Original Articles Urdu Articles

Saleem Safi defends banned sectarian terrorists

سلیم صافی پاکستان کے ان صحافیوں میں سے ہیں جن کے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طالب علمی کے زمانے سے گہرے تعلقات رہے ہیں – زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمیعت طلبا میں شامل ر ہے سی آئ اے، آئ ایس آئ اور سعودی عرب کے ایجاد کردہ نام نہاد جہاد افغانستان میں شامل ہو کر افغانستان جا پنہچے اور بے گناہ افغانوں کے خون میں اپنے ہاتھ تر کیے –

امریکہ پر القائدہ کے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے تو اپنا ناطہ توڑ لیا لیکن فوجی اسٹبلشمنٹ ، خاص طور پر آئ ایس آئی سے اپنے روابط کو مستحکم رکھا –

یہی وجہ ہے کہ آج اگر کسی نے پاکستان کی فوج کی خفیہ پالیسیوں کا اندازہ کرنا ہو تو اس کے لیے سلیم صافی اور ان کی طرح کے دوسرے آئ ایس آئی یافتہ صحافیوں کا مطالعہ کافی ہے – اس طرح کےدیگر صحافیوں میں رحیم الله یوسف زئی، ہارون رشید، جاوید چودھری، مبشر لقمان، انصار عباسی، مجیب الرحمان شامی وغیرہ شامل ہیں انگریزی میڈیا میں اس طرح کے آئ ایس یافتگان میں اعجاز حیدر ، نجم سیٹھی ، موید پیرزادہ، طلعت حسین، نسیم زہرہ ، مشرف زیدی اور سایرل المیدہ کے نام آتے ہیں –

آجکل دفاع پاکستان کانفرنسوں کا شور غوغا ہے سب اہل نظر جانتے ہیں کہ دفاع پاکستان کا کاروبار آئی ایس آئ کا شروع کردہ ہے جس میں آئ ایس آئ کی حمایت یافتہ جہادی فرقہ وارانہ جماعتیں سپاہ صحابہ ، جماعت الدعوه ، پاکستان تحریک انصاف ، عجاز الحق ، جنرل حمید گل، سمیع الحق وغیرہ شریک ہیں –

آئ ایس آئ کے ہمدرد صحافی آج کل دفاع پاکستان کونسل کی شان میں قصیدے لکھ رہے ہیں اور ان قصیدوں کی آڑ میں در اصل مذہبی فرقہ واریت پھیلانے والی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے عوام کے لئے قبل قبل بنانا چاہتے ہیں – جنگ اخبار میں گیارہ فروری کو شایع ہونے والا سلیم صافی کا مضمون بھی اسی مقصد کے لئے لکھ گیا ہے جس میں صافی صاحب نے پاکستان کے سب سے متشدد گروپ سپاہ صحابہ کی صفائی پیش کی ہے – چند اقتباسات حاضر خدمات ہیں –

