Original Articles

Pakistan’s military state enables further Shia killings in the name of Difa-e-Pakistan

United against Kafir Shias: Two pro-Sipah-e-Sahaba scholars with General Kayani

[poll id=”8″]

Related posts:

Sipah-e-Sahaba will host ISI-backed Defence of Pakistan Conference on 29 Jan 2012 in Multan

Imran Khan’s PTI joins banned terrorist groups in pro-army rally in Lahore

Pakistan army outsources the Defence of Pakistan to Shia killers

Pakistan’s military establishment is currently busy in uniting and supporting Jihadi-sectarian leaders and organizations in Pakistan in the name of Defence of Pakistan (Difa-e-Pakistan). Two main participants of the Defence of Pakistan conferences and rallies are two banned organizations, namely Sipah-e-Sahaba Pakistan (SSP, also known as Lashkar-e-Jhangvi LeJ or Ahle Sunnat Wal Jamaat ASWJ) and Jamaat-Ud-Dawa (JuD, also known as Lashkar-e-Taiba LeT). The key organizer of the Defence of Pakistan Council is a notorious pro-Taliban, Shia-phobe mullah Sami-ul-Haq who is known to have close links with Pakistan’s ISI.

By allowing the banned Jihadi-sectarian organizations to operate freely and recruit more members (potential militants, Jihadis and suicide bombers), Pakistan army is ensuring that the external Jihadis continue their attacks on strategic targets in India, Afghanistan and elsewhere and the internal Jihadi keep killing Shias, Barelvis, Ahmadis, Christians and other persecuted groups in Pakistan. In the latest incident of mass murder of Shias, at least 20 Shia Muslims were massacred by ISI-backed Sipah-e-Sahaba terrorists in Imam Hussain’s Arbaeen (Chehlum) procession in Khanpur, Punjab (14 Jan 2012).

Here is a thought provoking video produced by the Shia Killing team, which demonstrates that by allowing hate speech against Shia Muslims, and by allowing Jihadi-sectarian organizations to freely preach their agenda and brainwash sectarian militants and suicide bombers, Pakistani state, military establishment in particular, is enabling an ongoing and systematic massacre of Shia Muslims and other target killed groups in Pakistan.

Sipah-e-Sahaba and ISI are working together to kill anti-Taliban Pakistanis

Video on Pakistani media’s silence on the massacre of 20 Shia Muslims in Khanpur, Punjab (14 Jan 2012)

http://youtu.be/wruUp4CDA6Y

Funeral prayer of the Shias killed in Khanpur

Families and relatives of the martyred Shias remember their loved ones

Sipah-e-Sahaba and JuD flags are most obvious in the ISI-backed Difa-e-Pakistan rally in Rawalpindi on 22 Jan 2012
Shia Kafir: An ASWJ-DPC worker is writing hate based slogans against Shia Muslims in Soldier Bazara, Karachi, ahead of the Difa-e-Pakistan rally.

Credits:

http://www.shiakilling.com/
http://www.facebook.com/shiakilling3
http://www.youtube.com/shiakilling1
http://twitter.com/shiakilling

About the author

SK

17 Comments

Click here to post a comment
  • Shias, Ahmadis, Christians etc have no choice left but to ask the UN Security Council and regional neighbours to intervene to save innocent lives in Pakistan from Pakistan army and Jihadi-sectarian proxies.

  • Shame on the army for again propping up these bastards to achieve some silly foreign policy goal. These FA pass low IQ generals are the bane of Pakistan

  • Please don’t link Military with such anti Shia bigots since it has very high number of Shias in ranks and files. Military has most harmonious relations between followers of Shia and Sunni schools of thought. There has never been any sectarian tensions in the Military. Moreover, this picture of Army Chief was taken during All Party Conference, where he went around in the Hall to meet all the Leaders and no separate meeting was held. Please help overcome this menace of Sectarian tension from our society as we all have been living in great harmony except for last few decades due to malicious support of foreign powers to either sect for their proxy wars!

  • Its clear that in pakistan it is easier to kill a shia and escape and dont get prosecuted than any other crime…oh i am sorry its not a crim to kill a shia in pakistan….go with the majority…Long live Army ISI and should we say Long live Pakistan?

