Newspaper Articles

Azaad adliya ka virsa

آزاد عدلیہ کا ورثہ

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے عدالتی بحران کا آغاز اس وقت ہوا تھاجب سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے وردی میں چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے کیمپ آفس میں طلب کیا اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا، استعفیٰ سے انکار کے بعد انہیں معزول کر دیا گیا، اور ان کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا ، ان کی گھر میں نظر بندی شروع ہوگئی، حتیٰ کہ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ کاٹنے کے لیے انہیں فون، ٹی وی انٹرنیٹ اور اخبارات سے محروم کر دیا گیا۔ ان کے بچوں کو سکول جانے سے روک دیا گیا۔ ان کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت سے پہلے ان کی پولیس سے ہتک کروائی گئی، ان کی سماعت کے موقعوں پر احتجاج کو روکنے کے لیے سینکڑوں وکلائ اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، احتجاج کے لیے نکلنے والے وکلائ کے خون سے لاہور کی سڑکیں سرخ ہو گئیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ جو اب گورنر پنجاب ہیں ان کا سرپھاڑ دیا گیا۔ اس احتجاج میں وکلائ برادری کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اورانسانی

حقوق کی تنظیمیں بھی شریک ہوئیں۔ بین الاقوامی برادری، اداروں اور میڈیا کی بھی اس معاملے پر گہری نگاہ تھی۔ یہ ایک غیر جمہوری فوجی آمرانہ دور تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی جو اس وقت برسراقتدار اتحادی حکومت کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، اس نے ججوں کی بحالی کی تحریک میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ 12 مئی کا کراچی میں خونی واقعہ ہو یا راولپنڈی میں چیف جسٹس کے استقبالی کیمپ پر بم دھماکہ ہو، سب سے زیادہ خون اس پارٹی کا بہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اس تحریک میں شمولیت کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان میں ایک جوڈیشل ملٹری الائنس رہا ہے، مگر اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوڈیشل ملٹری الائنس ٹوٹ رہا ہے، اور اس وقت چیف جسٹس کی بحالی کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی جدوجہد ہو رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو فیصلہ کن رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے جس سے فوجی آمروں کے لیے پاکستان میں سیاسی فضائ سازگار رہی ہے۔ غیر منتخب حکمرانوں نے منتخب حکومتوں کو فارغ کرنے کے بعد اپنا قانونی، آئینی جواز عدلیہ سے ہی حاصل کیا ہے، اور یہ عدلیہ ہی تھی جس نے جنرل پرویز مشرف کو تین سال حکومت کرنے کے ساتھ آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا جو اختیار عدالت کے پاس خود نہیں تھا۔

عام انتخابات 2008ئ کے بعد جب یوسف رضا گیلانی متفقہ طورپر وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے حلف اٹھانے اور کابینہ کی تشکیل سے قبل جو اعلان کیا وہ ججوں کی رہائی کا تھا۔ ججوں کی بحالی کے بعد یہ تصور کیا جانے لگا کہ نئی منتخب حکومت اور بحال شدہ عدلیہ جسے بعض دانشور اور اینکر حضرات ٴٴآزاد عدلیہٴٴ کہتے ہیں مل کر ملک اور جمہوریت کو استحکام کی طرف لے کر جائیں گے مگر ایسا ہو نہیں سکا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری جو 2007ئ میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی علامت کے طورپر ابھرے تھے اور جس کے اعتراف میں ہارورڈ لائ سکول نے ان کو ٴٴمیڈل آف فریڈمٴٴ سے نوازا تھا۔ مگر اب بنیادی انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں اور وکلائ تحریک کے مرکزی کردار انہیں جمہوریت کی راہ میں حائل رکاوٹ کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ ممتاز قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر نے آزاد عدلیہ کے اس نئے کردار کے بارے میں برملا کہا تھا کہ ہم ٴٴملٹری ڈکٹیٹر شپ سے جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ کی طرف بڑھ رہے ہیںٴٴ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس اور آبزرویشن کے مطابق پاکستان کی عدلیہ سیاسی مقدمات میں الجھ کر انسانی آفاقی بنیادی حقوق سے متعلقہ معاملات کو نظر انداز کررہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے مطابق میمو قابل سماعت نہ تھا اور عدلیہ سیاست کو عدالت میں لے آئی ہے۔ سیاسی معاملات میں الجھ کر عدلیہ کا اپنا وقار متاثر ہورہا ہے چونکہ عدالت سیاسی نوعیت کے مقدمات میں الجھی ہوئی ہے لہذا عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ 18لاکھ سے زائد مقدمات ججز کی توجہ کے منتظر ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین عدالت کی طرف آس لگائے بیٹھے ہیں مگر اس طرف کسی کی نظر نہیں جاتی۔ ججز بحالی تحریک کے روح رواں علی احمد کرد بھی عدلیہ کی اس روش سے خوش نہیں ہیں۔ کرد صاحب ایک آزاد منش اور صوفی شخصیت کے مالک ہیں اور ان کی تمام عمر جمہوریت کی سربلندی میں گزری ہے۔ ججز بحالی تحریک میں انہوں نے انتہائی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کی ہیں مگر اب چونکہ آزاد عدلیہ کے سپہ سالار اور محافظ شیخ رشید اور اکرم شیخ ہیں اس لیے ایسے کرداروں کی اب ضرورت نہیں رہی۔ علی احمد کرد عدالت کے جوڈیشل ایکٹوازم پر اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے نزدیک عدلیہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جمہوریت پسند کی حیثیت سے انہیں عوام کی اجتماعی دانش پر اعتماد ہے جس کا اظہار صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے کوئی اور ادارہ نہیں، اور میمو کے معاملے میں وہ پارلیمانی کمیشن کے فیصلے کو ہی مانیں گے۔