یوں ہر پاکستانی کا حق ہے کہ وہ اس کے وجود اورکردار سے متعلق سوال اٹھائے لیکن جس بنیاد پر اس کے خلاف رحمن ملک اور میڈیا کے بعض حلقوں نے شور اٹھا رکھا ہے‘ وہ نہایت لغو اور فضول ہے ۔ ان کو اعتراض ہے کہ بعض کالعدم تنظیمیں دوسرے ناموں سے دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے متحرک ہوگئی ہیں‘ اس لئے اس کونسل کا راستہ روک دینا چاہئے حالانکہ میرے نزدیک اس کونسل کی واحد خوبی یہ ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم میں لا اور ان تنظیموں کے رہنماؤں کو شیخ رشید احمد اور اعجاز الحق جیسے پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ رہنے والے سیاستدانوں کے ساتھ بٹھا رہی ہے ۔
جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے‘ ان میں تین قسم کی تنظیمیں شامل ہیں۔ جہادی تنظیمیں فرقہ وارانہ تنظیمیں اور علیحدگی پسند قوم پرست تنظیمیں۔ اب کوئی جہادی تنظیم ایسی نہیں ہے جس نے بحیثیت تنظیم پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہو۔ تقریباً تمام تنظیموں کے رہنما گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں رہے، ان میں سے بعض جیلوں میں بھی رہے اور عدالتوں کا بھی سامنا کیا لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ لال مسجد کا واقعہ ہو یا جی ایچ کیو پر حملے کا‘ ہر موقع پر ان تنظیموں کے رہنماؤں نے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔ اگر جیش محمد ‘ حرکة الانصار یا کسی اور جہادی تنظیم کے بعض وابستگان القاعدہ کے ساتھ منسلک ہوکر ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کے مرتکب ہوئے ہیں تو اس طرح تو جماعت اسلامی اور جے یو آئی جیسی تنظیموں سے بھی بعض لوگ ٹوٹ کر وزیرستان منتقل ہوگئے ہیں یا پھر پیپلزپارٹی‘ ایم کیوایم اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے بعض وابستگان بھی سنگین جرائم کے مرتکب قرار پائے ہیں۔ اگر یہاں چند افراد کی غلطی کی سزا پوری تنظیم کو نہیں دی جارہی ہے تو پھر جہادی تنظیموں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ جہاں تک فرقہ وارانہ تنظیموں کا تعلق ہے تو یہاں پر بھی سپاہ صحابہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ جس طرح سپاہ صحابہ کے وابستگان نے نئے نام سے کام کا آغاز کردیا ہے‘ اسی طرح تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بھی نئے نام سے متحرک ہے جو متحدہ مجلس عمل اور اس کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومت کا بھی حصہ رہی ۔ اب اگر وہ قابل اعتراض نہیں تو پھر سپاہ صحابہ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ اگر ایسا ہوتا کہ ملک میں مسلک اور فرقے کی بنیاد پر تنظیم سازی کی اجازت ہی نہ ہوتی تو پھر سپاہ صحابہ کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی لیکن اگر اس وقت بھی ملک میں فرقے اور مسلک کی بنیاد پر ہزاروں تنظیمیں سرگرم عمل ہیں تو پھر صرف ایک تنظیم نشانہ کیوں؟ رہ گئی بات بی ایل اے جیسی تنظیموں کی‘ تو تماشہ یہ ہے کہ جو لبرل عناصر جہادی اور دینی تنظیموں کی سرگرمیوں پر معترض ہیں‘ وہ بھی یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بلوچ تنظیموں کو مذاکرات کے ذریعے راضی کرلیا جائے۔ میں خود بھی ان لوگوں کا ہمنوا ہوں اور اپنا بھی یہ مطالبہ ہے کہ طاقت کے استعمال کی بجائے سیاست اور مذاکرات کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو راضی کرکے مین اسٹریم کا حصہ بنا لیا جائے لیکن اپنا مطالبہ یوں مختلف ہوجاتا ہے کہ میں اس فراخدالی کا مظاہرہ جہادی اور دینی تنظیموں تک دراز کرنا چاہتا ہوں لیکن بعض لوگ ایک طبقے سے متعلق فراخدلی اور دوسرے سے متعلق تنگ نظری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
اگر جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی کا مثبت نتیجہ نکلا ہوتا تو میں بھی اس کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہوتا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نام نہاد پابندی سے انتہاپسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور کسی طرح کی بہتری سامنے نہیں آئی۔ وجہ صاف ظاہر ہے، جب آپ کسی کو آزادانہ طور پر سیاسی طریقے سے رائے کے اظہار اور اپنے نظریات کے پرچار کا موقع نہیں دیں گے تو پھر وہ دوسرے راستوں کی طرف جائے گا۔ اگر ان تنظیموں کے قائدین کو آزادانہ طور پر سیاست کرنے دی جائے گی تو وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی طرف جانے والے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ منسلک رکھ کر مین اسٹریم میں لائیں گے لیکن جب ان کے پاس پُرامن سرگرمیوں کے لئے پلیٹ فارم نہیں ہوگا تو ان کے باقی ماندہ کارکن بھی تشدد کی طرف جائیں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کے بعض قوم پرست کابل میں بیٹھ کر پاکستان بم بھجوایا کرتے تھے لیکن جب ان لوگوں کو مین اسٹریم میں آنے کا موقع دیا گیا تو آج وہ پُرامن جماعتیں تصور کی جاتی ہیں۔ اگر جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے بعض لوگ تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں تو یہی کام کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کے زیرسایہ الذولفقار تنظیم نے بھی کیا اور یہی پارٹی آج حکومت کررہی ہے۔ ایم کیوایم پر بھی تشدد کا الزام ہے لیکن جوں جوں ایم کیوایم مین اسٹریم میں آرہی ہے توں توں اس کے تشدد کا پہلو مدہم ہوتا جارہا ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ آزمودہ نسخہ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے متعلق کیوں نہیں آزمایا جاتا اور انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟جیش محمد‘ حرکة الانصار اور البدر مجاہدین جیسی جہادی تنظیموں کا معاملہ تو یوں بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ان کے وابستگان کو ہمارے ریاستی اداروں نے بالاتفاق اس کام پر لگایا۔ انہیں مراعات بھی ملتی رہیں اور شاباش بھی دی جاتی رہی۔ آج بھی کہیں نہ کہیں ان لوگوں سے بوقت ضرورت ملک کے وسیع تر مفاد میں کام لیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف پابندیاں لگا کر ان لوگوں کو خواہ مخواہ تشدد پر ابھارا جاتا ہے۔ یہ ملک سب کا ہے، بہتر یہی ہوگا کہ سب شہریوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے ۔ تمام کالعدم جہادی اور دینی جماعتوں پر پابندی ختم کردی جائے، سب کو عام معافی دی جائے۔ سب پر یکساں طور پر لاگو قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا جائے پھر جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے ‘ اسے سزا دی جائے اور جو لوگ قانون کا احترام کریں وہ کسی بھی جماعت یا پس منظر کے حامل ہوں‘ ان کو اپنی مرضی کے مطابق سیاسی اور دعوتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ افغانستان کا نقشہ بدلنے کو ہے، امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے اور دو تین سال بعد خطے کی حرکیات یکسر بدل گئی ہوں گی ۔ اس نئی بساط کے بچھنے سے قبل ضروری ہے کہ ہم بھی داخلی محاذ کی طرف توجہ دیں اور پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ ریاست سے باغی عناصر کو عام معافی اور ان کی تنظیموں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ سخت قوانین بناکر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس کے بعد کوئی خلاف قانون کام کرے تو اسے سخت سزا دی جائے ۔ اگر قومی دولت لوٹنے والوں اور ہزاروں انسانوں کو قتل کرنے والوں کو ”این آراو“ کے تحت نہ صرف معافی مل سکتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بھی بن سکتے ہیں تو پھر جہادی اور دینی تنظیموں کے بارے میں ایک اور این آر او کیوں جاری نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اول الذکر لوگوں نے جو کچھ بھی کیا بدنیتی کی بنیاد پر کیا جبکہ موخرالذکر لوگوں کا کام جتنا نقصان دہ ہے ‘ شایداتنا ہی ان کی نیت نیک ہو۔

اپنے اس کالم میں صافی صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

سپاہ صحابہ اور دیگر جہادی فرقہ وارانہ جماعتوں کا کام جتنا نقصان دہ ہے اتنی ان کی نیت نیک ہے – اس اعتبار سے جتنے جس لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ کے دہشت گرد نے بریلوی، شیعہ ، احمدی یا مسیحی قتل کیے ہیں اتنا ہی اس کو نیک نیتی کا ثواب مل رہا ہو گا – کیا کہنے ہیں دہشت گردی کی حمایت اور اس کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا اسے ہی کہتے ہیں –

سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے اپنے جائز حقوق کے لیے لڑنے والے بلوچ نوجوانوں سے کیا موازنہ – بلوچ حریت پسند پاکستان کی فوج سے لڑ رہے ہیں جبکہ سپاہ صحابہ کے دہشت گرد پاکستان کے طول و عرض میں بے گناہ شیعہ مسلمانوں کا قتل ام کر رہے ہیں –

سلیم صافی صاحب نے اس بات کو مکمل طور پر بھلا دیا کہ سپاہ صحابہ کا نشانہ کوئی خاص تنظیم تحریک جعفریہ وغیرہ نہیں بلکہ تمام شیعہ مسلمان ان کے نشانے پر ہیں ان کا شیعہ کافر کا نعرہ پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے ہر شیعہ کے خلاف نفرت کا اعلان ہے جس پر عملدرآمد سپاہ صحابہ کے دہشت گرد بے گناہ شیعوں کو قتل کر کے انجام دیتے ہیں –

سلیم صافی صاحب نے بد دیانتی سے کام لیتے ہوۓ سپاہ صحابہ کا موازنہ شیعہ مسلمانوں سے کیا ہے – پاکستان کے سنی مسلمانوں کی اکثریت بشمول بریلوی، دیوبندی اور وہابی مسلمان سپاہ صحابہ کی پر تشدد اور نفرت انگیز کار وائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں – سپاہ صحابہ کسی مذہب یا فرقے کی نمایندہ نہیں ہے – بریلویوں کی تمام جماعتیں سپاہ صحابہ کو دہشت گرد سمجھتی ہیں – دیوبندیوں کی سب سے بڑی جماعت جمیعت علما اسلام فضل الرحمان گروپ نے سپاہ صحابہ کو ہمیشہ رد کیا ہے – اہلحدیث ان کو اپنے سات منسلک کرنا گوارا نہیں کرتے – سپاہ صحابہ دہشت گردوں کا کسی مسلک یا مذھب سے کوئی تعلق نہیں –

