے والے خان عبدالقیوم خان نے صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ بن کر سیاسی مخالفین پر غداری کے الزامات لگانے شروع کئے۔

1955
ء میں جنرل ایوب خان کے بھائی سردار بہادر خان نے صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد ون یونٹ اسکیم پیش کی اور پھر جس نے بھی ون یونٹ کی مخالفت کی وہ غدار قرار پایا۔ 1958

ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگادیا۔ جس کسی نے مارشل لاء کی مخالفت کی وہ غدار قرار دیا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا صدارتی الیکشن میں جنرل ایوب خان کے مقابلے پر محترمہ فاطمہ جناح کھڑی تھیں۔ تمام جاگیردار اور وڈیرے فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ کھڑے تھے جبکہ غدار قرار دیئے جانے والے شیخ مجیب اور ولی خان قائداعظم کی بہن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس حافظ صباح الدین جامی نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کیلئے دھونس اور دھاندلی کے علاوہ پیسے کا استعمال کیا گیا۔

قائداعظم کی بہن کو شکست دینے کے بعد ایوب خان کے برخوردار گوہر ایوب خان نے کراچی میں ایک جلوس نکالا اور اس جلوس نے لیاقت آباد میں مادرملت کے حامی غریب مہاجروں پر فائرنگ کی۔

حافظ صباح الدین جامی کے بقول گوہر ایوب خان پر قتل کا مقدمہ درج ہوا جو دبا دیا گیا لیکن اس فائرنگ کے بعد کراچی میں مہاجر پٹھان کشیدگی نے جنم لیا جو آج تک قائم ہے۔

یہی جنرل ایوب خان تھے جن کے دور میں بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا، قرآن پر حلف دیکر بلوچوں سے سرنڈر کروایا گیا بعد میں انہیں گرفتار کرکے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ ملک دشمنی کے فتوے جاری رہے اور اس کی انتہا مارچ 1971ء کا فوجی آپریشن تھا۔ ہم نے پاکستان بنانے والے بنگالیوں پر اتنا ظلم کیا کہ وہ پاکستان کو چھوڑ گئے۔ پھر بھی ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔

ملک دشمنی کے فتوے آج بھی صادر کئے جارہے ہیں۔ اب خیبر پختونخواہ کے حامیوں کو غدار اور امریکی ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے۔ وہ جنہوں نے مادر ملت کے حامیوں پرگولیاں چلائیں۔ آج پھر ہری پور اور ایبٹ آباد کے فسادات میں ملوث ہیں۔ میں ذاتی طور پر نئے صوبوں کے حق میں ہوں لیکن اگر کوئی اپنا حق پرامن جمہوری انداز میں مانگنے کی بجائے بلیک میلنگ کرے اور مخالفین پر جنرل ایوب خان کی طرح غداری کے فتوے لگائے تو میری نظر میں وہ کسی کا دوست نہیں۔

ماضی کے ڈکٹیٹروں کی باقیات 18 ویں تریم کا راستہ روکنے کیلئے ہزارہ صوبہ تحریک کا کندھا استعمال کررہی ہیں اور مخالفین پر غداری کے فتوے لگا رہی ہیں۔ کیا قومی اسمبلی خیبر پختونخواہ کی حمایت کرنے والے دوتہائی سے زیادہ ارکان غدار ہیں؟ ذرا سوچئے اور فتوے جاری کرنے کی بجائے اپنے حقوق اور شناخت کے حصول کیلئے وہ راستہ اختیار کیجئے جو قائداعظم کا راستہ ہے۔

Source: Jang

Related article: 5 killed in Abbottabad over Khyber-Pakhtunkhwa renaming issue