Newspaper Articles

Power of social media in Pakistan

LUBP is Pakistan's leading political blog on Twitter, Facebook and WordPress.

سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق ضروری
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: جمعـء 15 جون 2012

پاکستان میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے اور پھر بعض ٹی وی چینلوں کے میزبانوں کے خلاف یکے بعد دیگرے سکینڈلز سوشل میڈیا سامنے لایا ہے اور بظاہر اس معاملے میں وہ روایتی اور پیشہ ور میڈیا پر سبقت لے گیا ہے جو ‘بریکنگ نیوز‘ اچکنے کے لیے جان لگا دیتا ہے۔

یو ٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ سوشل میڈیا کے ایسے طاقتور نام ہیں جہاں حقیقت سے لے کر قیاس، مبالغہ، الزام اور دشنام تک سب چلتا ہے کیونکہ اس کے لیے نہ تو پیشہ ور صحافی ہونا ضروری ہے اور نہ ہی تجزیہ کار۔

اور پھر اطلاع جتنی سنسنی خیز اور مصالحے دار ہوتی ہے اتنی ہی تیزی سے پھیلتی ہے۔ مطلب! ’ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا آوے‘۔

چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کے خلاف سکینڈل، جس انٹرویو کے ذریعے یو ٹیوب پر ’بریک‘ کیا گیا اسے چند دنوں میں ہی لگ بھگ سینتالیس ہزار لوگوں نے دیکھا۔

اسی طرح یو ٹیوب پر ہی اس کہانی کے اہم کردار ملک ریاض کے ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر ’پلانٹڈ انٹرویو‘ کی آف دی ریکارڈ فوٹیج پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پونے دو لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

یوٹیوب پر شائع ہونے والی انہی ویڈیوز نے پچھلے ایک ہفتے میں یہ طے کیا ہے کہ پاکستان کے روایتی اور پیشہ ور میڈیا کی خبروں، تجزیوں اور ٹاک شوز کا ایجنڈہ کیا ہوگا۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا، روایتی اور پیشہ ور میڈیا پر بازی لے گیا ہے؟

پاکستان کی وفاقی اردو یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر توصیف احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
’سوشل میڈیا میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ مقصدیت اور صداقت کے فقدان کا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو بے تحاشہ اطلاعات ہر آدمی دے رہا ہے۔ ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ واقعی بامقصد ہیں؟ وہ واقعی صداقت کے اصولوں پر پورا اترتی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ سب باتیں نہیں ہوتیں‘۔

وہ کہتے ہیں کہ خام اطلاع کے ذریعے کے طور پر تو سوشل میڈیا استعمال ہوسکتا ہے جہاں پہ آنے والے کسی پیغام یا اطلاع کی تصدیق کر کے تو خبر بنائی جاسکتی ہے مگر سوشل میڈیا میں مقصدیت نہ ہونے کا جو پہلو ہے وہ اسے روایتی میڈیا سے بہت پیچھے لے جاتا ہے۔

ماروی سرمد انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں، پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی صارفین کی شکایات کے لیے قائم کونسل کی رکن بھی ہیں اور سوشل میڈیا کی سرگرم بلاگرز میں سے ایک ہیں۔

وہ سوشل میڈیا کی بے مثل طاقت کی قائل نظر آتی ہیں۔ ’آپ کو ٹیلی وژن کے سامنے تو بیٹھنا پڑتا ہے مگر سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اپنے موبائل فون سے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا سے ہر لمحہ دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں‘۔

سوشل میڈیا کی طاقت کا ایک راز شاید یہ بھی ہے کہ اس میں اطلاع دینے والے کے لیے اپنی صحیح شناخت اور اتہ پتہ دینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور گمنام رہ کر کوئی بھی جھوٹی یا سچی اطلاع دی جاسکتی ہے۔

ماروی سرمد کہتی ہیں کہ وہ خود بھی تازہ تازہ اس کا شکار بنی ہیں۔ ان کا نام بھی صحافیوں کی اس فہرست میں شامل ہے جو ایک گمنام شخص نے اس الزام کے ساتھ فیس بک پر شائع کی انہیں ملک ریاض نے پلاٹس تحفے میں دیے تھے۔

بعد میں بحریہ ٹاؤن نے اس فہرست کو جعلی قرار دیکر مسترد کردیا۔ لیکن ماروی سرمد سمجھتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر گمنام رہ کر اطلاع دینے کی چھوٹ دینے کے جہاں نقصانات ہیں وہاں فائدے بھی ہیں۔

’مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ مصر میں اور عرب دنیا میں، سوشل میڈیا پر گمنام رہ کر بات کرنے یا اطلاع دینے کا جو فائدہ ہے اسکو استعمال کرتے ہوئے ایک پوری سماجی اور سیاسی مہم اتنی طاقتور شکل اختیار کرگئی کہ اس نے بادشاہتوں کو اٹھاکے پھینک دیا‘۔

“سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اپنے موبائل فون سے سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا سے ہر لمحہ دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔”
ماروی سرمد

ماروی سرمد مزید کہتی ہیں کہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کی اسی انفرادیت سے انسانی حقوق کے کارکن بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور گمنام رہ کر سوشل میڈیا پر بہت ہی کھل کر اور سخت باتیں کہتے ہیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ابلاغ کے دوسرے ذرائع کی طرح سوشل میڈیا پر کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق کا ہونا ضروری ہے ورنہ اگر سوشل میڈیا کو بار بار ایسی اطلاعات کے لیے استعمال کیا گیا جو بعد میں غلط ثابت ہوں تو پھر سوشل میڈیا کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی۔

پاکستان میں روایتی اور پیشہ ور میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز پر صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزیوں کی کئی مثالیں موجود ہیں، ایسے میں سوشل میڈیا کے سمندر کو کسی ضابطہ اخلاق کو کوزے میں بند کرنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔

Source: BBC Urdu

About the author

SK

1 Comment

Click here to post a comment
  • میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے؟
    عنبر شمسی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    آخری وقت اشاعت: جمعـء 15 جون 2012 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    پاکستان کے ایک نجی چینل کی انٹرویو ویڈیو کیا سامنے آئی ملک کے میڈیا میں جیسے کہ بھونچال آگیا۔ نجی چینل دنیا ٹی وی نے کہا ہے کہ یہ ویڈیوز چینل کو بند کروانے کی ایک سازش کے تحت لیک کی گئی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے اس انٹرویو کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔
    چیف جسٹس کے بیٹے کے مبینہ طور پر مالی فوائد لینے کے معاملے کے مرکزی کردار ملک ریاض کے ایک خصوصی انٹرویو کی تشہیر یہ کہتے ہوئے کی کہ اس گفتگو میں کئی اہم باتوں کا احاطہ ہوگا۔
    اسی بارے میں
    ’متنازع انٹرویو کی عدالتی تحقیقات ہوں گی‘
    سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطۂ اخلاق ضروری
    ’صحافت کی دکانیں کھل گئی ہیں‘
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان
    لیکن اصل بات نشریات کے پسِ پردہ بریک کے دوران ملک ریاض اور ان کے ٹی وی میزبانوں کے درمیان ہونے والی اس بات چیت میں سامنے آئی جو سوشل میڈیا پر لیک کر دی گئی۔ جس سے بظاہر لگا کہ اس انٹریو کے عنوانات، سوالات، جوابات سب پہلے سے طے شدہ تھے۔
    اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کا نتیجہ جو بھی ہو، ’میڈیا گیٹ‘ کہلوائے جانے والے اس سکینڈل سے یہ موقع تو پیدا ہوا ہے کہ سیاست دانوں اور طاقتور شخصیات کا احتساب کرنے والوں کا اب شاید خود احتساب ہو۔
    ایک نجی ٹی وی کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جنگ کی آگ کی طرح پھیلی اور ذرائع ابلاغ میں طوفان برپا ہوگیا۔ تقریباً تمام معروف میزبانوں (اینکرز) نے اس موضوع پر کھل کر بات کی۔ مختلف چینلز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سوال اٹھایا گیا کہ ایک کاروباری شخصیت چینل کے میزبانوں اور مالکان پر اس حد تک کیوں حاوی تھی۔
    معروف اینکر پرسن طلعت حسین کہتے ہیں ’اس سے ملک ریاض کی میڈیا میں رسائی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ایک پارٹی کی اتنی تشہیر کی جائے اور لوگ پیسے لے کر ان کی تعریف میں لکھتے ہیں اور اخبارات بکے ہوئے ہیں تو اس سے میڈیا کی ساکھ متاثر ہوتی ہے‘۔
    “میڈیا کا سب سے بڑا احتساب مارکیٹ خود کرتی ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا غرور ہوکہ ہماری کرسی پکی ہے، لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں تو یہ ہم خود سے جھوٹ بول رہے ہوں گے۔”
    طلعت حسین
    بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ٹی وی میزبانوں کے باہمی اختلافات اور نفرتیں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔
    پروگرام کی ایک میزبان مہر بخاری نے اپنے پروگرام میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا تمام ٹاک شوز پر ہوتا ہے تو ان پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے۔ ’یہ سب کرتے ہیں۔‘
    مہر کے مطابق پروگرام کے دوسرے میزبان مبشر لقمان کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ نجی چینل دنیا ٹی وی نے اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں کہ یہ ویڈیو ’چوری‘ کیسے ہوئی اور یوٹیوب پر کیسے آئی۔
    ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ انصاف خریدے جانے کے معاملے سے ان اداروں کے فروخت ہو جانے پر مرکوز ہوگئی ہے جن کا کام لوگوں تک متوازن معلومات فراہم کرنا ہے۔
    انٹرنیٹ پر ایسی فہرست بھی شائع ہوئی ہے جس میں نامور کالم نگار اور اینکرز کے نام شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملک ریاض سے پلاٹ، گاڑیاں اور پیسے وصول کیے ہیں۔اس مبینہ فہرست کی ان تمام اینکرز نے اپنے اپنے پروگراموں میں بھرپور تردید بھی کی ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس فہرست کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔
    پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ کے میزبان حامد میر کا موقف ہے کہ یہ غلط معلومات پھیلانے کی ایک دانستہ مہم ہے۔ ’آپ کے پاس دستاویزات ہیں یا گواہ ہیں تو پھر اس کی مدد سے بات کریں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ ملک ریاض کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ ہم سے اس کے بارے میں سوال نہ اٹھائیں۔ اس نے منظم طریقے سے یہ مہم چلائی ہے‘۔
    “ضابطۂ اخلاق کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔ کم از کم تین ضابطے موجود ہیں لیکن مسئلہ ہی ہے کہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے لہٰذا متفقہ ضابطۂ اخلاق نہیں ہے۔”
    عدنان رحمت
    تقریباً دس سال قبل جب نجی چینلز کو خبریں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تو ایک طرح سے پاکستان میں میڈیا کا انقلاب آیا۔ ٹاک شوز نے ڈراموں سے بڑھ کر لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور اینکرز ایسی طاقت کی طرح ابھرے جن کے اثر کو تولا نہیں جا سکتا پر ظاہر ضرور تھا۔
    بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے۔ تاہم اس معاملے میں حامد میر کہتے ہیں کہ صرف اینکرز پر انگلیاں کیوں اٹھائی جا رہی ہیں، اخباروں اور چینلز کے مالکان سے یہی سوال کیوں نہیں کیے جا رہے؟
    ’بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہے ہیں دس دس پندرہ پندرہ منٹ کے اور ان کے پیسے مالکان کھا رہے ہیں اینکرز نہیں۔ آپ نے بھی مجھ سے اینکرز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اینکرز پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے کیونکہ پیشہ ورانہ جلن بھی ہوتی ہے۔ اس جلن کی وجہ سے لوگ غلط الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔‘
    طلعت حسین کا بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان میں صرف اینکرز کو نہیں بلکہ بڑے بڑے میڈیا گروپس کو خریدا گیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے اکا دکا افراد کو ملا رکھا ہے لیکن ملک ریاض کے بارے میں تو بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو ملا رکھا ہے۔ ’اس بابت ثبوت نظر آتا ہے اور بولتا ہے۔ اگر ایک گروپ ملک ریاض کو خصوصی توجہ دے گا تو سوال تو اٹھیں گے کہ کس بنیاد پر یہ کچھ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت کی فلاح کے لیے تو یہ نہیں ہو رہا ہوگا؟ صحافتی اصول بھی پامال ہو رہے ہیں تو کس وجہ سے یہ ہو رہا ہے‘۔
    “بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہے ہیں دس دس پندرہ پندرہ منٹ کے اور ان کے پیسے مالکان کھا رہے ہیں اینکرز نہیں۔ آپ نے بھی مجھ سے اینکرز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اینکرز پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے کیونکہ پیشہ ورانہ جلن بھی ہوتی ہے۔ اس جلن کی وجہ سے لوگ غلط الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔”
    حامد میر
    کیا دنیا ٹی وی اور اس کی لیک ہوئی ویڈیوز سے احتساب ہوگا اور کس طرح ہوگا، تصحیح کا عمل شروع ہو گا، تو کس طرح ہو گا؟ کئی دہائیوں سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی باتیں ہوتی رہتی تھی، تاہم، کچھ ہوتا نہیں تھا۔
    میڈیا امور کے تجزیہ نگار عدنان رحمت کا سوال ہے کہ کیا ضابطۂ اخلاق پر اتفاق ہو پائے گا یا نہیں۔ ’ضابطۂ اخلاق کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔ کم از کم تین ضابطے موجود ہیں لیکن مسئلہ ہی ہے کہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے لہٰذا متفقہ ضابطۂ اخلاق نہیں ہے‘۔
    دوسری جانب طلعت حسین کہتے ہیں کہ میڈیا کا احتساب عوام کریں گے۔ ’میڈیا کا سب سے بڑا احتساب مارکیٹ خود کرتی ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا غرور ہوکہ ہماری کرسی پکی ہے، لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں تو یہ ہم خود سے جھوٹ بول رہے ہوں گے‘۔
    احتساب، شفافیت اور اعتماد ۔۔۔ یہ الفاظ صحافی اکثر سیاست دانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیا اینکرز، اخبارات اور چینلز کے مالکان اور صحافی اپنے کہے پر عمل کر پائیں گے؟

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/06/120615_media_ethics_rh.shtml