Featured Original Articles Urdu Articles

Rukhsana Bibi kay tezaab say jhulsay zakhmon ki royalty – Wasi Shah (Nai Baat)

Rukhsana made acid crimes the basis of her heartfelt plea to Pakistan's parliament. Asad Faruqi / HBO

Related posts:
Twitter has spoken against Sharmeen Obaid Chinoy: #JusticeforRukhsana – by Aaj TV
Justice for Rukhsana: This is how urban elites exploit oppressed women’s miseries in Pakistan

We are cross-posting an Urdu column by famous Pakistani poet and columnist Wasi Shah on exploitation of Rukhsana Bibi, an acid victim woman from Muazaffargarh whose miseries were further exploited by an acclaimed filmmaker Sharmeen Obaid Chinoy.

Wasi’s column in Urdu newspaper Nai Baat (28 June 2012) highlights how an urban elite filmmaker, hailed for her Oscar award by the government and the media alike and earning an international stature for highlighting an ugly reality of the Pakistani society, may have some ugly gaps in her personal moral strength.

The very girl who was used by Sharmeen in her ‘Saving Face’ documentary to bring about the global audience, the miseries of acid attack women in Pakistan, Ruksana bibi has recently reported in a mainstream Urdu newspaper that Sharmeen, who had promised her rupees 3 million, a 5 marla house in Multan and free surgery, has constantly delayed the matter. Ruksana bibi says that as a fruit of working in the movie she has lost the support of her parents and clan; she has been left alone by all her acquaintances and the situation has eventuated in Chinoy’s refusal to meet her due to her busy international schedule. Rukhsana also reported that Sharmeen pressurized her to seek divorce from her husband.

Chinoy, who started her career with New York Times Television in 2002, has produced about 12 films, many of which have been award winning, in her short career. All her films, offer an uncritical, Orientalist look at cultures in Third World countries. She produced ‘Terror’s Children’ a film about Afgan refugee children, ‘Reinventing the Taliban’ in 2003, ‘Women of the Holy Kingdom’ in 2005, ‘Pakistan’s double game’ 2005, ‘Lifting the veil’ 2007, ‘Children of Taliban’ 2010; all depicting the plight of women and children in the Muslim cultures, giving uncritical legitimacy, in the mainstream media, to the global war on terror that is based on the slogans of ‘bringing democracy’ and ‘delivering the women’.

We are sure for a thriving career for Sharmeen in the future. Oscar may just be a milestone on her path; she can aim for the Nobel prize after Obama.

We are concerned only for the double-jeopardy that Ruksana bibi is facing now. ‘Face Saving’ proved unable to save face for Pakistan; for Ruksana bibi, she had to face trauma after trauma; even for Sharmeen it is proving to be difficult to save her face in this situation. The Acid Survivors Foundation has said on behalf of Sharmeen that the promises could not be fulfilled because of Ruksana bibi’s family members who have insisted that they be paid everything in cash; the question is that how does Sharmeen stand up to save the face of these women when she is finding herself intimidated by the pressure of Ruksana bibi’s family, does she not know how Ruksana bibi can get legal protection.

In the following column, Wasi Shah highlights the double jeopardy faced by Rukhsana Bibi and similar oppressed women in Pakistan who are being further exploited by greedy NGOs and dubious rights activists.The very fact that Rukhsana’s press release was not published in any English newspaper in Pakistan shows the despicable nature and power of the elitist network at play which wants to hide the true ugly face of Sharmeen Obaid Chinoy.


Source: http://naibaat.net/naibaat/ePaper/lahore/28-06-2012/details.aspx?id=p2_13.jpg

——

Video reports:

Express Tribune

Acid victim Rukhsana, featured in Sharmeen Obaid-Chinoy’s Oscar winning documentary Saving Face, has alleged that the filmmaker promised to give her Rs3 million and a house, and also promised to help her with plastic surgery for working in the film, but did not fulfil any of her promises. But the filmmaker has denied all accusations.

ARY News (Headlines 28 June, 2012) Acid attack survivor sues Sharmeen

http://youtu.be/3aRwygjTPcs

About the author

Jehangir Hafsi

6 Comments

Click here to post a comment
  • Shame on elitists media (English press) which refused to publish Rukhsana’s version at all.

    Thank you, Wasi Shah sahib, for writing on this much ignored topic.

  • Both Dr Awab and Marvi Sirmed are united in defence of Sharmeen. Isn’t it wonderful?

