Original Articles Urdu Articles

“Real workers of PPP can never support Zardari.” Really? – by Khalid Wasti

نیا جال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانے شکاری
========================

پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوششیں اس کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھیں – قیام پاکستان سے لیکر پیپلز پارٹی کے معرض وجود میں آنے تک جو طاقتیں مسلسل اقتدار پر قابض چلی آرہی تھیں، پہلی بار انہیں اقتدار اپنے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہوا – بھٹو کی صورت میں انہیں وہ عوام اپنا حق حکمرانی حاصل کرتے نظر آنے لگے جنہیں اس سے پہلے حق گویائی بھی حاصل نہیں تھا – پاکستان میں پہلی بار اس انقلاب کے آثار پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں سٹیٹس کو کا خاتمہ ، پاکستان کی سیاست سے فوج اور انٹیلیجینس ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ، جاگیر داری کا خاتمہ ، مزدوروں ، مزارعوں اور دیگر کمزور طبقوں کے استحصال کا خاتمہ نوشتہءدیوار نظر آنے لگا

بھٹو کو راستے سے ہٹانا ان کی اپنی زندگی کے لیئے ناگزیر ہو چکا تھا – تب پاکستان کی اعلی ترین عدالت کے اعلی ترین ججوں کے ذریعے بھٹو کا عدالتی قتل کرا کے اسے راستے سے ہٹا دیا گیا

بھٹو کے خاتمے کے بعد ویسا ہی ایک اور مرحلہ پیپلز پارٹی کا خاتمہ بھی تھا – چنانچہ پیلز پارٹی کی قیادت سے لے کر ورکروں تک کو تختہءمشق بنا دیا گیا – جیلیں ، قیدیں، کوڑے، لاہور اور اٹک قلعے کے عقوبت خانے ، غرض کون سا ظلم تھا جو ان پر روا نہ رکھا گیا – خدا ہی جانے کہ اس نے ذوالفقار علی بھٹو کے جسم و روح کی تخلیق کس طور سے کی تھی کہ اس کے جانثار کوڑے بھی کھاتے اور ہر کوڑے کے ساتھ جیئے بھٹو کا نعرہ بھی لگاتے

ایک طرف تو آمر وقت جنرل ضیاءالحق نے چوراہوں میں پھانسیوں کے پھندے لٹکا کر عوام کو خوفزدہ کرنا چاہا کہ وہ سہم جائیں اور پیپلز پارٹی کا نام تک ان کے ہونٹوں پر نہ آئے پائے اور دوسری طرف اس مرد مومن نے چوروں کی طرح پارٹی کے اندر نقب لگانے اور اس کے ٹکڑے کرنے کیلیئے کبھی کوثر نیازی سے پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) کے جعلی برانڈ سے پروگریسو پیپلز پارٹی بنوائی اور کبھی غلام مصطفے جتوئی سے نیشنل پیپلز پارٹی بنوائی اور بھٹو کے پرستاروں کو دھوکہ دینے کے لیئے اس پراپیگنڈہ کا اہتمام کیا گیا کہ جیسے اصل پیپلز پارٹی تو جتوئی اور نیازی ہی کی ہے

سارے جتنوں کے بعد بھی اس مرد مومن کا حوصلہ نہیں تھا کہ عام انتخابات کا انعقاد کرا سکے کیونکہ ،، بھٹو دے نعرے وجن گے ،، کی فلک شگاف آوازوں نے اس کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں – وہ کہتا تھا ، الیکشن تب کراؤں گا جب مثبت نتائج کا یقین ہو جائے – نظام مصطفے کا جعلی نعرہ لگا کر لوگوں کے مذہبی جذبات کو اپنے مذموم مقاصد کے کیئے استعمال کرنے والے اس جرنیل کے نزدیک مثبت نتائج کا مطلب یہ تھا کہ ایسے الیکشن جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی سیاسی میدان سے باہر ہو جائے

بی بی کی جلا وطنی کے بعد استحصالی قوتیں مطمئن ہو چلی تھیں کہ گویا پیپلز پارٹی ایک فیصلہ کن طاقت کی حیثیت سے ختم ہوچکی ہے اور لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے نام کو فراموش کرچکے ہیں – لیکن دنیا نے ایک کرشمہ دیکھا کہ شہید بھٹو کی بیٹی جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب آمر وقت کو للکارنے کے لیئے اپنے ملک میں آتی ہے اور ،، ضیاءالحق جاوے ای جاوے ،، کا نعرہ بلند کرتی ہے تو ایک خلق خدا کہ جس کا شمار ممکن نہیں اس کی آواز میں اپنی آواز ملاتی ہے اور تب ضیاءالحق جاوے ای جاوے کا نعرہ زبان خلق اور نقارہءخدا بن جاتا ہے

ضیاءالحق قدرت کے انتقام کا نشانہ بن گیا لیکن اس کی باقیات اور طاقت کے دوسرے حصے داروں کے
ایوانوں میں بھونچال آگیا کہ ایک خلق خدا جس طرح دیوانہ وار شہید قائد کی بیٹی کے گرد اکٹھی ہو گئی ہے اگراسے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے روکا نہ گیا تو ہمیشہ کے لیئے سٹیٹس کو کا خاتمہ ہو جائے گا – طاقت ہمارے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے پاس چلی جائے گی کیونکہ پارٹی کا قائد اور پارٹی کا منشور کہتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں – تب پیرتسمہ پا غلام اسحاق خان ، فوج اور انٹیلیجینس ایجنسیوں نے سازش کرکے پیپلزپارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کی

(اُن کی عیاری دیکھیئے کہ اپنی اس سازش کو بھی اسلامی قرار دے رہے ہیں اور ہماری سادگی دیکھیئے کہ ہم ایک سازش کے نتیجے میں جنم لینے والے مشکوک اتحاد کو اسلامی بھی سمجھ رہے ہیں اور جمہوری بھی -) اور پھر اس اتحاد کی مالی امداد کے لیئے حکومت کے خزانے کھول دیئے گئے – آئی جے آئی کا کوئی ایک رہنما ایسا نہیں تھا جس نےآئی ایس آئی سے پیسے نہ لیئے ہوں – آج یہ باتیں جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل برسر عام بیان کر رہے ہیں – جنرل اسلم بیگ تو کہتے ہیں کہ ہم نے آئی جے آئی کے ہر رہنما سے رقم وصول کر لینے کی رسیدیں بھی لی تھیں

عوامی راج کے راستے بند کرنے کے لیئے یہ سارے کھیل بیسویں صدی میں کھیلے گئے – آج اکیسویں صدی کے پہلے عشرہ میں حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں – کوڑوں اور پھانسیوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا کہ مارشل لا کا زمانہ نہیں – جھوٹے مقدمے نہیں بن سکتے کہ میڈیا آن کی آن میں حقائق سامنے لے آئے گا

تو کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کی پارٹی کے خلاف سازشیں ختم ہو گئی ہیں ؟ نہیں اور ہر گز نہیں

راقم الحروف کی رائے میں پرانے شکاری نیا جال لے کر میدان عمل میں اتر چکے ہیں – یہ نیا جال کیا ہے ؟

جال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے منحرف اور ناراض کارکنوں کو بھٹو ، بے نظیر اور پیپلز پارٹی کا ہمدرد بناکر میڈیا پر پیش کیا جائے اور پارٹی کے کارکنوں کو بددل کرنے کے لیئے یہ پراپیگنڈہ ان کے دماغوں میں بٹھا دیا جائے کہ موجودہ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو والی پارٹی نہیں رہی – بھٹو کہاں اور زرداری کہاں ؟

بھئی ٹھیک ہے ، ہم کب کہتے ہیں کہ بھٹو اور زرداری ایک کیلیبر کے لیڈر ہیں لیکن تم جب یہ بات کرتے ہو تو تمہارا ضمیر تم سے یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ کہاں قائد اعظم اور کہاں نواز شریف یا شجاعت حسین ؟ تمام سیاسی بلکہ مذہبی پارٹیوں کی بھی یہی صورت حال ہوا کرتی ہے – آج پیپلز پارٹی کے ورکر کے لیئے یہ ایک لمحہءفکریہ ہے کہ وہ ٹیلی وژن پر پیش کیئے جانے والے تمام بہروپیوں کی شناخت رکھے

پارٹی ورکرز کے لیئے سیدھا سا مشورہ ہے ، کوئی بھی ٹاک شو سنتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھیئے کہ اس کا اینکر کون ہے اور اس کا مشن کیا ہے ؟ اس کے بعد جتنا بھی معتبر سے معتبر شخص ہو ، اگر وہ کوئی ایسی بات کرے جس سے کارکنوں کے اندر مایوسی یا بے دلی پھیلنے کا امکان ہو یا اس سے پارٹی کے اندر کسی انتشار کا خطرہ ہو تو سمجھ جائیے کہ اینکر صاحب آنجناب کو اسی مقصد کے لیئے لے کر آئے ہیں ، جس کا ایجنڈاایجنسیوں ، رجعت پسندوں اور استحصالی قوتوں کی طرف سے انہیں دیا گیا ہے

میری دانست میں اس صدی میں پیپلزپارٹی پر یہ دوسرا بڑا وار کیا گیا ہے – ایک بے نظیر کی شہادت اور دوسرے پیپلز پارٹی کے بدخواہوں کو پارٹی کے ہمدردوں کا بہروپ پہنا کر میڈیا پر پیش کرنا

دیکھیئے پاکستان پیپلز پارٹی ، اس کے کارکن ، بھٹو کے شیدائی اور بے نظیر کے جانثار اس امتحان سے کیسے گزرتے ہیں ؟

Note: Pictures in this article have been included by a co-editor of LUBP, and may not represent the personal opinion of Mr Khalid Wasti.

