Newspaper Articles Urdu Articles

Pakistan kay asli mukhtar aur asli majboor – by Nazir Naji

Related post: Restoration of NATO supplies: Let’s blame Zardari and Gilani!

طواف کوئے ملامت

نذیر ناجی

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے۔ ہمارے سیاسی حکمران بار بار چوٹ کھانے اور رسوا ہونے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھ سکتے۔

مشرقی پاکستان کا سارا کھیل یحییٰ ٹولے نے کھیلا۔ مگر جنرلوں کے روایتی کارندوں نے سارا الزام ذوالفقار علی بھٹو پر دھر دیا۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ بھٹو صاحب کے پاس نہ کوئی سرکاری محکمہ تھا۔ نہ کوئی انتظامی اختیار تھا اور نہ وہ افواج پاکستان کو حکم جاری کر سکتے تھے۔ لیکن توتے آج تک یہی کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان بھٹو صاحب کی وجہ سے علیحدہ ہوا اور بعض بقراط تو یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ بھٹو صاحب نائب وزیراعظم کی حیثیت سے بااختیار تھے۔ ایسی دھوکہ دہی کے لئے انتہائی درجے کی بدنیتی درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ بھٹو صاحب کو جب نائب وزیراعظم بنایا گیا تو مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج کا عملاً قبضہ ہو چکا تھا۔ اسوقت بھٹو صاحب تو کیا‘ پاکستان کی پوری فوجی قیادت زمینی حالات بدلنے کی صلاحیت کھو چکی تھی۔ بھٹو صاحب کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود آج بھی ان کا دامن داغدار کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے۔

کارگل پر ذلت آمیز ایڈونچر کا فیصلہ مشرف ٹولے نے کیا اور جب ان کے حکم پر کارگل کے مورچوں پر قبضہ کرنے والے جنگجوؤں کو گھیر لیا گیا‘ وہ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے اور بھوک سے لاچار ہو کر گھاس کھانے پر مجبور ہو گئے‘ تو پرویزمشرف نوازشریف کے پاس مدد کے لئے پہنچا۔ وزیراعظم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے سب کے گناہ بھول کر‘ پاکستان کو جنگ اور ہزیمت سے بچانے کے لئے امریکی جانے پر تیار ہو گئے اور پرویزمشرف کی بے چینی اور خوفزدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ لاہور پہنچ کر ایئرپورٹ پر پھر نوازشریف سے ملے اور ان سے التجا کی کہ وہ کسی بھی قیمت پر انہیں بھارتی حملے سے بچائیں۔ نوازشریف نے صدر کلنٹن کی مدد سے بھارت کو آمادہ کیا کہ وہ اپنے گھیرے میں آئے ہوئے جنگجوؤں کو واپسی کا راستہ مہیا کر دے۔ گھیرے میں آئے ہوئے جنگجو مقررہ مدت کے اندر واپس نہ آ سکے تو پانچ دن کی مزید مہلت مانگی گئی۔ نوازشریف نے وہ مہلت سعودی سفیر متعینہ واشنگٹن کے ذریعے صدر کلنٹن سے بذریعہ فون حاصل کی۔ تب کہیں جا کر مشرف کے بھیجے ہوئے جنگجوؤں کو واپس آنے کا موقعہ ملا۔ مگر جیسے ہی حالات قابو میں آئے‘ مشرف ٹولے نے کہنا شروع کر دیا کہ کارگل کی کارروائی نوازشریف کے حکم سے کی گئی اور ایسا کرنے سے پہلے انہیں پوری بریفنگ دی گئی تھی۔ نوازشریف کی ذمہ داری محض اتنی تھی کہ بطور وزیراعظم یہ کام ان کے دور میں ہوا۔ حقیقت میں ان کو پوری طرح بے خبر رکھ کران سے چوری کیا گیا تھا۔

بینظیربھٹو شہید کا اختیار خارجہ امور میں نہ ہونے کے برابر تھا۔ مرزااسلم بیگ زندہ ہیں اگر وہ دیانتداری سے جواب دیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لینے کے باوجود بینظیر شہید کو اقتدار منتقل نہیں کیا جا رہا تھا۔ اسلم بیگ نے دونوں میاں بیوی کو اپنے گھر پہ طلب کیا۔ انہیں کچھ دیر انتظارگاہ میں بٹھا کر اپنی انا کی تسکین کی اور پھر ان سے ملاقات کر کے وہ شرطین ان کے سامنے رکھیں جن کے تحت انہیں اقتدار میں آنے کی اجازت دی جا سکتی تھی۔ بی بی شہید کو نہ صرف شرطیں تسلیم کرنا پڑیں بلکہ امور خارجہ سے اپنی لاتعلقی کا یقین دلانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بطور وزیرخارجہ قبول کرنا پڑا‘ جوفوجی حکمرانوں کی پسندیدہ شخصیت تھے۔ اس دور کی خارجہ پالیسی میں جتنے بھی غلط کام ہوئے‘ ان کا ذمہ دار بینظیرشہید کو ٹھہرایا گیا۔ حالانکہ خارجہ پالیسی پر ان کا کوئی اختیار نہیں ۔افغانستان میں طالبان کو داخل کرنے کا منصوبہ آئی ایس آئی نے تیار کیا۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ آج بھی انہیں مادر طالبان کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کا منصوبہ بی بی شہید نے تیار کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ منصوبے کو زیرعمل لا کر بی بی شہید کے نام پر تمام حکومتی ذرائع ان کی مدد کے لئے استعمال کئے گئے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں سیاسی ضروریات کے تحت بینظیر کو یہ الزام اپنے سر لینا پڑا۔