اور اب قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ)جو مختلف ممالک کے ماہر قانون، ججوں اور وکلائ پر مشتمل ہے اور جس کے مقاصد میں بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اختیارات کی تقسیم کا تحفظ اور عدلیہ کی خود مختار اور وکلائ کے پیشے کا تحفظ ہے۔ اس کی حالیہ رپورٹ جو اس نے پاکستان میں معروف قانونی، سیاسی، سماجی شخصیات سے انٹرویو، سروے اور مختلف جائزوں کے بعد مرتب کی ہے اس کے مطابق پاکستانی عدلیہ جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں غیر معمولی قوت حاصل کرچکی ہے اور اس کی بنیاد پر اپنے اختیارات کو استعمال کررہی ہے۔ اس طرح ٴٴآزاد عدلیہ ٴٴ کی وراثت بہت زیادہ الجھ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت ان حدود میں گئی ہے جو حکومت یا پارلیمنٹ کے لیے مخصوص تھی اور اس طرح مختلف ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن پر کئی خدشات نے جنم لیا ہے۔ اس دوران عدالت نے مدعیان کی طرف سے لائے گئے مقدمات کے برعکس اخباری خبروں کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے عدالتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ ایسے مقدمات میں سوموٹو نوٹس لیے گئے ہیں جہاں حکومت کارروائی میں ناکام رہی ہے، بعض موقعوں پر یہ قانون کی حکمرانی کا تحفظ کرنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں رپورٹ نے گزشتہ برس کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان کا حوالہ دیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو تین روز میں ہٹانے کا حکم دیا تھا اور اس ضمن میں صاف شفاف تحقیقات کے احکامات جاری کیے تھے لیکن رپورٹ کے مطابق دیگر مقدمات میں جسٹس افتخار چوہدری نے محض اخبارات میں چھپنے والے مضامین کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیے اس کی بنیاد پر ایک ایسا نظام عدل متعارف ہوا جو قانون کی حکمرانی سے بمشکل مطابقت رکھتا تھا جیسا کہ چینی کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت مقرر کرنے کی کوشش کی جس کا تعین عموماً انتطامیہ اور مارکیٹ کی قوتیں کرتی ہیں۔ اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے رپورٹ کا یہ کہنا ہے کہ ٴٴآزاد عدلیہٴٴ اس دوران پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش میں بھی رہی ہے۔ خاص طورپر ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹیوں کے فیصلوں کو ردکیا گیا ہے جس سے عوام کے نمائندہ ادارے کی تحقیر ہوئی ہے۔

عام آدمی کے لیے شاید آزاد عدلیہ کا ورثہ یہی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز اور اخبار کی شہ سرخیوں میں ججز کے ریمارکس، اور سیاسی خبروں پر فوری ازخود نوٹس اور ان پر طویل طویل ٹاک شوز اور اینکروں کے ماہرانہ تبصرے جس دوران وہ اپنے مقدمات کے فیصلوں کے انتطار میں بے بس اور تنہا کھڑا رہا ہے۔

Source: Daily Mashriq Lahore

Supreme Court Of Pakistan Exceeded The Limits:ICJ Report 2011

http://www.youtube.com/watch?v=MSimDIdY7J0