Newspaper Articles

U.S. Pakistan relations and popular opinion

شکاگو میں ہونے والی دو روزہ نیٹو سربراہی کانفرنس کے اعلامیے میں پاکستان سے جلد از جلد افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کی رسد کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم

پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس معاملے پر کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا ہے۔ تنازعہ کرائے راہدری طے کرنے کا ہو یا شائد ممکن ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی اور سول اور فوجی قیادت نے اس معاملے میں کوئی اتفاق رائے اور حتمی فیصلہ کرلیا ہوٴ مگر وہ عوامی رائے عامہ کے خوف سے اس کا اعلان نہ کررہی ہو؟ یہ وہ عوامی رائے عامہ ہے جس کی بنیاد پاپولر سلوگن اور جذباتی نعرہ بازی پر ہے اور اس کو خاص ترتیب اور منصوبہ بندی کے ساتھ فروغ دیا گیا ہے اس کا مقصد جمہوریت کو ناکام اور ناقص نظام حکمرانی قرار دیناٴ منتخب سیاسی نمائندوں کو نا اہلٴ لالچ اور کرپشن میں مبتلا بزدل حکمران ثابت کرنا اور امریکہ اور مغربی ممالک کو مسلسل پاکستان کے خلاف سازش کرتے دیکھا کر پاکستان میں مذہبی بنیاد پرست طبقے کو مضبوط کرنا ہے۔

پاکستان میں 2008 ئ کے انتخابات اور اس کے نتیجے میں وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ایک مستقل مہم اس جمہوری حکومت کے خلاف دکھائی دیتی ہےٴ جس میں پی پی پی کی قیادت اور اس کے وزرائ پر کرپشن کے الزامات کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستان اس دور حکومت میں امریکہ کی ایک کلائنٹ یا سیٹلائٹ سٹیٹ بن چکا ہے اور پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا سودا کرلیا گیا ہےٴ یہ الزامات کا زہر ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر وہ لوگ اگلتے ہیں جو ماضی میں جنرل ضیائ الحق اور جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر یا اعلیٰ سول یا فوجی عہدوں پر فائز رہے ہیںٴ جب پاکستان باقاعدہ طور پر امریکہ کی سوویت یونین اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ بنا تھا۔ ان ادوار میں اربوں ڈالر حاصل کرنے والے ان غیرت مند لوگوں کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کمزوری اور بزدلی کا اظہار نظر آتی ہے ان کو گیری لوگر بل میں قوم کی خود مختاری کا سودا دکھائی دیتا ہے اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی شکاگو نیٹو سربراہی کانفرنس میں شرکت کو وہ پسپائی کا طعنہ دیتے ہیں۔

