Original Articles

‘Ghairatmand Brigade’ in a dying situation -by Imam Bakhsh

غیرتمند بریگیڈ کیفیت مرگ میں!

تحریر: امام بخش

ایک انتہائی بااعتماد ذرائع نے ”غیرتمند بریگیڈ” کی ایک حالیہ محفل کا آنکھوں دیکھا ”منطقی” حال بیان کیا ہے۔ جو کچھ یوں ہے۔

محفل میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور سارے ”غیرتمند” حیران و پریشان ہیں۔ کہ کیسے ماضی میں ان کے فرمانوں سے حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی تھیں۔ مگر اب اکیلے آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کے فرمانوں کی مسلسل مٹی پلید کر رہے ہیں اوران کی لائف ٹائم مالک مطلق اسٹیبلیشمنٹ کا زور توڑ کر بلکہ اسے مشکل میں ڈال کر پاکستان کی شبیہہ تک بدل رہے ہیں۔ سب ”عقل کل” یہی سوچ رہے ہیں کہ ان کے اندازوں کے برعکس یہ کیوںکر ہوا اور کیسے ہوا؟

عدالت سے قبل فیصلے سنانے والے ”مومن صفت” باکمال شخصیت جو اپنے تجزیے کو خبر کے لبادے میں لپیٹ کر اخبار کے پہلے صفحے پرجلی حروف میں چھاپنے کےعادی ہیں۔ ان کو بار بار غشی کے شدید دورے پڑ رہے ہیں۔

واشنگٹن سے آئے ہوئے ایک صاحب )جو اپنی پسند کی سفارتکاری نہ ملنے کے بعد امریکہ میں بیٹھے ہوئے دہا ئی ڈالنے کے عادی ہیں (دکھیارے ہو کران الفاظ میں گلہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ واجاں ماریاں بلایا کائی وار میں، کسے نے میری گل نا سڑنیں، اوئے واجاں ماریاں۔۔۔۔۔

ایک بزرگ اپنے رعشہ زدہ ہاتھوں کو بے یقیںی صورت میں دانتوں سے بار بار کاٹنے کی کوشش میں اپنی نقلی بتیسی کے پرزے فرش پر بکھیرے بیٹھے ہیں۔ اور اپنے ہونٹوں کو پورے زور سے بھینچتے ہوئے ہیں۔ شائد وہ اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس سے پچھلی بار بھی بے اختیاری میں ”مرد حر” کا لفظ نکل گیا تھا۔

اس تیز رفتار زمانے میں کل تک کے ایک چوھدری صاحب نے اپنے کوٹ کی جیبوں میں ”جاتی عمرہ” سے آئے ہوئے لفافے اڑیسے ہوئے ہیں اور اپنے سمارٹ فون پر گوگل اور ویکیپیڈیا سے کہانیاں ڈھونڈ رہے ہیں جن کا وہ مکسچر بنا کر روزی ”حلال” کرنا چا ہتے ہیں۔

پاکستان کے ”خود ساختہ گورکن ” اپنے پوپلے منہ کو لٹکائے اس انہونی پر پریشان بیٹھے ہیں۔ یہ صاحب رات کے۱۰ بجے سے لے کر اا بجے تک ایک ٹی وی چینل پر شو کرتے ہیں اور اپنے طور پر پاکستان کو روز دفن کر کے سوتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کو اپنے شو کا نام تھوڑا سا تبدیل کر کے ”آج پاکستان کے خود ساختہ گورکن کے ساتھ” رکھنا چاہیے ۔

بیچارے غیر سیاسی باتیں کرنے والے بزرگ بھی کونے میں ایک فریم شدہ تصویر کو سینے سے لگائے خود غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ یہ تصویر وہ اپنے ڈرائینگ روم سے اٹھا کر لائے ہیں۔ جو انھوں نے ”بھلے وقتوں” میں اپنے مربی ”مردمومن” کے ساتھ کھنیچوائی تھی۔

صدر تارڑ کے دور میں پریزیڈنٹ ہاوس کی لذتیں لوٹنے والے صاحب ان لذتوں کے فراق میں اپنے شل ہاتھوں کے ساتھ دکھیاری بیوہ کی طرح اپنا سر نہوڑائے بیٹھے ہیں۔

باقی ”غیرتمند” طبلچی مثلا پیسہ وافر، حاذق بٹ، بٹ، مکھڑا نورانی، اشتہاری ما لک اور ڈاکٹر ششدر محمود بیٹھے سینہ کوبی کر رہے ہیں۔ ہا ئے پیپلز پارٹی، ہا ئے زرداری، ہا ئے پیپلز پارٹی، ہا ئے زرداری۔

اپنے مطابق خودکش بمبار بیچارہ ڈاکٹر قیامت ہال کے باہراونچی آواز میں چیخیں مار رہا ہے اور اندر آنے کے لیے دروازے پربار بار ٹکریں مار رہا ہے مگر ”غیرتمند بریگیڈ” اسے اندر آنے کی اجازت اور اپنی برادری میں شامل کرنے سے انکاری ہیں۔

ایک مسٹر پی نامی بندر بھی شامل محفل ہے جو دنیا بھر میں لا حاصل اچھل کود اور دوڑ دھوپ کے بعد پڑا ہوا ہانپ رہا ہے۔

عمروعیار اپنی قابل بھروسہ ”عدل وانصاف” نامی زنبیل کے ساتھ موجود ہیں اور چائے پینے کے ساتھ ساتھ پیالی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ساتھیوں پریشان مت ہوں میں اپنی زنبیل سے کوئی نہ کوئی باکمال نسخہ نکال کر پیالی میں ایسا طوفان برپا کروں گا کہ جس کا نتیجہ صرف اور صرف ”بنگلا دیش ماڈل” ہو گا۔ آپ نے صرف اپنے طبلے والہانہ انداز میں بجانے ہیں اور آپ کے حواریوں کی دھمال متاثر کن اور با کمال ہونی چاہیے ۔

آئی جے آئی کا خالق کمانڈر اپنی ”تازہ دم” کمک لے کر ایک مشہور زمانہ گھنٹی )شیدا ٹلی ( کی ٹن ٹن کی جھنکار کے ساتھ ”غیرتمند بریگیڈ” کی مدد کو آ پہچا ہے۔ اپنی اور اپنے حواریوں کی خودساختہ حب الوطنی، ایمانی طاقت اور کارناموں کا خوب پرچار کر رہا ہے۔ مگر ”غیرتمند بریگیڈ” کی کیفیت مرگ برقرار ہے کیونکہ اسے بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ساری ںئی کمک استمال شدہ کچرے کے ڈھیر سے اٹھائی گئ ہے۔

About the author

Jehangir Hafsi

7 Comments

Click here to post a comment
  • بات تو آپ کی دل کو لگتی ہے پر وہ میاں محمد بخش نے کیا خوب فرمایا ہے کہ “دشمن مرے تے خوشی نہ کرئے”

  • دل تو کر رہا ہے امام بھائی کہ شوبآذ شر یف کی طرح جنگ کے فرنٹ پیج پر اسکو پرنٹ کرواؤں … اور ایک ایک کاپی ان نام نہاد غیرت مند فلسفیوں کے گھروں پر چھوڑ دوں …. مآشآاللہ بہت خوبصورت آغاز ہے ……

  • Excellent satire Imam Buksh. It seems more like a Jang Group editorial board meeting 🙂
    These guys will have to do an Ayat-e-Kareema ka khatam!

  • ڈاکٹرعبد الراوف بھائی! آپ کا تبصرہ میرے پورے آرٹیکل پر بھاری ہے