Newspaper Articles

The creation of new provinces

نئے صوبوں کی تشکیل

پاکستان ایک کثیر الثقافتی ٴ کثیر اللسانی اور مختلف قومیتوں پر مبنی ایک ملک ہے۔ اس کے بانیوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک تھا کہ ایک مضبوط اور کامیاب وفاق کو چلانے کے لئے ضروری ہوگا کہ پاکستان میں تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا تحفظ کیا جائے۔ وفاقی نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ متنوع ثقافتیٴ لسانی و علاقائی خصوصیات کو تسلیم کیا جائےٴ وفاقی اکائیوں کے درمیان نفرت اور تعصب بڑھانے سے وفاق نہ صرف کمزور ہوتا ہےٴ بلکہ شدید ترین خطرات کی طرف بھی بڑھتا ہے ۔ 1940 ئ کی قرارداد لاہور میں مسلم اکثریتی صوبوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے وفاقی اکائیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ خود اختیاری اور آزادی کی بات کی گئی تھیٴ مگر قیام پاکستان کے بعد وفاقی اکائیوں کے حقوق و اختیارات کا خیال نہیں رکھا گیا طویل عرصے تک آئین سازی کے عمل کو مختلف حیلے بہانوں سے موخر کیا جاتا رہاٴ آئین سازی کے ذریعے ہی وفاقی اکائیوں اور عوام کے بنیادی حقوق اور اختیارات کا تعین ہوتا ہے۔ مزید برآں مختلف استحصالی طریقوں سے قومیتوں کی شناختٴ ثقافت اور زبان سے محروم کرنے کی کوشش کی گئیٴ مشرقی پاکستان کو اقتدار اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہ کیا گیا جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میںنکلا اور آج جو چھوٹے صوبوں میں بے چینیٴ قومیت پر مبنی مضبوط تحریکیں ہیںٴ ان کی بنیادی وجہ بھی وفاقیت کے اصولوں سے انحراف ہے۔

1956 ٴ اور 1962 ئ کے آئین کے مقابلہ میں 1973 ئ کے آئین میں مضبوط فیڈریشن کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا تھاٴ یہی وجہ تھی کہ تمام صوبوں کی قیادتوں اور نمائندوں نے اس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا تھاٴ آئین کے تخلیق کاروں نے وعدہ کیا تھا کہ کنکرنٹ لسٹ 10 سال بعد ختم کردی جائے گی مگر چونکہ 1977 ئ میں فوجی آمر جنرل ضیائ الحق نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے آئین معطل کردیا تھاٴ لہٰذا اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوسکیٴ کنکرنٹ لسٹ کی موجودگی میں بہت سے صوبائی امور پر وفاق کو قانون سازی میں سبقت حاصل رہیٴ ساتھ ہی وسائل کی تقسیم کے لئے آبادی کا جو فارمولا بنایا گیاٴ وہ تین چھوٹے صوبوں کو قبول نہیں تھاٴ ان حالات و واقعات میں یہ فطری تھا کہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی مضبوط ہوٴ اور علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیں۔

پاکستان میں جو لوگ غیر آئینی طور پر برسر اقتدار آئےٴ ان میں وفاقی اصولوں کو سمجھنے کا فقدان رہاٴ طاقت کے ارتکاز اور مضبوط مرکز کی خواہش میں انہوں نے اختیارات اور فیصلہ سازی کے معاملات کو وفاقی اکائیوں کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں ایک تو صوبوں میں احساس محرومی بڑھتا گیاٴ اور جب حقوق کے جائز مطالبات کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی تو مختلف تنظیموں نے بھی دہشت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کیٴ بنگلہ دیش کے معاملہ میں بھی ہم نے خود مسائل جمہوری اور وفاقی اصولوں کے تحت حل نہ کئےٴ اور انگلیاں دوسروں کی جانب اٹھاتے رہے۔ آج بھی ہمیں ماضی کے اوراق سے سبق حاصل کرتے ہوئے بلوچستان سے لے کر سرائیکستان ،تک تمام مسائل کو وفاقی حکمرانی کے اصولوں کے تحت سیاسی ڈائیلاگ اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پاکستان میں غیر جمہوری حکومتوں کے لمبے ادواروں کی وجہ سے وفاقی اصولوں پر عملدرآمد نہ ہوسکاٴ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وفاقی اصولوں پر عملدرآمد اور آئین کی بحالی کے لئے جمہوریت بنیادی ستون کا کردار ادا کرتی ہے اور ایک وفاقی نظام ہی پورے ملک کے اقلیتیٴ لسانی اور علاقائی شناختوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔ ایک صحیح جمہوری وفاقی ریاستٴ ایک منقسم اقتدار والی ریاست ہوتی ہے جس میں کم از کم دو حکومتی سطحیںٴ وفاقی اور صوبائی آئینی طور پر علیحدہ علیحدہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیںٴ تاہم ان میں مشترکہ اختیارات بھی پائے جاسکتے ہیںٴ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے شہریوں سے براہ راست تعلق رکھنے کی مجاز ہوتی ہیں اور متعلقہ شہری براہ راست انتخابات کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قانون ساز اور نمائندہ اداروں میں اپنے نمائندے منتخب کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں 1973 ئ کے متفقہ آئین اور دو ایوانی مقننہ کو تشکیل کیا گیا تھا جس کے تحت ایوان بالا ٴ سینٹ میں قومی اسمبلی میں آبادی کے برعکس چھوٹے علاقوں کو غیر متناسب نمائندگی کے ذریعے مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔

