Original Articles Urdu Articles

Target of the century – by Ibrar A. Mir


دھائیوں کا نشانہ

پانچ جولائی 1977، چھ اگست 1990، پانچ نومبر 1996 اور اب 2012 کی کوئی وارد کی ھوئی تاریخ کونسی ھوتی ھے اسکا انتظار کرنا پڑیگا یا پھر موجودہ گورنمنٹ کی دی ھوئی تاریخ کو معجزے سے کم نہیں سمجھنا چاھئیے اور کچھ لوگوں کے لیئے یہ ہضم کرنابھی مشکل ھو گا کیونکہ اصل مسلہ تو سینٹ کے الیکشن کا ھے کہ اس کو کیسے روکا جائے۔ یہ تناظر تو پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے گرائے جانے کا ھے لیکن اسکے علاوہ مسلم لیگ ن کی حکومتیں بھی آرٹیکل 58-2b اور ڈنڈے کے زور پر گھر بیجھی گئی ھیں۔ اب اگر صرف 33 سال پہلے سے شروع ھونے والی چند چیدہ جیدہ شہادتوٰں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ 4 اپریل 1979 کو نہ صرف شہید زوالفقار علی بھٹو کو عدالتی طورپر قتل کیاگیا بلکہ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی تاکہ پاکستان کو مظبوط کرنے، عوام کو سیاسی شعور دینے، انڈیاسے جنگی قیدی واپس لانے، انڈیا سے زمین کی واپسی، محسن پاکستان کے زریعے ایٹم بم، اقوام متحدہ میں شمشیر علی کی رفتار میں پاکستان کا مقدمہ، یونیورسٹیوں کا جال، اسلامی آئین، آزاد خارجہ پالیسی، امریکہ سے برابری پر تعلقات،اسلامی سربراہی کانفرنس، شراب پر پابندی اور جمعہ کی چھٹی، کشمیر پر واضح موقف، گلگت بلتستان کو حقوق، قبائلی علاقوں میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات، زرعی اصلاحات، حج پالیسی، وڈیراہ ازم کا خاتمہ، عوامی حکومت براستہ عوامی نمائیندے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ، بیرون ملک شہریت اور بے شمار تاریخی کارنامے والی یہ سیاسی اور جمہوری جماعت صفح حستی سے ھی مٹ جائے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے۔ بھٹو شہید نے آمر کے آگے جھکنے سے انکار کیا اور پھانسی پر جھول گئے اور اپ بھٹو شہید کا نام تب و تاب جاودانا بن گیاھے اور غداروں، منافقوں، سیاسی یزیدوں کو کوئی پوجھنے والا تک نہیں ھے۔

