Newspaper Articles

Mahmood Sham’s article on PML-N’s agitative and destructive politics


دنیا میں کہیں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے 62 فیصد حصے پر حکومت کرنے والی پارٹی اپنے ہی شہروں کے کھمبے گرا رہی ہو، اسٹریٹ لائٹس توڑ رہی ہو، حکمراں پارٹی کے اپنے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہوں۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

معاملہ لوڈ شیڈنگ کا ہے جو ایک وفاقی وزارت کا اختیارہے، لوڈ شیڈنگ سارے ملک میں ہو رہی ہے اور یہ کئی برس سے جاری ہے جب یہ حکومت نہیں آئی تھی تب بھی ہو رہی تھی۔ توانائی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی سرمایہ کاری ہو رہی ہے کارخانے نئے لگ رہے ہیں کئی ہزار میگاواٹ کا فرق ہے۔ یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر پنجاب کو کم بجلی دے رہی ہے۔ اسی طرح گیس بھی کم فراہم کی جا رہی ہے یہ حقیقت ہے کہ بجلی کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔

لیکن جس اکیسویں صدی میں ہم رہ رہے ہیں جو علم کی صدی ہے ٹیکنالوجی کا دو رہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی کہلاتی ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مل جل کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے، سڑکوں پر بجلی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ سے بجلی پیدا نہیں ہوگی نہ ہی پنجاب اسمبلی کے ارکان کے لانگ مارچ سے توانائی جنم لے گی۔ لانگ مارچ کا خوف دلایا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کے لانگ مارچ تو بہت شارٹ ہوتے ہیں گوجرانوالہ میں دم توڑ دیتے ہیں ایک جنرل کی کال پر جدوجہد ختم کر دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی تو ایک ایگزیکٹو آرڈر سے ہوسکتی تھی، ہوگئی لیکن دو تین ہزار میگاواٹ نہ تو جنرل صاحب کی کال سے کہیں سے مل سکتی ہے، نہ وزیراعظم اپنے ایگزیکٹو آرڈر سے بجلی بحال کرسکتے ہیں یہ تو ایک حقیقی مسئلہ ہے جس کے لیے برسوں پہلے سے کوششیں کی جاتیں تب آج کی ضرورت کے مطابق بجلی تیار کی جاسکتی تھی۔ جنرل ضیائ الحق کے دور میں اس پر کام ہونا چاہیے تھا کچھ وقت پہلے تو ایک منتخب وزیراعظم، ایک مدبر، ایک ذہین قائد کو تختہ دار تک پہنچانے میں گزر گیا، باقی جو رہا تھا وہ افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑنے، ڈالر کمانے، بانٹنے میں بیت گیا انہوں نے بڑے ڈیم او رپاور ہائوس بنانے کے بجائے میاں نواز شریف جیسے عظیم لیڈر تراشے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بجلی کمپنیوں کو لائسنس دیے۔ نواز شریف صاحب نے تو دونوں بار بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئی سرمایہ کاری نہیں کروائی۔ پرویز مشرف صاحب نے کالا باغ ڈیم کے لیے اتفاق رائے حاصل کرنے کی مہم چلائی لیکن پھر نہ جانے کیوں درمیان میں رک گئے۔ بجلی کے ترسے ہوئے واقفان حال کہتے ہیں کہ جو جنرل ذوالفقار علی بھٹو جیسے مقبول لیڈر کو پھانسی دے سکتے ہیں سندھ کی اکثریت کی رائے رکاوٹ نہیں بنتی وہ کالا باغ ڈیم بنانے میں چند سندھی قوم پرستوں سے کیوں ڈر جاتے ہیں۔ جنرل ضیائ یا مشرف چاہتے تو یہ ڈیم بنا سکتے تھے وجہ کچھ اور ہے۔

