Newspaper Articles

Turkish prime minister’s lecture on democracy


ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان کو پاکستانی پارلیمنٹ سے دو مرتبہ خطاب کا اعزاز حاصل ہوا ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ عوام کی ترجمان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہا ہوں اور اراکین پارلیمنٹ کو ترک عوام کا سلام پیش کرتا ہوں۔ ترکی پاکستان کا قدیم دوست اور برادر ملک ہے، یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بعد اب ترکی کے وزیراعظم نے پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے طیب رجب اردگان کا خطاب ان کی جمہوری سیاسی فہم و فراست اور ترکی کے جمہوریت کے حاصلات کا اظہار ہے۔

آج ترکی اسلامی ممالک کے لیے جدیدیت، روشنی خیالی، رواداری اور جمہوریت کی ایک روشن مثال ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٴٴجمہوریت کبھی آسانی سے حاصل نہیں ہوتیٴٴ۔ اس حقیقت سے آشنائی ہم سے زیادہ کسی اور کو کیا ہوگی جبکہ پاکستان کی 65 سالہ تاریخ آمریت کے سایہ تلے گزری ہے اور ہم نے جمہوریت کے چراغ روشن کرنے کے لیے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں، اور عوامی حکومت کے لیے ہمارے قائدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، جمہوریت کی آج جو شمع جل رہی ہے اس کی لو ومیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا خون شامل ہے۔

طیب رجب اردگان نے فرمایا ہے کہ ٴٴجمہوریت میں حزب اختلاف کا مقصد حزب اقتدار کو ہٹانا نہیں ہونا چاہیے، اپوزیشن اسے درست راستہ دکھائے، جمہوریت مکمل ضابطہ حیات نہیں بلکہ مسلسل اصلاحات کا عمل ہےٴٴ۔ یہ وہ سبق ہے جس کو ہمیں بار بار دھرانا چاہیے کیونکہ اگرچہ اس کا ذکر میثاق جمہوریت میں بھی تھا بلکہ اس کے پس پردہ بنیادی فلاسفی بھی یہی تھی مگر آج کی اپوزیشن اپنے کئے ہوئے عہد کا پاس نہیں رکھ سکی۔ اس لیکچر کی روح کو خاص طورپر قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز کو سمجھنا چاہیے جو پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی پر توجہ دینے کی بجائے مسلسل وفاقی حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جس نے میمو کے زریعے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اب سپریم کورٹ کے توہین عدالت مقدمہ میں فیصلے کے بعد اس کے نام نہاد لانگ مارچ کا رخ وزیراعظم ہائوس کی طرف ہے۔ ترکی کے وزیراعظم نے ہماری توجہ جس اہم حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہے وہ انسانی رابطے اور تعاون ہے، جس پر آج کی جدید جمہوری دنیا کی بنیادیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٴٴجمہوری استحکام کے لیے انسانی رابطوں کو مضبوط بنانا ضروری ہےٴٴ۔ آج انسانی تعلقات اور اقتصادی تعاون کی بنیادیں لبرل ازم سے وجود میں آتی ہیں۔ لبرل جمہوریت اور معاشی آزادی کا ترقی و خوشحالی سے بہت گہرا تعلق ہے، مغربی یورپی ممالک جس میں ترکی بھی شامل ہے ان میں اقتصادی ترقی اور غربت کا خاتمہ محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ انہوں نے یہ مقاصد جنرل پالیسیوں پر عملدرآمد سے حاصل کیے ہیں۔ لبرل ازم کے بنیادی اصول انفرادی آزادی، سماجی ذمہ داری، فری مارکیٹ اکانومی اور قانون کی حکمرانی کے تابع مختصر حکومت اور جمہوری طرز حکمرانی ہے۔