سپاہ صحابہ اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان تشدد کا موازنہ بد دیانتی پر مبنی ہے – یہ ایسا ہی ہے جسے ہم اسرایل کے جنگی جرائم کا موازنہ فلسطینیوں کو تشدد سے کرنا شروع کر دیں یا کشمیر میں حریت پسندوں کے تشدد کا موازنہ بھارت کی جارحیت سے کریں – تشدد ہر طرح کا قبل مذمت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے پچھلے تیس سال سے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے جس کی ذمہ دار صرف اور صرف سپاہ صحابہ اور اس کے پیچھے موجود پاکستان کے فوجی خفیہ ادارے ہیں –

آپ نے شیعہ مسلمانوں کو سپاہ صحابہ کے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کر کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اسی روایتی پالیسی کی ترجمانی کی، جس میں وہ نام نہاد توازن اور برابری کا فارمولا قائم کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو اسلام پرستوں کے ساتھ، دہشتگردوں کو امن پسندوں کے ساتھ، پاکستان دشمنوں کو محب وطن تنظیموں کے ساتھ اور قاتل گروہوں کو مقتول فریق کے ساتھ کھڑا کرتے ہیں

کیا آپ نہیں جانتے کہ شیعہ مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی تنظیم سے ہو یا نہ ہو، ہمیشہ ر دہشتگردی کا شکار ہیں۔ کیا کسی شیعہ تنظیم نے دیوبندی کافر کا نعرہ بلند کیا؟ کیا پاکستان کے شیعہ پاکستان کے شہریوں یا فوج کے خلاف کسی بھی طرح کی دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں؟ شیعہ لیڈرز نے کبھی دہشتگردی کرنے، دہشتگردی سوچنے اور دہشتگردی کا پرچار کرنے کی تعلیم نہیں دی۔ انہوں نے خودکش حملوں جیسی اذیت ناک دہشتگردی کے باوجود اپنے لوگوں کو صبر کی تلقین کی ہے اسی وجہ سے ان کے مسلک میں موجود انتہاپسند معتدل شیعہ قیادت کے مخالف ہیں۔

لیکن دوسری طرف سپاہ صحابہ کی بنیاد ہی دہشتگردی پر رکھی گئی ہے، آج بھی لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق اور سپاہ صحابہ کا سربراہ محمد احمد لدھیانوی مل کر جلسے کرتے ہیں اور شیعوں کو قتل کرنے کا واضح اعلان کرتے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے قاتل کے ہونے میں اس لئے شائبہ نہیں کہ آپ کے سامنے انہوں نے نہ صرف شیعہ مکتب فکر بلکہ اہل سنت بریلوی، دیوبندی اور اسلام سے باہر قادیانی، عیسائی و دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور پاکستان کے مہمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ اگر شک ہے تو خود مولانا مفتی حسن جان پشاور کا قتل، مولانا فضل الرحمن پر قاتلانہ حملے، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے متعدد افراد کے بہیمانہ قتل کے واقعات کا مطالعہ فرما لیں۔

ف سپاہ صحابہ کسی مسلک یا مکتب کی نمائندگی نہیں کرتی۔ مسلک دیوبند کی نمائندہ جماعتیں جے یو آئی (ف) یا پھر جماعت اسلامی ہے۔ ان جماعتوں کو صرف مسلک دیوبند کے پیروکار نہیں بلکہ تمام مسالک اور مکاتب کے پیروکار تسلیم بھی کرتے ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ لیکن سپاہ صحابہ کو دوسرے مسالک تو درکنار خود دیوبندی حضرات بھی اپنا نمائندہ یا ترجمان تصور نہیں کرتے، بلکہ انہیں انتہا پسند اور دہشت گرد کہتے ہیں۔

اس حقیقت کے موجودگی میں آپ کی طرف سے شیعہ مسلمانوں اور سپاہ صحابہ کو ایک ہی پلڑے میں تولنا کس قدر زیادتی ہے؟

سپاہ صحابہ نے اپنا منشور نہیں بدلا، اپنا جھنڈا نہیں بدلا، اپنے غلیظ نعرے نہیں بدلے، اپنا طرز عمل نہیں بدلا، حتٰی کہ اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں سے بھی توبہ نہیں کی، بلکہ حال ہی میں لشکر جھنگوی کے سربراہ کی رہائی کے بعد ہونے والے جلسوں میں دہشتگردی کو ازسرنو شروع اور منظم کرنے کے اعلانات کئے ہیں۔ اس واضح فرق کے بعد بھی آپ سپاہ صحابہ اورشیعہ مسلمانوں کو ایک صف میں شمار کریں تو اللہ ہی حافظ ہے؟

دوسری طرف سپاہ صحابہ کی بنیاد ہی کفر کے فتوے کے اوپر رکھی گئی۔ آپ کی سماعتوں میں وہ نعرہ ابھی تک نہیں گونج رہا کہ ’’کافر کافر شیعہ کافر۔ جو نہ مانے وہ بھی کافر‘‘ یعنی پورا عالم اسلام جو شیعوں کو کافر نہیں مانتا وہ بھی کافر ہے؟؟ کفر اور اسلام کے واضح فرق کے باوجود بھی آپ شیعہ مسلمانون اور سپاہ صحابہ یعنی قتل اور مقتول کو مساوی قرار دیں تو اس سے بڑی ناانصافی کیا ہو گی؟

Source: Pakistan Blogzine

In the following video, SSP leader Ahmed Ludhianvi explains that SSP and ASWJ are two names for the same organization, and that the Difa-e-Pakistan Council is a project aimed to provide legitimiacy to SSP-ASWJ and bring it to power.

http://youtu.be/1n8AJler4vI

About the author

SK

18 Comments

Click here to post a comment
  • Momin Hussain Dear Saleem Safi, with all due respect , I disagree with what you said about Sipah Sahaba. They are not a political party they are terrorrist organisation who openly calls SHIAS Kafir and calls for their killing.Sipah Sahaba’s party workers have been involved in murder of Saleen Qadri of Sunni Tehreek,Gojra incident against Christians and thousands of innocent doctors,lawyers,shopkeepers etc Pakistani Shias.Tehreek e Jafaria on the other hand stands up for Unity among Muslims.Biggest proof is Allama Sajid Naqvi in MMA with deobandis(JUI-F and JUI-S)Brelavis ( JUP ) Whabis ( Sajid Mir) and even Jamat-e-Islami. Tehreek Jafaria NEVERS chants “kafir kafir” slogans and dont encourage their followers to kill other people.Please don’t support the killer party Sipah Sahaba and let people of Pakistan their true face.Condemn the hate speech.Rememeber you have a big responsibily , you are the opinion makers.Please do something to stop this menance so no one else loses their beloved ones.