موجودہ اتحادی حکومت تو ماضی کی تمام منتخب حکومتوں سے زیادہ مجبور اور بے بس ہے۔ اس حکومت کا تو صدر مملکت بھی آئی ایس آئی کے ایک افسر کے سامنے بے بس ہے۔ صدر کے احکامات کو آسانی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور بعد میں آئین کی مکمل بحالی کے بعد جب وزیراعظم نے طاقت کے مراکز میں اثر و رسوخ حاصل کر لیا‘ تو وہ ایوان صدر سے آنے والی فائلوں کو بھی نظرانداز کرنے لگے۔ موجودہ حکومت کو بھارت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جو کچھ بھی کرنا پڑا‘ اس کی ہدایات فوجی قیادت کی طرف سے دی گئیں۔ البتہ اسے مشاورت کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔ طریقہ کار یہ تھا کہ ہر اہم فیصلے کے موقع پرپارلیمانی لیڈروں کا اجلاس طلب کیا جاتا۔ اس میں فوجی قیادت اپنا نقطہ نظر پیش کرتی۔ مگر یہ نقطہ نظر درحقیقت فوجی قیادت کی طرف سے جاری کئے گئے فرمان کی طرح ہوتا‘ جس پر میٹنگ میں موجود تمام سیاسی لیڈروں کو مہرتصدیق ثبت کرنا ہوتی۔ جتنے لیڈر بھی ایسی میٹنگوں سے باہر آ کر دلیرانہ بیانات دیتے رہے ہیں‘ ان میں سے میٹنگ کے اندر کسی نے بھی فوج کے ادنیٰ افسر کے ساتھ بھی اختلاف رائے نہیں کیا تھا اور چیف آف آرمی سٹاف کی باتیں تو وہ غور کے ساتھ ہی نہیں سنتے تھے بلکہ ان کی باتیں سننے کے لئے مودب ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ نیٹوکی سپلائی لائن بند کرکے فیصلے پر فوجی قیادت نے پارلیمنٹ سے حسب معمول مہرتصدیق لگوائی اور کہا یہ گیا کہ یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے۔ پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری وزیراعظم پر ہوتی ہے۔ لیکن جب شدید امریکی دباؤ پر نیٹو کی سپلائی لائن کھولنے کا سوال پیدا ہوا‘ تو وزیراعظم کے پر کاٹے جا چکے تھے۔ اپوزیشن انہیں وزیراعظم تسلیم کرنے سے انکار کر چکی تھی۔ وہ خودلندن کے دورے پر تھے کہ ایساف اور افغان فوج کے کمانڈر پاکستان آئے۔ ہماری فوجی قیادت کے ساتھ ان کے مذاکرات ہوئے اور ان مذاکرات میں طے پا گیا کہ نیٹو کی سپلائی لائن کھول دی جائے گی۔ جس کے بدلے میں امریکہ کچھ مراعات پیش کرے گا۔ لیکن پارلیمانی قرارداد میں عائد کردہ دو شرطیں یعنی سلالہ کے سانحہ پر امریکہ کی طرف سے معافی اور ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان بالکل ہی خاطر میں نہیں لائی گئیں۔ امریکہ سلالہ کے سانحہ پر جو کچھ بھی کہے گا‘ اس میں معافی کا لفظ ہرگز استعمال نہیں ہو گا اور نہ ہی ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے گا کہ آئندہ ڈرون حملے کرتے وقت پاکستان سے مشاورت کی جائے گی۔ لیکن حکومت کو پھر سے نام نہاد عوامی مخالفت پر مبنی تنقید سننے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت میں فوجی قیادت سے یہ کہنے کی جرات بھی نہیں کہ آپ نے جس طرح پابندی کی قرارداد منظور کرائی ہے‘ اسی طرح نیٹو کی سپلائی لائن کھولنے کے فیصلے پر بھی پارلیمنٹ کی حمایت کا بندوبست کیا جائے۔ یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری صرف حکومت پر ڈالی گئی‘ تو اپوزیشن چشم زدن میں اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا دے گی۔ انتخابی سال شروع ہے۔ ساری اپوزیشن کی طرف سے یہ الزام کورس کی شکل میں دہرایا اور گایا جانے لگے گا کہ حکومت نے قومی مفادات کا سودا کر لیا۔ ہو سکتا ہے تحریک بھی چلا دی جائے‘ جو یقینا حکومت کے خلاف ہو گی اور اس طرح وہ ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے پر مجبور ہو جائے گی۔مگر منتخب حکومتوں کو یہاں اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیم جاں اقتدار کے عادی سیاستدان محض حکمرانی کی تہمت کے بدلے ہر الزام اٹھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اب کے پھر وہی ہونے جا رہا ہے۔

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے

Source: Jang