Original Articles

Dr. Shakil Afridi and our confusion


ہم ایک مکمل طور پر کنیفوږڈ قوم بن چکے ہیںٴ اس کنیفوږن میں ہم نہ صرف درست سمت سے بھٹک کر دائروں میں سفر کررہے ہیں بلکہ اس کا دائرہ ہم نے اس قدر بڑھادیا ہے کہ پوری دنیا کنفیوږن کی لپیٹ میں آکر ہماری حرکات و سکنات کو حیرت اور عجیب نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ ہماری کنفیوږن کے محرکات کیا ہیں؟ اور وہ کون سی قوتیں ہیں جو ہمیں درست سمت میں لے جانے کی بجائے گمراہ کرکے تباہی و بربادی کی طرف دھکیل رہی ہیں؟ آخر ان کے کیا مفادات ہیںٴ جس کی قیمت پاکستان اور پوری قوم کو چکانا پڑرہی ہےٴ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کی تلاش ضروری ہے۔

گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کے المناک سانحے کے بعد دنیا نے بڑی تیزی سے اپنی سمت تبدیل کی تھی اس واقعہ کے فوری بعد دنیا کی بڑی قوتیں امریکہ کی سربراہی میں عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے صف بند ہوئی تھیں۔ اس وقت پاکستان میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اقتدار پر قابض تھےٴ اس کی سربراہی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ کھڑی ہوکر فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرے گی۔

اس سے قبل ایک دوسرے فوجی آمر جنرل ضیائ الحق کے زمانے میں بھی پاکستان افغان جہاد میں سوویت یونین کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرچکا تھا مگر اس مرتبہ صورتحال نظریہ کے حوالے سے مختلف تھیٴ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ سٹیٹ بننے کی صورت میں پاکستان کو اپنی روایتی بین الاقوامی مذہبی نظریاتی پالیسی سے کنارہ کشی کرنا تھی اور ایک آزاد خیال اور روشن خیالی پر مبنی جمہوری نظریہ کو فروغ دینا تھا یہ تبدیلی اور جدیدیت کا نظریہ تھاٴ مگر چونکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات اسٹیٹس کو سے جڑے ہوئے ہیںٴ لہٰذا اس تبدیلی کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ابتدائ ہی سے پوری دنیا یہ سوال اٹھاتی رہی ہے کہ کیا پاکستان اور اس کی فوج نظریاتی حوالے سے اس قابل ہے کہ وہ یہ نظریاتی جنگ لڑ سکے؟ پھر یہ سوال شکوک و شبہات میں تبدیل ہوگیاٴ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ پرٴٴ ڈبل گیمٴٴ کے الزامات لگنا شروع ہوگئے امریکہ نے پھر واضح طور پر یہ کہنا شروع کردیا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ کے لئے امریکی ڈالرز بھی لے رہا ہےٴ اور ساتھ ہی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مضبوط کررہا ہےٞ پھر یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ القاعدہ اور طالبات کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں موجود ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا نام بھی بار بار میڈیا میں آنے لگا۔ ہم نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ مگر دو مئی میں ایبٹ آباد آپریشن سے ان الزامات کی حقیقت سامنے آنے لگی۔ جب یہ سوالات فرسٹریشن میں تبدیل ہوئے تو پھر ڈرون حملوں کا دور شروع ہوا اس بجٹ سے قطع نظر کہ اس کی اجازت کس نے دی تھیٴ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں جو ہلاکتیں ہوئیں جس میں بیت اللہ محسود اور دیگر القاعدہ کے ٹاپ لیڈرز بھی شامل ہیں اس سے پاکستان کی فرسٹریشن میں اضافہ ہونے لگا اور ہم نے اس کو سرحدی خلاف ورزی اور خود مختاری پر حملے سے تعبیر کرنا شروع کردیا۔

