Original Articles

Fundamentalism is killing religious diversity and cultural pluralism


کسی بھی ملک کی آزادیٴ ترقیٴ خوشحالی اور استحکام کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں بسنے والی اقلیتیں کتنی مطمئن اور خوشحال ہیں۔ علاوہ ازیں ان کو کس حد تک قومی دھارے اور معاشرے سے ہم آہنگ کیا گیا ہے؟ پاکستان کی تاریخ اور کلچر میں بادشاہی مسجد کے ساتھ ساتھ چرچٴ مندرٴ گور دوارے بھی شامل ہیں۔ مسلم بادشاہوں کے مقبروں اور تعمیرات کے ساتھ ساتھ موہنجو دارڑوٴ ہڑپہٴ ٹیکسلا اور میوزیم میں سانس لیتے بدھا کے مجسمے بھی شامل ہیںٴ پورا پاکستان سندھٴ بلوچستانٴ پنجابٴ سرحد سب صوبے اور وہاں کے عوام نہ صرف اپنے عقیدے کے اعتبار سے بلکہ اپنی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ پاکستان کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ سے سیکھنا چاہیں تو بڑا واضع ہے زوال ڈھاکہ کا سبب مشرقی پاکستان کی زبان اس کے آرٹ اور کلچر کو نظر انداز کرنا تھا۔ ان کی زبانٴ ادب اور ان کی صدیوں پر پھیلی ہوئی ثقافت اور روایات کو جبراً تبدیل کرنے کی کوشش میں ملک دولخت ہوگیا۔

انسانی تاریخ کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ جہاں سے انہیں اکھاڑنے یا مٹانے کی کوشش کی جاتی ہےٴ وہاں پر زخم لگ جاتا ہے۔ آج بھی نصف صدی سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود ہمارے معاشرے میں عورتوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیںٴ مذہبی اقلیتیں لاتعداد مشکلات کا شکار ہیں۔ چھوٹے صوبوں میں بھی محرومی کے جذبات بڑھتے جارہے ہیں۔

ملک در حقیقت کھیت نہیں ہوتےٴ جہاں ایک ہی فصل اگتی ہےٴ بلکہ یہ ایک باغ کی مانند ہوتے ہیںٴ جہاں مختلف وفع قطع کے درخت اور رنگا رنگ پھول ہوتے ہیںٴ یہ اس کی کثیر الجہتی اور تنوع کی علامت ہوتے ہیں۔ مذہبی اقلیتیں پاکستانی کلچر میں ایک خوبصورتٴ بامعنیٴ اور تخلیقی عنصر ہے۔ اس کے تعلیمیٴ مذہبی ادارےٴ ہسپتال اور رفاعی ادارے اس ثقافتی تنوع کی گواہی ہیں۔ اس خوبصورتٴ بامعنی اور تخلیقی عنصر کو اکثریت کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہوگا جس سے پاکستان مزید خوبصورت اور خوشحال ہوگا۔ یہی ہماری مشترکہ تہذیب ہےٴ اور یہی ہمارا مکمل پاکستانی کلچر ہے۔

قومی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد اور جمہوری ارتقائ کے نتیجے میں جنم لینے والی روایات اور اقدار نے مذہبی اقلیتوں کو بتدریج مساوی حقوق دیئے ہیں۔ جدید نیشنل ازم کے تصور کے نتیجے میں ایک قوم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ امریکی ریاستیں جب آزاد ہوئیں تو امریکی آئینٴ اور 1789 ئ کے فرانسیسی انقلاب کے بعد قومی مغربی ریاستوں میں جو دساتیر بنےٴ ان میں بلا امتیاز رنگ و نسلٴعقیدہ و مذہبٴ زبان و صنف سب کو برابر کا شہری تسلیم کرکے بنیادی حقوق دیدیئے گئے۔ اس طرح اقلیت اور اکثریت کے سوال کو ختم کرکے تمام لوگوں شہری بن گئے بانی پاکستان قائد اعظم نے 1944 ئ میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے کہا تھا۔ٴٴ مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے ہم مسلمان کسی بھی مہذب قوم اور معاشرے سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ میں پرامید ہوںٴ جب بھی وقت آئے گاٴ وطن عزیز کے مختلف حصوں میں آباد مذہبی اقلیتیں دیکھی گئیں کہ ان کے مسلمان حکمران نہ صرف روادار اور مخلص ہیںٴ بلکہ شفیق اور سخی بھی ہیں اور اسلام کی روایت بھی یہی ہے۔ٴٴ تاہم پاکستان کی کثیر الجہت ثقافت اور تنوع کو ختم کرکے یک رنگی ریاست بنانے کا عمل اس وقت شروع ہوا۔ جب 1949 ئ میں قرارداد منظور ہوئی۔ اور اس طرح مولانا شبیر احمد عثمانی کی فلاسفیٴ جو مسلم اور غیر مسلم پر مشتمل ایک پاکستانی قوم کے نظریے سے انکاری ہےٴ اس کو پاکستان کی سیاست میں غلبہ حاصل ہونے لگا۔ یہ قائد اعظم کے لبرل اور ترقی پسند نظریات سے انحراف تھا۔