انیسویں صدی میں آزادی کے ان درخشاں اصولوں نے دنیا کو سیاسی جبر و استبداد اور حکومتی بے جا پابندیوں سے آزادی دلائی اور فرد جو ریاست کا خالق ہے اس کو معاشرے میں اس کا جائز مقام دلایا۔ان جمہوری اصولوں پر عملدرآمد سے دنیا میں ایک ایسی صدی آئی جس میں انفرادی آزادی، فری مارکیٹ اور جمہوری حکومت کی بدولت لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ایسی مادی معاشی خوشحالی نصیب ہوئی جس کی انسانی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔

یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ جن ممالک نے خود کو سیاست اور تجارت کے جدید تصورات اور گلوبلائزیشن کے عمل سے الگ تھلگ رکھا ہوا ہے، داخلی سطح پر یہ ممالک انتہائی غربت، بیروزگاری اورسماجی سہولیات کے فقدان کا سامنا کررہے ہیں اور خارجی سطح پر ان کی سفارتی تنہائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہم نے بھی پوری دنیا اور بالخصوص ہمسایہ ممالک سے جو عدم تجارتی تعاون کی پالیسی کو اپنایا ہے اور اپنی تمام تر توانائی عسکری قوت اور صلاحیتوں کو بڑھانے میں صرف کی ہے اس سے نہ صرف ہمیں سفارتی تنہائی ملی ہے بلکہ ہمیںریاست کے اندر انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دہشت ناک صورت حال کا بھی سامنا رہا ہے۔

لیکن اب جنوبی ایشیائ کے خطے میں جمہوریت، آزادی اور مارکیٹ اکانومی کے پھیلائو سے ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشی اور سیاسی لبرل آئزیشن نے تجارتی تعاون اور دولت کی پیداوار کو تقویت بخشی ہے، جس سے غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر اور سفارتی تنہائی کے شکار ممالک اپنی قسمت بدل کر ترقی یافتہ اور خوشحال اقوام کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں جس کے لیے لازمی ہے کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادتیں درست سمت میں پیش قدمی کریں۔ اس ضمن میں داخلی سطح پر جمہوری کلچر کا فروغ سیاسی نمائندہ اداروں کا استحکام، گڈ گورننس، شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی، آئین پسندی اور علاقائی سطح پر ہمسایہ ممالک نے بہترین تجارتی روابط اہم ترین ثابت ہوسکتے ہیں۔

ترکی کے وزیراعظم ہمیں معیشت اور جمہوریت کے استحکام کی طرف توجہ دینے کا درس دے رہے ہیں۔ آج جن ممالک میں معاشی اور سیاسی آزادیاں ہیں وہ خوشحالی اور ترقی یافتہ ہیں، وہاں انسانی حقوق کا تحفظ ہے، معیار زندگی بلند ہے، فی کس آمدنی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آج پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک کے لیے ترکی ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی تجارتی پالیسیاں بہت آزاد ہیں، اس کے انتظامی اخراجات کا بوجھ بہت کم ہے، اور ریاست کی معاشی سرگرمیوں میں مداخلت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی زری مالیاتی پالیسی بہت مستحکم ہے اور یہ گردش زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور اس کا پرائیویٹ سیکٹر جی ڈی پی میں ایک بڑا حصہ ڈال رہا ہے۔ ترکی کی اس ترقی کے پیچھے اس کے سیکولر لبرل تشخص کو بہت اہمیت حاصل ہے، جس کے لیے مصطفیٰ کمال اتا ترک نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی تھیں۔ ترک وزیراعظم کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاشی اور سفارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت مزید بڑھنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ترک وزیراعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ایک ارب ڈالر سالانہ سے بڑھا کر دو ارب ڈالر سالانہ ہو جائے گی جس کا فائدہ اس خطے کے عوام کو ہوگا۔ آج پاکستان کو جن مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے وہ صرف دنیا سے جڑنے اور ان سے تجارتی، معاشی اور سفارتی تعلقات مضبوط کرنے سے حل ہوں گئیں ۔

Source: Daily Mashriq Lahore