Original Articles

Good riddance, General Pasha!

Related posts: Stop it, General Kayani – by Lala Jie

General Kayani’s extension as army chief: A bad decision – by Abdul Nishapuri

Lieutenant-General Ahmad Shuja Pasha (born 18 March 1952), the current Director-General of the Inter-Services Intelligence (ISI), Pakistan’s premier intelligence service since October 2008 is due to retire on 18 March 2012. He will be replaced by Lieutenant General Zaheerul Islam.

General Pasha was due to reach the age of superannuation on 18 March 2010, but having received two extensions, his tenure was extended until 18 March 2012. He was recently named as one of the 100 most influential people by Time Magazine.

Prior to his appointment as ISI chief, Pasha served as the Director General of Military Operations from April 2006 to October 2008 at the Army headquarters overseeing all military engagements in Waziristan, Swat and other tribal areas.

He is the main mind behind the good Taliban-bad Taliban theory, the creation of the Difa-e-Pakistan Council, Imran Khan’s PTI tsunami, and the reinforcing of contacts between Pakistan army and Jihadi-sectarian groups (Taliban, Sipah-e-Sahaba, Jamaat-ud-Dawa, Jaish-e-Muhammad etc).

During his tenure as ISI chief, from October 2008 to March 2013, General Pasha proved himself as an incompetent officer. Thousands of Shia Muslims, Sunni Barelvi Muslims, Pashtuns and Balochs have been killed during his tenure, many of them by various assets and Jihadi-sectarian proxies of the ISI (extremist Deobandi Taliban, ASWJ-SSP, Jundullah). Dozens of Ahmadis and Christians were killed in the same period. Osamab bin Laden was hiding in an ISI-safe house in tenure in the garrison town of Abbottabad. Mumbari attack was his first gift to the international community. Pasha also kept influencing police officers and judiciary in various provinces and areas of Pakistan in order to to ensure safe release of Taliban and SSP-ASWJ terrorists arrested by the police. He is the same man who unsuccessfully tried to topple the elected government by hatching the memogate conspiracy with Mansoor Ijaz. He was also involved in the JuD-LeT’s attack on Mumbai in 2008.

Here’s a damning article on General Pasha by Hamid Mir. Of course Hamid Mir is paying back to Pasha because it was ISI which released secret tapes of Hamid Mir’s conversation with a Punjabi Taliban a few years ago. Hamid Mir himself is an MI loyalist thus the element of professional jealousy should also be kept in mind. (Of course, Mir will not write any such column against the commander of MI or the COAS because that would mean a violation of the chain of command.) Yet, it is hard to disagree with Mir’s views and analysis of Pasha’s performance.

الوداع جنرل پاشا

قلم کمان …حامد میر

اُس نے اپنے ناتمام ایجنڈے کو تمام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ اپنے اس ناتمام ایجنڈے کو تمام کرنا قومی مفاد کا اہم ترین تقاضا سمجھتا تھا۔ وہ قومی مفاد کے نام پر ہر جائز و ناجائز راستہ بھی اختیار کرتا رہا لیکن ناکام رہا۔ ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ جس آئین سے وفاداری کا حلف اٹھا کر آیا تھا اُسی آئین کو اپنے راستے کی سب سے بڑی دیوار سمجھتا رہا۔ وہ ایک سرکاری افسر تھا لیکن قومی مفاد کے نام پر ایک سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا تھا۔ قومی مفاد کے نام پر اُس نے ہمیشہ زبان سے کچھ اور دل سے کچھ اور کہا۔ قول و فعل کے اس تضاد کو آج کے زمانے میں ڈبل گیم کہا جاتا ہے لیکن وہ پوری دیانت داری سے اس ڈبل گیم میں مصروف رہا۔ اُس کا خیال تھا کہ پاکستان کو پارلیمانی جمہوریت نہیں بلکہ صرف اور صرف صدارتی جمہوریت بچا سکتی ہے حالانکہ پاکستان کو دولخت کرنے کی بنیادیں جنرل ایوب خان کی صدارتی جمہوریت نے فراہم کی تھیں لیکن وہ جنرل ایوب خان کا پرستار تھا۔ ایوب خانی جمہوریت کے حق میں اُس نے کئی صحافیوں کے سامنے دلائل دیئے اور اپنا یہ مشہور جملہ بار بار دہرایا کہ …“کیا آپ کے اور ہمارے بچوں پر بلاول، حمزہ اور مونس الٰہی حکومت کریں گے کیا ہمارے بچوں کو بھی وہی حکمران ملیں گے جو ہمیں ملے؟“… کچھ صحافی فوری طور پر قوم کے درد میں ڈوبے ہوئے اس سوال پر زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگتے لیکن کچھ صحافی سوچتے کہ یہ کیسا شخص ہے جو بار بار بلاول کے باپ کی حکومت سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع حاصل کرتا ہے اور بلاول کو کوستا بھی ہے؟ ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ مجھے مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہئے لیکن جب بھی ملازمت کی مدت ختم ہونے پر آتی ہے ایک اور توسیع کی کوشش شروع کر دیتا ہے؟

جی ہاں! اس محترم شخصیت کا نام لیفٹیننٹ جنرل احمدشجاع پاشا ہے جنہیں آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے مدت ملازمت میں تیسری توسیع نہیں ملی اور ان کا ایجنڈا ناتمام رہ گیا۔ جنرل پاشا دراصل ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پچھلے چند دنوں سے قومی مفادات کے کچھ خود ساختہ ترجمان بار بار یہ خبریں شائع کر رہے تھے کہ جنرل پاشا کو اُن کی مدت ملازمت میں تیسری توسیع مل جائے گی کیونکہ آرمی چیف جنرل کیانی کے علاوہ امریکی حکومت بھی اُن کی توسیع کے حق میں ہے۔ چند ہفتے قبل تھائی لینڈ اور برطانیہ میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ جنرل پاشا نے دو خاموش ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلا دیا کہ بہت جلد نیٹو کی سپلائی لائن بحال ہو جائے گی لیکن پاکستان میں وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ امریکا اُنہیں اپنا بہت بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ جیسے ہی وزیر اعظم نے اُن کی جگہ جنرل ظہیر الاسلام کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کیا تو خبر شائع کرائی گئی کہ جنرل پاشا نے بار بار درخواست کے باوجود تیسری مرتبہ توسیع لینے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ رویہ ہے جو ایک مخصوص سوچ کا عکاس ہے۔ یہ سوچ سال ہا سال سے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ قوم کو بھی دھوکہ دے رہی ہے۔ یہ سوچ اداروں کے استحکام کے نام پر چند افراد کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے لیکن پورے ادارے کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ یاد کیجئے ! 1971ء میں ہم مشرقی پاکستان میں بھارت سے شکست کھا رہے تھے لیکن مغربی پاکستان میں قوم کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا تھا۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق 90دن میں الیکشن کرانے کا وعدہ کر کے آئے اور گیارہ سال تک صدر بن کر بیٹھے رہے۔ جب اُن کے دور حکومت میں بھارت نے سیاچن پر قبضہ کر لیا تو فرمایا کہ وہاں تو گھاس بھی نہیں اُگتی۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف کارگل آپریشن سے ناراض تھے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کارگل میں کشمیری مجاہدین جہاد کر رہے ہیں لیکن وہاں سے پاکستانی فوج کے افسران اور جوانوں کی لاشیں آرہی تھیں۔ وزیر اعظم نے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو ان کی چھٹی ہو گئی۔ یہی سوچ تھی جس نے گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد قومی مفاد کے نام پر پاکستان کے فوجی اڈے امریکا کے حوالے کر دیئے اور قوم کو اندھیرے میں رکھا۔ امریکی ڈرون طیارے پاکستان کے فوجی اڈوں سے پرواز کر کے پاکستان میں بمباری کرتے رہے اور ہم بے خبر رہے کیونکہ ہمیں بے خبر رکھنا قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک برطانوی فوجی افسر میجر جنرل رابرٹ کاؤتھم 1950ء سے 1959ء تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ اُنہی کے دور میں فوج نے سیاست میں مداخلت شروع کی اور پہلا مارشل لاء بھی لگایا۔ آج تک کوئی دوسرا شخص نو سال تک آئی ایس آئی کا سربراہ نہیں رہا۔ اس شخص نے جنرل ایوب خان کو یہ سکھایا کہ فیصلہ ہمیشہ خود کرو لیکن فیصلے کے اعلان کو قومی مفاد کا تقاضا قرار دیدو لہٰذا آج تک یہی ہوتا آ رہا ہے۔ پاکستان کے قومی مفاد پر میجر جنرل رابرٹ کاؤتھم کی سوچ سوار ہے، جو بھی اس سوچ پر تنقید کرتا ہے، غدار قرار پاتا ہے۔

