Original Articles Urdu Articles

Ummul Khabais Soch – by Imam Bakhsh

ام الاخبائث سوچ کو شکست دینا ہوگی

تحریر: امام بخش

۱۹۵۲
سے لے کر آج تک ھماری فوجی قیادت ہمیشہ سے سمجھتی آئی ہے کہ پاکستان میں ہر چیز اس کے تابع ہونی چاہیےاور ملک کے ہر معاملے میں صرف اس کی گرفت مضبوط ہو۔ یہ خود کو عقل کل اور اپنے ہر عمل کو قانون سے برتر سمجھتی ہے۔ اس کا اپنا ایک مخصو ص مائنڈ سیٹ )ذہنی کیفیت) ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے علاوہ ملک کی ہر قانونی و عدالتی اتھارٹی اور عوام سمیت سب کو بلڈی سویلین گردانتی ہے۔

ھماری اعلی فوجی قیادت نے اپنی اس گہری سوچ کو عملی جامہ بھی پہنایا ہے۔ جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے کورکمانڈر بیٹھ کر کھلے عام سیاسی فیصلے کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں۔ آرمی قیادت کی نظر میں جمہوری اور آئینی نظام کی ذرا برابر وقعت نہیں۔ آرمی چیف عوام کے چنے ہوئے وزیراعظم کو سیلوٹ تک نہ کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ ایک منتخب وزیراعظم تو حاضر سروس آرمی چیف پرویزمشرف کے اپنے بارے میں مخصوص تکیہ کلام حرامی کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔

پاکستانی معیشت سے قطعہ نظر خاکی قیادت نے عوام کے سامنے بھارت کا ہوا کھڑا کر کے بجٹ کا بڑا حصہ ہتھیانے کا قدیم اور متاثرکن ”فن عظیم” اپنایا ہوا ہے۔ فوجی بجٹ شفاف طریقے سے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے اور اس بجٹ کا آزاد آڈٹ تو ”گناہ کبیرہ” سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے عظیم فوجی جنرل بھائیوں نے پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔ مگر انھوں نے اپنے حلف کا پابند ہونے کی بجائے ہمیشہ پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے ”عظیم کارنامے” سرانجام دئیے ہیں۔ انھوں نے اپنے فرض کے علاوہ ملک کی ہرچیز اور ہر حرکت کوتباہ کن نتائج کی پرواہ کیے بغیراپنے تابع عمل کیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ایسی خوبصورتی سے نبھایا ہے کہ ہر جنگ میں عبرتناک شکست کھائی ہے۔ انھوں نے دشمنوں کی بجائے پاکستان کی عوام پر دہشت طاری کرنے کی جہد مسلسل کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بلنڈرز بھی فرمائے ہیں جس سے وطن عزیز کودلخراش سانحات سے دوچار ہونا پڑا مگر پاکستان کے کسی انتظامی و قانونی ادارے کو یہ جرات آج تک نہیں رہی کہ ”بہادر جنرلز” کے کسی غلط اقدام کو بھی چیلنج کر سکے۔

پاکستان کی تاریخ خاکی وردی والوں کی سیاسی کوزہ گری اور خودسری سے بھری پڑی ہے۔ ہر ملٹری ڈکٹیٹر اصولی سیاست کا بزور طاقت قتل کرتا ہے اور اپنے نا جائز دور حکومت میں عوام میں مقبول سیاست دانوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ایسے سیاست دانوں کی ںئی پنیری لگاتا ہے جن میں ابن الوقتی اور خود غرضی کا مادہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے اور آگے بڑھ کر یہی سیاست دان مجموعی طور پر پاکستان کے کرتا دھرتا بن جاتے ہیں۔ نئے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بعض پرانے سیاست دانوں نے بھی ملٹری ڈکٹیٹرز کے اشاروں پر ملکی سیاست میں اپنا منفی کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔

پاکستان میں ایک ملٹری ڈکٹیٹر کی دس گیارہ سالوں کی حکومت کے بعد جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگتا ہے تو ہمارے مہا کاریگر ”پاسبان” تھوڑی مدت کے لیے سیاسی حکومت بنا دیتے ہیں۔ مگر سیاسی حکومت بنانے سے پہلے ایجینسیوں کے سیکرٹ فنڈز اور ہیر پھیر سے انتخابی نتائج اپنی مرضی سے مرتب کرتے ہیں۔ اگر ان خفیہ اور ظاہری کوششوں کے باوجود بھی اگر کوئی سیاسی پارٹی ان کی مرضی کے خلاف حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ تو حالات ایسے پیدا کر دئیے جاتے ہیں کہ جمہوری حکومت پوری طرح قدم نہ جما سکے۔

پاکستان میں ہر بار مارشل لاء امریکی مفاد میں لگا ہے۔ مارشل لاء لگتے ہی امریکہ اور دوسری طاقتیں اپنے منصوبے پورا کرنے میں سرگرم ہو جاتی ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سرمایہ بھی پا نی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جیسے ہی ملٹری ڈکٹیٹر گھنگرو باندھ کر”مجرا” شروع کرتا ہے تو ڈالرز کی ویلوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ اس مجرے سے پا کستان کے نقصان سے قطعہ نظر اشتہاری گروپ زوردار طریقے سے اپنا خود غرضانہ پرچار شروع کر دیتا ہے کہ اب تو پاکستان کی معیشت کو پر لگ گئے ہیں۔ مگر جیسے ہی ڈکٹیٹر کی رخصتی پر” ٹھمکا” اختتام کو پہنچتا ہے تو بد قماش طاقتیں اپنی ویلیں بھی بند کر دیتی ہیں۔ اسکے بعد جمہوری حکومت کے آنے کے بعد ”غیرت بریگیڈ” جیسے ”محب وطن” پا کستان کی معیشت کے ڈوبنے کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

جمہوری حکومت کے آتے ہی سیکرٹ ایجینسیوں کے کارندے اپنی باریک کاروائیوں سے افواہوں کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ کرپشن کا دھواں دھار واویلا مچایا جاتا ہے۔ نعوذبااللہ پاکستان کے بالکل تباہ اور ختم ہونے کے مرثیے بڑے منظم اور متاثرکن المیہ انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ آئے دن منتخب حکومت کے جانے کی تاریخیں تواتر سے دی جاتی ہیں۔ مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ جتنا بھی جلدی ہو سکے جمہوری حکومت کو زیادہ سے زیادہ بدنام کرکے چلتا کیا جائے اور پھر اپنی تشریف آوری کا جواز پیدا کر دیا جا ئے۔

پاکستان میں”ام الاخبائث” سوچ کوپروان چڑھانے میں ریاست کے اہم ستون بھی اپنی روائتی ظالمانہ بے حسی اور کمال ”بہادری” کے ساتھ اپنا کردارخوب نبھاتے چلے آرہے ہیں۔ مثلاھماری عدالت عظمی کا فوجی قیادت سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اس نے ہر دور میں ھمارے ”پاسبانوں” کا ماورائے قانون، استعداد اور فرمائش سے سے بڑھ کر اپنی سچی محبت نبھائی ہے۔ ہمارے معزز منصفوں نے ہر ملٹری ڈکٹیٹر کے دور میں ”پی۔سی۔او” کے تحت حلف اٹھا کر اپنا ”فرض منصبی” خوب ادا کیا ہے۔ معزز عدالت عظمی”نظریہ ضرورت” کے تحت فیصلے صادر فرماتی رہی ہے۔ اور تو اور پاکستان کےمجرم اعظم )ملٹری ڈکٹیٹر) کو آئین میں جہاں سے اس کا دل چاہے تبدیل کرنے کی بھی پوری آزادی عطا کر دیتی ہے۔

ھماری عدلیہ عالیہ انصاف کے دو واضع اصولوں پر سختی اور مستقل مزاجی سے کاربند رہی ہے۔ ایک فوجی اور دوسرا سول۔ پہلے تو کسی فوجی جنرل کے خلاف مقدمہ لیا ہی نہیں جاتا اورعدالتی رجسٹرار تک پوری دیدہ دلیری اور تحکمانہ انداز سے درخواستوں کو درخواست گار کے سامنے زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ اگر پھر بھی روکنے کی کوششوں کے باوجود مجبوری سے ایسا مقدمہ عدالت میں لے بھی لیا جائے تو لمبی لمبی مدت تک ملتوی کرنے کی مشق شروع ہو جاتی ہے۔ اور پھر سالوں بعد بھی عدلیہ کی اس مقدمے سے جان نا چھوٹے تو ایسا غیر موثر فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جس پر عمل داری خواب سا بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر عام پاکستانی یا منتخب نما ئدے پر جھوٹا مقدمہ بھی عدلیہ میں آ جا ئے۔ تو عدالت عظمی کی مستعدی دیکھنے لائق ہوتی ہے اور توہین عدالت، توہین عدالت کی یلغار کے ساتھ آئین کی من پسند تشریح کر کے مقدمے کا فیصلہ ”عین انصاف” کے مطابق سنایا جاتا ہے۔