    Abbas Haider صحافی سلیم صافی لکھتے ہے: کالعدم سپاہ صحابہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔۔!! افسوس صد افسوس __ شاید آپ کو پارہ چنار میں زبح ہونے والے افراد نظر نہیں آئے۔ کوئٹہ میں زائرین کا قتل عام نطر نہیں آیا۔ کراچی میں وکلا۔ ڈاکٹروں کا لہو نطر نہیں آیا____ 17سال سے صرف پیشی کی تاریخ کا انتظار کرتے ہوئے غلام رضا نقوی نظر نہیں آرہے؟

    Adnan Haider
    saleeem saafi saheb its better to get appointment to doctor befre its too late. as germs of anti shia stuck through your body. who paid you for this column????

    Asad Raza
    I disagree with what you said about Sipah Sahaba. They are not a political party they are terrorist organization who openly calls SHIAS Kafir and calls for their killing.Sipah Sahaba’s party workers have been involved in murder of Saleem Qadri of Sunni Tehreek,Gojra incident against Christians and thousands of innocent

    Syeda Naqvi
    in jaise sahafiyon ki waja se hi log media se nafrat karte hain SALEEM SAFI kiya ap ko nazar nhi ata qatilon ka sath dena bhi gunnah hai SHIA humesha se itehad chahte hain magr srif SSP aur tm jaisi black sheep ki waja se aaj mulk k ye halat hain. jo Shion ka qatl e aam ho raha hai us per to ap logo ka qalam nhi uthta is ki waja jan sakte hain hum log????????????????????????????doctors,lawyers,shopkeepers etc Pakistani Shias.

    Syed Ahsan Abbas Shah
    u r going to mix taliban and shia ulma ………………….. r u mad…. please we pappreicate u effort but dn’t do this . other wise our trust on u will be NO MORE………………..

    Momin Hussain
    Dear Salim Safi.Please do write about all the Shia protest on your fan page and clarify situation.It hurts because we have lost brothers,children,fathers,mothers by the hand of these terrorrists.Leaders of Sipah Sahaba call us kafir openely and regard Brelavis Kafir as well.How can we run a country when a small group of extremist terrorrists try to run the affairs. Please be honest , as you always are , and show people of Pakistan true face of Sipah Sahaba before its too late. Opinion makers like you should tell people the truth and tell them that it was a right step to ban Sipah Sahaba. And our establishment should stop considering them strategic assets.

    Sajid Zaidi
    I thought you are a Unbiased person for all Pakistanis but you showed you are not By avoiding killing and Massacre of shias in All over Pakistan by Sipaha e sahaba ????

    Sadia Salam Saleem Safi.
    I was once a big fan of your writing but your article on Sipah e Sahaba has not only shocked me but also saddened me because I had high expectations of you. This article clearly brought your Jamaat e Islami ideology into the fore front and you have clearly written a biased article ignoring the pain and grieve of hundreds of commoners who had suffered due to this terrorist organisation. By equating them with other religio political organisation you have simple ignored that they have not only killed political workers but have targeted common citizens of Pakistan because of their religious believes be that doctors, engineers or even children. Even though I don’t expect too much from you nor am afraid of these terrorist organisation but cornering a huge sect and defending a known terrorist organisation is definitely not expected from a journalist of your caliber.

    Jawwad Jaffery
    bilkul sahi kaha he kisi ne k ager koi jamat-e-islami sey nikal bhi jaye to jamaat us me se nahi nikalti………… saleem safi sahab ap ki roh me bhi wahi munafiqana or dehshatgardana soch wali jamaati fikar rasikh he………….. hame koi zaida hairat nahi, han bus ye he k acha hi howa k aap k chehre per para munafiqat ka libada aj tar tar ho gaya……… or is me sey jhankti hoi yazeediat ayan ho hi gai……… lehaza apney ajdad ki tarah tum batil ki tarafdariyon me lagey raho………. dollar , riyal sey tumhey is dunayme tumahari qeemat mil hi jaey gi………….

    Azam Tariq
    dear saleem bhai u r doing gr8 job..and u r speaking truth with bravly that many peopl do not talk this fact….nice qouting.and nice man….we love u saleem bhai…..

    Kifayat Ullah Khan
    We are cordially greatful for the column about only Ban on Sipah-e-Sahaba why and most of people are appreciating your braveness because no one pay attention to these type of issues which results law n Order situation. Here i want to ask one question that according to my study 80% of Anchers are Shia whereas only 3% are Sunni Why this discrimination?

    (from Saleem Safi’s facebook)