Related: To fake sympathizers of the PPP, thanks but no thanks – by Shahid Khan Khakwani

“Real workers of PPP can never support Zardari.” Really? – by Khalid Wasti

Zardari Unpopular Even Amongst PPP Voters?

About the author

Khalid Wasti

Born in Punjab, Pakistan in 1953. Worked in UBL for 23 years. Migrated to the USA in 2002.
As a poet I have been published in prominent Urdu magazines in Pakistan & India.

25 Comments

Click here to post a comment
  • b

    Brother Khalid Wasti the article is very good but the title ” Real workers of PPP can never support Zardari ” is not sutiable for this article as the title is totaly against the subject of the article. LUBP also published my 3 articles and i am thankful to LUBP and specially FARHAD JARRAL.

    Khalid Wasti is very good addition in LUBP. Thanks

  • @Amjad Although satire is usually meant to be funny, its purpose is often not so much humour for its own sake as an attack on something strongly disapproved by the satirist, using the weapon of wit. A common feature of satire is strong irony or sarcasm — “in satire, irony is militant” — but parody, burlesque, exaggeration, juxtaposition, comparison, analogy, and double entendre are all frequently used in satirical speech and writing.

    …..

    Excellent article, Wasti sahib.

  • Some very apt comments on a recent episode of Dr Shahid Masood’s Meray Mutabiq in which Hassan Nisar and Dr Shahid Masood tried to exploit Dr Israr Shah to malign the PPP leadership (courtesy Pkpolitics):

    Comments by Bawa:
    ڈاکٹر اسرار شاہ بنام حسن نثار اور ڈاکٹر شاہد مسعود

    کبھی پتھر سے لکیریں بھی مٹا کرتی ہیں
    کتنے نادان ہیں تیرا نام مٹانے والے

    حسن نثار بھائی آپ نے مجہےبے وقوف کہا. ہم بے وقوف نہیں ہیں. خدا کی قسم ہمیں کوئی شخص سیاسی مزاراع نہیں بنا سکتا. ہم مزاراعے ہیں صرف شہید بھٹو کے افکار کے. ہم مزاراعے ہیں اسکی سوچ کے اسکی فکر کے. وہ شخص جو ہمیں زبان دے گیا ہمیں شعور دے گیا. ہم اسکے ساتھ کھڑے ہیں. ہمیں بالکل بے وقوف مت سمجھیں. جو بے وقوف سمجھتے ہیں انکو اس ملک کی سیاست سے نکلنا پڑے گا.

    مجھے فخر ہے کہ میں نے اس ملک کی آزاد عدلیتھ کے لیے قربانی دی ہے. مجھے فخر ہے کہ میری پوری جوانی جیلوں میں گزری ہے. مجھے کوئی پچھتاوہ نہیں ہے. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کا کراچی سے لیکر خیبر تک جو رول ہے انکا جو کردار ہے وہ اس پائپ کے لوگوں سے مارے جائیں گے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے.

    مجھے قیادت سے کوئی شکواہ نہیں. پارٹیوں کے اندر رکنیت کی منسوخی اور بحالی عام چیزیں ہیں. میں سیاسی کارکن ہوں. میں اسکو سیاسی عمل کا حصہ سمجھتا ہوں. بھٹو کا ورکر ہوں جس نے جھکنے کی بجائے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال لیا.

    کیا آپ ہم سے توقع رکھتے ہیں یہ ہم معافی مانگیں گے؟ جب آدمی سیاست کر رہا ہوتا ہے تو اس نے تہیہ کیا ہوتا ہے کہ جب دھوپ ہوگی تو دھوپ سہیں گے اور جب چھاؤن ہوگی تو چھاؤن میں بیٹھیں گے. سیاسی کارکن ہمت ہارنے والے لوگ نہیں ہوتے

    ڈاکٹر اسرار شاہ میرے بہت ہی اچھے دوست ہیں. جب میں کالج میں پہنچا تو وہ کالج سے فارغ ہو رہے تھے. ان سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے ہمیشہ انکی پارٹی سے جذباتی وابستگی کو سراہا ہے. اس پر آشوب دور سے گزرنے کے باوجود انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اگر وہ میرے سامنے ہوتے تو میں انکا ماتھا چوم لیتا.

    آج اتنی دور بیٹھکر میں انکی عظمت کو سلام ہی کر سکتا ہوں. اس سیاسی سفر میں وہ اکیلے نہیں ہیں. پورے ملک کے سیاسی کارکن اور عوام انکے ساتھ ہیں اور انکی جمہوریت اور آزاد عدلیہ کے لیے قربانیوں پر بہت فخر مسوس کرتی ہے اور انہیں سلام کرتی ہے

    اسرار شاہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے قیادت کے خلاف نہیں بولنا چاہتے تھے. وہ سیاسی کارکن ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ پارٹی ڈسپلن کیا ہوتا ہے اور اپنے سیاسی اختلافات پارٹی کے کس طرح پیش کیے جاتے ہیں لیکن یاروں لوگوں نے تو اسے بلایا ہی اس لیے تھا کہ وہ پارٹی قیادت پر حملے کریں اور انہیں ٹی وی پر بیٹھکر خوب برا بھلا کہیں تاکہ انکا کاروبار پھلتا پھولتا رہے. ان کے انکار پر انہیں بے وقوف جیسے غیر مہذب الفاظ سے نوازہ گیا (بے شک بعد مینمازرٹ کر لی گئی). اسکی جسمانی معزوری کو ایکسپلائیٹ کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسکو ڈیکوریشن پیس کے طور پر رکھا ہوتا تھا. زرداری صاحب آپکو ساتھ بٹھا کر سمبل کے طور پر استعمال کر رہے تھے. آپکو ساتھ بٹھا کر انٹرویو دیے جاتے تھے. انہیں طنزا کہا جا رہا ہے کہ بابر اعوان سے مافی مانگ لیں اور انپی معطل شدہ رکنیت بحال کروا لیں.

    ڈاکٹر شاہد مسود صاحب کہہ رہے ہیں کہ حسن نثار سے کہوں گا کہ وہ آپکو سمجھائیں کیونکہ آپ مجھ سے سمجھ نہیں رہے. حسن نثار صاحب ارشاد فرما رہے ہیں کہ یہ ڈاکٹر اسرار صاھب پولیٹیکل ورکر نہیں ہیں وقوف ہیں. مجھے ان پر بہت غصہ ہے. مزید کیا لکھوں آپ نے پروگرام سن ہی لیا ہوگا اور دیکھ ہی لیا ہوگا کہ ایک سیاسی کارکن کو کیسے استعمال کرنے کی کوشش کی گی اور اس نے کس دانشمندی سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا

    یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
    ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے
    اب مہ و سال کی مہلت نہیں ملنے والی
    آچکے اب تو شب و روز عذابوں والے
    اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
    اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے
    جو دلوں پر ہی کبھی نقب زنی کرتے تھے
    اب گھروں تک چلے آئے وہ نقابوں والے
    زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
    فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے
    نہ مرے زخم کھلے ہں نہ ترا رنگ حنا
    اب کے موسم ہی نہیں آئے گلابوں والے
    یوں تو لگتا ہے کہ قسمت کا سکندر ہے فراز
    مگر انداز ہیں سب خانہ خرابوں والے

    Comments by baynaampunjabi:

    ڈاکٹر صاھب اپنے پروگرام میں چار طرح کے لوگوں کو بلاتے ہیں

    وہ جو بھٹو خاندان کے ازلی دشمن ہیں

    وہ جومسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی دونوں کے دشمن ہیں

    وہ جو نواز شریف کے حامی ہیں لیکن مسلم لیگ کے بازوں میں شمار ہوتے ہیں

    وہ جو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت یا بے نظیر بھٹو سے ناراض ہیں

    خالد واسطی بہت اچھی طرح تجزیہ کر چکے ہیں کو جو لوگ مشکل وقت میں قیادت کے ساتھ اختلاف کو کوچہ و بازار میں لاتے ہیں کارکن ان کا کیا حشر کرتے ہیں

    اسرار شاہ چاہے معصومیت میں ہی شاہد مسعود کے پروگرام میں آیا ہو لیکن جیالا دشمن کے دوست کو دشمن ہی سمجھتا ہے . نجانے کیوں اسرار شاہ اپنی مٹی خراب کر رہا ہے .پیپلز پارٹی میں شیخ رشید سے بڑا نہ کوئی نظریاتی کارکن تھا نہ کوئی بھٹو کا وفادار . انہوں نے آخری وقت تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے.