    According to Marvi, Awab was the persons behind defamation campaign against her and other journalists (Malik Riaz Media List).

    This shows that class connection is more powerful than political or ideological affiliations.

  • سیونگ ڈالرز
    تاریخ: جون 28, 2012 مصنف: وقار اعظم

    عورت نوع انسانی کی تعمیر کا پہلا مکتب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت تقریباً ہر زمانے میں ہر دور میں سازشوں کا شکار رہی اور اکثر مذاہب و معاشرے میں مظلوم بھی رہی۔ حقوق انسانی سے تہی دامن ، شرف انسانی سے فارغ بلکہ زندگی سے محروم جس کی گواہی خود قرآن نے دی: واذا المئودۃ سئلت ، بایّ زنب قتلت [التکویر] ” اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی”۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے نجات دہندہ بن کر بھی آئے اور ان کو سربلندی بھی عطا فرمائی۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے کے بجائے اسے اپنے جسم کا حصہ اور جگر کا ٹکڑا قرار دیا۔ ماں کے قدموں میں جنت قراردی اور نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا۔ باپ ، شوہر ، بھائی ، بیٹا ہر رشتے میں مرد کو اس کا محرم اور محافظ قرار دیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کے منشور انسانیت میں عورت کے حقوق کا خیال رکھنے کی خاص تاکیدفرمائی۔ لیکن صد افسوس، آج کفار و مغرب کو تو چھوڑیے خود مسلمان عورت ایک مرتبہ پھر ایک دوراہے پر کھڑی کردی گئی ہے۔ ساتھ ہی دین سے دوری، کم علمی، غریب و افلاس نے ایسے المیوں کو جنم دیا ہے کہ جسے دیکھ سن کر دل دہل جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکا ہے۔ گو کہ ایسے واقعات کروڑوں کی آبادی میں شاید چند سو بھی نہ ہوں لیکن اس سے انکار ممکن نہیں۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ اس حوالے میں معاشرے میں شعور و آگاہی پیدا کی جائے، ارباب اقتدار اس حوالے سے صحیح قانون سازی کریں ۔ اس قبیح فعل کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس ظلم کا شکار خواتین کی دادرسی کی جائےلیکن کیا کیجیے کہ ایک جانب مغرب زدہ میڈیا طبقہ ہے جو معاشرے کی ہر برائی کو اسلام اور اسلام پسندوں کے کھاتے میں ڈالتا ہے اور دوسری جانب مخصوص ایجنڈے پر عامل این جی اوز جو اپنے غیرملکی آقائوں کے ایک اشارے پر حد سے گذر جانے پر ہر آن تیار رہتے ہیں

    کچھ عرصے قبل قومی و بین الاقوامی میڈیا میں بڑی ہاہاکار مچی کہ تاریخ میں پہلی بار کسی پاکستانی خاتون کو جو کہ درحقیقت پاکستانی نژاد کینیڈین شہری ہیں کوانکی ایک دستاویزی فلم”سیونگ فیس Saving Face” پر آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ فلم ایسڈ سروائیور فائونڈیشن Acid survivor foundation کے تعاون سے بنائی گئی۔ فلم کی مرکزی کردار دو خواتین تھیں جو تیزابی حملے کا شکار ہوئی تھیں اور ایک برطانوی ڈاکٹر جو اس ظلم کا شکار خواتین کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کررہے تھے۔ شرمین عبید کا کہنا تھا کہ انہیں یہ فلم بنانے کا خیال اس لیے آیا کہ اس کے ذریعے معاشرے میں شعور و آگاہی پھیلائی جاسکے لیکن ہر طرف مبارک سلامت کے شور میں کسی کو یہ سوچنے کی فرصت نہ مل سکی کہ ایک ایسا معاشرہ جس کی اکثریت اس زبان سے نابلد ہے جس میں یہ فلم بنائی گئی ہے کیونکر شعور و آگہی پھیلانے میں معاون ہوگا؟ ہاں جن کے شعور و آگہی کے لیے بنایا تھا وہ ضرور جان گئے اور انہیں سب سے بڑے فلمی ایورڈ سے نواز دیا۔ یقناً اس کے ساتھ کچھ فنڈنگ بھی ہوئی ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق شرمین عبید چنائے کے پروڈکشن ہائوس کو اب تک کئی ملین ڈالرز کے فنڈ مل چکے ہیں، فنڈ کے استعمال پر تھوڑی تحقیق کریں تو نئی نئی جہتیں آشکار ہونے لگتی ہے۔ رفیع پیر تھیٹر ہی کو لے لیجیے، یونائیٹڈاسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یوایس ایڈ) کی طرف سے 20 ملین ڈالر کی فنڈنگ مشہور امریکی پروگرام سیسم اسٹریٹ کا پاکستانی ورژن “سم سم ہمارا” کو بنانے کے لیے کی جارہی تھی، لیکن ابھی حال ہی کی ایک خبر ہے کہ یو ایس ایڈ نے رفیع پیر تھیٹر کی فنڈنگ روک کر انکے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ رفیع پیر تھیٹر کے کرتا دھرتا، عثمان پیرزادہ اینڈ کمپنی فنڈ کو اپنے قرضوں کی ادائیگی اور رشتے داروں کو نوازنے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ خیر بات ہورہی تھی شرمین عبید کو ملنے والے فنڈز کی تو محترمہ شرمین عبید چنوئے کی فلم سیونگ فیس اس وقت دوبارہ موضوع بحث بن گئی جب فلم کو بنانے میں تعاون کرنے والی این جی او “دی ایسڈ سروائیور فائونڈیشن” نے فلم کی پاکستان میں نمائش رکوانے کے لیے قانونی نوٹس بھجوایا۔ فائونڈیشن کا موقف تھا کہ فلم کی پاکستان میں نمائش سے اس کے کرداروں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جسے فلم کے پروڈیوسرز نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فلم کی پاکستان میں نمائش کا حق حاصل ہے۔