  • حافظ سعید سے ایک ملاقات !
    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
    آخری وقت اشاعت: جمعرات 2 فروری 2012 ,‭ 10:15 GMT 15:15 PST

    حافظ سعید کے مطابق پاکستان کو اندرونی سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں
    بدھ یکم فروری کو جماعت الدعوہ کے سربراہ اور نوتشکیل دفاعِ پاکستان کونسل کے رہنما حافظ محمد سعید نے چند صحافیوں کو غیر رسمی ملاقات کے لیے مدعو کیا۔
    اس کا مقصد دفاعِ پاکستان کونسل کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ’صلاح مشورہ‘ کرنا تھا۔
    اسی بارے میں
    حافظ سعید کے مقدمے ختم کرنے کا حکم
    حافظ سعید، آئی ایس آئی پر فرد جرم کی اجازت
    پاکستان کے بیان پر بھارت حیران
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان
    دفاعِ پاکستان کونسل کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق اور مرکزی کنوینر آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل ( ریٹائرڈ )حمید گل ہیں۔
    کونسل میں جماعتِ الدعوہ (جسے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور بھارت نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے اور پاکستان میں بھی یہ سرکاری طور پر زیرِ نگرانی ہے) کے علاوہ جماعتِ اسلامی، مجلسِ احرار، اعجاز الحق کی مسلم لیگ (ضیا)، شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ، آئی جے آئی اور مہران گیٹ سکینڈل فیم جنرل اسلم بیگ کی عوامی قیادت پارٹی، علامہ ابتسام الہی ظہیر کی جمعیتِ اہلِ حدیث اور اہلِ سنت والجماعت (عرف کالعدم سپاہِ صحابہ) شامل ہیں۔
    دفاعِ پاکستان کونسل کے لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں بڑے جلسے ہوچکے ہیں۔ لاہور کے جلسے میں عمران خان کی تحریکِ انصاف کی نمائندگی بھی ہوئی۔ جبکہ ملتان کے جلسے میں کالعدم لشکرِ جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق نے بھی شرکت کی۔ اگلا جلسہ کراچی میں ہونے والا ہے۔
    الفاظ کی تکرار
    پورے سیشن میں دشمنی، لڑائی، سازش، جنگ، ایٹمی قوت، خطرہ، جہاد جیسے الفاظ تو تکرار کے ساتھ سننے میں آتے رہے تاہم افہام و تفہیم، امن، مساوی تعلقات، ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت، آئین و قانون، امن و امان، اندرونی خود مختاری جیسے الفاظ کو کان ترس گئے
    دورانِ ملاقات حافظ سعید نےخیال ظاہر کیا کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کا گھیراؤ کر کے اس کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو واحد مسلمان ایٹمی طاقت ہونے کی سزا دینا چاہتا ہے۔ جبکہ بھارت تو پاکستان کا ازلی و ابدی دشمن ہے اور اب وہ کشمیر کے دریاؤں پر ’بہتر‘ ڈیم باندھ کے پاکستان کو سکھا سکھا کر مارنا چاہتا ہے اور پاکستان ہے کہ انڈیا کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے کر اس کے آگے بچھا چلا جارہا ہے۔
    لہذا قوم کو ان خطرات سے مقابلے کے لیے جگانے اور کمر بستہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور دفاعِ پاکستان کونسل کا یہی مشن ہے۔ اس کے کوئی سیاسی و انتخابی عزائم نہیں۔
    اس کے بعد دوطرفہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا اور جلد ہی گفتگو سوال و جواب کے روایتی سیشن میں تبدیل ہوگئی۔ ایک صاحب نے تجویز دی کہ بھارت پر اگر آپ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بھارت کے بیس کروڑ مسلمانوں کو منظم کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکیں۔