وفاقیت کے حوالہ سے بھارت کے تجربہ سے ہمیں یہ انداز ہوتا ہے کہ کس طرح براعظم ایشیائ کی ایک بہت بڑی ریاست اپنے حالات و ضروریات کے مطابق وفاقی اصول اپناتے ہوئےٴ برطانوی راج کے خاتمہ کے بعد ایک جمہوری وفاق کے طور پر اہم ریاست کی صورت میں ابھری ہےٴ کس طرح اس نے اپنے لسانیٴ علاقائی اور مذہبی تنوع کے مسئلہ سے نمٹتے ہوئے نئے جمہوری وفاقی راستے تلاش کئے ہیںٴ اور اس کا 1947 ئ سے اب تک سیکولر انڈین فیڈریشن کا تجربہ کس طرح کامیاب رہا ہے۔1947 ئ میں بھارت کے 14 صوبے تھےٴ مگر اب ان کی تعداد دگنی ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی پنجاب میں سے ہریانہ اور ہماچل پردیش کی ریاستیں تخلیق کی جاچکی ہیں۔ بھارت نے علاقائیٴ لسانی اور گروہی شناختوں کو تسلیم کرکے وہاں کے عوام کو مساوی آئینی حقوق دے کر وفاق کو مضبوط بنایا ہے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 ٴ کے تحت پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے منظور کردہ ترمیم سے نئے صوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ یہ ترمیم اس صورت میں ایوان میں لائی جاتی ہے جب صوبائی اسمبلی یہ فیصلہ کرے کہ بہتر انتظامات کے لئے لسانیٴ ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا پاکستان کے آئین میں یہ گنجائش موجود ہے کہ نئی وفاقی اکائیاں تخلیق کرکےٴ وفاقی حکومت اور وفاقی اکائیوں کے درمیان تقسیم اختیارات کے مختلف انتظامات کئے جاسکتے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ایک جابرانہ وفاقیت سے معاون وفاقیت کی طرف سفر کررہا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 2 نومبر 2011 کو ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں فورم آف فیڈریشنز کے رکن بننے پر غور کرنے کے بعد اس کی منظوری دی ہے جبکہ 16 نومبر کو پاکستان نے باضابطہ طور پر فورم آف فیڈریشنز کے ساتھ رابطہ کیا اور فورم کے رکن بننے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس ضمن میں وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ فورم کے ساتھ رابطے میں ہے گی۔

جمہوری دور میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی 18 ویں ترمیم نے پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی کو جنم دیا ہےٴ اور ہم نے پاکستان کو معاون جمہوریت کی جانب عملی انداز میں بڑھتے دیکھا ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل میں اصلاحات اور نیشنل اکنامک کونسل کی تنظیم نو دو ایسے اقدامات ہیںٴ جن کے پاکستان میں بین الحکومتی تعلقات پر بہت مثبت اثرات برآمد ہوں گے۔ یہ مثبت اقدام مل کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان عملی سطح پر توازن لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پاکستان میں قدرتی وسائل پر حق ملکیت کے حوالہ سے وفاق اور صوبائی حکومتوں میں تنازعات کی ایک لمبی داستان ہے آئین میں حالیہ ترامیم کے باعث ان تعلقات میں بہتری آئے گی ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ نے پاکستان میں صوبائی خود مختاری اور مالیاتی وفاقیت کو مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے پاکستان کے پسماندہ اور کچلے ہوئے طبقات کو ان کی شناخت اور حقوق دیئے ہیں اس ضمن میں اس نے خیبر پختونخواہ کو نام اور شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان صوبہ کی حیثیت دی ہے اب صدر آصف علی زرداری نے موجودہ حکومت کے دور میں جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق اور شناخت دینے کا اعلان کیا ہے انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب میں الگ سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل تیز کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر عوام کو ان کے حقوق دینا جرم ہےٴ تو ہم ایسا جرم کرتے رہیں گے۔ برطانوی دور سے چلی آرہی انتظامی حد بندیوں کو اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس لئے ضروری ہے کہ نئے صوبوں کی تخلیق کے عمل کا خیر مقدم کیا جائےٴ کیونکہ اس سے نہ صرف بین الحکومتی تعلقات بہتر ہوں گےٴ بلکہ وفاقیت بھی مضبوط ہوگی۔