ماضی کے برعکس پاکستان کی منتخب سول حکومت اس مرتبہ امریکہ سے تعلقات کے حوالہ سے تنہا کوئی فیصلہ لینے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس نازک ترین موڑ پر پاکستان کے اصل پالیسی اور فیصلہ ساز ادارے کے سربراہان یعنی فوجی قیادت بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوٴ جب مفادات یکساں ہیںٴ اور کیک میں حصہ بھی بڑا ہے تو پھر ذمہ داری بھی مساوی طور پر لینا ہوگی۔ جب زیادہ تر معاملات امریکہ سے فوج طے کرتی رہی ہے تو پھر اس کو سول حکومت کے ساتھ عوام کے سامنے آنا ہوگاٴ اور ان کو پاکستان کے تلخ حقائق بتانا ہوں گے۔ جھوٹ کی بنیاد پر زیادہ عرصے تک معاملات چل تو نہیں سکتے مگر بگڑنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کی فوج کے درمیان تعلقات کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے 1950 ئ کی دہائی کے دوران امریکی امدادٴ فوج میں کی جانے والی توسیع اور فوج کے پینٹی گون اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والے رابطوں کی وجہ سے فوج نہ صرف بہت زیادہ طاقتور ہوئی تھی بلکہ قومی امور میں بھی اس کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جنرل ایوب نے بھی امریکہ کی مدد سے براہ راست اقتدار میں آنے کا فیصلہ کرلیا تھا امریکہ سے فوجی جرنیلوں کے اس نوعیت کے تعلقات اور اقتصادی انحصار میں شدت آجانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت شروع کردی تھی۔ حتیٰ کہ وزرائ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ دیگر اہم عہدوں پر تعیناتی میں بھی امریکہ کا عمل دخل ہوتا تھا جس سے پاکستان مکمل طور پر امریکی سرپرستی میں آگیا تھا۔ امریکہ اور فوج کے پاکستانی فوج کے براہ راست تعلق کا اثر یہ ہوا کہ پاکستان میں اپنی فوجی قوت بڑھانے کا رجحان بہت راسخ ہوگیا تھا دفاعی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافے سے عسکری اسٹیبلشمنٹ کی قوت میں بے پناہ وسعت آگئی تھی اور اس نے ملکی معاملات پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہونا شروع کردیا تھا اس عرصے کے دوران پاکستان فوج کو یہاں کے سیاسی نظام میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار کیا جارہا تھاٴ سمری پریزنٹیشن آف دی یو ایس میوچل سکیورٹی پروگرام جو 1957 ئ میں شائع ہوا۔ اس میں لکھا ہے کہ امریکی فوجی امداد نے پاکستانی فوج کو سیاسی حوالے سے بھی مضبوطی عطا کی ہے جو کہ ملک میں سب سے بڑی استحکام کی ضامن قوت ہے 1951 ئ میں جنرل ایوب خان کا تقرر کئی سینئر جنرلوں کو نظر انداز کرکے پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے کیا گیا اس سے قبل کمانڈر انچیف برطانوی آفیسر ہوتا تھاٴ اس تقرری کے پیچھے بھی امریکی رضا مندی شامل تھی 1952 تک امریکہ نے پاکستان کے ساتھ فوجی اتحاد قائم کرنے اور اس کی فوجی صلاحیت بڑھانے کی حامی بھرلی تھی ریاستی امور میں جنرل ایوب خان کی زیر قیادت فوج کے بڑھتے ہوئے عمل دخل سے یہاں کی سیاسی قیادت اور بالخصوص مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان عدم اطمینان کا شکار ہوگئے تھے چنانچہ خواجہ نظام الدین کی حکومت نے پاکستان سے متعلق امریکی تجاویز کا خیر مقدم نہ کیا تو اس کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا عمل شروع ہوگیا جس میں فسادات اور بحرانوں کے ساتھ ساتھ قحط کے خوف کی مہم بھی شامل تھی اس پراپیگنڈہ کے ذریعے گندم کی قلت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیاٴ اپریل 1953 ئ کو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ناظم الدین حکومت کو تحلیل کردیاٴ اس اقدام کی دو وجوہات بتائی گئیں تھیں ان میں امن وامان برقرار رکھنے میں ناکامی اور خوراک کا بحران قابل ذکر تھا وزیراعظم ناظم الدین کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو فوری طور پر ایک نیا وزیراعظم محمد علی بوگرہ فراہم کردیاٴ جو اس سے قبل واشنگٹن میں پاکستان سفیر تھا۔ اس کے بعد جتنے بھی فوجی آمر آئے سب سے پہلے ان کی قومی سطح پر توثیق نظریہ ضرورت کے تحت اعلیٰ عدلیہ نے کی اور اس کو بین الاقوامی سطح پر آئینی و قانونی تحفظ امریکہ نے فراہم کیا اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے جنرل ضیائ الحق اور جنرل پرویز مشرف کو کثیر امداد فراہم کرکے پاکستان میں فوج کے کردار کو مضبوط کیا۔