    پیلپز پارٹی نے ابھی حآل ہی میں ایک پرانے طالب علم لیڈر الیاس خان کوا ہم عہدہ دیا ہے یہ وہ شخص ہے جو انتہائی برے وقتوں میں بھی پارٹی کے ساتھ رہا

    اسرار شاہ پہلے ناہید عباسی کے ہاتھوں استمعال ہوا اب رہی سہی کسر ڈاکٹر شاہد مسعود پوری کر دے گا اسی اندازہ نہیں کہ کارکن ڈاکٹر شاہد مسعود کے متعلق کیسے سوچتے ہیں

    Comments by propolitics:

    ڈاکٹر اسرار شاہ ، تم کیا بنو گے ؟

    ڈاکٹر مبشر حسن کہ بے نظیر کی دشمنی میں اپنا بڑھاپا خراب کیا اور اب شاہد مسعود کے پروگرام میں آ کر چیخ و پکار کرتے ہیں

    معراج محمد خان ، پیپلز پارٹی سے الطاف حسیں پھر عمران خان اور اب گوشہ گمنامی

    غلا م مصطفی کھر، پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ، پھر پیپلز پارٹی، پھر علیحدگی ، پھر پیپلز پارٹی ، پھر علیحدگی ، پھر پیپلز پارٹی پھر علیحدگی اور پھر پنجاب کے اعزازی گیم وارڈں

    یہ سب خود کو پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن کہلا تے تھے.

    جن جیا لوں نے تمہیں ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں دیکھا ہو گا اب شاید تمہیں محلہ کی سطح کے اجلاس میں بھی نہ بیٹھنے دیں

    جیالے عاشق ہوتے ہیں مر جاتے ہیں لیکن بھٹو کی پارٹی کو سر عام رسوا نہیں کرتے . جنہوں نے بی بی کے لیے کراچی میں جانیں دیں کبھی سنا ہے کہ ان کے گھر والوں نے کبھی اس کی قیمت مانگی ہو

  • Hy Guyz jst let Dr Israr be free, he is from PPP nd would always be. Ashiq rooth bhi jatta ha, Dr Israr na kaha ha na ka party ko kamzoor nahi kerna…ya shahid masood nd company are liar nd F word.

  • @sheryaar What was Israr Shah doing in a TV programme hosted by Dr Shahid Masood, an agent of anti-democracy establishment and a diehard hater of the PPP?

    حکومت نے چوروں کا احتساب نہ کیا تو چوکوں پر وزیروں کی لاشیں ہوں گی، رہنما پیپلز پارٹی

    کراچی (ٹی وی رپورٹ) پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن و رہنما ڈاکٹر اسرار شاہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے چوروں کا احتساب نہیں کیا تو کرغزستان میں تو ایک وزیر مارا گیا ہے یہاں تمام چوکوں پر وزیروں کی لاشیں ہونگی اور اس موقع پر میں عوام میں شامل ہوں گا اور وزیروں کو مارنے والوں میں شامل ہوں گا، جو شخص ملک میں احتساب کریگا وہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بڑا لیڈر ہوگا، 18 ویں ترمیم نان ایشو ہے اس سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، اب بھی مسائل حل نہ ہوئے تو ملک تباہ ہو جائیگا۔
    ڈاکٹر اسرار شاہ نے کہا کہ میں نے آزاد عدلیہ کی حرمت کیلئے بی بی کے حکم پر جھنڈا لہرایا ہے۔ہم نے اسلئے قربانی نہیں دی کہ ہمارے جمہوری اور پارلیمانی ادارے عدلیہ سے ٹکراتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بہت ضروری ہے ہر کسی کا احتساب ہونا چاہئے۔ اگر عدلیہ یہ کام کررہی ہے تو میں اس کو سلام کرتا ہوں لیکن عدلیہ اپنا دائرہ وسیع کرے۔
    ڈاکٹر اسرا رشاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارکن کو کوئی نہیں مار سکتا، چور دروازوں سے سیاست میں آنے والے لوگوں کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کا کارکن مارا نہیں جاسکتا۔ اسرار شاہ نے کہا کہ مجھے معطل ہونے پر پارٹی قیادت سے کوئی شکوہ نہیں ہے، سیاسی جماعتوں میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا کارکن پرمٹ والا ورکر نہیں ہے۔ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ بابر اعوان چار کروڑ کے کرپشن میں ملوث ہے ، ان کو ایوارڈ دینے کا یہ وقت درست نہیں ہے۔
    صدر زرداری کے گرد موجود لوگوں کا عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    اسرار شاہ نے کہا کہ ہمیں کوئی شخص سیاسی مزارہ نہیں بنا سکتا ہم صرف شہید بھٹو کے مزارے ہیں۔مجھے فخر ہے کہ میں نے اس ملک کی آزاد عدلیہ کیلئے قربانی دی ہے۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=424375

  • یہ سب پرانے ہتھکنڈے ہیں
    کے پی پی پی تو بہت اچھی ہے لیکن اس کے لیڈر ٹھیک نہیں ہیں
    یہ سب سن ٧٠ سے یہی کہتے آیے ہیں بھٹو برا ہے غلام مصطفیٰ جوتی ، پیرزادہ، مبشر حسن ، کوثر نیازی اور کھر اچھے آدمی ہیں
    بینظیر بری ہے پر میراج خالد ، ممتاز بھٹو ، غنویٰ اور فاطمہ بھٹو اچھے اور محب ے وطن ہیں
    زرداری بہت برا ہے لیکن اعتزاز احسن ، رضا ربّانی ، مخدوم امن فہیم، اسرار شاہ، اور ناہید خان بہت اچھی ہیں.

    یہ پرانی چال ہے پی پی پی کے خلاف
    اگر اسرار شاہ نے اپنی دو ٹانگیں قربان کیں ہیں حمھوریت کے لئے تو بینظیر نے اپنی جان دی ہے، اور زرداری نے اپنی ساری جوانی
    اور بلاول نے نے اپنی بچپن اور اپنی ماں

    اگر آپ صرف قربانیاں بھی شمار کریں گے تو پی پی پی کے لیڈر اپنے کارکنوں سے پیچھے نہیں رہیں گے

  • Received by email:

    Author: Mr Khalid Wasti

    بھٹو کے پرستار پس پردہ کھیل کو سمجھتے ہیں –
    =========================================
    (ڈاکٹر شاہد مسعود کے ٹاک شو “ میرے مطابق ‘‘ مورخہ ١١ اپریل پر ایک تبصرہ )
    =========================================
    ڈاکٹر اسرار شاہ نے پوری زندگی عملی سیاست میں گزاری ہے ، ہر عہد میں بے مثال قربانیوں کے چراغ جلائےہیں – اسےمحض کتابی علم رکھنے والےڈرائینگ رومز کے سیاستدان کیا سبق دیں گے ؟ کتنے دکھ کی بات ہےکہ اس پروگرام کا واحدمقصد یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے دلوں سے بھٹو ازم کی وارفتگی کو ختم کردیا جائے – یہ کام سزاؤں ، جیلوں ، کوڑوں ، تشدد اور تحریص و ترغیب سے ممکن نہیں ہو سکا تو اسے ایک نئے طریقے سے سرانجام دینے کی کوشش کی جارہی

    طریقہءواردات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے منحرف یا ناراض کارکنوں کو ٹاک شوز میں بلوایا جائے – ان سے بھٹو اور بے نظیر کے حق میں تعریفی کلمات ادا کرانے کے بعد اصل طے شدہ سکرپٹ پر لایا جائے کہ آج کی پیپلز پارٹی تو بھٹو اور بی بی والی پارٹی نہیں رہی – اس سکرپٹ کی ڈکٹیشن ہی یہ دی گئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو موجودہ سیٹ اپ سے بد دل اور مایوس کیا جائے – تاکہ مڈٹرم الیکشن میں جس کا پلان بن چکا ہے پیپلز پارٹی کا کارکن ووٹ دینے کے لیئے گھر سے باہر ہی نہ نکلے