اس قرارداد مقاصد نے پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کے کلچر کو فروغ دیاٴ اس بنیاد پر جنرل ضیائ الحق نے اسلام آئزیشن کے نام پر 11 برس تک حکومت کی۔ اس دور میں امتیازی قوانین تخلیق کرکے مذہبی اقلیتوں کے قدموں سے زمین کھینچ لی گئیٴ اور ان کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہوگئی۔ ضیائ الحق کے زمانے میں قرارداد مقاصد کو 1973 ئ کے آئین کا حصہ بناتے ہوئے اس شق میں تبدیلی کردی گئی کہ اقلیتوں کے لئے اپنے مذاہب پر آزادانہٴ اعتقادٴ اس پر کاربند رہنے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے موزوں مواقع فراہم کئے جائیں گےٴ اس میں آزادانہ کا لفظ نکال دیا گیاٴ اس طرح پاکستانی ریاست میں اقلیتوں کو مساوی بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا۔ اس دور میں اس تاثر کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہےٴ اسے مسلمانوں نے بنایا ہےٴ اس لئے اس میں غیر مسلموں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اس ذہنیت کی وجہ سے ان کے خلاف فسادات ہوتے رہے ہیں ان کی عبادت گاہوں کو جلایا جاتا ہے۔ ان کی عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہےٴ اور بعض اوقاتٴ نفرت اور دشمنی کے جذبہ میں قتل و غارت گری کا راستہ اختیار کیا جاتا ہےٴ اسی زمانہ میں ایک خاص مسلک کو بھی فروغ دیا گیاٴ جس کے نتیجہ میں 1979 ئ سے اب تک پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردیٴ قتل و غارت گریٴ اور انتہا پسندی کا ایک طوفان آیا ہےٴ جس نے ہنستے بستے کئی خاندانوں کو اجاڑ دیا ہے۔ گلگت ٴ بلتستان سے کوئٹہ اور کراچی تک شیعہ کمیونٹی کا جس طرح ایک منظم انداز میں قتل عام کیا جارہا ہےٴ یہ اسی انتہا پسند ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے اعلامیہ کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدات پر دستخط کئے ہوئے ہے اور اس حوالے سے ان کے نفاذ اور عملدرآمد کا بھی پابند ہے اقوام عالم نے انسانی بنیادی حقوق کا جو منشور 1948 ئ میں منظور کیا تھا۔ اس کی دفعہ 1-16 کے مطابق بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر ایسی پابندی کے جو نسلٴ قومیت یا مذہب کی بنائ پر لگائی جائےٴ شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہےٴ مردوں اور عورتوں کو نکاحٴ ازدواجی زندگی اور طلاق کے معاملے میں مساوی حقوق حاصل ہیں 2 نکاح فریقین کی پوری آزادی اور رضامندی سے ہوگا۔

پاکستان سماج تا حال بلوغت کی اس طح پر نہیں پہنچ سکا کہ وہ اپنے بالغ افراد کو اپنی پسند کی شادی کا اختیار دے سکے اسی بنائ پر ہزاروں خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاچکی ہیں۔ مزید براں پاکستان میں اپنے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے بین المذہبی شادی بیاہ کا تصور نہیں ہےٴ اور یہاں سول میرج کا کوئی وجود نہیں۔ شادیاں ایک مذہب کے تحت ہوتی ہیں۔ یہاں پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے اکثریتی اور ریاست کا مذہب اختیار کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر شادیاںٴ مسلم مرد اور غیر مسلم عورتوں کی ہوتی ہیںٴ اور غیر مسلم عورتوں کو مسلم مذہب شادی کی وجہ سے اختیار کرنا پڑتا ہے اس عمل کو فخریہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک غیر مسلم مرد پر ا ایسے کیسوں میں طرح طرح کے سماجی دبائو اور مشکلات کھڑی کرکے اس کو مسلم مرد میں تبدیل کردیا جاتا ہے حالانکہ دنیا بھر میں اس طرح کی شادیوں کو سماجی ہم آہنگیٴ کثیر الجہتی اور تنوع پر مبنی معاشرے کے لئے فروغ دیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے نام پر اس خوبصورتی اوررنگارنگی کو ختم کیا جارہا ہے۔