آج بھی ضرورت پانی کے بڑے ذخائر کی ہے، بڑے جلوسوں او رلانگ مارچوں کی نہیں۔ بیسویں ترمیم ہو، اتفاق رائے سے ہو سکتی ہے، اٹھارہویںترمیم منظور ہوسکتی ہے تو پانی کے ذخائر کے لیے اتفاق کیوں نہیں ہوسکتا۔ بجلی تیار کرنے کے لیے آپس میں رضا مندی کیوں نہیں ہوسکتی۔

سولہویں سترہویں صدی کے قبیلوں کی طرح ہر بات پر ہم تلواریں سونت کر کیوں کھڑے ہو جاتے ہین۔ بجلی زرداری صاحب نے سوئس بینکوں میں تو جمع نہیں کروا رکھی جو لانگ مارچ کے نتیجے میں یا چیف جسٹس کے ازخود نوٹس سے پیدا ہو جائے گی۔

یہ اکیسویں صدی ہے، گلوبلائزیشن کا دور ہے آپس میں تعاون اور تفہیم کا زمانہ ہے۔ پاکستان کا اکثریتی علاقہ تو میاں صاحب کے زیر اقلیم ہے اس کی ضروریات پوری کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لوڈ شیڈنگ کے لیے مظاہرے کرکے اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔ صوبے کے حکمران کی حیثیت سے بجلی سمیت تمام ضروری اشیائ کی فراہمی آئینی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ایک وزیراعلیٰ کی حیثیت سے آپ کو متعلقہ وفاقی وزیر سے وزیراعظم سے یا صدر سے میٹنگ کرنی چاہیے۔ ان سے مطلوبہ بجلی کے لیے بات کریں۔ اگر نہ ملے تو آپ اپنی اسمبلی میں آوز بلند کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو بجلی آپ کو مل رہی ہے اس کی تقسیم مناسب بنیادوں پر بھی آپ ہی کا منصب ہے۔ بجلی متبادل طریقوں سے پیدا کرنا بھی آپ کا فرض ہے دنیا آج کل متبادل توانائی کا اہتمام کررہی ہے۔ سورج سے توانائی حاصل کی جارہی ہے۔ پنجاب میں تو سورج خوب کھل کر چمکتا ہے، دھوپ چلچلاتی ہے، شمسی توانائی کو میں تو دھوپ بجلی کہتا ہوں یہ بجلی تو صرف ایک ڈیڑھ سو سال کی بات ہے۔ اس سے پہلے تو سارا کام دھوپ سے ہی چلتا تھا، فصلیں دھوپ سے پکتی تھیں، سورج کی روشنی میں پڑھائی ہوتی تھی۔

دھوپ بجلی سے ہی بہت کام لیا جا سکتا ہے اس کے پینل تو عام مل رہی ہیں ہر معاملے کو سیاسی کھیل، سیاسی سرکس، سیاسی تماشا بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں اور زیادہ الجھ جاتے ہیں اور جب میاں صاحب کی منزل وفاقی حکومت ہے تو عام لوگ تو یہ دیکھیں گے کہ آپ کام کرنا جانتے ہیں یا نہیں، دوسروں سے کام لینا آتا ہے یا نہیں، اگر آپ صرف احتجاج کریں گے منتخب صدر کو جلی بجھی سنائیں گے تو آپ لوگوں کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ اچھی اپوزیشن پارٹی ہیں آپ کو احتجاج آتا ہے، انتظام نہیں۔

آپ تو تخت لاہور پر راجمان ہیں کچھ مغل بادشاہوں کی روحوں سے ہی سبق سیکھ لیں کہ وہ کیسے سلطنت چلاتے تھے اور صوبائی بغاوتیں کیسے فردو کرتے تھے ان کے تعمیر کردہ قلعے، مساجد، مقبرے آج تک بلند و بالا کھڑے ہیں وقت کی گرد انہیں چاٹ نہیں سکی ہے۔ وہ کام کرتے تھے مظاہرے نہیں کرواتے تھے۔ 62 فیصد پاکستان کا بندوبست ٹھیک کرکے دکھا دیں تب ہی 100 فیصد پاکستان آپ کی قیادت کو تسلیم کرے گا۔

Source: Daily Mashriq