  • Waah Salim Safi Waah!!! – by Danial Lakhnavi
    جب میں نے سلیم صافی کے بارے میں اپنا پہلا آرٹیکل لکھا تو کچھ دوستوں کو عجیب بھی لگا کہ ایک صحافتی نابالغ کو اتنی اہمیت دینا ایں چہ معنی دارد؟ لیکن سلیم صافی حالیہ کالمز میں کیمبرج اور آکسفورڈ کے طلباء سے خطاب کا تذکرہ ان کے لئے بھی اچنبھے کا باعث تھا
    میں نے کہا بھائی صاحب بانو قدسیہ کا راجہ گدھ ناول پڑھو، ان انگریزوں کا تعلق بھی مجھے فرقہ ملامتیہ سے لگتا ہے جن کو اپنی انا کے غباروں سے ہوا نکالنے کے لئے سلیم صافی جیسی رودالیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تنک مزاج بڑھیا کی طرح ان کو کوسنے دے سکے اور رہی بات بقول سلیم صافی صاحب کی عظیم درسگاہوں میں خطابات اور بالخصوص پاکستان طلباء کی تو بھائی وہ ریڈیکلائزیشن میں یہاں سے کچھ کم تو نہیں آخر کار حزب التحریر کے جری مجاہدوں کو کی نرسری تو وہی ہے۔
    سلیم صافی کو اس بات پر حیرت تھی کہ ان سے کسی نے پاکستانی سیاستدانوں کے بارے میں کیوں نہ پوچھا تو بھائی صاحب یہ آپ کی تربیت گاہ فکری و عملی اسلامی جمعیت طلبہ کے جھنڈے تلے چلنے والی پنجاب یونیورسٹی یا عمران خان کے پرستاروں سے بھری کوئی لمز یونیورسٹی تو ہے نہیں، یہاں تو پاکستان کا تعارف آپ کی جوانی کے ہیرو اسامہ بن لادن اور آپ کے جہادی قائدین کے حوالے سے ہے نہ کہ باہر کی دنیا میں غیرمعروف سیاستدانوں کے حوالے سے۔
    اور اگر انہوں نے نہ کیا تو آپ نے تو کالم کا عنوان زرداری کے نام سے سجا کے وہ کمی پوری ہی کردی۔ لیکن بھائی صاحب زرداری صاحب کی مدح و توصیف میں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف میں آپ جوش خطابت میں کچھ زیادہ ہی بہ گئے۔ اس لئے بھائی صاحب ہوش میں آئیے کہ بقول غالب
    کہ گیا عالم جنوں میں کیا کیا کچھ
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
    لیکن صاحبہ آپ کے ہوش کیمبرج میں ضرور بحال رہے اور آپ اپنی پیش رو اور سرپرست خفیہ ایجنسیوں کی صفائی میں نہیں چوکے الحمدللہ کہ آپ کا اعتماد تا حال اپنی عظیم ایجنسیوں پر برقرار ہے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جب ان سوالوں پر آپ سٹپٹائے تو پاکستانی صحافتی مزاج کے مطابق اپنے فیورٹ پنچنگ بیگ صدر زرداری کو نہ بھولے،
    واہ واہ کیا کمال کا مضمون باندھا ہے یہ آپ نہیں آپ کے اندر کا جماعتیا بول رہا ہے یہ کیا کہ تنقید سے جھنجھلائے اور اپنے دماغ میں ہی عدالت لگالی، ملزم کٹہرے میں پیش کئے اور خود افتخار چوہدری بن کر فیصلہ سنا دیا، کیانی بری، پاشا بری، نوازشریف بری، ق لیگ بری، فضل الرحمٰن بری، ایم کیو ایم بری غرض یہ کہ سب بری مجرم کا قرعہ فال نکلا ہے تو زرداری کے نام، واہ واہ مان گئے سلیم صافی صاحب، آخر ہے نا ہونہار بردا کہ چکنے چکنے پات۔
    جماعتی مزاج کے مطابق آپ جماعت اسلامی کی مرتّبہ اور سینہ بہ سینہ تاریخ نگاری کی جس روایت کے امین ہیں اس کے تحت آپ ایسے ہی کالم لکھ سکتے ہیں، کہ جیسے جماعت سے باہر کی زندگی مودودی فکر کی اصطلاح میں جاہلیت سے تعبیر کی جاتی ہے ویسے ہی اس فکر کی چھتری سے باہر کی تاریخ اور تفصیل کہاں قابل توجّہ ٹھر سکتی ہے
    http://criticalppp.com/archives/52437

  • SSP head Ludhianvi receives LeJ head Malik Ishaq at Kot Lakhpat jail, released by Supreme Court (15 July 2011):

    Malik Ishaq keeps vomiting hate speech against Shia Muslims (24 July 2011):

    http://www.youtube.com/watch?v=jCd1csIeOQM

    Shia massacre in Malik Ishaq’s home district after his release (Khanpur, at least 25 Shias killed on 14 Jan 2012)

  • This summer, Mr Ishaq, one of the country’s most feared militants, walked from jail, apparently in exchange for his commitment to non-violence, help in reining in other fighters and possibly delivering the votes of his followers.

    Supporters showered Malik Ishaq with rose petals when he left the prison in Lahore in July. Days later, he was preaching murderous hatred towards minority Shiites to crowds of cheering Sunnis, energising a network whose members have joined Al Qaeda for terror strikes. That was too much for Pakistani authorities, who arrested him again last month.

    Fifteen years ago, Mr Ishaq founded Laskhar-e-Jangvi, or LeJ, which allies itself with Al Qaeda and the Taliban. The LeJ is blamed for scores of attacks on Shiites, regarded as infidels, and on Pakistani and US interests.

    Mr Ishaq was arrested in 1997 and accused of participating in more than 200 criminal cases including the killings of 70 Shiites. But the state could never make the charges stick – in large part because witnesses, judges and prosecutors were too scared to convict.

    Frightened judges treated him honourably in court and gave him tea and biscuits, according to Anis Haider Naqvi, a prosecution witness in two cases against Mr Ishaq.

    One judge attempted to hide his face with his hands, but Mr Ishaq made clear he knew his identity in a chilling way: he read out the names of his children, and the judge abandoned the trial, he said.

    Despite the lack of convictions, Mr Ishaq remained in prison for 14 years as prosecutors slowly moved from one case to the next.

    Mr Ishaq proved his usefulness to the army in 2009, when he was flown from jail to negotiate with militants who had stormed part of the military headquarters in Rawalpindi and were holding hostages there, said Hafiz Tahir Ashrafi, who used to advise the Punjab provincial government on religious matters.

    A behind-the-scenes effort by the government to co-opt the leaders of militant outfits and bring them into mainstream political life, or at least draw them away from attacking the state, helped Mr Ishaq secure his July 15 release, Mr Ashrafi said.

    “I met Ishaq several times in prison,” Mr Ashrafi said, emphasising that Mr Ishaq assured him that he wanted to contribute to peace. “If someone wants to get back to normal life, yes, why not, we do help him,” said Mr Ashrafi. “These are our own men.” He said he was disappointed to see him back in jail.

    Punjab law minister Rana Sanaullah Khan denied there was any deal behind Mr Ishaq’s release, but said extremist leaders were free to join politics if they eschewed violence. “We are in touch with those who have become, or want to become, useful citizens,” he said.

    The Punjab is the key battleground between the ruling party of President Asif Ali Zardari and the party of the opposition leader, Nawaz Sharif, currently in power in that province. Maulana Ahmad Ludhianvi, the head of Sipah-e-Sahaba Pakistan, or SSP, LeJ’s parent group, told a rally last year that Mr Nawaz’s brother, the Punjab chief minister, Shahbaz Sharif, had vowed that Mr Ishaq’s release “would be settled in meetings” with him.

    “After that meeting, the time is not far when the prison door would break open and Malik Ishaq would be released,” he said.

    LeJ and other militant groups can muster significant support in Punjab and parts of Sindh province through their schools and mosques, making them an important force. Politicians have shown no hesitation in courting them despite their links to violence. The local SSP leader, Mohammad Tayyab, said a recent SSP-backed candidate for a regional assembly seat in southern Punjab got 17,000 votes.

    Khaled Ahmad, an expert on Pakistani militant groups in Punjab, said there is “no doubt” that the SSP and Mr Sharif’s party would cut deals as they have done in the past. “It is dangerous now because the group and its offshoots are in alliance with Al Qaeda.”

