Original Articles

Tareekh ka faisla

تاریغ کے فیصلے میں عوام کے عظیم نمائندہ پر ہو نے والی گل یاشی کا بھی تزکرہ ہوگا۔

کسی بھی زینے پہ لرزے نہیں تمہارے قدم

مقام جبرمیں صبر و رضا مبارک ہو

تمہارے جرم ہے آئین سے وفاداری

یہ جرم اگر ہے تو اس کی سزا مبارک ہو

نزیر قیصر—-روزنامہ مشرق لاہور

تین سو ننانوے قبل از مسیح میں سقراط پر یہ فرد جرم عائد کی گئی کہ وہ نوجوانوں کا اخلاق بگاڑتا رہا ہے اور شہر کے دیوتائوں کی بجائے خود ساختہ خدائوں پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ الزامات شاید آج کے زمانہ کے آزاد خیالی، انسانی حقوق کی پاسداری، تبدیلی کی بات کرتے ہوئے مقتدرہ قوتوں کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور آئین کی بالادستی جیسے تصورات سے مشابہت رکھتے ہوں گے۔ سقراط کے خلاف استغاثے نے مطالبہ کیا کہ اسے موت کی سزا دی جائے، یہ وہ زمانہ تھا جب ایتھنز میں جمہوریت کی بحالی کے بعد عام معافی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ اس لیے مخالفین سقراط پر سیاسی نوعیت کے الزام عائد نہ کرسکے لہذا انہوں نے مذہب اور اخلاقی اصولوں کی بیساکھی استعمال کی۔ سقراط کو کسی زمانے میں طبعی علوم سے شغف تھا اور طبعی فلسفیوں کو بالعموم دہریہ تصور کیا جاتا تھا۔ سقراط ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ خود اسے کچھ بھی معلوم نہیں اور اگر وہ دوسروں سے زیادہ عقلمند ہے تو صرف اس اعتبار سے کہ اسے اپنے جہل کا شعور ہے اور دوسرے اپنی لاعلمی سے بے خبر ہیں۔

اپنی صفائی میں سقراط نے عدالت کے روبرو جو کچھ کہا اس کی سب سے زیادہ مربوط اور خوبصورت تصور کشی افلاطون نے کی ہے۔ سقراط نے عائد کردہ الزامات کی پرزور تردید کی اور کہا کہ اگر استغاثے کا دعویٰ ہے کہ اس نے نوجوانوں کے اخلاق کو بگاڑا ہے تو عدالت میںموجود اس کے سابق شاگردوں یا ان شاگردوں کے والدین اور بھائیوں کو استغاثے کی طرف سے گواہی دینے کے لیے طلب کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ جب رائے شماری ہوئی تو جیوری کے 281 افراد نے اسے مجرم قرار دیا اور 220 ووٹ اس کی بریت کے لیے تھے اس کے بعد یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ سزا کیا دی جاتی ہے۔ بعض جرم کی سزا قانون میں متعین تھی لیکن باقی صورتوں میں مجرم قرار دیے جانے والا شخص اس سزا کی جگہ، جس کا استغاثہ نے مطالبہ کیا ہو، کوئی اور سزا تجویز کرنے کا حق رکھتا تھا اس کے بعد جیوری کے ارکان دونوں سزائوں میں سے کسی ایک کے حق میں فیصلہ سنا دیتے تھے۔ سقراط اگر موت کی سزا کے مقابلے میں جلاوطنی کی سزا تجویز کرتا تو غالب امکان یہی تھا کہ اسے جلا وطن کر دیا جاتا لیکن وہ بالکل ٹس سے مس نہ ہوا۔ شاید وہ یہ سمجھتا ہو کہ اتنی سخت سزا تجویز کرنا اعتراف جرم کے مترادف ہوگا۔ دوستوں سے مشاورت کے بعد جنہوں نے بلاشبہ اسے ایک عقلی اور عملی رویہ اپنانے کو کہا ہوگا اس نے اپنے لیے یہ تجویز کیا کہ وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ عوامی محسن کے طور پر وہ ریاست کی طرف سے تاحیات وظیفہ پانے کا مستحق ہے تاہم اپنے احباب کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے وہ تین ہزار درہم کا جرمانہ تجویز کرتا ہے۔ سب کو پتہ تھا کہ سقراط کے پاس اتنی بڑی رقم نہیں ہے اگر اس کا تمام اثاثہ بھی بیچ دیا جائے تو سو سے زائد درہم وصول نہیں ہوتے۔ سقراط کے لاابالی پن کا جیوری نے بہت برا منایا اور جب آخری رائے طلب کی گئی تو پانچ سو ایک اراکین میں سے تین سو نے موت کی سزا کی سفارش کی۔ یہ عدالت کا فیصلہ تھا۔ مگر اب بھی کچھ نہیں بگڑا تھا، اس کے لیے فرار ہو جانا اب بھی ممکن تھا، اس کے ایک دوست نے رشوت دے کر زندان کے داروغہ کو ساتھ ملا لیا۔ اس میں دقت اس لیے بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایتھنز کے عمائدین میں سے کوئی بھی دل سے سقراط کی موت کا خواہاں نہ تھا لیکن سقراط نے یہ کہہ کر فرار ہونے سے انکار کر دیا کہ ٴٴکیا میں ان قوانین کی اطاعت نہ کروں جنہوں نے اب مجھے تحفظ فراہم کیا ہے؟ٴٴ اور سقراط نے زہر کا پیالہ پی کر اپنی زندگی ختم کرنے کو ترجیح دی اور یوں آئین اور قانون کی اطاعت اور بالادستی کے لیے اپنی جان دے دی۔