جنرل پاشا آئی ایس آئی سے رخصت ہو رہے ہیں لیکن کیا میجر جنرل رابرٹ کاؤتھم کی سوچ بھی کبھی رخصت ہو گی یا نہیں؟ جنرل پاشا کا دور پے در پے ناکامیوں کا دور تھا لیکن سیاسی حکومت نے اُنہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے دو بار توسیع دی۔ مجھے یاد ہے کہ نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کے فوراً بعد ایک بریفنگ میں جنرل پاشا نے بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ کو پاکستان کا اثاثہ قرار دیا لیکن 3مارچ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا تو یہ عسکریت پسند ہمارے دشمن قرار پائے۔ ایک دفعہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر کے عشایئے میں جنرل پاشا بھی شریک تھے۔ مجھے پوچھا کہ کیا پاکستان اور بھارت میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ فی الحال مشکل ہے تو جنرل پاشا نے زور سے کہا کہ نہیں نہیں آپ صحیح نہیں کہتے۔ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ عرصے کے بعد 10اکتوبر 2009ء کو جی ایچ کیو پر حملہ ہو گیا اور ہم نے ناقص سکیورٹی انتظامات کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے تو آئی ایس آئی کے افسران ہمیں بھارتی ایجنٹ قرار دینے لگے۔ جنرل پاشا کا دور بدترین ناکامیوں کا دور تھا۔ 2مئی 2011ء کا ایبٹ آباد آپریشن، 22مئی 2011ء کو مہران بیس کراچی پر حملہ اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے علاوہ سب سے زیادہ ڈرون حملے بھی2008ء اور 2012ء کے درمیان ہوئے۔ سب سے زیادہ لوگ انہی چار سالوں میں لاپتہ ہوئے، بلوچستان میں سب سے زیادہ مسخ شدہ لاشیں انہی چار سالوں میں پھینکی گئیں۔ سب سے زیادہ صحافی انہی چار سالوں میں مارے گئے۔ میں آج بھی آئی ایس آئی کے اس افسر کو نہیں بھول سکتا جس نے جنوری 2009ء میں سوات میں جیو ٹی وی کے نمائندے موسیٰ خان خیل کے بارے میں منفی باتیں کیں اور چند دنوں کے بعد موسیٰ خان خیل کو شہید کر دیا گیا۔ 2010ء میں 13پاکستانی صحافی قتل ہوئے اور 2011میں 15پاکستانی صحافی قتل ہوئے۔ کچھ صحافیوں کو طالبان نے بھی مارا لیکن کئی صحافیوں کے قتل کا الزام آئی ایس آئی پر بھی آیا۔ جنرل پاشا اپنے ایجنڈے سے اتفاق رکھنے والے صحافیوں کے تو ڈرائنگ روموں میں پہنچ جاتے تھے لیکن اختلاف رکھنے والوں کو یا تو قتل کے جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی کوشش کرتے یا غیرملکی ایجنٹ قرار دے ڈالتے۔

وکی لیکس کے مطابق جنرل پاشا نے اکتوبر 2009ء میں اسرائیلی حکام کو بتایا کہ بھارت میں اسرائیل کے مفادات پر دہشت گرد حملہ کرنے والے ہیں۔ خود تو اسرائیل کے ساتھ رابطہ رکھنا جائز تھا لیکن کسی صحافی نے تنقید کر دی تو اپنی پالتوسائبر فورس کے ذریعہ اسے اسرائیل کا ایجنٹ قرار دے ڈالتے۔ آئی ایس آئی پہلے ہی متنازع تھی جنرل پاشا نے اسے مزید متنازع بنایا سیاست میں ان کی مداخلت کی کئی کہانیاں آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ طشت ازبام ہوں گی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کو سیاست سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن چند افراد کو آگے پیچھے کرنے سے کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سوچ اس وقت بدلے گی جب ہم سب ذاتی مفاد کو قومی مفاد قرار دینا بند کریں گے، ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہیں لگائیں گے اور غیر ملکی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر گولیاں چلانا بند کر دیں گے۔ ہم نے جنرل پاشا کی سوچ سے نہیں بلکہ حقیقت میں میجر جنرل رابرٹ کاؤتھم کی سوچ سے نجات پانی ہے تاکہ ہر پاکستانی اپنی فوج اور اپنی آئی ایس آئی کو اپنا سچا محافظ سمجھ کر ان پر فخر کر سکے۔

http://e.jang.com.pk/03-12-2012/karachi/pic.asp?picname=06_04.gif

About the author

SK

20 Comments

Click here to post a comment
  • Both PML-N and PPP joined together to stall Pasha’s extension. That’s why ISI-proxies (Ansar Abbasi, Shaheen Sehbai etc) had started barking since a few days ago against PPP-PML-N’s alliance:

    Nawaz Sharif opposes Gen. Pasha’s extension (Our Correspondent)

    8 March 2012 ISLAMABAD – Pakistan Muslim League-N chief Nawaz Sharif has opposed a possible extension in service to director general of the Inter-Services Intelligence Lt-Gen Ahmed Shuja Pasha.
    Already on a year-long extension given in March last year, General Pasha’s second ‘tenure’ is supposed to come to an end on March 18. However, sources in the government say he is likely to get another two years in office as the country faces serious internal and external security challenges.

    The decision is likely to be announced before March 18.

    Sharif who was visiting the family of a slain army officer Colonel Sheraz, told journalists he would oppose the move. He advised the generals to stay away from politics. Stature of the armed forces would increase if it limits itself to defending the borders of the country, he added.

    Another PML-N leader Chaudhry Nisar Ali Khan listed several reasons why Gen. Pasha should not be given extension.

    He counted failure of the ISI in the May 2 US operation in Abbottabad last year that killed Osama bin Ladin, the Mumbai carnage in November 2008, the Nato attacks on Pakistani posts last year and the Raymond Davis affair. He said Gen. Pasha has played his innings and should now live a retired life.

    http://www.khaleejtimes.com/DisplayArticle08.asp?xfile=data/international/2012/March/international_March282.xml&section=international

  • Musharraf interview: Praise for Pasha, no comment for Kayani
    By News Desk
    Published: March 9, 2012

    Former president supports extension for Director-General ISI Ahmad Shuja Pasha. PHOTO: AFP/FILE
    Former president Gen (retd) Pervez Musharraf has said that if he was in the position, he would give an extension to Director-General Inter-Services Intelligence Lt General Shuja Ahmad Pasha, saying he is an “able officer” and a “good man”. He, however, repeatedly refused to offer any comments on Chief of Army Staff General Ashfaq Parvez Kayani.
    Replying to a question by host Shahzeb Khanzada on “To The Point”, aired on Express News on Thursday, the former president praised Shuja Pasha as being an “intelligent officer, a straight talker and a person with a very upright character”. Musharraf, who is also the chief of the All Pakistan Muslim League, added that the DG ISI is “a good person as well”.
    The APML chief was asked whether Kayani’s appointment as the COAS was part of the National Reconciliation Ordinance deal with former prime minister Benazir Bhutto and whether it was true that Musharraf delayed Kayani’s promotion till he was compelled to fulfill his promise. However, the former president replied: “Absolutely wrong”.
    He did, however, add: “It was Kayani who always accompanied me. I cannot confirm that Bhutto had a soft corner for Gen Kayani.”
    Further asked about whether promoting Kayani was a good or bad decision, Musharraf said, “I shall say ‘no comments’”.
    Yet, the former president strongly defended Shuja Pasha when it was pointed out his tenure is marked by events like the Mehran attack, the May 2 incident, and the attack on the General Headquarters. The DG ISI cannot keep a check on everything, was his reply.
    The Mehran base and the GHQ are open places and anyone who is ready to risk his life to attack these places can do it, he said. “Even a child can jump over the wall of Mehran, you cannot blame the DG ISI for that.
    “He does not have angels to keep him informed. He has unearthed 95% things, like terrorist acts, but nobody talks about them. He is running the organisation in a good way and has done well.”
    Asked about the DG ISI’s frequent visits abroad, which came under scrutiny, Musharraf said, “The DG ISI does not have to seek permission like a child has to. He can meet people locally and internationally. If he is on a fact finding mission, it is justified even if it is against the prime minister.”
    Asked again about Kayani and rumours that the army chief’s brothers are involved in corruption, he said that he cannot comment till he has proper information, but added that “the smoke suggests fire”.
    “It is very sad that relatives of the people in leadership roles use their positions for corruption and plunder the wealth of this poor nation while nothing is done for the betterment of people,” he said.