حالیہ تاریخ میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کی اصغر خان کے کیس میں اپنے حلفیہ بیانوں میں سپریم کورٹ کو کھلم کھلا دھمکیاں فوجی قیادت کی سوچ کا بہترین مظاہرہ ہے۔ آرمی چیف کا آگے بڑھ کر اپنے پیٹی بند بھا ئیوں کے ساتھ ساتھ ایجینسیوں کے دفاع کے لیے حالیہ زوردار بیان دینا اور چیف جسٹس آف پاکستان کا عدالت عظمی میں ”اپنے لوگوں” کے لاحقے کا استمال پوری قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

کوئی تو ہمارے منصفِ اعظم کو دوسری جنگ عظیم میں عدالتوں کے بارے میں ونسٹن چرچل کا قول سنائے۔ ھماری مسلح افواج کے سپہ سالارِ اعظم سے مودبانہ عرض کرے کہ ایک ملک میں فوجی اداروں کے علاوہ دوسرے اداروں کی اہمیت بھی بتائے اور یہ عرض بھی کرنا نہ بھولے کہ کسی ادارے کا مورال صرف تنقید سے گرتا ہے اور نا ہی بلند ہوتا ہے بلکہ ادارے کی اچھی یا بری ساکھ اس کی اپنی کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے۔ کیا ہمارے عدالتی اور فوجی سربراہان کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ اولیورکرامویل جیسے ہیرو کے ساتھ عدالت نے کیا تاریخی سلوک کیا۔ ایسے عدالتی فیصلے کیوں ضروری ہوتے ہیں اور مستقبل کے لیے ملک میں کیا رجحانات مرتب کرتے ہیں۔

ہمارے نام نہاد آزاد میڈیا نے بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر فوجی قیادت کا ہر نازک موقعہ پر بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ہمارے تلاطم پسند اور شورش مزاج نامی گرامی ٹی وی اینکرز پاکستان کے مجرموں کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے ہر شام ملٹری ڈکٹیٹرز کا ساتھ نبھانے والے سیاست دانوں، جنرلز اور بیورو کریٹز کے ساتھ اپنا ”ٹھیہ” لگا کر بیٹھتے ہیں۔ جو اپنے ابن الوقتی اور خود غرضی کے راستے کو صراط مستقیم گردانتے ہیں۔ کسی شرم وحیا کے بغیر ڈنکے کی چوٹ پر اپنے بدبو دار کرتوتوں کو شاندار کارناموں کی شکل دے کر پیش کرتے ہیں۔ اور نئی نسل کو اپنے ”سبق” پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”کامیابی” کا راستہ کون سا ہے۔ ان قوم کے مجرموں کو انٹرویوز وغیرہ کے لیے بلانے میں تو کوئی حرج نہیں مگر تجزیہ نگار یا ماہرین کے طور پر مستقل طور پر ٹی وی پروگراموں میں بلانا پاکستانی قوم کی کون سی خدمت ہے؟