مذہبی اقلیتیں ریاست کے اداروں سے مسلسل ناراض رہے ہیں ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کے دیئے گئے فیصلے پر ہندو خاندانوں اور کمیونٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روائ رکھا گیا ہے سپریم کورٹ جو میمو سے لے کر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس میں بین الاقوامی قوانینٴ روایات اور عدالتی فیصلوں کی تلاش میں ہے اس معاملے میں بین الاقوامی قراردادوںٴ اور جدید روایات کو مدنظر نہیں رکھا گیا اس ضمن میں ہمارے خیال میں جو سب سے زیادہ اہم سوال تھاٴ اور جسے معاشرے اور عدالت کو اٹھانا چاہئے تھاٴ وہ یہ تھا کہ کیا دو بالغ افراد مرد اور عورت کو شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنا ہوگا؟ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے پاکستان پر دورس اثرات برآمد ہوں گے اس فیصلے سے مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس مضبوط ہوگاٴ اور ان کی ریاست سے بیگانگی کا عمل بڑھے گا اور وہ بیرون ملک میں سیاسی پناہ اور مساوی حقوق کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہوجائیں گے۔ اگر ہم اپنے ملک سے کثیر الثقافتیٴ کثیر اللسانی اور کثیر المذہبی عناصر کو بتدریج ختم کرتے جائیں گے تو یہ ملکی یکجہتی اور استحکام کے لئے خطرناک ہوگا۔

Source: Daily Mashriq Lahore

About the author

Junaid Qaiser

4 Comments

Click here to post a comment
  • Why its happening with minorities we are hindu thats why it is always happening with us. this is not new cases in sindh and as well as pak now people are started migrate to out side the sindh just bcoz their feudal system even though our sisters and brothers are not safe they need protection ..
    is it good that they are migrate let me tell u that now Sukkur and Jacobabad these are the rural areas where hindus are migrating and 50% to 60% people are shifted is it good for us….??

  • According to Islamic doctrine, a muslim man can marry a non-muslim woman if she belongs to the people of scriptures (Christian, Jew), if woman belongs to any other faith, she has to accept Islam. A muslim woman however cannot marry to a non-muslim man unless he accepts Islam.

    So whatever United Nations says, it is not applicable in this country unless our legislature is able to introduce these laws, our laws (different family laws, marriage act of 65, hudood ordinance and othe Sharia laws)at present are very confusing and often contradictory.

    It is embarassing how our legislative assemblies have kept silence on whole affair, along with media. Except for speech by Azra Fazal Pechuho and Nafisa Shah’s endorcement, but it was not even discussed further, let alone any action.

  • The Bishops: “With regards to forced conversions, the Supreme Court upholds human rights”

    Forced conversions to Islam is a matter of such seriousness that it “requires immediate action on behalf of the Supreme Court of Pakistan and a firm stance in defense of justice, human rights, religious freedom”: is what the Commission “Justice and Peace” of the Episcopal Conference of Pakistan says, urging the Supreme Court – highest judicial organ of Pakistan – to review the case of three Hindu girls (Rinkal Kumari, Asha Haleema and Lata) forced to convert to Islam and marry Muslim men. After a judicial appeal, the Supreme Court itself, with a controversial verdict, ordered them to return to their Muslim husbands.
    Referring to the case, a note of the Commission, sent to Fides, signed by the President, Fr. Emmanuel Yousaf Mani, and by the Executive Director, Peter Jacob, said: “Legal proceedings cannot become an instrument of injustice, when the principle of free consent is applied improperly or in a selective way, and in disdain towards social realities.” “For example – the note explains – in one of the above cases, but in many other cases of conversions, the courts neglected to verify the age of the person converted.”
    “The application of the principle of free consent, without considering evidence that confirms it and without looking at the social context in which religious freedom and gender equality are still a dream, can cause a miscarriage of justice” emphasizes the note. The ruling of the Court on 18 April on the sensitive issue of conversions, “worries religious minorities, who face an existential threat already demographically, but also because of growing religious intolerance in society.” The Commission asks the Court to “further consider the matter and to take a principled stand, which has a significant impact” on society. In all three cases, the Court should have applied “the legal principle of protection of vulnerable people” suggests the Commission.
    “The Supreme Court or the government can control the damage to religious pluralism through the definition of forced conversions according to international standards of religious freedom which, among other things, include the right to re-convert” the note concludes, by inviting the Court to “a thorough understanding of the issue of forced conversions and the crimes that are hidden under the pretext of conversion.”
    On the “hot topic” of forced conversions to Islam, the Federal Minister of State for Religious Harmony, Akram Gill, convened a special meeting of the National Commission for Minorities, presided by him, which brings together representatives of all religious communities (see Fides 12/04/2012). According to Fides sources in Pakistan, cases of forced conversions of Hindu and Christian girls to Islam are about 1,000 every year.

    http://www.fides.org/aree/news/newsdet.php?idnews=31408&lan=eng

  • And Criticalppp has not mentioned what Bhutto did with Ahmadis. All hails intellectualism. 🙂