    http://tribune.com.pk/story/347587/musharraf-interview-praise-for-pasha-no-comment-for-kayani/

  • The 26/11 terrorist strikes in Mumbai by the ISI-sponsored Lashkar-e-Toiba took place seven weeks after Pasha had taken over as the DG of the ISI and Zahir-ul-Islam as his No.2.It is generally believed by well-informed sources that the terrorist attack on the Indian Embassy in Kabul and the 26/11 strikes in Mumbai had the signature of Lt.Gen.Nadeem Taj, the predecessor of Pasha as the ISI Chief. If Pasha and Zahir-ul-Islam had wanted they could have called off the terrorist strikes in Mumbai, but they didn’t.

    http://www.eurasiareview.com/10032012-pakistan-low-profile-officer-to-head-isi-analysis/

  • Pak Observer, an ISI rag, wrote an editorial in support of extension:

    Question of extension to Gen Pasha

    PML (N) is following a strange policy of pinpricking every now and then without realizing the consequences and implications of the lopsided approach to important issues. The matter of granting extension or otherwise to the Director-General, ISI, General Ahmad Shuja Pash is purely an administrative and professional issue that should be handled on merit by the Army Chief and the Prime Minister but some circles are trying to trigger a controversy out of it.

    The latest statement of leader of the opposition in the National Assembly Ch. Nisar Ali Khan that extension to General Pasha would be a big joke is reflective of traditional thinking of playing to the galleries and that too at the cost of vital interests of the country. While, as a matter of principle, one must agree to Ch. Nisar Ali Khan that there should not be extension in service of either civilian or military personnel but in this case the incumbent DG, ISI himself is not keen to get the one. Former Army Chief retired General Aslam Beg, who is considered to be veteran and elder of the institution of army, has categorically stated, on the basis of his intimate knowledge, that General Pasha was not interested to get extension in service. There are some other reasons to believe that Pasha wants to call it a day because he has had one of the most nerve-wrecking assignment ever since his appointment as ISI Chief in September 2008 as he had to tackle not only the menace of terrorism and extremism but also counter agenda of some foreign powers who want to weaken Pakistan. General Pasha proved himself a superb and a role model spymaster as he had necessary experience as DG Military Operations and his professional acumen is acknowledged by the world intelligence community. Therefore, in our view, if for some cogent reasons the Government considers it appropriate to grant him an extension then one should not object to it for the sake of objection. There might be some unaccomplished tasks and otherwise too sensitive military issues should not be debated in public like that.

    http://www.eurasiareview.com/10032012-pakistan-low-profile-officer-to-head-isi-analysis/

  • Last year in September, Admiral Mike Mullen, then chairman joint chiefs of staff, claimed that the Haqqani Network was a “veritable arm” of the ISI. The US has also been suspicious of the ISI’s role in the murder of journalist Saleem Shahzad. Furthermore, relations with the US soured when the agency failed to find the whereabouts of Osama bin Laden, however, one hopes that an attempt will be made to examine this under the new chief.

    Rebuilding the credibility of the ISI will be the general’s toughest task. The intelligence agency’s political activities are currently under scrutiny in the Supreme Court after the judiciary decided to take up Air Marshal (retd)Asghar Khan’s petition against the ISI’s funding of politicians in the 1990s. The US, while sure to breathe a sigh of relief that Pasha was not granted a second extension, will remain wary. Thus, the best start that can be made given the current situation is for the military to ensure that there is no such interference by the agency in the country’s political process.

    http://tribune.com.pk/story/348199/appointment-of-new-isi-chief/

  • Change of command

    Prime Minister Yousaf Raza Gilani has finally put to rest the speculations doing the rounds that the ISI chief, Lt General Ahmed Shuja Pasha may be given another extension by announcing that Lt General Zaheerul Islam, Karachi corps commander, would replace him. Pasha is due to retire on March 18. The new incumbent is no stranger to the ISI, having served as its Deputy Director General. Given the controversies surrounding the premier spy agency in recent years, it is hoped that the incoming commander would return the ISI to its real professional duties, i.e. compiling intelligence for defence, and reverse the trend since long years of the ISI’s involvement in the politics of the country from behind the scenes. As far as the outgoing commander is concerned, his tenure (extended) produced many a controversy, some of which are still ongoing.
    The biggest and most controversial event of General Pasha’s tenure was the discovery and elimination of Osama bin Laden in Abbottabad, within a stone’s throw from the Pakistan Military Academy. The ISI was accused of incompetence or collusion for not exposing the al Qaeda leader’s whereabouts in the garrison city for over five years and its failure to detect the unilateral US raid. After the American SEALs raid had killed Osama bin Laden, an unprecedented session of parliament to look into the whole affair saw Pasha offering to step down, but the parliamentarians never took him up on his offer. Instead, the government set up a commission of inquiry into the episode, which is still in process. No heads rolled after the Abbottabad debacle. The second controversial episode of Pasha’s tenure was the so-called memogate affair, in which Mansoor Ijaz was privileged by Pasha’s surreptitious visit to him in London, following which the ISI and military chief, General Kayani, deposed before the Supreme Court that Ijaz’s allegations had substance. Subsequent developments in the memogate case, particularly the proceedings of the memogate commission, which allowed Ijaz to depose by video link, have so far failed to produce solid evidence substantiating the charges against ex-ambassador to the US Husain Haqqani or indeed, President Asif Ali Zardari. Incidentally, as a sign of Ijaz’s unreliable character, he had written that Pasha had toured some Arab capitals to seek support for a military coup against the democratically elected government.
    When the question of extensions to Generals Pasha and Kayani was first mooted, we took the position that changing horses in midstream when the war against terrorism was at its peak was not a good idea. With hindsight, it is possible to argue that the higher purpose of continuity of command in the middle of a war failed to take account of later developments. The two top commanders who received extensions became controversial after the two events outlined above. Military command extensions have a chequered history in Pakistan. Mostly, these were the result of military dictators self-anointing themselves when in power (Ayub, Zia, Musharraf). What such extensions tend to produce is heartburn within the ranks of those with a legitimate expectancy to succeed the incumbents, and a breakdown of institutional continuity and consolidation of professional mores. These thoughts and an assessment of the events of last year may have weighed against the proposal for another extension for General Pasha. The opposition PML-N’s strong rejection of any such notion, as expressed by Chaudhry Nisar in a press conference the other day, may also have tilted the scales against General Pasha.
    While normal retirement and change in command should now become the norm in the armed forces, it is far from certain that the ISI change in command will in any substantial way alter the present policy, framed by GHQ, to continue to support the Afghan Taliban against the US/NATO forces and the Afghan government, ostensibly while still posing as a strategic ally of the US. Most likely, it is going to be more of the same brew, particularly in the light of the anticipated withdrawal of foreign forces from Afghanistan by 2014.

    http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012%5C03%5C11%5Cstory_11-3-2012_pg3_1

  • Who is happy and who is worried about Pasha’s exit

    Tariq Butt
    Sunday, March 11, 2012

    ISLAMABAD: The Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) has heaved a sigh of relief over the departure of Inter Services Intelligence (ISI) chief Lt Gen (retd) Ahmed Shuja Pasha and boasts of forcing his exit, despite claims of Chaudhry Nisar Ali Khan that President Zardari wanted badly to retain him.

    At the same time, in the heart of hearts Prime Minister Yusuf Raza Gilani is blowing his own trumpet that by using his authority as chief executive he has refused another extension to Pasha, who otherwise was hardly interested in continuing.

    If the PML-N was publicly campaigning against further extension to Pasha and is content over his leaving, Gilani is not less thrilled over the change in what he once openly dubbed as “the state within the state”. Both had no love lost for Pasha in their own way, and had been giving vent to their opposition at the time of their own choosing.