افغان جہاد اور دہشت گردی کے خلاف جواربوں ڈالر پاکستان میں آئےٴ اس میں سے ایک رقم رائے عامہ کی تخلیق یا بگاڑ کے لئے بھی مختص کی گئیٴ ایک ایسا رجعت پسند اور جمہوریت دشمن طبقہ پیدا کیا گیاٴ جس کا کام پروپیگنڈہ کرکے جمہوریت کو بدنام کرنا اور دیگر ممالک کے خلاف نفرت پر مبنی ایک غالب رائے عامہ کو مضبوط کرنا تھا ۔ آج یہ طبقہ اس قدر مضبوط ہے کہ اس کو یہ غرور ہے کہ وہ کسی بھی منتخب حکومت کا تختہ الٹ سکتا ہےٴ اور کسی بھی وقت کسی نان ایشو کو ایشو بناکر عوام کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹا سکتا ہے اسی طبقے کے گھنائونے کردار سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومتیں ختم کی گئیں تھیں اور ثبوت کے طور پر عدالت میں ان کے تحریر کردہ اخباری تراشے عدالت میں پیش کئے گئے تھے۔ اس طبقے کی آوازیں آپ کو روزانہ آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ٹی وی ٹاک شوز پر سنائی دیتی ہیں جو کہ اخلاقیات کا سبق کمزور عوامی نمائندوں کو دے کر جمہوریت کی جڑیں کاٹنا چاہتا ہے اور جو غیرت کی بات کرکے پاکستان میں انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہےٴ جس کو جمہوریت سے نفرت اور اپنے ذاتی مفادات سے محبت ہے۔

امریکہ کے پاکستان میں فوجی حکمرانی کے حوالے سے خیالات جنرل پرویز مشرف کی ڈبل گیم کی پالیسی کی وجہ سے تبدیل ہونا شروع ہوگئے تھےٴ اس دور میں امریکہ سے دہشت گردی کی عالمی جنگ میں ساتھ کھڑے ہونے پر جہاں ایک طرف اربوں ڈالر وصول کئے گئے تو دوسری جانب پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بھی مضبوط کیا گیا تاکہ افغانستان میں اینڈ گیم کے حوالہ سے ایک نمایاں کردار مل سکے یہ تھی ہماری سٹرٹیجک پالیسی جو دیگر خطے کے ممالک اور امریکہ سے مختلف تھی اس ڈبل گیم سے امریکہ کی پاکستانی سیاست کے حوالہ سے پالیسی تبدیل ہوتی چلی گئی اور پھر سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے لے کر ہیلری کلنٹن تک تمام امریکی عہدیداروں نے پاکستان میں فوجی آمریت کی حمایت کرنے پر نہ صرف معافی مانگیٴ بلکہ اس بات کا عہد بھی کیا کہ وہ آئندہ پاکستان میں کسی بھی غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل کی حمایت نہیں کریں گے اور پھر پہلی مرتبہ کیری لوگر بل کے تحت عوام اور سماجی سہولیات کی مد میں پاکستان کے لئے ایک خطیر رقم مختص کی گئی اور امریکی عہدیداروں نے اعلان کیا کہ اب امریکہ پاکستان کے عوام سے براہ راست تعلق رکھے گا اور عوامی جمہوری حکومت کے استحکام کے لئے مدد کرے گا اس کے بعد سے ہم ایک مسلسل پروپیگنڈہ دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد ایک ایسی انتہا پسند رائے عامہ تخلیق کرنا ہے جس کی بنیاد نفرت اور عقل سے عاری جذبات پر ہو۔ یہ رائے عامہ جمہوری طرز عملٴ عوامی حکومت اور دنیا بھر سے نفرت اور دشمنی کرتے ہوئے بنیاد پرستی کو فروغ دے رہی ہے یہ رائے عامہ وہ لوگ بنارہے ہیں جنہوں نے افغان جہاد اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران امریکہ سے اربوں ڈالر وصول کئے ہیں آج ان کے پروپیگنڈہ سے تخلیق پانے والی رائے عامہ ہمیں تنہائی اور بربادی کی طرف دکھیل رہی ہے۔

Source: Daily Mashriq Lahore