    اس پر حافظ سعید نے کہا کہ بھارت کا مسلمان میڈیا دفاعِ پاکستان کونسل کے پروگرام اور جلسوں کو سراہتا ہے اور کوریج دے رہا ہے۔ (تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بھارت کا کون سا مسلمان میڈیا سراہ رہا ہے)۔
    ایک رائے یہ آئی کہ بھارت اگر کشمیری دریاؤں پر بند باندھ رہا ہے تو مسئلہ کیا ہے۔ ان منصوبوں سے کشمیری مسلمانوں کو بھی تو فائدہ پہنچےگا۔
    ایک سوال یہ آیا کہ دفاعِ پاکستان کونسل میمو گیٹ کے دوران تشکیل دی گئی۔ کیا زرداری حکومت کی رخصتی کی صورت میں بھی دفاعِ پاکستان کونسل برقرار رہے گی؟ ایک صاحب نے پوچھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو اگر امریکہ کی گود میں بٹھایا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بٹھایا اس وقت کوئی دفاعِ پاکستان کونسل کیوں نہیں بنی ؟
    خطرات
    پاکستان کو اندرونی سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا کے باوجود جب تک پاکستان اور کشمیر کے بارے میں بھارتی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ ہی رہے گا۔ خطے کے حالات کے سبب اس کا فلاحی ریاست بننا فی الحال ممکن نہیں۔ ہندوستان کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ اگر دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ فوج کی رضامندی بھی شامل ہے جو کہ افسوسناک بات ہوگی۔
    ایک سوال یہ ہوا کہ پاکستان کے تحفظ کی ذمہ داری مسلح افواج پر عائد ہوتی ہے چنانچہ دفاع ِ پاکستان کونسل کی ضرورت کیوں پیش آگئی۔ کیا آپ کو مسلح افواج کی اہلیت پر اعتماد نہیں رہا؟
    حافظ سعید کچھ سوالوں کے جواب میں مسکرادیے، کچھ خوبصورتی سے ٹال گئے اور کچھ کے بارے میں کہا کہ ہر شے بدظنی اور شکوک و شبہات کی عینک سے نہیں دیکھنی چاہیے۔
    پورے سیشن میں دشمنی، لڑائی، سازش، جنگ، ایٹمی قوت، خطرہ، جہاد جیسے الفاظ تو تکرار کے ساتھ سننے میں آتے رہے تاہم افہام و تفہیم، امن، مساوی تعلقات، ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت، آئین و قانون، امن و امان، اندرونی خود مختاری جیسے الفاظ کو کان ترس گئے۔
    قریباً چالیس منٹ کے سیشن کے بعد مہمانانِ صحافت چائے سموسے میں مصروف ہوگئے اور حافظ صاحب کو بھی محسوس ہوگیا کہ مربوط ڈائیلاگ کی فضا نہیں بن پارہی۔
    پورے سیشن کو میں چپ کا روزہ رکھے دیکھتا رہا۔ بعد ازاں حافظ سعید سے جو سوالیہ گفتگو ہوئی اس کا جوابی لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان کو اندرونی سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا کے باوجود جب تک پاکستان اور کشمیر کے بارے میں بھارتی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ ہی رہے گا۔ خطے کے حالات کے سبب اس کا فلاحی ریاست بننا فی الحال ممکن نہیں۔ ہندوستان کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ اگر دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ فوج کی رضامندی بھی شامل ہے جو کہ افسوسناک بات ہوگی۔
    حافظ سعید نے بتایا کہ وہ بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے کے مضامین پڑھتے رہتے ہیں کیونکہ وہ کھری اور سچی بات کرتی ہیں۔ برطانوی صحافی رابرٹ فسک بھی پسند ہیں اور ان سے مل چکے ہیں۔ لیکن امریکی سکالر نوم چومسکی کا بس نام سنا ہے۔ پڑھنے کا موقع اب تک نہیں ملا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/02/120202_hafiz_saeed_wusat_sz.shtml