مسیح کو مصلوب کرنے کے احکامات بھی عدالت نے ہی دیے تھے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل بھی ایک سازش کے تحت کیا گیا اور اس کا فیصلہ بھی اس وقت کی عدالت نے دیا تھا مگر آج تاریخ کی عدالت میں ان تمام فیصلوں کو انسانی تاریخ کے بدترین فیصلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ تلخ مگر درست ہوتا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سقراط اپنے زمانے کی اخلاقی ابتری سے پریشان تھا۔ اور وہ اس رویہ کو شر انگیزی کے طورپر دیکھتا تھا۔ اس زمانے کے ماہر علوم اور پڑھا لکھا طبقہ ہمارے ٹی وی ٹاک شوز کے اینکروں اور ان کے مہمانوں کی طرح پرجوش اور بھانت بھانت کی اصطلاحیں استعمال کرنے کے عادی تھے، خصوصاً آج کل کی بڑی بڑی اصطلاحوں کی طرح، جیسے قوت پر مبنی غیرت، عسکری شجاعت، انصاف وغیرہ لیکن جب سقراط نے ان ماہرین سے پوچھ گچھ کی تو ان میں سے کوئی بھی ان صفات کی جامع تعریف نہ کرسکا ٟبدقسمتی سے اس وقت ان امور پر عمران خان اور شیخ رشید جیسے ماہرین بھی موجود نہیںتھے، جو مختلف ٹاک شوز میں آکر ان کی وضاحت کرسکتےٞ اب سقراط کے نزدیک اگر کسی انصاف یا عقلمندی کا مفہوم ہی معلوم نہیں ہو تو وہ کس منہ سے کہے گا کہ انصاف سے کام لینا چاہیے یا نیکی کرنا چاہیے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ مختلف آدمی ایک ہی لفظ سے مختلف معنی مراد لیتے ہیں جس سے صحیح مفہوم سمجھنا مشکل ہوتا ہے اس سے اخلاقی اور ذہنی افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ سقراط خیر کو سمجھنا خیر کو اپنا لینے کے مترادف تصور کرتا ہے۔ یہی فلسفیانہ روش اور قانون کی اطاعت تھی جس نے اس کی زندگی کو زہر کے پیالہ سے ختم کر دیا اور یہ زہر کا پیالہ اسے اس وقت کی اعلیٰ عدلیہ نے دیا تھا۔

پاکستان کی آزاد عدلیہ نے توہین عدالت کیس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا کا جو فیصلہ سنایا ہے، اس کا فیصلہ بھی تاریخ کی عدالت کرے گی جس کے اپنے معیار قانون اور دساتیر ہوتے ہیں۔ تاریخ کی عدالت جب اپنا فیصلہ سنائے گی تو وہ صرف یہ نہیں دیکھے گی کہ عدلیہ کے فیصلوں پر کتنا عملدرآمد ہوا؟ وہ یہ بھی دیکھے گی کہ اس عہد میں عوام کے منتخب نمائندہ اداروں کے فیصلوں کو کتنی اہمیت دی گئی ہے اس کے حقوق کے تقدیس کا کس طرح احترام کیا گیا؟ عوام کے منتخب وزیراعظم کی کہیں توہین اور تحقیر تو نہیں کی گئی؟ جس طرح عدلیہ جمہوری حکومت سے اپنے فیصلوں کے احترام کا تقاضا کرتی رہی ہے، تو کیا اس قدر پارلیمنٹ کو بھی قابل احترام تصور کیا گیا ہے؟ تاریخ کی عدالت یہ بھی جانچنے کی کوشش کرے گی کہ کیا دیگر ریاستی ادارے جو نسبتاً عوامی ادارہ سے مضبوط اور طاقتور رہے ہیں ان کا بھی احتساب ہوا ہے، یا نہیں؟ تاریخ کی یہ عدالت یقیناً پاکستان کی متزلزل پارلیمانی جمہوری تاریخ اور موجودہ کٹھن سیاسی ارتقائ کے مراحل کو بھی مدنظر رکھے گی؟ اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے حوالے سے بھی اپنا فیصلہ یقینی طورپر محفوظ کیا ہوگا۔ سقراط کی طرح ہمارے ہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو بھی انسانی آزادیوں اور جدید فکر کے فروغ پر سزائیِں ہوئی ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کہا ہے کہ انہیں آئین کے تحفظ پر سزا ہوئی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا اس ضمن میں فیصلہ آچکا ہے، مگر ابھی تاریخ کا فیصلہ آنا باقی ہے، دیکھتے ہیں وہ اس ضمن میں کیا فیصلہ دیتی ہے۔ بطور انسانی تاریخ اور جمہوریت کے طالب علم کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ سقراط، مسیح اور بھٹو سے مختلف نہیں ہوں گے۔جہاں تک عوامی عدالت کا تعلق ہے تو وہ اپنا فیصلہ جمشید دستی کیس میں بھی دے چکی ہے اور ابھی اس نے ملتان کے حلقہ پی پی 194میں بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

Source: Daily Mashriq Lahore

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بڑے شاندار اور جاندار انداز میں پیش کیا ہے۔

Islamabad Tonight – 27th April 2012 – Qamar Zaman Kaira – Exclusive Interview

http://www.youtube.com/watch?v=o2hRrKz4pg0

About the author

Junaid Qaiser

2 Comments

Click here to post a comment
  • Thank God PM belongs to Punjab thats why he sentenced 30 seconds if he would have from sindh must have hanged of jail

  • Thank God PM belongs to Punjab thats why he sentenced 30 seconds if he would have from sindh must have hanged or jail