    “Two one-year extensions were more than enough for the spymaster, and there was no need to retain him further because it would have blocked promotions,” a senior PML-N leader told The News on condition of anonymity.

    When the prime minister, cornered by the Memogate scandal, declared a few weeks back that the government’s position would improve, it would surmount crises and the season of rumour-mongering would end in March, he had in mind the key appointment of the chief spymaster and the election to half of the Senate during this month.

    Top PML-N stalwarts especially leader of the opposition in the National Assembly Chaudhry Nisar Ali Khan openly accused Pasha of sponsoring Pakistan Tehrik-e-Insaf (PTI) Chairman Imran Khan and prevailing upon several politicians to join his party, a charge always vehemently denied. The PTI chief says he would quit politics if it were ever proved that he has taken even a single penny from the ISI or other agencies.

    The PML-N became exceptionally panicky after Imran Khan’s Lahore public meeting which sent shutters down its spine. Its nervousness further heightened as hordes of political figures rushed to join Imran Khan’s tsunami. Matching this development, the PML-N paced up its onslaught against Pasha.

    However, there was a strange logic behind claims of certain PML-N leaders during private discussions with this correspondent. The chief” (General Ashfaque Parvez Kayani) “is not behind Imran Khan and it is only Pasha who is promoting him,” one leader told The News.

    It is generally believed by all and sundry that it is beyond question that the ISI director general would do anything in such important matters without an unambiguous nod and consent of the army chief.

    However, according to PML-N sources it is a fact that Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif and Chaudhry Nisar have excellent relations with Kayani and that is why they have frequently met him, openly or quietly.

    The chief minister has always publicly spoken high of the army chief. Chaudhry Nisar is known to have somewhat strained relations with Pasha for different reasons. The two had a tough exchange during the in camera session of the parliament on May 14, 2011 on the US Navy Seals’ raid on Osama bin Laden’s hideout in Abbottabad.

    As the expiration of Pasha’s extension approached and a decision was to be taken on the appointment, Chaudhry Nisar strongly opposed his continuation at least twice in the past four days.

    A PML-N source said this had the approval of the Sharif brothers, who too were convinced that Pasha had been assisting Imran Khan to cut their party to size particularly in Punjab.

    In his powerful public campaign against grant of extension to Pasha by the prime minister, Chaudhry Nisar said that by retaining the incumbent ISI chief President Asif Ali Zardari wants to influence the memo case in the Supreme Court. “Pasha has exhibited clear negligence towards intelligence matters, and after allegations against the government by the ISI on nuclear and other national issues, there was no justification for giving him an extension. If an extension was granted, the PML-N and other opposition parties would decide their future strategy. The issue would not be resolved through compromise and the administrative issue of extension in service could become a political and judicial issue.”

    http://www.thenews.com.pk/Todays-News-2-97150-Who-is-happy-and-who-is-worried-about-Pashas-exit

  • Lt-General (r) Ahmed Shuja Pasha is just about to end what can be described as a roller-coaster career as ISI chief which saw major events including GHQ coming under attack from militants, the Mumbai bombings, the May 2 Abbottabad operation and the Memogate affair. His tenure was surrounded by controversies arising out of these incidents and other matters such as the extension he got in his service along with the one given to Chief of Army Staff Gen Parvez Kayani. History will assign Pasha due credit or deserved blame for his role and responsibility in these and other matters. There are also allegations against him of supporting Imran Khan (which Khan strenuously denies) and creating the Pakistan Defence Council; and there have been constant outcries against alleged atrocities being committed in Balochistan and elsewhere – the Adiala 11 came to symbolise part of a problem our security agencies have been embroiled in for decades but whose intensity has increased manifold of late in the wake of the complexities arising out of Pakistan’s role in the war on terror on one hand and the Balochistan insurgency on the other.

    http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=97110&Cat=8

    ……….

    THE announcement that Lt-Gen Zahir ul Islam is to replace the retiring Lt-Gen Shuja Pasha as ISI chief is a moment to reflect on the future direction of the country’s most famous — some may argue infamous — intelligence agency. Trying to predict the vision and agenda of an ISI chief based on his service record and a few nuggets of information is a fool’s errand and akin to reading tea leaves. But Gen Islam will have several important choices before him when he takes up his new assignment later this month. He could continue the process of disengaging the ISI from a direct and influential role in the political process that, oddly enough, was begun under Gen Pasha. For when the history of Gen Pasha’s service is written, it will likely be acknowledged that his was a tenure of two halves. During his original term in office, Gen Pasha avoided overt meddling in the political process but after his extension was granted, and in particular the last few months of his service which have been embroiled in the ‘memogate’ controversy, the ISI has been perceived to have once again upped its involvement in politics. The allegations surrounding the creation of the Difaa-i-Pakistan Council and sponsorship of the Pakistan Tehrik-i-Insaaf have been particularly damaging.

    So Gen Islam will quickly have to decide if he wants to return to the original, hands-off approach of Gen Pasha or continue with the more intrusive political role that has characterised his last leg in office. The preferred option, at least from the standpoint of what the ISI’s core competence is and what the constitutional democratic order demands, is of course obvious: the ISI should wrap up its political activities and focus on the fight against militancy. With the so-called Afghan endgame likely to be played out on Gen Islam’s watch, with militancy inside Pakistan morphing and still posing a formidable threat, and with Pakistan’s cooperation with the outside world on curbing Islamist militancy likely to continue to be under serious scrutiny, Gen Islam and the agency he will lead have more than enough to contend with without adding domestic political machinations to the mix.

    With the appointment of Gen Islam, perhaps the recent practice of giving extensions in service to certain officers should also come to an end. Extensions are a controversial matter outside the armed services as well as inside, as the outgoing air force chief’s comments indicated. A professional institution with highly qualified and competent officers such as the Pakistan armed forces has no need for indispensables. When it’s time to go, it’s time to go.

    http://www.dawn.com/2012/03/11/way-forward-for-isi.html

  • Pakistani daily sizes up new ISI chief
    March 11, 2012

    Islamabad, (IANS) Intelligence gathering and counter-terrorism are messy jobs and it will have to be seen “how clean the mess can be kept by the new ISI spymaster”, a Pakistani daily said Sunday.

    Lt. Gen. Zaheerul Islam is to succeed Lt. Gen. Ahmed Shuja Pasha who is “just about to end what can be described as a roller-coaster career as ISI chief which saw major events including GHQ coming under attack from militants, the Mumbai bombings, the May 2 Abbottabad operation and the Memogate affair”, an editorial in the News International said.

    The daily said that history will assign Pasha “due credit or deserved blame for his role and responsibility in these and other matters”.

    It said there are allegations of Pash supporting cricketer-turned-politician Imran Khan.

    The editorial noted that the Inter-Services Intelligence (ISI) under Pasha became somewhat open in discussing its policies and plans, especially with the media.

    “He was also perceived to be generally firm while dealing with the CIA, the Pentagon and other US institutions and officials – at times flying in and out of Washington in a matter of hours, just to send the ‘right messages’ and expressing his anger and sometimes protests over events and developments,” it said.

    The editorial went on to say that Pasha’s successor, Lt-Gen Zaheerul Islam, has been described as a competent, honest and straightforward person who brings with him rich experience in the fields of internal security and intelligence.

    “His appointment is being seen by some as critical in the context of the problems Pakistan-US ties have run into, the Afghan situation and the approaching general elections with the institutions of state at loggerheads with each other on many issues.

    “How and why Zaheerul Islam’s appointment should be critical in all these respects remains to be seen…Indeed, the task is not going to be easy; he will have to clear many negative perceptions and, maybe, create a new image for his organisation.

    “And as we know, for images and perceptions to change, we need a change in the reality in which they may be rooted.”