  • ’مؤثر قانون نہیں تو کارروائی کیسے کریں‘
    آخری وقت اشاعت: جمعـء 3 فروری 2012 ,‭ 10:01 GMT 15:01 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    جب پارلیمان قانون نہیں بنائے گی تو سکیورٹی ایجنسیاں کارروائی کیسے کر سکیں گی:رحمان ملک
    پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک میں انسداد دہشتگردی کے لیے مؤثر قوانین نہیں ہیں اور اسی وجہ سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں دشواری ہو رہی ہے۔
    یہ بات انہوں وزیر مملکت شیخ وقاص اکرم اور مسلم لیگ (ن) کے صاحبزادہ فضل کریم کی جانب سے بعض مذہبی اور کالعدم جماعتوں کے اتحاد ’دفاعِ پاکستان کونسل‘ کی مبینہ غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں نکتۂ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں کہی۔
    اسی بارے میں
    ’مالی مدد کی بحالی سے کالعدم تنظیمیں متحرک‘
    ’رہائی کے بعد شدت پسند تنظیموں میں شمولیت‘
    ’بلوچستان میں آپریشن نہیں ہو گا‘
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان, دہشت گردی
    وزیر داخلہ نے کہا کہ کافی عرصہ سے انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا بل ایوان بالا سینیٹ میں زیر التواء ہے اور اس کی منظوری کے بغیر نام تبدیل کر کے سیاسی سرگرمیاں کرنے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی میں قانونی رکاوٹ ہے۔
    قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق شیخ وقاص اکرم نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں کابینہ کے اجلاس میں یہ بات اٹھائی کہ کالعدم جماعتوں نے دفاع پاکستان کونسل کے نام سے ملک بھر میں جلسے جلوس شروع کیے ہیں اور یہ پاکستان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔
    “کالعدم جماعتوں کے خلاف بات کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے لیکن یہ شرم کی بات ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور جو حکومت کالعدم جماعتوں کو نہیں روک سکتی وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا لڑے گی۔”
    شیخ وقاص اکرم
    ان کے بقول وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو خط لکھے ہیں کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں جلسے جلوس کرنے نہ دیں۔ ’مجھے اس خط کی کاپی بھی ملی ہے لیکن رحمان ملک جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ وہی جماعت آج اسلام آباد میں جلسہ کر رہی ہے۔جب وہ اسلام آباد میں انہیں نہیں روک سکتے تو صوبوں پر انگلی کیسے اٹھا رہے ہیں‘۔
    انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے خلاف بات کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے لیکن یہ شرم کی بات ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور جو حکومت کالعدم جماعتوں کو نہیں روک سکتی وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا لڑے گی۔
    اس کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ فاضل رکن نے اخباری خبر پڑھ کر بات کی ہے اور وہ اس کی تحقیقات کروائیں گے اور اگر یہ بات درست نکلی تو حکومت متعلقہ تنظیم کے خلاف کارروائی کرے گی۔
    انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کالعدم جماعتیں نئے ناموں سے جماعت بنا لیتی ہیں۔
    وزیر داخلہ کے بیان پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ وہ شیخ وقاص اکرم کی تائید کرتے ہیں کیونکہ یہ کالعدم جماعتیں پاکستان کا تمسخر اڑا رہی ہیں۔
    “کافی عرصہ سے انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا بل ایوان بالا سینیٹ میں زیر التواء ہے اور اس کی منظوری کے بغیر نام تبدیل کر کے سیاسی سرگرمیاں کرنے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی میں قانونی رکاوٹ ہے۔”
    رحمان ملک
    انہوں نے سوال کیا کہ لاہور میں سنی کونسل کو جلسہ کرنے نہیں دیا گیا لیکن دفاعِ پاکستان کونسل کو اجازت دی گئی؟۔ ان کے بقول جو ملکی رٹ کو چیلنج کرتےہیں دہشت گردی کرتے ہیں انہیں اگر اجازت دی گئی تو پاکستان کو خطرہ ہوگا۔
    ان کا جواب دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا بل سینیٹ میں کافی عرصے سے زیر التویٰ ہے جب پارلیمان قانون نہیں بنائے گی تو سکیورٹی ایجنسیاں کارروائی کیسے کر سکیں گی۔
    انہوں نے کہا کہ بیشک تین برس کے لیے ترمیمی بل منظور کرلیں تاکہ موجودہ حالات سے نمٹا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں کالعدم تنظیموں کو جلسے کرنے نہیں دے گی۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/02/120203_rehman_malik_terror_ka.shtml