تقریریں سن لیں، تحریریں پڑھ لیں تو ہمارے نامی گرامی صحافیوں کی اپنی تعریف اور بہادری کی داستانیں ختم نہیں ہوتی۔ ایسے لگتا ہے کہ صرف یہی صاحبان صحافتی تہذیب کے مسلمہ قرینے اور اجلی روایات کے امین ہیں۔ مگر جیسے ہی مارشل لا لگتا ہے تویہ لفافہ صحافی پا کستان کے ”مجرم اعظم” کی بارگاہ ناز میں سر خمیدہ ہو کر کورنش بجا لاتے نظر آتے ہیں۔ اپنی عیار عقل سے اپنی تحریروں کے سو بھیس بدل لیتے ہیں۔ یہ اپنی دلیل و تاویل اور فلسفہ تراشی کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ قصیدہ گوئی کے فن کا عظیم مظاہرہ فرماتے ہیں۔ ھماری حالیہ تاریخ میں ابھی بھی بڑے معزز صحافت کے علمبردار پائے جاتے ہیں جو ”مرد مومن” کو گندے لطیفے سنا کر اور اس کا ایمان تازہ کر کے خوب داد پاتےتھے۔ مجھے یقین ہے کہ انھوں نے اپنے شاہکار دیوان سنبھال کر رکھے ہوں گے کہ کیا پتہ کب بطل جلیل سامع تشریف لے آئے اور گلشن کا کاروبار پھر سے چل نکلے۔

بار بار کے مارشل لاوں نے پاک وطن میں لاتعداد لعنتوں کےعلاوہ ہمارے معاشرے پر بہت زیادہ منفی رجحانات مرتب کیے ہیں پورے ملکی نظام کو تباہ و برباد کیا ہے۔ کیونکہ مارشل لاء ڈکٹیٹر آئین کو اپنے قدموں کے نیچے روند کر پورے پاکستان پر اپنی بندوق کی نوک پر اپنا جبر مسلط کر کے پوری قوم کو باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ طاقت آئین کی بجائے صرف جسمانی طاقت کے وجود میں ہے۔ ہمارے وطن عزیز میں یہ اک عجب تماشہ ہے کہ ایک سائیکل چور تو عدالتی فیصلے کے بعد جیل میں گل سڑ رہا ہوتا ہے مگر پاکستان کا آئین توڑنے والا بلکہ پورے پاکستان کو چوری کرنے والا سب سے بڑا مجرم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں، ہاں پاکستان کا سب سے بڑا مجرم ملٹری ڈکٹیٹر پاکستان کا سربراہ بن کر پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ پاکستان میں اب صورت حال یہ ہے کہ میرٹ، امن اور عدل و انصاف کب کے مرحوم ہو چکے۔ کوئی پاکستانی جائز طریقے سے اپنا حق حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر طرف نفس اور ہوس کی حکمرانی ہے جس کی وجہ سے خود غرضی پورے معاشرے میں سرائت کر گئی ہے۔

ابراہام لنکن نے کہا تھا کہ آپ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بیوقوف بنا سکتے ہیں اور کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بیوقوف بنا سکتے ہیں، لیکن آپ سب لوگوں کو ہروقت بیوقوف نہیں بنا سکتے ہیں

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں اب ابراہام لنکن کی بات کب سچ ثابت ہوتی ہے؟ قوم کو ”ام الاخبائث” سوچ رکھنے والی منفی طاقتوں کو پوری طرح پہچاننے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی سوچ پاکستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے اور اسی کو شکست دینے میں ہی پاکستان کی بقا اور ترقی کا راز ہے۔ پاکستانی قوم کو اس چیز کا بھی ادراک کرنا ہو گا کہ جمہوریت کے تسلسل سے منفی طاقتیں کمزور ہوں گی اور اگر پاکستان میں تین چار جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کر جاتی ہیں تو ”ام الاخبائث” سوچ رکھنے والی قوتیں اور ان کے حواری ارتقائی طریقے سے بے نقاب ہوتے ہوتے اپنی غلیظ کاریگری سے عوام کو ماضی کی طرح بیوقوف بنانے کے عمل سے ہمیشہ کے لیے معذورونامراد ہو جائیں گے۔ انشااللہ

About the author

Abdul Nishapuri

6 Comments

Click here to post a comment
  • Hammad Khan says: @

    Jenerals, Judges, Jamaatias and Journalists (4 Js) have ruined Pakistan……please add another J means Jang group as well they are (5 Js)…

  • yeh such hai jo ap samnay lay is mulk k baray baray mayanaz kalam nigar yeh batain nae likh saktay great job imam bhai

  • salam,i m fatima n living in KSA.i hv read ur article its the real truth of our army and our nation that what our army is doing with its people and what we as nation suffered for and the worst thing is that its still continued.Anyways ur article is vry impressive and thought provoking.Great effert.