    آفرین ہے ڈاکٹر اسرار شاہ پر جس نے شاہد مسعود ، حسن نثار اور انصار عباسی کی چالوں کو سمجھتے ہوئے پارٹی قیادت کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے سے انکار کردیا

    ڈاکٹر شاہد مسعود اور انصار عباسی کے اندر اگر احساس کی رمق بھی باقی ہے تو انہیں چلو بھر پانی لیکر وہی کچھ کرنا چاہیئے جواس محاورے کا تقاضا ہے – اگر ان کے اندر عزت ، بے عزتی ، غیرت ، بے غیرتی کے معیارات باقی ہیں تو آئیندہ انہیں ایسے دو نمبر پروگرام پیش کرکے عوام الناس کو دھوکہ دینے سے توبہ کر لینا چاہیئے

    دوستو ! آپ ایک منٹ کے لیئے پارٹی پوزیشن سے بالا ہوکر جائزہ تو لیں کہ اسرار شاہ جو قربانی ، حریت اور وفاداری کی عظیم الشان مثال اور تمام سیاسی پارٹی کے کارکنان کے لیئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے اسے یہ نام نہاد دانشورکیسے کیسے خطاب اور مشورے دے رہے ہیں
    :
    حسن نثار : اسرا شاہ بے وقوف ہے

    ( اپنے نظریئے اور مقصد کی خاطر بے لوث قربانیاں دینے والے تو آنے والی نسلوں کے لیئے بھی دانش کا نشان ہوتے ہیں ! )

    حسن نثار : ‘‘وٹ دا ہیل ہی از ڈوئنگ دیئر؟

    (تو جناب آپ اسے کہاں لانا چاہتے ہیں ؟ جماعت اسلامی میں یا عمران خان کے ساتھ ؟)

    حسن نثار : کوئی سینسیبل انسان نہ اس طرح کرتا ہے نہ سوچتا ہے

    (تو آپ منافقت اور موقع پرستی کی ترغیب دے رہے ہیں؟)

    حسن نثار : واٹر پالیسی اختیار کرو – جدھر جگہ ملتی ہے گھس بیٹھو

    اتنی گھٹیا بات ہے کہ اس پر تبصرہ بھی نہیں کرنا چاہیئے

    انصار عباسی : نا اہل لوگوں کو اٹھا کر باہر پھینکیں اور کمٹمینٹ رکھنے والی قیادت کو آگے لائیں

    تمہاری پیپلز پارٹی سے عداوت کوئی راز نہیں ہے – پارٹی امور اگر نااہل ہاتھوں میں ہیں تو تمہیں کیا تکلیف؟ ظاہر ہے کہ یہ اصل بات نہیں – یہ وہ والی منافقت ہے جس کا مشورہ حسن نثار نے دیا ہے اور جس کی بنیادیں ضیاءالحق نے رکھی تھیں – سو جنرل ضیاء کی منافقت آپ جیسی اس کی باقیات کو ہی مبارک ہو

    شاہد مسعود : حسن نثار صاحب ! اسرار شاہ صاحب کو کچھ سمجھائیں

    ڈاکٹر اسرا شاہ جیسے اصول پرست اور نظریاتی انسان کو آپ جیسی مفاد پرستی اور بغض وعناد کی دانائی نہیں چاہیئے یہ آپ جیسے مجاہدوں اور انصار عباسی جیسے صالحین کو مبارک ہو ، بقول حسن نثار
    واٹر پالیسی

    ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب ! دنیا جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی عوامی قوت کو ختم کرنا کس کا ایجنڈا ہے ، اور آپ کو مبارک ہو کہ آپ اس پراپیگنڈہ مہم میں اپنا کردار بڑے احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Real supporters of PPP still supports Leadership and they have faith in their Leadership. I don’t agree as the ground realities are totally different from the title of this post. So I request to the author of this post to learn and research first before writing an article.

  • Pl send me the IP of the above two comments by my name .. Don’t know who is posting comments using my name and email 🙁

  • A Jamaat Islami / Imran Khan supporter’s plea to Naheed Khan (source: pkpolitics)

    Malik Zafar said:

    The only way forward is that if Naheed Khan (and Safdar Abbasi/Ch Mohd Aslam/Raja Shahid Zafar/Israr Shah) can come out in the streets and follow Imran Khan and Qazi Hussain/Munawar Hassan then this could provide a new impetus to the Long March.

    Lots of people may have seen by now the huge welcome Raza Rabbani and Naved Qamar got in Karachi, was very annoying. From the look of that crowd I can say that there was no load shedding of Gas and Electricity in Karachi. I can not understand what has gone wrong with our Sindhi Public, I have not seen a single protest against Gen Musharraf…..or Sindhi Awam are confused that UNO has given a clean chit to Zardari. And what is this our ‘khusra’ PM is doing, ever since UNO Report has come out he has not said anything against Gen Musharraf.

    Naheed Khan…. if you know all the secrets then come out in the Street. Let me make it very clear to Naheed Khan that Imran Khan and JI does not need Naheed Khan in fact it is Naheed Khan who will have to participate in the Long March with her supporters.

    Naheed Khan – you stupid woman- listen tomorrow Zardari is going to sign the 18th Amendment Bill and He will then become hero and then Naheed Khan it will be too late. Naheed Khan, we will forget you past only if you can come out with full courage and vigour. And if you are also going to behave like Aitezaz Hassan or Ali Ahmad Kurd, then stay there where ever you are.

    Naheed Khan are you scared what happened to Khalid Shahinshah, Murtaza Bhutto and Rehman (Dacait) Baluch, then we don’t need you, then Imran Khan and Qazi/Munawwar Hasan will lead us once again. As far as Parliament is concerned yes it is the main body and we should respect its importance, but when people with fake degrees are elected by this stupid, junglee and jahil awam then within this awam there is a small percentage of people who are prepared to do Long March.

    Naheed Khan the opportunity is there and I will say take it because your presence can give a new direction and impetus to this movement. Some PPP supporters with brain will definitely back up you.

  • @Sarah Khan
    Further conversation on that comment (pkpolitics);

    Note: ashuftasar is Dr Shahid Masood in disguise.

    ashuftasar said:
    باوا صاحب
    واسطی صاحب
    اینڈ کمپنی

    (معاف کیجیے گا پرانے پروگرام کا تذکرہ ہے مصروفیت کی وجہ سے بر وقت نہیں لکھ سکا)

    ڈاکٹر اسرار شاہ والے پروگرام پر آپ کے تبصروں نے بہ قول شاعر ” دل ناشاد کو اور بھی ناشاد کیا”۔ حیران ہوں کہ آپ کے تبصروں کو تعصب کے چشمے کا کرشمہ قرار دوں یا اسے آپ کی کم فہمی پر محمول کروں! آپ کی کم فہمی پر یقین کرنے کو جی نہیں مانتا۔اس چشمے کو اتار دیں تو آپ کو گلاس آدھا بھرا ہوا بھی نظر آئے گا۔

    اگر غور سے دیکھیں تو یہ پروگرام پیپلز پارٹی کی حق میں جاتا ہے نہ کہ خلاف۔۔۔ وقت کی قلت کے پیش نظر مختصرا صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔۔۔۔ اس پروگرام کے ذریعے پارٹی کا مثبت پہلو عیاں ہوا ہے کہ کیسے کیسے بے لوث کارکن اس پارٹی کا سرمایہ ہیں عوامی سطح پرنہ صرف پارٹی کے عام کارکنوں، ہمدردوں بلکہ رہنما ئوں کو بھی موقعہ ملا ہے کہ اسرار شاہ جیسے نڈر، بے باک اور مخلص کارکنوں پر فخر کر سکیں۔ در حقیقت پارٹی کی اصل قوت اور اس کی بقا کے ضامن بھی یہی اسرار شاہ جیسے لوگ ہی ہیں نہ کہ وہ خوشامدی، چاپلوس، بھگوڑے، ابن الوقت اور نااہل لوگ (صدر سمیت) ۔۔۔ کرپٹ اس لیے نہیں لکھا کہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی !

    جہاں تک اسرار کے بارے میں حسن نثار وغیرہ کے ریمارکس کی بات ہے تو آپ نے اسے۔۔۔۔۔ دانستہ یا نا دانستہ ۔۔۔۔۔۔ قطعی سطحی طور پرسمجھا ہے اور اسے اسرار اور پارٹی اور کارکنوں کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے آپ کو الفاظ کی سطحی معنی تو نظر آگئے لیکن ان میں چھپا ہوا درد اور خلوص نظر نہیں آیا۔۔۔ پروگرام میں ایک جگہ حسن نثار قہقہہ بھی لگاتا ہے کیا وہ قہقہہ استہزائی تھا یا المناک ۔۔۔!!؟ کیا آپ حسن نثار کے اسٹائل سے واقف نہیں وہ کتنے بے رحمانہ انداز سے بخیے ادھیڑتا ہے۔ ایک عام مشاہدے و تجربے کی بات ہے۔۔۔۔ ہماری غلطیوں ۔۔۔ نادانیوں پر ہمیں والدین سے ڈنٹ ڈپٹ اور سخت سست سننی پڑتی ہیں تو کیا ہمیں ان کو سازشی اور اپنا دشمن قرار دینا چاہیے؟؟؟ عام کہاوت ہے “تمھارا اصل دوست وہ ہے جو تمھیں تمھارے عیب بتلائے تمھاری غلطیوں کی نشاندہی کرے نہ کہ تمھارے سامنے تعریفیں کرے خواہ وہ سچی ہی کیوں نہ ہوں” اس کہاوت کی روشنی میں آپ خود کو دوست یا دشمن کس خانے میں فٹ کرتے ہیں یہ آپ پراور قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

    آپ نے شاہد، نثار اور انصار کی تنقید کا اور اسرار کو بےوقوف کہنے کا تو بہت برا منایا لیکن اس کے ساتھ زرداری نے جو سلوک کیا اس پر آپ نے ایک لفظ نہ کہا۔۔۔!!! شاید آپ کو وہ سلوک نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ اس کی بہ ظاہر ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے “چشمہ” ۔۔۔ آپ کو چشمہ اتارنا ہی پڑے گا! آپ کے نظریات اور پارٹی سے وابستگی، محبت اور حمایت کا میں احترام کرتا ہوں لیکن سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنے کا حوصلہ اور اخلاقی جرائت ہونی چاہیےاور اگر آپ شاہد کے خلاف لکھنے پر مجبور یا مامور (اسائنڈ) ہیں تو الگ بات ہے!

    شاہد فصد کھولنے کا کام کر رہا ہے اس میں چیرا بھی لگانا پڑتا ہے خون بھی نکلتا ہے تکلیف بھی ہوتی ہے۔۔۔۔ آپ حضرات۔۔۔ کارکنوں کو خون سے ، تکلیف سے چیرے سے ڈرا رہے ہیںلیکن انھیں یہ نہیں بتا رہے کہ فصد کھولنے سے تکلیف تو ہوتی ہے لیکن جسم کا گندا خون نکل جاتا ہے جو سارے جسم میں فساد کا موجب ہوتا ہے اور وہ عمل جو آغاز میں تکلیف کا باعث ہوتا ہے انجام میں راحت کا پیغام لاتا ہے۔

    اس پروگرام سے اسرار کی قدرو منزلت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے۔۔۔۔تذلیل ہر گز نہیں ۔۔۔۔ عزت اور ذلت کس کا مقدر بنتی ہے اس کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہ پروگرام پارٹی کی بہتری کے لیے اور ڈاکٹر اسرار کو ٹری بیوٹ تھا یا سازش اس کا فیصلہ ایک مرتب پھر قارئین پر اور آپ حضرات کی فہم و دانش پر چھوڑتا ہوں۔
    والسلام ۔۔۔۔۔ خیر اندیش ۔۔۔۔۔ آشفتہ سر

    baynaampunjabi said:
    آشفتہ سر
    آپ،فارغ جذباتی اور خالد واسطی جیسے حضرا ت کو نیٹ پر دیکھ کر خوشگوار حیرت محسوس ہوتی ہے . زبان اور بیان پر آپ تینوں کو ملکہ حاصل ہے اور انتہائ سخت بات بھی آپ لوگ سلیقے سے کرتے ہیں .
    معاف کیجئے گا سمع خراشی کی جسارت کر رہا ہوں، ڈاکٹر شاہد مسعود کو آپ نے کچھ زیادہ رعایت دے دی .معاشرے کی فصد کھولنے کا کام منٹو اور احمد بشیر جیسے لوگوں کو زیب دیتا تھا ، منٹو نے جب گنجے فرشتے لکھی تو جن کا ذکر تھا وہ مسکراتے تھے اور منٹو کو داد دی تھی ، احمد بشیر نے ‘ جو ملے تھے راستے میں ‘ میں کشور ناہید کا جو حشر کیا تھا آپ کو بھولا نہ ہو گا . مجھے یاد ہے میں کلاسک پہ یہی کتاب خریدنے کے لیے کھڑا تھا کہ کشور آپا کی آواز سنائی دی آغا صاحب سنا ہے کہ احمد بشیر نے پرانی باتیں پھر چھاپ دیں ھمیں بھی تو دکھائیے. ان میں ہمت ہی نہیں تھی کہ احمد بشیر جیسے کھرے آدمی کو برا بھلا کہہ سکتیں .شاہد مسعود جب کسی پر تنقید کرتا ہے تو گھن محسوس ہوتی ہے . اور ہا ں میں اس فورم کا پرانا ‘ شریک’ ہوں باوا ، خالد واسطی ، فارغ جذباتی اور بندہ بالکل عام آدمی ہیں اور اس حثیت کے مالک نہیں کہ کوئی ھماری خدمات خرید کر شاہد مسعود کی ہجو گوئی پر مامور کر دے . اصل میں یہ تحریریں ‘ابکائیاں ‘ ہیں جو شاہد مسعود کا پروگرام دیکھ کر آتی ہیں اورہم لوگ ان کو اس فورم پر اگل دیتے ہیں .
    اور ہا ں ہمارا دوست باوا تو تماشبین ہے جو ہر دن توبہ کا قصد کرتا ہے لیکن شام ڈھلتنے ہی کلیوں کا گجرا ہاتھ میں پہں کر محفل میں آجاتا ہے ، اس کو اس سے غرض نہیں کہ گھنگرو کس کے پاؤں میں ہیں وہ تو شرکاء محفل سے غرض رکھتا ہے جس دن تما شائی کہیں اور چل دئیے وہ بھی وہیں چل دے گا
    .
    Bawa said:
    @ ashuftasar
    آپ نے شاہد، نثار اور انصار کی تنقید کا اور اسرار کو بےوقوف کہنے کا تو بہت برا منایا لیکن اس کے ساتھ زرداری نے جو سلوک کیا اس پر آپ نے ایک لفظ نہ کہا۔۔۔!!! شاید آپ کو وہ سلوک نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ اس کی بہ ظاہر ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے “چشمہ” ۔۔۔ آپ کو چشمہ اتارنا ہی پڑے گا! آپ کے نظریات اور پارٹی سے وابستگی، محبت اور حمایت کا میں احترام کرتا ہوں لیکن سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنے کا حوصلہ اور اخلاقی جرائت ہونی چاہیےاور اگر آپ شاہد کے خلاف لکھنے پر مجبور یا مامور (اسائنڈ) ہیں تو الگ بات ہے!

    …………………………………………………..

    جناب معاف کیجیے گا ہم آپکی طرح آدھا سچ بولنے اور آدھا سچ چھپانے کے عادی نہیں ہیں. ہمارا نہ تو کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی روٹی روزی کا معاملہ ہے. اگر آپ نے اپنی مصروفیات میں سے تھوڑا اور وقت نکال کر کومنٹس غور سے پڑھے ہوتے تو آپ یہ الزام نہ لگاتے.

    Faarigh Jazbati said:
    AoA All

    Sorry to say but Dr SM is nothing but a prophet of doom, gloom and a hate monger. He never have any good thing to say or give people hope.

    HR shattered his hopes and wishes of collision between the parliament and the judiciary.

    Dr get real and try to bring people together and stop spreading the agenda of anarchy.

    As for Zardari and His cronies are concerned this nation will deal with them in due course and in a proper manner. Similarly this nation will deal with the Shareefs of Lahore and Chaudhries of Gujtrat and they will be suffer the fate of looter of the wealth of this nation.

    This nation is very resilient and patient but NOT stupid or dumb. The time is very near when this nation will rise and get rid of all the ills and the traitor rulers it has.

    FJ

  • @Akhtar continued from the above:

    ashuftasar said:
    بےنام پنجابی صاحب
    باوا صاحب

    بےنام پنجابی صاحب ۔۔۔۔

    آپ کو کس نے کہا کہ کشور ناہید نے کچھ نہیں کہا تھا ارے بھائی وہ تو احمد بشیر کے خاکے “چھپن چھری” پر بہت چراغ پا ہوئی تھی اور احمد بشیر سے سخت اظہار ناراضی بھی کیا تھا لیکن بہ قول احمد بشیر مجھے خاکہ لکھنے کو کیوں کہا تھا کیا مجھے اور میرے اسلوب کو نیں جانتیں! ۔۔۔۔ احمد بشیر دو دھاری تلوار کی مانند تھا مدمقابل کوئی بھی ہو اس کا کام کاٹنا ہوتا ہے۔ ممتاز مفتی جیسا بے باک بھی اس سے گھبراتا تھا ۔۔۔۔ آپ نے احمد بشیر کا ناول “دل بھٹکے گا” یقینا پڑھا ہو گا اگر نہیں تو ضرور پڑھیے امید ہے آپ کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا باعث ہو گا۔
    کیوں جناب فصد کھولنے کا ٹھیکہ صرف منٹو اور احمد بشیر نے لے رکھا تھا ۔۔۔۔!!؟؟
    آپ کو شاہد کا پروگرام دیکھ کر ابکائیاں آتی ہیں ۔۔۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔۔۔۔ پروگرام دیکھنا جاری رکھیے جلد ہی سچ ہضم ہونا شروع ہو جائے گا!