اگرچہ یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑی جارہی تھی جس میں پاکستان بین الاقوامی برادری کا حصہ دار تھاٴ پھر پاکستان میں اس حوالے سے کیوں فرسٹریشن پیدا ہوئی اور پھر کیوں ٹی وی چینلز میں ٹی وی ٹاک شوز میں اس تاثر کو فروغ دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ نہیں؟ کیوں ہم نے اس حقیقت سے انکار کیا کہ پاکستان کے عوام نہ صرف دہشت گردی بلکہ انتہا پسندی کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانٴ افغانستان اور خطے میں مفادات ہیں جو پاکستان کے عوام کے مفادات سے متصادم ہوچکے ہیں یہ مفادات محض اسٹیٹ کوسے ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پورے خطے میں اسٹیٹس کو برقرار رہےٴ پاکستان میں وہی قوتیں اختیارات و قوت کی مالک ہیں جو گزشتہ 65 سالوں سے حکمران ہیں ٴ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو ممالک چلے جائیںٴ اور ہم ایک بار پھر اپنے سٹرٹیجک اثاثوں کو بزور قوت کابل کے تخت پر بٹھائیں اور سٹرٹیجک ڈیپتھ کے فلسفہ کو عملی شکل دیں بہت سی قوتیں آج بھی ایسا چاہتی ہیں جس کے لئے وہ کام بھی کررہی ہیں مگر وہ وقت کا ادراک نہیں کر پارہیں وقت مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے اور اب ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہاٴ کچھ دیر بعد جب وہ مٹھی کھولیں گے تو ان کے ہاتھ خالی ہوں گے یہ وہ حالات و واقعات اور علامتیں ہیں جو ملک و قوم کو مسلسل کنفیوږ کررہی ہیں.

اس کنفیوږن کے دائرے میں آکر پوری دنیا بالخصوص امریکہ بھی حیران ہے اور شکیل آفریدی کو دہشت گردی کی جنگ میں ہیرو کا درجہ دینے کی بجائے سزا دینے پر امریکی حیران و پریشان ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت پاکستان پابند تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرے اور اس ضمن میں ہر ممکن امداد کرے اخبار نے کہا ہے کہ اس ضمن میں جو ناتھن پولرڈ اور شکیل آفریدی کے کیس میں مماثلت نہیں ہے جوناتھن جس کی مثال دی جارہی ہے اس نے انتہائی اہم راز اسرائیل کو فروخت کئے تھےٴ جبکہ آفریدی کو کسی راز تک کوئی رسائی حاصل نہیں تھی مزید برآں ڈاکٹر آفریدی کا کیس عوام کی نظروں میں واضح نہیں ہے اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس نے بن لادن کے احاطے میں رہائش پذیر افراد کے خون کے نمونے حاصل کرنے کے لئے ایک مبینہ طور پر جعلی ویکسی نیشن کی مہم چلائی تھی تاکہ سی اے آئی ان کی شناخت کی تصدیق کرسکے اخبار کے مطابق یہ سوالات معمہ ہیں کہ بظاہر ڈاکٹر آفریدی نمونے حاصل کرنے کا انتظام نہیں کر پایا وہ سی آئی اے کے لئے کتنا معاون ثابت ہوا یہ بھی واضح نہیں؟ یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس بات سے باخبر تھا کہ وہ کس کے لئے اور کس مقصد کے لئے کام کررہا ہے۔؟

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کی اطلاع امریکہ کو دینے پر خیبر ایجنسی کی پولٹیکل انتظامیہ کی جانب سے جو 33 برس کی سزا سنائی گئی ہے اس پر نہ صرف امریکہ حیران ہے بلکہ ہمارے اپنے لوگ حیرت و پریشانی میں اس حوالے سے سوالات اٹھارہے ہیں ۔ انسانی حقوق کی علمبردار اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی جانے والی سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ ہم نے 370 مطلوب دہشت گرد گرفتار کرکے امریکہ سے ڈالرز وصول کئے ہیں مگر اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی عاصمہ جہانگیر اور دیگر انسانی حقوق کے حوالے سے متحرک لوگوں نے شکیل آفریدی کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے اور دفاع کے تمام مواقع وکیل سمیت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اس کے علاوہ ایف سی آر کے کالے قانون کے خاتمے کے لئے بھی آوازیں مضبوط ہورہی ہیں۔

ہمیں اس تمام معاملے میں عوام کو درست حقائق بتانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کی واضع پالیسی بھی بنانا ہوگی اسامہ بن لادن کی شناخت ایک غیر ملکی مطلوب دہشت گرد کی تھی اور پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک نے ہمارے سیاسیٴ سماجی اور معاشی فیبرک کو تباہ و برباد کردیا ہے اور بالخصوص خیبر پختونخواہ کے علاقے کو بہت سے لوگ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشتونوں کے ہیرو کا درجہ بھی دیتے ہیں تاریخ کے اس نازک موقع پر ہمیں حقائق سے پردہ پوشی کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سزا دینے کی بجائے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے کہ اسامہ پاکستان میں کیسے رہ رہا تھا، اور اگر کسی نے اس کو یہاں پناہ دی ہوئی تھی تو اس کے کیا مفادات تھے؟ اور ان مفادات کا پاکستانی ریاست کے مفادات سے کیا تعلق تھا؟ اس سے ہماری کنفیوږن ختم ہوسکتی ہے اور ہم درست سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Source: Daily Mashriq Lahore