    “Despite the fact that spying, intelligence gathering and counter-terrorism are messy jobs, it will have to be seen how clean the mess can be kept by the new ISI spymaster,” it added.

    http://nvonews.com/2012/03/11/pakistani-daily-sizes-up-new-isi-chief/

  • As expected, ISI’s traditional propagandist and PTI’s informal spokesman steps forward to defend General Pasha.

    http://e.jang.com.pk/03-14-2012/karachi/images/06_06.gif

    میر صاحب زمانہ نازک ہے…ناتمام…ہارون الرشید

    آدمی کی جبلت سب وہی ہے۔ کسی بھی طرح کی ہو، طاقت گمراہ کرتی ہے اور زیادہ طاقت بے حد گمراہ۔ لازم ہے کہ میڈیا کا بھی احتساب ہو۔ نوبت اب یہاں تک آ گئی کہ الزام و دشنام ہے اور پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں۔ دو سو برس ہوتے ہیں، جب دلّی کے شاعر نے کہا تھا #
    میر# صاحب زمانہ نازک ہے
    دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
    ایک سبکدوش فوجی افسر اپنی دستار کیونکر تھامے؟ وہ لکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہے۔ کوئی قصیدہ لکھے یا ہجو۔ جذبات سے مغلوب تحریریں۔ کیا اس کا نام صحافت ہے؟ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے میں نے عرض کیا تھا کہ اپنی داستان اور اپنے مشاہدات وہ خود لکھیں۔ جنرل شجاع پاشا کو بھی مشورہ یہی ہے۔ اخبار میں لکھیں اور کتاب بھی ۔ جنرل نے کہا : لکھنے کا مجھے کوئی تجربہ نہیں لیکن دوگھنٹے کا لیکچر اگر مقصود ہو تو دس منٹ میں ذہن میں اس کے بنیادی نکات وہ مرتب کر لیتے ہیں۔ اور کیا چاہئے؟ ظہیر الدین بابر کا تو اس وقت مجھے خیال نہ آیا، آج بھی جس کی تزک مصنف کی شخصیت کا آئینہ ہے۔ یہ مگر کہا کہ کرنل محمد خان اور تہمینہ درانی کو بھی تحریر کا کوئی تجربہ نہ تھا۔
    جنرل پاشا سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ کبھی ان کے بارے میں تجسس تک پیدا نہ ہوا۔ گزشتہ ایک برس کے دوران، ان کے دفتر نے کئی بار رابطہ کیا لیکن اتفاق سے ہر بار مسافرت۔ رمضان المبارک کی ایک سہ پہر البتہ میں اسلام آباد میں تھا جب پیغام ملا کہ ساڑھے نو بجے ان کے دولت کدے پر پہنچوں۔ میرپور کے لئے پابہ رکاب تھا ؛ چنانچہ کسی قدر تلخی کے ساتھ عرض کیا کہ حضور، ان کاموں کے لئے میں فارغ نہیں ہوتا۔ کم از کم دو دن پہلے آپ کو بتانا ہو گا۔ اس کے بعد فون نہ آیا۔ زاہدانہ بسر کرنے والے ایک فوجی افسر کا پندار یا غیر معمولی مصروفیت؟ اللہ جانے لیکن اب جی چاہتا ہے کہ ملاقات ہو۔ افسوس کہ نقادوں نے انہیں اس انگریز افسر سے جا ملایا جس کی ترجیح نوکری کے سوا کچھ بھی نہ تھی۔ اپنے فرائض کا آدمی اور بس۔ جنرل پاشا پہ کوئی بھی اعتراض ہو سکتا ہے مگر ان کے ذاتی کردار کی نجابت اور پرجوش حب الوطنی پر کبھی کسی کو شبہ نہ تھا۔ اعتراض بجا اور تنقید کا حق ہے مگر شواہد کے ساتھ۔ گالی کیا معنی؟ سب زمانوں میں سب لوگوں نے حاکموں، جنرلوں اور دولت مندوں کو زعم کا شکار بہت دیکھا لیکن اب قلم کار بھی مبتلا ہونے لگے۔ تحریر کا حسن رمز و کنایہ میں ہوتا ہے، دلیل اور حسن بیاں میں۔ صحافت میں کبھی برہنہ گفتم بھی لازم ہوتا ہے مگر اس طرح کبھی نہیں۔ اس طرح کبھی نہیں۔
    پاکستانی فوج آج بھی دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ دو مسائل مگر اسے درپیش ہیں ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ ایک یہ کہ فوجی افسروں میں سے بعض خود کو برتر و بالا سمجھتے ہیں۔ اب برتری کا احساس ایسی چیز ہے کہ پارسا کو بھی لاحق ہو تو برباد کر دے۔رئیس المتغزلین حسرت #موہانی نے کہا تھا
    کچھ بھی حاصل نہ ہوا زہد سے نخوت کے سوا
    شغل بیکار ہیں سب تیری محبت کے سوا
    اسی طرز احساس نے وجیہہ و شکیل فیلڈ مارشل محمد ایوب خان سے لے کر احساس کمتری کے مارے کم رو پرویز مشرف تک کو مارشل لاء نافذ کرنے پر آمادہ کیا۔ ثانیاً ان سیاستدانوں کے علاوہ جن میں سے بعض مرعوب ہو کر کا سہ لیس ہو جاتے اور پھر نفرت میں مبتلا ہو کر گالی بکتے ہیں، بھارت اور امریکہ اس کے دشمن ہیں۔ آزادی کے فوراً بعد جواہر لعل نہرو نے کہا تھا : شبنم کے قطروں کی طرح جو اوّلین کرنوں کی نذر ہو جاتے ہیں، پاکستان تحلیل ہو جائے گا۔ تب سے اب تک بھارتیوں کی تین نسلیں اس امید میں زندہ ہیں۔ قائد اعظم کے بعد کوئی پاکستانی سیاستدان نہیں بلکہ پاک فوج اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ فقط ذوالفقار علی بھٹو ایک استثنیٰ ہیں۔ اپنی تمام خامیوں کے باوجود وہ ایک قوم پرست تھے اور بھارتیوں سے کبھی مرعوب نہ ہوئے۔ اس اثنا میں پاک فوج کی قیادت بھی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتی رہی۔ اس کی صفوں سے یحییٰ خان اور پرویز مشرف ایسے لوگ اٹھے، جنرل نہ ہوتے تو کوئی شریف آدمی اپنے ساتھ کی کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہ دیتا۔ بے شک سیاست میں بھی مولانا فضل الرحمن، زرداری اور نواز شریف پائے جاتے ہیں مگر ایک منظم ادارے میں اس اعلیٰ سطح پر اس قدر سستے آدمی کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ بارہا عرض کیا اور ایمان کی حد تک طالب علم کو یقین ہے کہ جمہوری خطوط پر استوار ، جدید اور منظم سیاسی جماعتوں کے بغیر امن و استحکام کی منزل کبھی حاصل نہ ہو گی۔ ہر سیاسی پارٹی کسی ایک آدمی کی جیب میں پڑی ہے۔ اس پر افتاد اترتی ہے تو خود اس کے ساتھی لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ احسن اقبال نے 12/ اکتوبر 1999ء کی شب بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف کے بارے میں کیا ارشاد کیا تھا؟ وہ آقا بدلنے پر آمادہ تھا اور صلے میں ایک یونیورسٹی مانگتا تھا۔ جنرل ہی نے گوارا نہ کیا۔
    منتخب پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، فقط یہی جمہوریت نہیں۔ جمہوریت قانون کی بالادستی کا نام ہے۔ چھڑی گھمانے کی سبھی کو اجازت ہے لیکن وہاں تک جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔
    کیا کسی بھاڑے کے ٹٹو نے کہا کہ گجر خان میں تحریک انصاف کا جلسہ ناکام ہو گیا؟ یہ اخبار نویسوں کی ایک اور قسم ہے۔ ان کے گھر سے سرکاری گاڑی اٹھا کر انہیں ہوائی اڈے لے جاتی ہے۔ لاہور میں ایک زیادہ بڑی کار منتظر۔ پنج ستارہ ہوٹل میں وہ قیام فرماتے اور انشا پردازی کرتے ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ میں کپتان کو دوسروں سے بہتر قرار دیتا ہوں لیکن اختلاف بھی ڈٹ کر کیا جاتا ہے۔ شوکت خانم میں بھارتی اداکاروں کو گوارا کرنے کا سوال ہو یا سوات اور وزیرستان میں فوجی آپریشن کا، ہماری اپنی رائے اور کپتان کی اپنی رائے۔ گجر خان کے سٹیڈیم میں شاید ہی کبھی کوئی جلسہ کرنے کی جرات کر سکے ۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ سے پانچ گنا بڑا۔ چالیس ہزار آدمی سما سکتے ہیں۔ کرسیاں ہوں تو پوری بیس ہزار۔ ایک انگریزی اخبار کے ہم نام چینل نے اعلان کیا کہ جلسہ شاید ملتوی کر دیاگیا ہے۔ لوگ نہیں آ رہے کہ پرویز اشرف کا حلقہ انتخاب ہے۔ تب ہجوم واقعی نہ تھا ۔اس لئے کہ نماز جمعہ کا وقت تھا۔ رہے پرویز اشرف تو وہ کیا ابراہام لنکن ہیں بلکہ شہر کے سب سے زیادہ ناپسندیدہ آدمی۔ پچھلی بار اس لئے جیتے کہ نون لیگ کے امیدوار پر منشیات فروشی کا الزام تھا (اور اب کی بار اس پارٹی کا لیڈر جعلی ڈگری والا) ۔ پرویز اشرف نے شہر کو ایک سرپرست کے سوا کچھ نہیں دیا جو اس کے سگے بھائی ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں۔
    جلسہ گاہ بھر گئی۔ سب سے زیادہ لوگ عظیم چوہدری کے ساتھ آئے۔ ارب پتی ہونے کے باوجود گلیوں بازاروں میں گھومتا پھرتا وہ ایک سادہ سا آدمی جو کبھی تادیر مسجد میں بیٹھ رہتا ہے۔ ابھرتے ہوئے نوجوان لیڈر چوہدری فخر الزماں مضافات سے ایک بڑا جلوس لائے اور شہر یار بھی۔ ان سے زیادہ مگر ابرار الحق، کچھ راحت قدوسی اور شاہد گیلانی کے ساتھ بھی۔ اکثریت خود آئی اور یہ میلے کا سماں تھا۔ گجر خان کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ۔ سٹیج موزوں مقام پر نہ تھا۔ سامعین کو دقت تھی۔ کچھ لوگ عقبی کرسیوں سے اٹھ کر سامنے جا کھڑے ہوئے۔ جلسہ گاہ کے باہر بھی مگر اتنا ہی ہجوم تھا۔ اس روز پیسہ بے دردی سے خرچ کیا گیا اور کئی اخبار نویس خریدے گئے۔ خلق خدا مگر اندھی نہیں۔ کوئی گجر خان جائے اور پوچھ لے۔ حکمران ہو یا زردار، جنرل یا جرنلسٹ آدمی کی جبلت سب وہی ہے۔ کسی بھی طرح ہو، طاقت گمراہ کر سکتی ہے اور زیادہ طاقت مکمل طور پر گمراہ بھی