    باوا صاحب ۔۔۔۔

    میرے مخاطب صرف آپ ہی نہیں کچھ اور لوگ بھی تھے اور میں نے مجموعی طور پر اظہار خیال کیا تھا ۔ آپ کے پاس ٹھوس دلائل نہیں ہوتے کچھ امور پر آپ دفاع بھی نہیں کر سکتے اور آپ اس حقیقت کو جانتے بھی ہیں چناں چہ آپ فروعات میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی کچھ مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی تھی لیکن “میں نہ مانوں” کا کوئی علاج نہیں ہے۔
    آپ کی بدگمانی اور غلط فہمی کس طرح دور کی جاسکتی ہے میں نہیں جانتا۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    خیر اندیش ۔۔۔۔ آشفتہ سر

    Bawa said:
    @ ashuftasar
    باوا صاحب ۔۔۔۔

    میرے مخاطب صرف آپ ہی نہیں کچھ اور لوگ بھی تھے اور میں نے مجموعی طور پر اظہار خیال کیا تھا ۔ آپ کے پاس ٹھوس دلائل نہیں ہوتے کچھ امور پر آپ دفاع بھی نہیں کر سکتے اور آپ اس حقیقت کو جانتے بھی ہیں چناں چہ آپ فروعات میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی کچھ مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی تھی لیکن “میں نہ مانوں” کا کوئی علاج نہیں ہے۔
    آپ کی بدگمانی اور غلط فہمی کس طرح دور کی جاسکتی ہے میں نہیں جانتا۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    خیر اندیش ۔۔۔۔ آشفتہ سر

    جناب جب آپ اتنے سارے لوگوں کو ایک ہی وقت میں مخاطب کرکے کومنٹس دینگے تو کوئی کیسے سمجھے گا کہ آپ نے کس کے لیے کیا کہا ہے؟ اسکا الزام بھی آپ ہمارے سر نہ دھریں. یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ گوجرانوالہ کے کسی مصروف بازار میں کھڑے ہو کر پہلوان جی کی آواز لگائیں اور جب سب لوگ آپکی طرف متوجہ ہو جائیں تو آپ کہیں کہ میں نے آپکو نہیں فلاں بندے کو پکارا تھا. جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہمارے پاس ٹھوس دلائل نہیں ہوتے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اسکا فیصلہ تو پڑھنے والے کرتے ہیں کہ ہمارے دلائل ٹھوس ہیں یا نہیں. جس کے اوپر کوئی الزام ہے وہ تو اسے غلط کہے گا ہی لیکن یہ فیصلہ تو قارئین ہی کرتے ہیں کہ کون غلط ہے اور کون سہی. جب کوئی دلیل سے ہماری بات کو غلط ثابت کرتا ہے تو ہمیں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے اور اپنی اصلاح کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی. ہم خواہ مخواہ اپنی بات پر اڑنے والے لوگ نہیں ہیں آپکی بات دوسری ہے. آپ یہ سمجھتے ہوئے بھی سمجھنا نہیں چاہتے کہ لوگ چار ہزار قبل مسیح کے چہرے دیکھ دیکھ کر اور سالہا سال سے وہی گھسے پٹے مکالمے سن سنکر کر تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں. لوگوں کی گھٹن کتنی بڑھ گی ہے اسکا اندازہ صرف آج کے پروگرام کے کومنٹس سے ہی لگا لیں. لوگ سچ، متوازن اور غیر جانبدار نقطۂ نظر سننا چاہتے ہیں. آپکی باتوں کی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن یہ آدھا سچ بتاتی ہیں اور ہم وہ آدھا سچ بھی سننا چاہتے ہیں جسے آپ بتانے سے گریزاں ہیں. ہمیں کوئی غلط فہمی یا بد گمانی نہیں ہے. پورا سچ بیان کر دیا جائے تو ہم سب بیک آواز کہیں گے

    دوبئی توں خبر آئی اے – ڈاکٹر ساڈا پائی اے

    Bawa said:
    @ Khalid Wasti
    ملک کے تمام اداروں کو میڈیا کی
    بالا دستی تسلیم کرکے اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینا چاہیئے

    …………………………………………………………………….

    میرا خیال ہے کہ حکومت میڈیا والوں کو سونپ دینی چاہئیے کیونکہ وہ سیاست اور امور سلطنت کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں. اگر ہو سکے تو ایک آدھ صحافی کو فوجی ٹریننگ دیکر فوج کی قیادت بھی انکے سپرد کر دینی چاہئیے. عدلیہ کو اپنے اختیارات میڈیا کے سپرد کرنے میں ویسے بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا کیونکہ اسطرح ججوں کا خبروں میں رہنے اور ٹی وی چیلنز پر رونمائی کا شوق بھی پورا ہوتا رہے گا

    baynaampunjabi said:
    آشفتہ سر
    آپ نے ایک ‘بے نام’ کو مخاطب کیا میرے لیے با عث سعادت ہے . لیکن بندہ پرور ہم ‘بے نام ‘ ہیں ‘بے مرشد ‘ نہیں . یہ طعنہ تو نہ دیجئے کہ ھمیں سچ ہضم نہیں ہوتا . ہم پردے میں نہ بھی ہوں تو عام اور گم نام ہیں اگر آپ کے چہرے سے پردہ اٹھ گیا تو باوا کو لکھنے کے لیے بہت کچھ مل جا ۓ گا.
    جناب عالی، ہم پنجاب والوں کو یہ فائدہ ہے کہ ھمیں کتا ب کے ساتہ صاحب کتا ب کو بھی جاننے کا موقعہ مل جاتا ہے. کشور ناہید سے سمن آباد سے وحدت روڈ جانے والی سڑک پر ان کے پرانے گھر سے اسلا م آباد میں حوا ایسوسی ایٹس کے دفتر تک نیاز مندی رہی . لاہور ریگل پر کلا سک والی جو بات میں نے لکھی یہ بھی ایک ذاتی مشاہدہ تھا. احمد بشیر ہم جیسے لوگوں سے بھت بڑے تھے لیکن نیاز مندی کا ہمارا دعوا بہرحال قائم ہے . یہ تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا کھ خا کھ پڑھنے میں اور چھپنے میں ایک طویل وقفہ تھا .
    ممتاز مفتی کو احمد بشیر کے سا تھ نہ ملائیے’ بے ادبی’ ہوتی ہے اس کے باوجود کھ مجھے اندازہ ہے کھ آپ کے حلقوں میں ممتاز مفتی کا کیا مقام ہے .
    خادم نے منٹو اور احمد بشیر کی صرف مثال دی تھی . اپنے اس موقف پر اب بھی قائم ہوں کہ گندگی میں لت ہاتھوں سے فصد نہیں کھلوائی جاتی
    شاہد مسعود کے کراچی کی مثال دوں . میڈیکل کالج میں جن لوگوں میں ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا ان سے انہوں نے زین الدین خان کا نام تو سنا ہوگا …دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں …..کبھی کراچی میں کسی سے فون پر بات ہو تو کبھی کسی سکول نہ جانے والے مزدور رہنما غیاث الدین کے متعلق پو چھ لیجئے گا جو اس ملک کے بڑ ے بڑے سیاسی دانش وروں کا استاد ہے . ویسے مجھے شک ہے کہ ان ناموں سے جناب کو شناسائ ہو ، جناب بھت مثالیں ہیں لیکن ‘ شاہد مسعود ‘ ان میں کہیں نہیں آتا

    Bawa said:
    @ baynaampunjabi
    آشفتہ سر
    آپ نے ایک ‘بے نام’ کو مخاطب کیا میرے لیے با عث سعادت ہے . لیکن بندہ پرور ہم ‘بے نام ‘ ہیں ‘بے مرشد ‘ نہیں . یہ طعنہ تو نہ دیجئے کہ ھمیں سچ ہضم نہیں ہوتا . ہم پردے میں نہ بھی ہوں تو عام اور گم نام ہیں اگر آپ کے چہرے سے پردہ اٹھ گیا تو باوا کو لکھنے کے لیے بہت کچھ مل جا ۓ گا

    ……………………………………………….