Source: Daily Mashriq

Tags

About the author

Junaid Qaiser

5 Comments

Click here to post a comment
  • ppp leaders claim that saraiki province movement is 40 years old and this is geniun and lawful demand of south punjab,,,,,what a utter hyocricy by this corrupt leadership,,,ppp has been in power in 1970,,1988,,1993 and presenly since 4 years but did nothing to create saratki province,,,it seems only a slogan to win vote from that region,,,and majority of pakistani people understand why zardari and gilani are playing saraiki card….in 4 years of destructive rule almost all institutions have been destroyed by corruption incompetency and mismanagement and there are countless issues which need to be addressed but unfortunately zardari regime has an agenda of looting the country.they have done nothing for relief for common people,,,people are suffering,,,inflation,unemployment,law and order and loadshedding have ruined the lives of pakistanis,,,,and zardari gilani are increasing the number of ministers and advisers,,,what a shameless leadership,,

  • ’سرائیکی صوبہ، عوام کی محرومیوں کا حل‘

    پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کا صرف ایک حل ہے کہ ان کا الگ سرائیکی صوبہ بن جائے۔
    جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام پینسٹھ برس سے محرومیوں کا شکار ہیں۔

    وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر کسی نے جنوبی پنجاب میں ترقی کے لیے وعدے کیے لیکن کسی نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ان کے بقول جب تک الگ صوبہ نہیں بنے گا اس وقت تک جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ان کا حق نہیں ملے گا۔
    لاہور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ الزام لگایا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے لیے عوام کو اکسا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سرائیکی صوبہ ان کی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ضرورت ہے۔
    یوسف رضا گیلانی نے افسوس ظاہر کیا کہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے پاس تعلیمی ڈگریاں ہیں لیکن ان کو ملازمت نہیں ملتی، اس لیے وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ بجٹ میں ایک لاکھ نوکریاں دی جائیں۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ یہ گلہ کیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں کرتی۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی نے آئین بنایا اور اس کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اداروں کا احترام کرتی ہے۔
    وزیر اعظم نے دعویْ کیا کہ وہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو گراسکتے ہیں لیکن ان کی جماعت ایسا نہیں کرے جبکہ اگر مسلم لیگ کے پاس اکثریت ہو تو پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے میں ایک منٹ بھی نہ لگائے۔
    یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ وفا کرنے والے لوگ ہیں اور قبروں سے بھی وفا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے ان کو پھانسی دے دی جائے لیکن وہ اپنا مشن نہیں چھوڑیں گے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/04/120422_pm_saraiki_province_ar.shtml

  • ’سرائیکی عوام اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں‘

    وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کی طرف سے صوبۂ پنجاب میں انتظامی یونٹ تشکیل دینے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرائیکی عوام انتظامی یونٹ نہیں بلکہ اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں۔
    انہوں نے یہ بات اتوار کو جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں سیلاب متاثرین کے لیے ماڈل ولیج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

    وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ سرائیکی عوام اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں اور خود انتظامی معاملات کو دیکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ سرائیکی عوام اپنے صوبہ کی معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ حکومت فوری ختم ہوجائے ان کو یہ معلوم نہیں ہے پیپلز پارٹی کی حکومت کو لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور عوام انہیں پانچ برس کے لیے حکومت میں بھیجا ہے۔
    یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ انہیں عوام کی تائید حاصل ہے اس لیے وہ نہ تو کسی کے کہنے پر آئے ہیں اور نہ ہی کسی کے کہنے پر جائیں گے۔
    ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک تحریک نام ہے اور اس کے کارکن نظریاتی ہیں فضلی بیٹرے نہیں جو فصل کے ختم ہوتے ہی اڑ جائیں۔
    انہوں نے کہا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی کرسی پر بیٹھے ہیں اور وہ بہادر لیڈروں کی کرسی پر بیٹھ کر بزدلی نہیں دکھا سکتے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/03/120304_pm_siraiki_zs.shtml