    Government intelligence reports show Mr Ishaq made threats in his public appearances after his release from prison. He urged his supporters not to be afraid of Pakistani laws and to “get on the streets and crush publicly the Shiites who abuse the Prophet Mohammed’s companions”. According to one report, he told a gathering near Rahim Yar Khan on September 4: “We know how to kill and how to die.”

    Mr Ishaq’s aides denied he made such remarks.

    The government suspected Mr Ishaq of coordinating meetings in recent months of 50 or so alleged terrorists, said Mr Khan, the law minister. Some of the men Mr Ishaq visited after his release had allegedly been involved in terrorism and were being watched by law enforcement agencies, said the government reports.

    LeJ’s stronghold is south and central Punjab, a neglected, hot part of the country that has long been the recruiting ground for state-sanctioned jihadi groups. Wealthy families, disproportionately Shiite, own large swathes of land where tenant farmers grow cotton, sugarcane and wheat and work at mango orchids.

    Visitors to Mr Ishaq’s house in Islam Nagar in the city of Rahim Yar Khan are greeted by an SSP member with an automatic rifle, against a backdrop of flags and banners glorifying the group.

    http://www.thenational.ae/news/world/a-lesson-in-dealing-with-militants?pageCount=0#full

  • The general public should be made aware of the negative propaganda of these organizations and people who are already in their ranks, should be encouraged to leave the violent methodology.

  • سلیم صافی نے انتہائی منطقی باتیں کی ہیں اور انکے خلاف جو باتیں کی گئی ہیں وہ صرف یہ ہیں کہ بھئی سلیم صافی نے سپاہ صحابہ کے ہمدرد ہیں۔ کیا سپاہ صحابہ ہمدرد ہونا گناہ ہے۔

    سپاہ صحابہ کو دہشت گرد کس نے قرار دیا؟
    کسی عدالت نے؟
    کسی پارلیمنٹ نے؟
    یا کسی سیاسی حکومت نے؟

    جی نہیں سپاہ پر پابندی لگانے والا شخص ہے وہ ہے
    جس نے بے نظیر اور نواز شریف کی واپسی پر پابندی لگائی
    جس نے عدلیہ پر پابندی لگائی
    جس نے میڈیا پر پابندی لگائی
    جس نے اکبر بگتی اور بلوچوں پر پابندی لگائی

    مشرف نے تو تحریک جعفریہ بھی قلعدم قرار دی تھی اور یہ قلعدم جماعت ایم ایم اے میں شامل ہوکر حکومت کا حصہ بنی تو پھر کسی کو کھلبلی کیوں نہ مچی؟

  • تحریک جعفریہ پر ایران کی فنڈنگ سے گزشتہ بیس برسوں میں 15000 سنیوں کے قتل کے الزامات ہیں۔ سنیوں کے صرف ایک مدرسے سے نیوٹاون کے درجنوں چوٹی کے علماء شہید کئے گئے، روزانہ سنیوں کو قتل کیا جاتاہے۔

    ایران کی فنڈنگ سے چلنے والی جماعتوں کا کسی حادثے پر ردعمل بھی دنیا دیکھتی ہے، چہلم دھماکے بعد انہوں نے کیا کیا، اور گلشن امام بارگاہ پر حملے کے بعد انہوں نے کے ایف سی نظر آتش کردی اور مزار قائد کے قریب ایک امام بارگاہ پر حملہ ہوا تو کئی پیڑول پیمپ اگ لگادئے گئے۔

    حد ہو گئی ہے شیعہ دہشت گردی پر خاموش رہنے والی نام نہاد لبرل انتہاپسندوں کو لگتا ہے ایران سے پیسے ملتے ہیں۔

  • Khuda k ly pakistan ko aik develope aik secular democratic country banana he,in molveoon aor jihadi culture se hamien nikalna hooga,,warna hom weese bi in terrorist aur mazahbi teekadaroo ki waja se aaj pakistan tabahi k kinaree per aapooncha he,,aur poore world main loog humko terrorist tasawur kartehy he,,ab mazeed pakistan in cheezoo ka mutahamil nahi hoosaktha,,,,

  • @ asghar khan
    تو تمام مذہبی لوگوں کو آڑے ہاتھوں لو نہ، یہ کیا کہ سنیوں کو ڈنڈا اور شیعوں کو حلوا

  • @Kashif Naseer

    shia ne kabhi kise sunni ko qatal nai keya voh unko apna bahi sajtey haini our sipah e sahabaa sunni jamaat nahi ye takfiri kharji hain inko nah sunni mantey hain na he shia

    app ko yad hona chaheay sipah e sahaba ka nara hai

    “shia kafir sunni soor”

    aaj kal apni jammat ka naam badal kar sunnni bahiyoun ko dhoka dey rahey hain

  • ye hai DPC ka asal raz

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/02/120216_pakistan_politics_sa.shtml

    اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور؟
    اعجاز مہر
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    آخری وقت اشاعت: جمعرات 16 فروری 2012 ,‭ 14:08 GMT 19:08 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    سیاسی قوتوں میں اتحاد نظر آنے لگا ہے
    پاکستان کی سیاست کا مستقبل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
    ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ والا فارمولہ اب شاید اسٹیبلشمنٹ کے لیے کارآمد اور قابلِ عمل ثابت نہ ہو، کیونکہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بہت کچھ کھونے کے بعد یہ محسوس کرلیا ہے کہ وہ آئندہ اسٹیبلشمنٹ کی پتلیاں نہیں بنیں گے۔
    اسی بارے میں
    ’بریگیڈیئر علی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے تھے‘
    پاکستان، سیاسی بحران کے کلیدی کردار
    قائد اعظم کے مزار پر جہادی میلہ
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان, سیاست, پاکستان مسلم لیگ (ن), پاکستان پیپلز پارٹی, پاکستانی فوج
    پاکستان کی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایوان صدر، آرمی اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ ہی ملک میں تبدیلی لاتا رہا، چاہے وہ سیاسی حکومت کے روپ میں ہو یا آمریت کے۔
    لیکن اب کی بار جب سے آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بنے ہیں تو اس تیس سالہ ’ٹرائکا‘ کی طاقت کا توازن ہی بگڑ گیا جس کی جھلک حالیہ متنازعہ میمو معاملے میں واضح طور پر نظر آئی اور موجودہ کمزور جمہوری حکومت نے جس طرح ’ریاست کے اندر ریاست‘ کی بات کر کے طاقتور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھائیں اس کی بھی ماضی میں نظیر کم ہی ملتی ہے۔
    لیکن یہاں بڑا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو بھی دینا پڑے گا جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو کندھا فراہم نہیں کیا۔ یقیناً حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومینٹ اور مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ساتھ جمیعت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کا کردار بھی قابل تعریف نظر آتا ہے۔
    جمیعت اور جماعت کے غیر متوقع اور حیران کن رویے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو سخت صدمہ پہنچا اور شاید انہیں بعض کاالعدم جماعتوں کا سہارا لینا پڑا اور اچانک ملک میں ’دفاع پاکستان کونسل‘ نامی تنظیم کے بڑے بڑے جلسے دیکھنے کو ملے۔ اس کونسل میں ویسے تو مولانا سمیع الحق، شیخ رشید احمد، اعجاز الحق اور حمید گل بھی شامل ہیں جو کہ کاالعدم جماعتوں کے تو نہیں ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی بازار میں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انہیں فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔
    دفاعِ پاکستان کونسل کی اہم قوتوں میں فرقاوارانہ فسادات میں ملوث ہونے کی بنا پر کاالعدم قرار پانے والی سپاہ صحابہ اپنے نئے نام ’تنظیم اہلِ سنت والجماعت‘ اور جہادی سرگرمیوں اور بھارت میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پابندی عائد کردہ لشکرِ طیبہ اپنے نئے نام ’جماعت الدعوۃ‘ اور مولانا سمیع الحق کی جمیعت علماء اسلام شامل ہیں۔