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=604510

    Previously General Kayani had explained his position on WikiLeaks via Haroon-ur-Rashid:

    http://criticalppp.com/archives/37523

    Of course, it is the same journo (Haroon Rasheed) who wrote a full book in praise of ISI’s former chief Akhtar Abdur Rehman (Faateh).

    etc

  • Al Qamar Online (an ISI – right-wing rag) in defence of Pasha:

    جنرل پاشا تیرا نام رہے گا
    ٹیگز: dg isi gen ahmed shuja pasha
    راجہ ماجد جاوید علی بھٹی
    Tuesday, March 13, 2012, 13:25

    Print This Post

    ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا پاکستان کے خلاف متحرک دنیا بھر کے سب سے بڑے جاسوسی نیٹورک کے خلاف تاریخی اقدامات اور آئی ایس آئی میں مثالی خدمات انجام دینے کے بعد اٹھارہ مارچ کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ محب وطن اور باخبر پاکستانی یقیناً ان کی کمی محسوس کرینگے لیکن ان کی خدمات کا واضح ثبوت مزید توسیع نہ لینے کے بعد جنرل احمد شجاع پاشا کے الوداع ہونے پر امریکہ اور اس کے پاکستان میں حواریوں کے جشنِ مسرت سے ہورہا ہے۔ امریکی شہریت رکھنے والے بیوی بچوں کے خاندان کے سربراہ چوہدری نثار علی خان نے تو ایک سے زائد مرتبہ ان کی کردار کشی کرنے میں امریکہ سے بھی بازی لے گئے ہیں۔ تاثر یہ دینے کی یہ کوشش کی جارہی ہے جیسے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا توسیع چاہتے تھے مگر نہیں ملی حالانکہ زمینی حقائق آئی ایس آئی اور جنرل احمد شجاع پاشا کے بدخواہوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ حامد میر جو کہ آئی ایس آئی اور فوج کے ساتھ ساتھ احمد شجاع پاشا کے خلاف باقاعدہ ایک مہم جاری و ساری رکھے ہوئے ہےں ان کا کردار اور ایجنڈا کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پروگرام کے بعد ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اگر آپ مجھے غدار سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں۔ بہرحال جنرل احمد شجاع پاشا نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی حکومت کی طرف سے مزید ایک سال کی توسیع کی پیشکش کو خود قبول نہ کیا۔ پہلی مرتبہ جنرل احمد شجاع پاشا کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی توسیع سے متعلق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عوامی سطح پر اعتراف کیا کہ انہوں نے خود جنرل احمد شجاع پاشا کو توسیع دی تھی کیونکہ دوران جنگ جرنیل تبدیل نہیں کئے جاتے۔ 2 مئی 2011ءکو اسامہ بن لادن کے واقعہ کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ازخود مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ریٹائرڈ افسر کے طور پر گھر جانے کو تیار ہیں تاہم ان کی یہ پیشکش پارلیمنٹ نے قبول نہیں کی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے بطور نئے ڈی جی آئی ایس آئی تقرر سے قبل وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو اعتماد میں لیا تھا۔ یہ خبر اخبارات میں شائع بھی ہو چکی ہے۔
    ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا جن کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے پیش نظر طرز گفتگو”خاموشی ہے زباں میری“ کی عکاس ہے لیکن اس خاموش جرنیل نے گزشتہ سال ایک ایسا منہ بولتا کارنامہ کیا تھا جس پر مجھ سمیت تمام عاشقانِ پاکستان عش عش کراٹھے تھے۔ پاکستان کی خوددار اور بیدار قوم امریکی غلامی اور سامراج کےخلاف کسی مجاہدانہ للکار کی منتظر تھی۔ اسلام آباد سمیت پاکستان کے شہروں میں اجرتی قاتلوں کی تنظیم ”بلیک واٹر، ڈائن کور اور ژی XI “ کے نئے ناموں اور سیاہ کاموں سے جانی پہچانی جارہی ہےں لیکن وسوسوں، اندیشوں اور انجانے خوف کے ماحول میں خاموش جرنیل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کامنہ بولتا کارنامہ بریکنگ نیوز کا حصہ بن گیا تھا۔ دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ کی بدنام زمانہ ”سی آئی اے“ کے سربراہ لیون پینٹا سے ملاقات کے موقعہ پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ”سی آئی اے“ کی سرپرستی میں ”را، موساد“ کی پاکستان میں دہشت گردی براستہ افغانستان کے ثبوت ان کے سامنے رکھ دیئے۔ اس جرا¿ت مجاہدانہ پر بلا شک و شبہ ہر پاکستانی کے دل سے جنرل احمد شجاع پاشا کےلئے دعا اور زبان سے ایک ہی نعرہ نکلا ”جنرل پاشا…. تیرا نام رہے گا“ ۔
    اب جبکہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ڈی جی آئی ایس آئی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جرا¿تمندانہ اور دور اندیشانہ اقدام کے طور پر پاکستان میں ”سی آئی اے“ کی مداخلت کے ثبوت اس کے سربراہ لیون پینٹا کو پیش کردیئے تھے تو ضرورت اس بات کی تھی کہ پاکستان کی پہلی دفاعی لائن آئی ایس آئی پاکستان کو سی آئی اے کے ایجنٹوں سے پاک کرنے کے لئے موثر اقدامات کرے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ پاک فوج کو فی الفور یہ ٹارگٹ بھی دےدیا گیا تھا کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے علاوہ اسلام آباد اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے ارد گرد امریکی ”سی آئی اے“ اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ”پڑاﺅ“ اور ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے مطلوبہ اقدامات اور سی آئی اے مقامی ایجنٹوں کےخلاف بھی آپریشن کلین اپ کرکے امریکہ پر واضح کردیا جائے کہ اب کسی غیر دوستانہ مخاصمانہ حکمت عملی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائیگا۔ چنانچہ یہ آپریشن بھی جنرل احمد شجاع پاشا کی قیادت میں آئی ایس آئی نے کامیابی سے انجام دیا۔
    یہ ہماری آزادی، خودمختاری، سلامتی اور اقتدار اعلیٰ کا معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ آئی ایس آئی کو کمزور کرنے کی چند بِکے ہوئے میڈیا اینکرز کی مدد سے امریکی کوششوں کا مقصد بھی سی آئی اے کی اصل اور مکروہ سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا اور اس کی مداخلت سے توجہ ہٹا کر کارروائیاں جاری رکھنا تھا۔
    تاہم ”سی آئی اے“ اس سارے بھیانک کھیل کے باوجود باعث اطمینان یہ بات ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا داستان سرفروشوں کی اور ایمان فروشوں کی پوری تاریخ سے آگاہ بھی ہیں، خود دار بھی ہیں اور بیدار بھی لہٰذا دشمنوں کی چالیں نیتوں کی شکل میں ظاہر تو ہوئیں مگر اللہ کے فضل سے کامیاب نہیں۔
    کہتے ہیں کہ جو قومیں تاریخ بھول جاتی ہیں ان کا جغرافیہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ آج ایٹمی پاکستان اپنے تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان دشمن تمام خفیہ ایجنسیاں اور طاقتیں پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ”آئی ایس آئی “ پر کوئی الزام دھرنے کا موقع خالی نہیں جانے دیتیں۔ پاکستان دشمنوں کے عزائم اور ایجنڈوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی قابل ذکر اور قابل فخر ”آئی ایس آئی“ ہر سطح پر ملک دشمنوں کی آنکھ کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ باقاعدہ فوج تو کبھی کبھی دشمن سے برسرپیکار ہوتی ہے مگر آئی ایس آئی ہمہ وقت اور ہر لمحے دشمن کی سازشوں اور ایجنڈوں حرکات و سکنات اور عزائم پر نہ صرف نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے ناکام بنانے کےلئے مومن کی فراست اور قوت ایمانی سے وہ قابل فخر کردار ادا کررہی ہے جس کا تذکرہ بیانات، اعلانات اور اخبارات کے ذریعے تو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دشمن کی خفیہ کارروائیوں اور منصوبوں کا توڑ نہایت راز داری اور بے مثال حکمت عملی سے ہی کیا جانا چاہئے اور جاتا ہے۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور اس کی حلیف طاقتوں اور خفیہ ایجنسیوں کی پاکستانی آئی ایس آئی کے بارے میں چیخ و پکار اور مذموم پروپیگنڈہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دشمنوں کو کھٹکنے والی آئی ایس آئی جاگ رہی ہے اور ایٹمی پاکستان کے دفاع، اثاثوں اور اساس کی حفاظت کے مقدس فریضے پر مامور آئی ایس آئی کے افسر اور جوان گمنامی میں ہی سرفروشی کی وہ داستان رقم کررہے ہیں جو داستان ایمان فروشوں کی پر ہمیشہ حاوی اور بھاری رہے گی۔
    پاکستانی تاریخ اور آئی ایس آئی کے اس کڑے امتحان میں خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا تاریخ شناس بھی ہیں اور اقبال مند بھی۔ مصنف اور محقق احمد شجاع پاشا اپنوں اور غیروں کی تاریخ اور جغرافیے دونوں سے باخبر بھی ہیں اور نظر بھی رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخ کا علم اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی تعلیمات سے آگاہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قابل ذکر ہی نہیں قابل فخر آئی ایس آئی کو تاریخی کامیابیاں دلائیں جس کے نتیجے میں شکاری کتوں کی طرح پاکستانی ایٹمی اثاثوں کی میپنگ کرنے کے مشن پر مامور سی آئی اے کے ایجنٹ وقت سے پہلے ہی دھر لئے گئے اور ان کے بہت سے مقامی آلہ کار اپنے انجام کو پہنچے