  • ’مالی مدد کی بحالی سے کالعدم تنظیمیں متحرک‘
    آخری وقت اشاعت: جمعـء 3 فروری 2012 ,‭ 08:43 GMT 13:43 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں:خفیہ رپورٹ
    پاکستان کے خفیہ اداروں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اور بیرونِ ملک سے کالعدم تنظیموں کو ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں سرمائے کی فراہمی سے ایسی تنظیمیں ایک بار پھر متحرک ہو رہی ہیں جوگُزشتہ کچھ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کمزور پڑ گئی تھیں۔
    بی بی سی اردو کو حاصل ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوا لیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔
    اسی بارے میں
    ’رہائی کے بعد شدت پسند تنظیموں میں شمولیت‘
    کالعدم تنظیمیں عیدالاضحیٰ کے دوران متحرک
    طالبان سے مذاکرات کی قانونی حیثیت
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان
    ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیموں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔
    انٹیلیجنس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں۔
    وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے جو رپورٹس دی گئی ہیں اُن کے مطابق سات کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف بینکوں میں متحلف ناموں سے اپنے اکاؤنٹس کھلوا رہے ہیں۔ انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں میں جیش محمد، تحریک اسلامی، ملت اسلامیہ پاکستان، غازی فورس، حزب التحریر، جمیعت الفرقان اور خیرالنساء انٹرنیشنل ٹرسٹ شامل ہے۔
    ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مذکورہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اور دیگر افراد کے ناموں پرملکی اور غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹس کھلوا کر اُنہیں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
    رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد میں متعدد ایسے ہیں جو پہلے بھی ان تنظیموں کے نام پر کُھلنے والے اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے اور نکلوانے کے لیے اُنہیں استعمال کرتے رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے ان تنظیموں پر پابندی لگنے کے بعد اُنہوں نے ان اکاؤنٹس کو استعمال نہیں کیا۔
    “کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوالیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔ ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیمیوں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔”
    ذرائع وزارتِ داخلہ
    ذرائع کے مطابق اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کے عمل کی کڑی مانٹرنگ کے بعد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقل کرنے کا طریقۂ کار اپنایا گیا ہے۔
    رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں آنے والی رقوم کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر بھرپور طریقے سے منظم ہو رہی ہیں۔
    ان اطلاعات کی روشنی میں وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے بینکنگ سرکل اور متعلقہ حکام سے مختلف بینکوں میں کُھولے گئے ایسے کھاتوں کی تفصیلات اکھٹی کرنے کو کہا ہے جن میں بھاری رقوم اور بالخصوص غیر ملکی کرنسی میں رقوم بھیجی جارہی ہیں۔
    حکومتِ پاکستان نےچوبیس کالعدم تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے ان میں مذکورہ سات تنظیموں کے علاوہ لشکر جھنگوی، سپاہ محمد،لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان،تحریک نفاذ شریعت محمدی، القاعدہ، تحریک جعفریہ، جمیت الانصار، بلوچستان لیبریشن آرمی، انصارالاسلام ، حاجی نامدار گروپ، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں۔
    اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے جن چار تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن کے مختلف بینکوں میں کھلے ہوئے اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے ہیں ان میں جماعت الدعوۃ، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ اور حرکت الاجہاد اسلامی شامل ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/02/120203_intel_reports_financial_aid_zs.shtml

  • According to the Saudi Salafi-Wahhabi mullah, Jihad must be against Hazrat Bal, Khwaja Nizamuddin Chishti Ajmeri and other shrines in India and Kashmir. According to him the Jihad to make Kashmir autonomous or a part of Pakistan is not Jihad.

    http://youtu.be/1bGyhf7HD6o

    Here is an extremist Deobandi mullah (Ilyas Ghumman) of Sipah-e-Sahaba who is criticizing Hafiz Saeed and Lashkar-e-Taiaba, describing Hafiz Saeed as an American and British agent.

    http://youtu.be/Ses_6GBCoSo