    دفاعِ پاکستان ریلی
    بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہوگی کہ تبدیلی کے نام پر عمران خان، دفاعِ پاکستان کونسل، ’آرمی فرینڈلی فیملیز‘ یا ’اے ایف ایف‘ آفتاب شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی اور دیگر ہم خیالوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائیں۔ لیکن کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال ہی اچھا ہے‘۔
    اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے جب سے منور حسن امیر بنے ہیں تو ان کی جماعت اسٹیبلشمنٹ سے ’نئے رولز آف دی گیم‘ کا مطالبہ کر رہی ہے۔منور حسن نے دفاعِ پاکستان کونسل کے کراچی کے جلسہ میں شرکت تو کی لیکن ان کی جماعت کی حاضری خانہ پوری سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر دفاعِ پاکستان کونسل جماعت اسلامی کی بظاہر حمایت کے باوجود بھی اتنا بڑا جلسہ نہیں کرسکی جتنا اکیلے مولانا فضل الرحمٰن نے کیا۔
    مولانا فضل الرحمٰن جو حکومت سے علیحدگی کے باوجود آج بھی ’منسٹرز کالونی‘ میں مقیم ہیں، ان کا صدر آصف علی زرداری سے پرانا یارانہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہوں نے جس طرح کھلے عام اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے بظاہر بغاوت کی ہے وہ بھی ان کے لیے ایک بڑا دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔
    خیر یہ تو اب کی صورتحال ہے لیکن کل کیا ہوتا ہے یہ تو کسی کو معلوم نہیں۔ اگر جمیعت اور جماعت کو دیرینہ تعلقات کے باوجود اسٹیبلشمینٹ ساتھ نہیں رکھ پائی تو موجودہ حالات میں ان کا گھیرا تنگ ہوتا جائے گا۔ کیونکہ اب جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کھلم کھلا سیاست سے اسٹیبلشمینٹ کا کردار ختم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں وہاں عدالتی محاذ پر بھی شاید اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی طرح کا ’فرینڈلی‘ ماحول نہ مل سکے۔
    اگر مستقبل میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا سیاست سے اسٹیبلشمینٹ کا کردار ختم کرنے کے معاملے پر تعاون جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان میں پارلیمان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر بالادستی قائم ہوجائے۔

  • اوپر کمنٹس دیتے ہوئے خلطِ مبحث کیا جارہاہے۔ سلیم صافی کے دہشت گردوں سےتعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ رہ گئی سپہ صحابہ تو یہ اہل سنت نہیں بلکہ خوارج ہیں، اسی طرح جماعت الدعوہ یالشکر طیبہ یہ بھی خوارج دہشت گرد ہیں۔ دہشت گرد خود کو شیعہ کہے یا سنی وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہے۔ کیونکہ اگر وہ اسلام کو مانتاتو بے گناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ نہ رنگتا۔یہ تمام دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کو آقا علیہ السلام نے دوزخ کا کتا قرار دیاہے۔

    روایات میں ان فتنہ پرور خارجیوں کی متعدد معروف علامات اور واضح نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :
    1. أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ. ’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

