Original Articles

Ali Ahmed Kurd’s opinion on judiciary vs parliament

ملکوںاور تہذیبوں کی تاریخ انسانوں کی تاریخ ہوتی ہے۔ مگر پاکستان کی تاریخ قائداعظم سے لے کر اب جمہوری بحرانوں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب خان سے جنرل یحیی سے جنرل ضیا الحق اورجنرل مشرف تک، بحرانوں کی بڑی ذمہ داری ‘وردی پوش’ سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے۔ جو کسی وقت بھی ‘سفید پوش ‘ سیاست دانوں کو گھر بھیج کر شیروانی پہن کر حلف اٹھالیتے ہیں، اور پی سی او کے گناہ کو سینے پر سجانے والی عدلیہ حکمرانی کی سند عطا کردیتی ہے۔ پھر یہ حلف پورے سماج کا ‘آپریشن’ بن جاتا ہے۔ مختلف نوعیت کی بیماریوں کے شفا خانےکھل جاتے ہیں، اور نیم حکیم خطرہ جاں کا محاورہ سچ لگنے لگتاہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ جمہوریت کے نام پر بننے والی حکومتیں بھی جمہور کے استحصال کا سبب بن سکتی ہیں۔ مگر جمہوریت کے پراسیس کو جمہوری پراسیس سے بدلنے کی بجاۓ اسے غیر ائینی طور یکسر توڑ دینا ‘ہوس اقتدار’ کے سواء کچھ بھی نہیں۔ اسمبلیوں کو ان کی ائینی معیاد پوری کرنے کے بعد عوام کے سامنے جانا چاہیے تاکہ وہ انہیں رد یا قبول کرسکیں۔ یہی جمہوری عمل ہے۔ اسی سفر پر چلنے سے جمہوری اقدار فروغ پاتی ہیں، اسی سے جمہوریت استحکام حاصل کرتی ہے۔ جمہوریت کی خامیاں مذید جمہوریت سے ہی دور ہوتی ہیں۔ جمہوریت عام اور حاکم کے مابین تضادات کو ساکت نہین کرتی بلکہ عوام کو حکمرانوں کے انتخاب، اپنے فیصلے پر نظر ثانی اور تبدیلی کا اختیار دیتی ہے۔

اس جمہوری عمل کو منقطع کرنے کی سازش سے پاکستان آج پھر بحرانوں سے دوچار نظر آتا ہے۔ جمہوریت کو ناکام کرنے کے لۓ غیر نمائندہ ریاستی ادارے اور ان کی کنگز پارٹی اور بالخصوص پنجاب کی حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز ہر غیر جمہوری اورناجائز حربہ استعمال کر رہی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری عدلیہ بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو فیصلہ کن رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، جس سے فوجی آمروں کے لۓ فضا سازگار رہی ہے۔ پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے عدالتی بحران، جو مارچ2007 کو چیف جسٹس اف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس، سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کے بعد ہوا تھا، اس کے نتیجے میں چیف جسٹس کی بحالی کے ساتھ، عدلیہ کی آزادی کی بھی تحریک چلی۔ خواب یہ تھا کہ شاید جوڈیشل ملٹری الائنس ٹوٹ جاۓ اور عدلیہ کی آزادی سے ریاست نیشل سیکیورٹی سٹیٹ سے نیشنل ویلفیئر سٹیٹ بن جاۓ۔ ‘ریاست ہوگئ ماں کے جیسی’ چودھری اعتزازاحسن کا بھی یہی خواب لگتا تھا۔