    بھائی جی. یہ چہرہ تو ہم نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا تھا. اگر یقین نہیں آ رہا تو ملاحضہ فرمائیں ہمارے بہت مہینوں پہلے کے کومنٹس

    ویسے اگر برا نہ منائیں تو ایک بات عرض کروں کہ ہماری نظریں سات پردوں کے اندر چھپے ہوئے چہروں کو بھی پہچان لیتی ہیں. آپ پردہ اتار دیں. یہ آپ ہی کی محفل ھے. اپنی محفل میں یوں نقاب اوڑھ کر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا. باقی آپکی مرضی

    http://pkpolitics.com/2009/12/12/meray-mutabiq-12-december-2009/#comment-275433

  • @Akhtar

    ashuftasar said:
    باوا صاحب ۔۔۔۔ بے نام پنجابی صاحب

    بے نام پنجابی صاحب ۔۔۔۔۔

    آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ ” اگر آپ کے چہرے سے پردہ اٹھ گیا تو باوا کو لکھنے کے لیے بہت کچھ مل جا ۓ گا”
    آپ کے فرمان کے دو جواب ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
    پہلا جواب ۔۔۔۔۔ جب سے آپ نے یہ “دھمکی” دی ہے میرا چین و سکون رخصت ہو چکا ہے سوچ رہا ہوں کہیں گوشہ نشینی اختیار کر لوں یا خود کشی کر لوں۔ میں بہت خوف زدہ ہوں ۔۔۔۔ میری آپ سے دست بستہ درخواست ہے ایسا نہ کیجیے مجھ پر رحم کیجیے اور باوا صاحب کو تو بالکل نہ بتائیے !!!

    دوسرا جواب ۔۔۔۔۔۔ (بلند آہنگ قہقہہ) ۔۔۔۔۔ جناب بصد شوق اور جلدی اٹھائیے ۔۔۔ ہم بھی مشتاق دید ہیں!
    آپ نے شاہد کی کراچی کی مثال دی ہے لیکن یہ مبہم ہے قابل فہم نہیں ہے۔ اچھی طرح سے روشنی ڈالیے ۔۔۔۔ خوب بے نقاب کیجیے ۔۔۔۔ میں بھی اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کا متمنی ہوں اور ہاں صرف باوا صاحب کو ہی کیوں پی پی کے پروپیگنڈا سیل کو بھی یہ بیش بہا معلومات ضرور فراہم کیجیے گا وہ سیل بھی کردار کشی کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ کس طرح شاہد کو بدنام کیا جائے ۔۔۔۔ یقین کیجیے آپ کو بےحد نوازا جائے گا اور اس کا آغاز آپ کو وزیر بنا کر کیا جائے گا اس کے بعد آپ کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ مزید کتنے فوائد کشید کرتے ہیں !!! اور قصر صدارت میں جو تمغے بٹ رہے ہیں وہ بھی آپ کے سینے کی زینت بن جائے گا ۔۔۔۔ بے شمار فوائد ہیں کیا کیا بتائوں! دیر مت کیجیے۔

    نوٹ ۔۔۔۔۔۔ آپ کو جواب منتخب کرنے کی پوری آزادی ہے۔

    باوا صاحب ۔۔۔۔۔

    مقام شکر ہے آپ نے آدھا سچ تو تسلیم کیا ….آدھے سچ تک آپ پہنچ چکے ہیں بقیہ آدھے سچ تک بھی پہنچ جائیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ چشمہ اتاریں اور آدھا بھرا ہو گلاس بھی دیکھیں۔۔۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ خود دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں۔ فروعیات سے بچیں۔۔۔۔ ویسے بقیہ آدھا سچ کیا ہے جو شاہد چھپاتا ہے!؟
    آپ کہتے ہیں وہی پرانے لوگوں کو بلاتے ہیں جن کے چہرے دیکھ دیکھ کر اور گھسے پٹے مکالمے سن کر تنگ آگئے ہیں۔۔۔ بہت خوب کتنا معقول اعتراض کیا ہے! اپنے اعتراض کی معقولیت پر ایک مرتبہ پھر غور فرمائیے! میرا خیال ہے اب شاہد کو ۔۔۔ ریما، میرا، نیلی وغیرہ کو بلانا چاہیے! لیکن ایک بات یاد رکھیے اگر اس قسم کی خواتین آئیں اور انھوں نے “پورا سچ” اگل دیا تو وہ بھی آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرے گا! ۔۔۔ سوچ لیجیے ! پھر ابکائیاں نہیں ۔۔۔ الٹیاں آئیں گی!

    میں آپ کی طرح نیٹ پر اتنا وقت گزارنے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ کاش میرے پاس آپ کی طرح اتنا وقت ہوتا !

    میں شاہد کا ترجمان ہوں نہ وکیل ۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ہوں لمحہ موجود میں ، جزوی اختلاف سے قطع نظر، شاہد ٹھیک ہے۔
    خیر اندیش ۔۔۔۔۔ آشفتہ سر

    baynaampunjabi said:
    آشفتہ سر
    جناب طیش میں آ گۓ، کیا جلدی ہے؟ آپ کو آنکھ مچولی پسند ہے جاری رکھتے ہیں. نہیں جناب کراچی کی مثال کا شاہد مسعود کے ماضی سے کو ئی تعلق نہیں تھا ، میں نے تو کراچی کے کچھ کھرے اور ایماندار سیاسی کارکنوں کے نام گنوا ۓ تھے . لیکن غلطی ہو گئی صالح ظا فر کو سینئر سیاسی تجزیہ نگار قرار دینے والےزین الد ین خان اور غیا ث سے کہاں وا قف ہونگے ؟

    کردار کشی ……..جناب پی پی پی والے اس جنس سے واقف ہوتے تو آج اس حا ل میں ہوتے. اللہ نے یہ صلاحیت صرف جماعت اسلامی والوں کو ہی عطا کی ہے . پی پی پی کے حصے میں ایک مولانا کوثر نیازی آۓ تھے لیکن جلد ہی اصل کی طرف مراجعت فرما گۓ .
    ذرا انصاف فرمایے گا ، کیا شاہد مسعود کا کوئی “ماضی” ہے ، نہیں جناب نہیں، “ماضی” نہیں “قلا بازی” کی بات کیجئے . خدارا قلابازیوں کو ارتقا نہ کہہ دیجئے گا ، ارتقا میں انواع خود میں بہتری پیدا کرتی ہیں
    تو آپ صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ حرف صرف اس لیے لکھا جاتا ہے کہ اس کی قیمت وصول کی جا ۓ، کیسے آشفتہ سر ہیں آپ ؟ جناب عالی، ایک قبیلہ حبیب جالب کا بھی ہے ، وہ والا نہیں جس نے حا ل ہی میں جالب کی نظمیں پڑھنا یا ترنم سے گا نا شروع کی ہیں میں اں کی بات کر رہا ہوںجو بھٹو اور ضیاء دونوں کے دور میں جیل میں ہوتے تھے . حرف ہما رے لیے بھت مقدس ہوتا ہے.
    ریما ، میرا اور لیلیٰ کی توہین نہ کیجئے …..مرے بت خانے میں تو کعبے میں گا ڑو برہمن کو …..میرے مطابق میں صالح ظافر ہی جچتا ہے ، ما تھے پر محراب، گلے میں ٹّائی اور منہ میں جھوٹ یا پھر حمید گل ، ہاروں رشید ، شاہین صہبائ……ریما ، میرا اور لیلیٰ نی کبھی تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ وہ پیسوں پر ناچتی ہیں
    باوا ایک کیس سٹڈی ہے کہ کیسے شاہد مسعود کے زبان و بیان سے متاثر ہو کر ایک انتہائی پی پی پی دشمن نیٹ پر پی پی پی کا دفاع کر رہا ہے . پی پی پی والو ، شاہد مسعود کو پرائم ٹائم پر لاؤ تمہیں اندازہ ہی نہیں یہ کتنے کا م کا بندہ ہے

    baynaampunjabi said:
    جناب فارغ جذباتی
    سکول ، کالج اور پھر یونیورسٹی کی زندگی میں ہم تھے یا جماعت والے . یہ شناسائی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ جماعت کے خمیر میں گندھی شخصیات ….نئی یا پرانی ……. کی بو ہم دور سے ہی محسوس کر لیتے ہیں.آشفتہ سر میں بھی ھمیں کچھ ایسی ہی کشش محسوس ہوتی ہے سو ان سے دل لگی کر لیتے ہیں ، تا ہم آپ ہمرے سآتہ ہوتے تو محفل کچھ زیادہ آباد دکھائی دیتی .
    جناب آشفتہ سر کا قصر صدارت سے کافی گہرا تعلق رہا ہے، وہاں لوٹنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ زرداری وہاں سے نکل جا ۓ. شاہی فرمان کا مسودہ لکھنا ..واہ واہ ……..یہ لت پڑ جا ۓ تو مشکل سے جاتی ہے. اسی لیے لمحہ موجود کو “مطلق ” گردانتے ہیں اور ہم ٹہرے بے نام اور گنوار کہ لمحہ موجود میں بھی اضافیت تلاش کرتے ہیں .