    2. سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ. ’’دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) ہوں گے۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066
    3. کَثُّ اللِّحْيَةِ. دین کے ظاہر پر عمل میں غلو سے کام لیں گے اور) گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔‘‘
    1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الوليد إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064
    4. مُشَمَّرُ الْإِزَارِ. ’’بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن أبی طالب و خالد بن الوليد، إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064
    5. يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ. ’’یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘
    بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قراء ة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6 : 2748، رقم : 7123
    6. لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ. ’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘
    یعنی یہ خوارج دجّال کی آمد تک تاریخ کے ہر دور میں وقتاً فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔
    نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، رقم : 4103
    7. لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ. ’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘
    یعنی ان کا ایمان دکھلاوا اور نعرہ ہوگا، مگر اس کے اوصاف ان کے فکر و نظریہ اور کردار میں دکھائی نہیں دیں گے۔
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066
    8. يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ. ’’وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے۔‘‘
    1. أبويعلی، المسند، 1 : 90، رقم : 90
    2. عبد الرزاق، المصنف، 10 : 155، رقم : 18673
    9. يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ. ’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ينفر الناس عنه، 6 : 2540، رقم : 6534
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064
    10. لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ. ’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘
    یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066
    11. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ. ’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔‘‘
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066
    12. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. ’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘
    یعنی اس کا کوئی اثر ان کے دل پر نہیں ہوگا۔
    1. بخاری الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2540، رقم : 6532
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وقتالهم، 2 : 743، رقم : 1064
    13. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ. ’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔‘‘
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066
    14. يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ. ’’وہ (بذریعہ طاقت) لوگوں کو کتاب اﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
    أبو داود، السن، کتاب السنة، باب في قتل الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765
    15. يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ. ’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔‘‘
    یعنی دینی نعرے (slogans) بلند کریں گے اور اسلامی مطالبے کریں گے۔ (1) جیسے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خوارج نے لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلّٰهِ کا پُر کشش نعرہ لگایا تھا۔
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066
    16. يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا. ’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔‘‘
    طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 186، الرقم : 6142
    17. يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ. ’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘
    أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765
    18. هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. ’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔‘‘
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الخوارج شر الخلق والخليقة، 2 : 750، الرقم : 1067
    19. يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ. ’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے۔‘‘
    1. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 455، رقم : 934
    2. هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.
    20. يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ. ’’وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3 : 1321، رقم : 3414
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064
    21. يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ. ’’وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی : تعرج الملائکة والروح إليه، 6 : 2702، رقم : 6995
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 741، رقم : 1064
    22. يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ. ’’وہ ناحق خون بہائیں گے۔‘‘
    یعنی مسلم اور غیر مسلم افراد کا قتل جائز سمجھیں گے۔
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066
    23. يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ اﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ. (من کلام عائشة رضي اﷲ عنها) ’’وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔)
    حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657
    24. يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه). ’’وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے۔‘‘ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)
    1. طبری، جامع البيان فی تفسير القرآن، 3 : 181
    2. عسقلاني، فتح الباری، 12 : 300
    25. يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه) ’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘ (قولِ علی رضی اللہ عنہ)
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 749، الرقم : 1066
    26. ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ. (من قول ابن عمر رضی الله عنه) ’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔‘‘ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)
    بخاری، الصحيح، کتاب، استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539
    27. يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ. ’’وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘
    1. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
    2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066
    28. اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ. ’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔‘‘
    مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066
    29. خَيْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ. ’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘
    ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000
    30. شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاءِ. ’’وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔‘‘
    یعنی جو دہشت گرد خوارج فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے تو وہ بدترین مقتول ہوں گے اور انہیں مارنے والے جوان بہترین غازی ہوں گے۔
    ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000
    31. إِنَّهُمْ کِلَابُ النَّارِ. ’’یہ (دہشت گرد خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘
    ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000
    32۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔
    33۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔
    1. عبد القاهر بغدادی، الفرق بين الفرق : 73
    2. ابن تيميه، مجموع فتاوی، 13 : 31
    34۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص علاقے کو گھیر کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مرکز بنا لیں گے، جیسے کہ انہوں نے خلافت علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ میں حروراء کو اپنا مرکز بنا لیا تھا یعنی وہ اپنے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنائیں گے۔
    35۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ حق کے ساتھ مذاکرات کو ناپسند کریں گے، جس طرح انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تحکیم کو مسترد کر دیا تھا۔
    احادیث و آثار سے ماخوذ اِن علامات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مسلح گروہ یا فرقہ جمہور امت مسلمہ کو گمراہ، بدعتی اور کافر و مشرک کہے، عامۃ الناس ۔ مسلم ہوں یا غیر مسلم ۔ کے خون و مال کو حلال سمجھے، حق بات کا انکار کرے، مصالحانہ اور پر امن ماحول کو تباہ و برباد کرے، وہ خارجی ہے۔ خواہ اس کا ظہور کسی بھی زمانے اور کسی بھی ملک میں ہو۔

  • According to Saleem Safi, champions of Baloch cause are: Najam Sethi, Hamid Mir and Nawaz Sharif. http://jang.com.pk/jang/feb2012-daily/22-02-2012/col6.htm Viva fake champions!

    پاکستان، افغانستان، ایران، بلوچستان اور امریکہ….جرگہ…سلیم صافی… (گزشتہ سے پیوستہ)

    اسی کانگریس نے پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں لیکن نائن الیون کے بعد جب امریکی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو دو دن میں پاکستان کے خلاف سب پابندیاں ختم ہوکررہ گئیں۔ امریکہ بلوچستان میں فوج کشی کرسکتا ہے اور نہ بلوچستان پاکستان سے علیحدہ ہوسکتا ہے ۔ ہاں البتہ بلوچستان کے حالات نہایت خراب ہیں، بلوچوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں۔ امریکہ کچھ کہے یا نہ کہے بہرحال بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور انہیں بہرصورت راضی کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ امریکہ کے خلاف چیخ و پکار سے نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک ہوکر بلوچوں کو مطمئن کرنے کی سنجیدہ کوششو ں سے حل ہوگا۔ جہاں تک قرارداد پر بلوچ قوم پرستوں کا تعلق ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکہ کی اس نام نہاد حمایت کا جتنا نقصان ان کو ہوگا اور کسی کو نہیں ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کو ان سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ تزویراتی طور پر آج بھی امریکیوں کو ان سے زیادہ افغانستان کی سرحد پر مقیم پختونوں کی ضرورت ہے۔ امریکی جہاں جاتے ہیں کسی کو آزاد کرنے نہیں بلکہ غلام بنانے جاتے ہیں۔ وہ افغانستان میں افغانوں کو آزادی دلوانے کے نام پر آئے تھے لیکن آج ان کے لائے ہوئے افغان حکمران حامد کرزئی بھی امریکیوں کو شر کی جڑ اور اپنا دشمن نمبرون سمجھتے ہیں۔ بلوچ بھائی ذرا عراقیوں سے پوچھ لیں کہ امریکیوں نے ان کو آزاد کرایا یا غلام بنایا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بلوچوں کے حق میں سب سے توانا آواز پنجاب سے اٹھ رہی ہے۔ بلوچ نواب اسلم رئیسانی کی منظوری اور سرپرستی سے ایف سی ان کے خلاف کارروائی کررہی ہے جبکہ ان کی کارروائیوں کے خلاف سیاستدانوں کی صف سے سب سے توانا آواز پنجابی نواز شریف اٹھارہے ہیں۔ بلوچ سیاستدان خاموش بیٹھے ہیں اور بلوچوں کے حق میں سب سے زیادہ جرأت کا مظاہرہ لاہور کی عاصمہ جہانگیر کررہی ہیں ۔ اسی طرح میڈیا میں ان دنوں بلوچ قوم پرستوں کے سب سے بڑے وکیل پنجاب سے تعلق رکھنے والے حامد میر اور نجم سیٹھی ہیں لیکن اگر بلوچ امریکہ کی صف میں کھڑے ہوگئے تو پھر پاکستان کے اندر ان کے حق میں کوئی بھی آواز نہیں اٹھاسکے گا اور طالبان سمیت امریکہ کا ہر مخالف ان کے خلاف میدان میں آجائے گا۔

  • @Kashif Nisar America ko kis nay terrorist karar dia hay. kya America bohat acha mulak hay or us nay sub wars Terrorists ka khilaf lari hain?

    Israel ko koe dehshat gard karar nahi dia gya to kya Israel bohat acha mulak hay???

    Sipah sihabah 1 dehshat gar jamat hay. agar kaha jay ky SSP “Bherdyon ka 1 ghole” hay to galat nahi hoga.

    BTW Thanks Sarah Khan for showing real face of this Person (Saleem Safi)