مگرصد افسوس یہ خواب، خواب ہی رہا۔ آج بھی عدالت کو انسانی آفاقی بنیادی حقوق سے ذیادہ قومی سلامتی اہم نظر آرہی ہے جو ایک ‘کاغذ کے ٹکڑے’ سے ‘سہمی اور خوف ذدہ’ نظر آتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس اورآبزرویشن کے مطابق، پاکستان کی عدلیہ سیاسی مقدمات میں الجھ کر انسانی آفاقی بنیادی حقوق سے متعلقہ مقدمات کو نظر انداذ کررہی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے موجودہ صدریاسین آذاد اور سابقہ صدر عاصمہ جہانگیر کا یہ کہنا ہے کہ ‘میمو’ قابل سماعت نہیں تھا اور عدلیہ سیاست کو عدالت میں لے آئ ہے۔ سیاسی معاملات میں الجھ کر عدلیہ کا وقارمتاثر ہو رہا ہے۔ چونکہ عدالت سیاسی نوعیت کے کیسزمیں مصروف ہے، لہذا عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا، 18 لاکھ سے زائد مقدمات ججز کی توجہ کے منتظر ہیں، لاپتہ افراد کے لواحقین بھی آس لگاۓ بیٹھے ہیں۔ مگر اس طرف کسی کی نظر نہیں جاتی۔

ججز بحالی تحریک کے روح رواں علی احمد کرد بھی عدلیہ کی اس سیاسی روش سے خوش دکھائ نہیں دیتے۔ کرد صاحب ایک آزاد منش صوفی شخصیت کے مالک ہیںاور ان کی تمام عمرجمہوریت کی سربلندی میں گزری ہے، ججز بحالی تحریک میں انہوں نے بے انتہا صعوبتیں اور مشکلات برداشت کی، مگر وقت بہت ظالم اور بے رحم ہوتاہے۔

اب چونکہ ‘آذاد عدلیہ کو شیخ رشید اور اکرم شیخ جیسے نۓ مگر آزمودہ محافظوں اور سپہ سالاروں کی حمایت اور خدمات حاصل ہے، لہذا آذاد میڈیا پرعلی احمد کرد کے لیۓ سپیس نہیں بنتی۔

بہرحال بہادر اور سچے لوگوں کو اپنے موقف کے لۓ تھوڑی سپیس ہی بہت ہے، انہیں شیخ رشید اور عمران خان کی طرح ہر ٹاک شو میں قبصےکی ضرورت نہیں، مہر بخاری کے ٹاک شو ‘کراس فائیر’ میں گفتگو فرماتے ہوۓ علی احمد کرد نے عدلیہ کے سیاسی حکومتی امور میں ‘جوڈیشل ایکٹیوازم’ پر اپنے خدشات کا اظہار دبے مگر واضع انداذ میں کیا ہے۔ ان کے نزدیک عدلیہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوزکررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جمہوریت پسند کی حیشیت سے انہیں عوام کی اجتماعی دانش پراعتماد ہے، جس کا اظہارصرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے کوئ اورادارہ نہیں، اور ‘میمو’ کے معاملےمیں وہ پارلیمانی کمیشن کا فیصلہ ہی مانیں گے۔ ان کا تفصیلی انٹرویو ‘قارئین اور ناظرین’ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=i2cywXrnKcc&feature=related

http://www.youtube.com/watch?v=BOeG9Xs62WM&feature=related

About the author

Junaid Qaiser

3 Comments

Click here to post a comment
  • Azad media has no space for Ali Ahmed Kurd. Azad adlia does not like him

    aisi wafa, aisa sila?

  • Unfortunately, Ali Ahmed Kurd is not acceptable to our media now…how could he be. He is now speaking against the holy cow of Pakistan i.e. the judiciary. Isnt it surprising how tables have switched? Sheikh Rasheed would lambast the same CJ in 2007-2009 (till his restoration) while now he is a CJ lover. Similarly, look at Tariq Azeem. He was beaten up by lawyers while he was a minister because of his statements against the judges and today, he is the supporter of law and justice from the same man. On the other hand, Ali Ahmed Kurd, Asma Jahangir and Tariq Mehmood have clearly broken away from the Jannisaran-e-CJ while Aitzaz Ahsan is playing a very sensible role. Badalta hay rang asmaan kaisay kaisay