    http://alqamar.info/articles/2012/03/gen-pasha-tera-naam-rahay-ga.html

  • Another ISI agent defends Pasha on an online forum:

    Hamid Mir’s half spoken truth
    Writing about Hamid Mir is pretty exhausting[IMG][/IMG] task because lot many cards on his sleeve and so many masks in use make him one of the most successful jugglers on stage, in front of this already too confused nation. Sensation is our national industry and blind faith is deep embedded in our psyche. It is not surprising that people like Hamid Mir are hot commodity we long for. He refers to undisclosed sources at times to make his words credible, this magician sings for Osama Bin Laden on one hand and confides with US Ambassadors on the other. He likes high spirit of COAS but annoyed with ISI chief who happens to be part of COAS team on national security.

    Not surprising to see his latest article in Daily Jang where he exposed his inner self. It is worth having another look to gauge his credentials. We know though that being staunch supporter of SAFMA, his desired view on Pakistani system of governance, his lust for Pakistan being laid to Indian designs and his allegiance with secularists is proven time and again.

    Hamid Mir begins with Shuja Pasha leaving with broken heart for not being able to complete his AGENDA… and he explains that agenda was replacement of Parliamentary system with Presidential one. He adds that cession of East Pakistan was caused by Presidential system.
    It is impractical to assume that Hamid Mir is not an informed person. He is but more to that he is a dishonest intellectual too. He cunningly hides too many facts to chisel down Pasha’s personality in main frame. Looking at the performance sheet, style and vision of Pakistani rulers from Ayub Khan to Asif Zardari we find that all rulers, civilian or in uniform chose dictatorial style, shared values of plunder, deception and manipulation, strengthened feudal mindset and left legacy of betrayal behind.

    More to that, surprisingly enough civilians made cracks wider in national fabric. Ayub Khan is blamed for cession of East Pakistan, assuming his vision of a stronger centre but why do we forget that his BD system was appropriate approach for grass root level participation in his time. If it was presidential system to cripple Pakistan, why our seasoned parliamentarians are failing to reach Baloch people for dialogue today ? Why people welcomed Sufi Mohammad as better alternative in Swat and why Karachi is a lawless state within Pakistan ? If parliamentary system was ideal, why Bhutto was restless to inject new clauses in constitution soon after approval of new constitution by National Assembly and he called a British expert to formulate a parliamentarian constitutional skeleton with presidential head ? Hamid Mir will not talk over it because in the name of General Pasha, whole security apparatus is to be discredited with ghostly propaganda.

    Pakistan’s ruling class has turned Pakistan into a salt mine. Presidential or parliamentary system, result remains the same except that in parliamentary system the corruption can be institutionalized by making all assembly members ministers and advisors as in Balochistan, with huge perks, plunderers favor this system as it accommodates all types of corruption in different forms. This system is best because it allows auction of senate seats and buy votes in National Assembly. Minister and advisor brigades are large in numbers capable to blackmail the executive at blink of the eye. So, if ever General Pasha as ISI chief showed his resentment over poor quality leadership, was he mistaken or professionally crossing the line?

    I do not think so. Ethically speaking, Pasha’s frank views shared with media persons were in private and represented overall hopelessness of majority of Pakistanis. We are all sick of business of politics in its current shape, harbored by scavengers. ISI’s scope of work is security of state and that includes geographical, physical, military, financial and food security. Down slide in a single sphere impacts overall security. If he ever worried about certain situation, what else he was supposed to do ? Hamid Mir expected him to behave like Sharmila Farooqi or Babar Awan ?

    If Hamid Mir sensed danger for our democratic values in words by General Pasha, that is appreciated but what democratic values? Civilian performance sheet shows a continuous downslide. Can he mention a single leader with a vision? can he quote a single politician with sustained political lineage or ideology ? They have behaved like restless toads jumping from pond to pond without exception. How about their cooperative union injecting dictatorial powers for party leader into constitution? is that way forward for democratic values? Don’t know who coined this phrase to befool us that more democracy is solution to bad democracy. Are we selling dictatorship without uniform as democracy ? Does question arise for growth of something non-existent? Pakistan is twitching over gushing wind of fate in ugliest form where a common person is not treated equally even in places like a court where all are supposed to be equal. Zardari, Gilani, Nawaz Sharif and Babar Awan are practically taller than laws and Supreme Court looks exhausted chasing them. But a civil magistrate can simply spoil my life with a wrong judgment because the road to correction is too long to afford for weak and without resources. Civility, justice, equality and accountability come before democracy which are missing here.

    Problem with people like Hamid Mir is that they are always scared of any force watching the naked dance of political hooligans with serious concern because exploiters with shutters down, trumpets like Hamid Mir vanish into thin air.. Parliamentary system in Pakistan has opened enormous channels of paid-up information and they thrive interdependently. Will Hamid Mir’s beloved politicians hire railway from Japan if Indian threat comes over ? Our railway is slurped by Haji Billour as part of parliamentary alliance MOUs.