    27 جون 2012 کو روزنامہ جنگ نے دستاویزی فلم “سیونگ فیس” کے ایک مرکزی کردار “رخسانہ بی بی” کے حوالے سے ایک خبر شایع کی ہے جو مظلوم پاکستانیوں کے غم میں تڑپنے والے ان نام نہاد سوشل ایکٹوسٹوں کے کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ خبر کے مطابق رخسانہ بی بی نے کہا ہے کہ فلم کے ذریعے کروڑوں کی آمدن عالمی ایوارڈز اور عالمی پذیرائی کے باوجود وہ خودگمنامی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے اور اسے بدنامی اور غربت کے سوا کچھ نہیں ملا۔ وہ بچوں کو دو وقت کی روٹی اور ایک چھت مہیا کرنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے رخسانہ بی بی نے الزام لگایا ہے کہ فلم بنانے والوں نے مقصد کے حصول اور نام و دولت حاصل کرنے کے فوراً بعد اسے دربدر پھرنے پر مجبور کردیا کیونکہ فلم بنوانے کی پاداش میں شوہر نے اسے گھر سے نکال دیا جبکہ والدین نے بھی غیرت کا مسئلہ بنا کر سہارا دینے سے انکار کردیا ہے اور اب وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ رخسانہ بی بی سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے رائلٹی کی مد ميں 3 ملين روپے اور ملتان شہر ميں 5 مرلہ کا تعمير شدہ مکان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پلاسٹک سرجری کے تمام اخراجات بھي برداشت کئے جائيں گے لیکن نہ تو اس کی پلاسٹک سرجری کروائی گئی اور نہ ہی دوسرے وعدے پورے کیے گئے۔ مکمل خبر یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

    اس سارے قضیے میں پاکستانی میڈیا کا کردار ایک بار پھر بے نقاب ہوا چاہتا ہے کہ اب تک روزنامہ جنگ کے علاوہ کسی چینل یا اخبار نے اس خبر کو نشر کرنے یا اشاعت کے قابل نہیں سمجھا۔ وہ سول سوسائٹی جو “میں ناچوں گی، میں گائوں گی” کے حق کے حصول کے لیے ریلیاں نکالتی ہیں، جو کوہستان میں لڑکیوں کے رقص کرنے کی وجہ سے قتل کیے جانے کی جھوٹی خبر پر آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں، کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر ملکی امداد کے بل پر پلنے والے اس طبقے کی ہمدردیاں کیا واقعی اہل پاکستان کے ساتھ ہیں؟ کیا شرمین عبید چنوئے کی دستاویزی فلم “سیونگ فیس” واقعی سیونگ فیس کے لیے تھی یا اس کا مقصد کچھ اور “سیو” کرنا تھا؟؟؟؟