    آشفتہ سر بھائی ، برا مت منائیے گا خوشبو اور بدبو کے درمیان “بو” ایک معتدل لفظ ہے

    Bawa said:
    @ ashuftasar
    باوا صاحب ۔۔۔۔۔

    مقام شکر ہے آپ نے آدھا سچ تو تسلیم کیا ….آدھے سچ تک آپ پہنچ چکے ہیں بقیہ آدھے سچ تک بھی پہنچ جائیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ چشمہ اتاریں اور آدھا بھرا ہو گلاس بھی دیکھیں۔۔۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ خود دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں۔ فروعیات سے بچیں۔۔۔۔ ویسے بقیہ آدھا سچ کیا ہے جو شاہد چھپاتا ہے!؟
    آپ کہتے ہیں وہی پرانے لوگوں کو بلاتے ہیں جن کے چہرے دیکھ دیکھ کر اور گھسے پٹے مکالمے سن کر تنگ آگئے ہیں۔۔۔ بہت خوب کتنا معقول اعتراض کیا ہے! اپنے اعتراض کی معقولیت پر ایک مرتبہ پھر غور فرمائیے! میرا خیال ہے اب شاہد کو ۔۔۔ ریما، میرا، نیلی وغیرہ کو بلانا چاہیے! لیکن ایک بات یاد رکھیے اگر اس قسم کی خواتین آئیں اور انھوں نے “پورا سچ” اگل دیا تو وہ بھی آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرے گا! ۔۔۔ سوچ لیجیے ! پھر ابکائیاں نہیں ۔۔۔ الٹیاں آئیں گی!

    میں آپ کی طرح نیٹ پر اتنا وقت گزارنے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ کاش میرے پاس آپ کی طرح اتنا وقت ہوتا !

    میں شاہد کا ترجمان ہوں نہ وکیل ۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ہوں لمحہ موجود میں ، جزوی اختلاف سے قطع نظر، شاہد ٹھیک ہے۔
    خیر اندیش ۔۔۔۔۔ آشفتہ سر

    ……………………………………………………..
    آشفتہ سر جی
    گلاس پورا بھرا ہوا ہو تو یا تو وہ پورا بھرا ہوا نظر آتا ہے یا پھر پورا خالی نظر آتا ہے. ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ پورا بھرا ہوا گلاس آدھا بھرا ہوا نظر آئے. اگر یقین نہیں آ رہا تو ابھی اپنی میز پر پڑے گلاس کو بھر کر سامنے رکھکر اور میز کی چاروں طرف چکر لگا کر دیکھ لیں. آدھا بھرا ہوا گلاس اسی وقت آدھا بھرا نظر آتا ہے جب وہ واقعی آدھا بھرا ہوتا ہے. اسے چشمۂ لگا کر دیکھیں یا اتار کر وہ آدھا بھرا ہوا ہی نظر آئے گا. اسے قریب سے دیکھ لیں یا دور ہو کر وہ آدھا ہی رہے گا. امید ہے آپ میری بات کو سمجھ گئے ہونگے کہ آدھا سچ آدھے بھرے گلاس کی طرح آدھا ہی ہوتا ہے. ہم منتظر رہیں گے کہ کب پورا بھرا گلاس ہمارے سامنے رکھا جاتا ہے یا یہ کہ کب خالی گلاس کو ہمارے سامنے رکھ کر پورا بھرا ہوا ہونے کا دعوه کیا جاتا ہے. پورے بھرے گلاس یا خالی گلاس سےتو ہم دھوکہ کھا سکتے ہیں لیکن آدھے بھرے ہوئے گلاس سے نہیں

    ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم پورا سچ سننا چاہتے ہیں اور پورا ہی دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں. یہ قوم قیام پاکستان سے لیکر اب تک آدھا سچ سنتی آ رہی ہے. اس آدھے سچ کی وجہ سے ہمارا آدھا ملک چلا گیا اور باقی آدھا بھی افراتفری اور بے یقینی کی حالت میں ہے. اس پر مزید ظلم نہ کریں، اسکی حالت زار پر رحم کریں اور اسے پورا سچ بتائیں. اس قوم سے حکمرانوں، فوجیوں اور سیاستدانوں کی طرح مزید سچائی نہ چھپائیں. صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اسکی توہین نہ کریں. تصویر کے دونوں رخ عوام کے سامنے رکھیں اور اسے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے دیں. اپنا مخصوس اور آدھا سچ زبردستی لوگوں پر نہ ٹھونسیں. اس ملک اور قوم کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کے گندے کھیل کا حصہ نہ بنیں. اس قوم کا ساتھ دیں اور اس قوم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں. اس ملک و قوم نے بہت برا وقت گزارا ہے اور اب تک گزار رہی ہے. اس کے زخموں پر مرہم رکھیں. اسے آپریشن تھیٹر میں لیجانے سے پہلے ساری باتیں بتا دیں اور آپریشن تھیٹر میں لٹا کر اس کے ورثا کو بلیک میل نہ کریں

    مخصوس چہروں کو بار بار پروگرام میں بلا کر ہمیں کیا سچ بتایا جا رہا ہے؟ کیا سترہ کروڑ کے ملک میں سچ بولنے والے یہی چند لوگ ہیں؟ ہر پروگرام میں چند مخصوس جملے سیاق و سباق ہے ہت کر کیوں بولے جاتے ہیں کہ فوج اور اسٹبلشمنٹ کیا سوچتی ہے؟ بے نام بھائی نے درست کہا ہے کہ ریما ، میرا اور لیلیٰ کی توہین نہ کیجئے. ریما ، میرا اور لیلیٰ نے کبھی تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ وہ پیسوں پر ناچتی ہیں. کوئی سچ بولنا چاہتا ہے تو پورا سچ بولے خواہ کسی کی طبیعت پر بہت گراں گزرے یا کسی کو ابکائیاں نہیں ۔۔۔ الٹیاں آئیں

    یہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ میری طرح نیٹ پر اتنا وقت گزارنے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتے. یہ بات کم از کم تین مرتبہ سن چکا ہوں. اس پر مجھے ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا

    ایک شیخ اپنے طوطے کے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کر رہا تھا. طوطا بہت شریر تھا. ایئر ہوسٹس پاس سے گزری تو اس نے چھیڑ خانی کی. ائیر ہوسٹس نے نے مسکرا کر بات کو نظر انداز کر دیا. یہ دیکھکر شیخ کا بھی حوصلہ بڑھ گیا اور اس نے بھی پاس سے گزرتی ہوئی ایئر ہوسٹس سے چھیڑ خانی کر دی. ایئر ہوسٹس نے جا کر کپتان کو شکایت کی تو کپتان نے جہاز میں موجود سیکیورٹی گارڈز کو بلا کر حکم دیا کہ طوطے اور شیخ دونوں کو اٹھا کر جہاز سے باہر پھینک دو. سیکیورٹی گارڈز نے دونوں کو باہر پھینکنے کے لیے دروازہ کھولا تو شیخ صاحب کا رنگ پیلا ہو چکا تھا. طوطا شرارت سے بولا کہ شیخ صاحب کیا اڑنا آتا ھے تو شیخ بیچارگی سے بولا کہ نہیں. طوطا بولا تو پھر پنگا کیوں لیا تھا؟ دروازہ کھولا گیا تو طوطا ھوا میں اڑنے لگ گیا اور شیخ صاحب شام غریباں مناتے زمین کی طرف لڑھک گئے

    لطیفہ اگر نا گوار گزرا ہو تو میں پیشگی معزرت کر لیتا ہوں. لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ کام وہ کیے جاتے ہیں جن کے لیے وقت ہو. اگر کسی کام کے لیے وقت نہ ہو تو وہ کام نہیں کیے جاتے یا پھر وقت کی کمی کا رونا نہیں رویہ جاتا. شروع شروع میں جب میں یہاں کینیڈا میں آیا تو مجھے اپنے فیلڈ میں جاب نہ مل سکی. یہاں ہر کسی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے. دو سال میں نے فیکٹری میں جاب کی. وقت کی کمی اور جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے میں نے دوسری سب ایئکٹیوٹیز ختم کر دی اور کسی سے اسکا رونا نہیں رویا. اب جب اپنے آپ کو اپ گریڈ کرکے اچھی جاب حاصل کر چکا ہوں تو یہ ایئکٹیوٹیز بھی شروع کر دی ہیں

  • That underwater underneath your frozen system of Jupiter’s celestial satellite Europa could possibly be too acidic to aid your life, as a result of materials that may regularly migrate downward by the surface area, researchers say.