    General Pasha would have assured Americans for restoration of NATO supplies but the same was assured by Gilani and Hina Rabbani as well. What else could be said to Americans ? But Hamid Mir tried to paint Pasha as siding with US interests while playing adversely inside Pakistan. Indeed it proved Pasha to be positively playing Pakistani line ? He assured US whatever but they were unsatisfied with his actual role in decision making process. He disappointed them.

    Hamid Mir should be appreciated for writing some golden words too. He blamed Pasha for certain mentality which serves interests of few people but defames institutions. I wonder what he would say about his masters who adopted advanced approach and destroyed all institutions to serve a few people. They are not in uniform so eternally innocent in Hamid’s game of words but uniform can not be pardoned as it is one of targets of SAFMA, Hamid Mir’s cradle of wisdom. As a loyal SAFMA cuckoo, he cries for blunders in uniform but keeps silent about civilians as usual.

    He mentions the lies by military leadership about situation on the ground before fall of Dacca, but he does not explain why Bhutto and others forced Yehya Khan to postpone the first session of newly elected National Assembly, he is not surprised why Bhutto hushed up findings of Hamoud-ur-Rehman commission. Findings of the commission were “ General Yahya Khan, General Abdul Hamid Khan, Lt. Gen. S.G.M.M. Pirzada, Lt. Gen. Gul Hasan, Maj. Gen. Umar and Maj. Gen. Mitha should be publicly tried for being party to a criminal conspiracy to illegally usurp power from F.M. Mohammad Ayub Khan, if necessary by the use of force. In furtherance of their common purpose they did actually try to influence political parties by threats, inducements and even bribes to support their designs both for bringing about a particular kind of result during the elections of 1970, and later persuading some of the political parties and the elected members of the National Assembly to refuse to attend the session of the National Assembly scheduled to be held at Dhaka on the 3rd of March, 1971. They, furthermore, in agreement with each other brought about a situation in East Pakistan which led to a civil disobedience movement, armed revolt by the Awami League and subsequently to the surrender of our troops in East Pakistan and the dismemberment of Pakistan: Do we need more to locate the actual traitors ?

    Hamid Mir quotes 11 years rule of General Zia but holds back the similarities among both. Zia vs Bhutto saga explains psyche of Pakistanis. Both camps enjoy reasonable support, both take lead from US, even Zia and Bhutto played equally Mechiavillian game hypocratically, serving their self interests, crushing opponents mercilessly. By no standard historian can term civilian rulers pious and generals as devils in Pakistan as both have proved to be sides of the same coin.

    Hamid Mir complains about policies of Pervez Musharraf and drone attacks but fails to deplore Zardari for continuing the same policies and sharing power with PML-Q, the rug for Musharraf.
    Hamid Mir has been a disputed figure in Pakistani media but his article about General Pasha has exposed him to the core, leaving aside all sensitivities and care he sounds hissing like an injoured snake. In the Pakistan of today when politicians talk of justice, rights, jobs and rule of law, it stinks. If Pasha was a road block in the way of SAFMA, I do not expect any good news from new ISI chief for Hamid Mir or SAFMA either.

    Last edited by Altaf Lutfi; Yesterday at 02:48 PM.

    http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?106914-Hamid-Mir-s-half-spoken-truth

  • hahahahaha… mir tu tau “mir” hi nikla… “mir Jafar”
    and prayers for all those who are felling for his nani ammas(bed time) type stories

    ISI is a protector of our country and serving us a long time. We are proud of you Gen Pasha and so as on ISI. hope your successor will do the same. You were a General with strength of character and moral courage.
    Listen everyone , he hold the nation integrity and its independence , don’t forget he is defending a country in internal matters as well as on the borders , he has done all this for a country with no economic stability, buried under debts, buried under the unjustified International treaties, working with a huge army with tight budget, a country which have to defend on air,land (both east & west borders) and seas .
    with the given circumstances and PAK position globally, he has done a commendable job , Pakistanis salute him.

  • Hamid Mir’s warning to Haroon-ur-Rasheed

    گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ٹی وی ٹاک شوز میں خفیہ اداروں کے کردار پر اٹھائے جانے والے سوالات پر اظہار ناپسندیدگی کیا اور کہا کہ بھارت اور اسرائیل میں خفیہ اداروں پر ایسی تنقید نہیں ہوتی۔ جنرل صاحب نے کہا کہ اس تنقید سے سرحدوں کا دفاع کرنے والے جوانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

    آرمی چیف کے اس بیان کے بعد خفیہ اداروں کے سربراہان کی مدح میں کتابیں تحریر کرنے والے ایک صاحب دھونس اور دھمکی پر اتر آئے۔ اوقات ان کی صرف اتنی ہے کہ لاہور کے تین سینئر کالم نویسوں کو ساتھ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دربار میں پہنچتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداری بھی کرتے ہیں اور راوی کے پار ایک ہاؤسنگ سکیم بنا رہے ہیں۔ موصوف نے کمال ڈھٹائی سے تقاضا کیا ان کی سکیم میں سرکاری خزانے سے ترقیاتی کام کئے جائیں تاکہ زمین کی قیمت میں اضافہ ہو جائے۔ میرٹ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیر اعلیٰ صاحب نے فوری طور پر سنیٹر پرویز رشید کو حکم دیا کہ سرکاری خزانے سے ٹھیکیدار صاحب کا کام کر دیا جائے۔ کام شروع ہو گیا تو تقاضے بڑھ گئے۔ سنیٹر صاحب نے مجبوریوں کا اظہار کیا تو ٹھیکیدار نے اپنے قلم کو ڈنڈا بنا لیا اور اپنی ناتمام خواہشوں کی تکمیل نہ ہونے پر پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ بنا ڈالی۔ غلط کاموں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے کالم نویس اور ٹھیکیدار میں فرق نہیں سمجھا لہٰذا اب بھگتیں لیکن جناب ہمارا اوڑھنا بچھونا صرف صحافت ہے۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا اور جو جنرل احمد شجاع پاشا یا جنرل کیانی کی خوشنودی کے لئے ہمیں بھارت و اسرائیل کا ایجنٹ کہے گا ہم اسے بتائیں گے کہ وہ راولپنڈی کے کس علاقے کے کس گھر میں کس کس کے ساتھ آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کو کس کس حالت میں ملتا رہا؟ منافقوں سے پہلے کبھی ڈرے تھے نہ آئندہ کبھی ڈریں گے۔

    چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اگلے دن لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں آئی ایس آئی کے وکیل کو بالکل ٹھیک کہا کہ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن قانون شکنی کی اجازت نہیں دے سکتے بتایا جائے کہ خفیہ اداروں کی تحویل میں تین نوجوان کیسے مارے گئے؟ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ جرنیل صاحبان سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی قربانیوں کی آڑ لینے کی کوشش نہ کریں۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ ٹھیک ہے 1990ء میں یونس حبیب نے جو کیا اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں لیکن 2012ء میں خفیہ اداروں کی تحویل میں لوگ کیسے مارے جا رہے ہیں؟ سپریم کورٹ آپ کے وکیلوں کے دعوؤں کو سچ تسلیم کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں؟ کیا آپ اور آپ کے خوشامدی ہمارے چیف جسٹس کو بھی انہی القابات سے نوازنے کی ہمت رکھتے ہیں جو ہمیں دیئے جا رہے ہیں؟ ہم تو وہی پوچھ رہے ہیں جو چیف جسٹس صاحب نے پوچھا!

    http://jang.com.pk/jang/mar2012-daily/19-03-2012/col4.htm

  • The article is full of accusations without any proof. I think it is just a perception based negative minded piece of journalism

  • General Pasha is a brave soldier who faced tough challenges throughout his career with bravery and perseverance. The article appears to be seriously biased against Pasha, I think the easiest thing in the world is to criticize someone, that’s what writer has resorted to.

  • Please be aware that many Indians are masquerading as Pakistanis or adopting Muslim handles to post on websites. They spew poison against Pakistan Army and its retirees. RAW has a wing which does nothing but post such comments. Its part of PSYCHOPS.

  • That is very fascinating, You are an overly professional blogger. I have joined your feed and sit up for in the hunt for extra of your magnificent post. Additionally, I’ve shared your website in my social networks