ہاں پر آگے چلنے سے پہلے اس بات کا زکر کرنا نہائیت لازمی ھے کہ بھٹو شہید کی دور اندیشی نہ صرف ملکی معاملات یا سیاست پر تھی کہ جس سے انکی ولولہ انگیز شخصیت کا پتہ جلتا ھے بلکہ انہوں نے اپنے نام کے زریعے بھی بہت نفیس اور جامع پیغام دیا اور وہ تھا بے نظیر بھٹو یعنی بھٹو لیکن بے ظیر کہ جس کی کوئی مثال نہ ملتی ھو۔ تو کیا اس دختر مشرق اور شہید جمہوریت نے اس نام کی لاج نہیں رکھی۔ اپنے باپ کی شہادت پر ھمالیہ کو روتے ھوئے دیکھا تو سیاست اور عزم میں ھمالیہ سے بھی زیادہ مظبوط اور بلند ھو گئیں۔ سوا دو سال گھر میں نظر بند رہنا اور پھر تاریخ کے بد ترین آمر کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہیدوں کے فلسفے کو من و عن آگے پہنجایا۔ اپنے دو بھائیوں کو شہید ھوتے ھوئے دیکھا، مادر جمھوریت کی لمبی بیماری کے علاوہ اپنے شوھر (مردحر) کی رھائی کے لیئے جیلوں کے چکر کاٹنے پڑے۔ 18 اپریل 1986 کے بعد دو ادوار کی ادھوری حکومتوں جن میں بے شمار تاریخی کام جس میں کہ میزائل ٹیکنالوجی کے باوجود حق سچ کی جنگ میں 18 اکتوبر 2007 کو ساسی یزیدوں کو للکارنا اور 27 دسمبر 2007 کا سیاہ ترین دن کہ جب عوام میں جام شہادت نوش فرمایا۔ تو مخالف سمجھا کہ اب پیپلز پارٹی گئی لیکن جب بھٹو شہید نے یہ کہا کہ بھٹو ایک نہیں دو ھیں تو کچھ غلط نہیں کہا اور پھر سب نے دیکھا کہ بھٹو کے فلسفے کو پرقرار رکھنے کے لیئے مرد حر آصف علی زرداری نے پاکستان کپھے کا نعرہ لگایا اور نہ صرف پارٹی بلکہ پاکستان کو بجایا۔ اپ تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا اور اغیار نے بھٹو کو پھر سے گڑھی خدابخش سے حکومت کرتے ھوئے دیکھا۔ 18 اکتوبر 2007 کو اگر کوئی اور  لیڈر ھوتے تو ملک جھوڑ کر بھاگ جاتے جیسا کہ دوسری پارٹیوں کے کچھ لیڈر اپنی جان بچاکر بھاگ گئے تھے۔ لیکن یہ بھٹو تھیں اور وہ بھی بے نظیر قسم کی کہ جو سیاسی قربلا کے یزیدوں کو تو للکارتی رھیں لیکن سیاسی قربلا جھوڑ کر بھاگی نہیں اور پھر 27 دسمبر کو دنیا نے دنیا کو روتے ھوئے دیکھا۔

آصف علی زرداری نے جنرل مشرف کی اقتدار سے علیحدہ کرنے میں جس سیاسی پصیرت کا عملی نمونہ پیش کیا تو اپنی اس سوج کو واضح کردیا جو انہوں نے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو سے ھر لمحہ اور ھر ساکت سیکھٰی۔ بھٹو شہید کی طرح حمودالرحمن کمیشن کو مد نظر رکھتے ھوئے جنرل مشرف کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جس سے کہ فوج جیسے مضبوط ادارے کا مورال کم ھو۔ اب سارے اھم اور دور رس نتائج کے حامل کارنامے جس میں 33 سال بعد 1973 کے آئین کی بحالی، 19 سال بعد NFC ایوارڈ، پاکستان کی 65 سالہ تاریخ میں صدارتی اختیارات کی پارلیمنٹ کو منتقلی، گلگت بلتستان کو کونسل سے زیادہ اختیارات دینا، صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینا، بلوچستان سے معافی مانگنے کے علاوہ ان کے حقوق کا باقاعدہ آغاز،گورنمنٹ کے 80 سے زیادہ اداروں میں ملازمین کو 12% شیرز دینا، حقوق نسواں کی پاسداری، بے نظیر انکم سپورٹ، کشمیر کے لئیے انڈیا کو مذاکرات کی میز پر لانا اور تجارت کی صحولتیں محیاکرنا، فاٹا یعنی قبائیلی علاقوں میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کا اجرا، مالاکنڈ ڈویژن میں معجزاتی امن قائم کرنا، ملک کی تمام سیاسی اور مذھبی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا، بٹھان قوم کو خیبر پختونخواہ کی شناخت دینا، عوامی مینڈیٹ کو ماننا، امریکہ کو پاکستان کی ایمیت کا احساس دلاتے ھوئے NATO کی سپلائی روکنا، شمسی ایئر بیس کا خاتمہ اور بون کانفرنس سے انکار، امریکی پریشر کے باوجود ایران کے ساتھ گیس کا معائدہ کرنا، تھر کول کے ذخائر سے بجلی اور گیس پیداکرنا، بھاشادیامیر ڈیم کا افتتاح، ڈیفنس بجٹ کو پہلی بار پالیمنٹ میں لانا،قدرتی آفات کا حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرنا، اسامہ کے مسلئے پر اپنی افواج کا ساتھ دینا، تخریب کاری جیسے اژدھا پر کافی حد تک قابو پانا کہ اب تو ملک میں ھر پارٹی بڑے بڑے جلسے کرہی ھیں۔  خیر میں چاھتے ھوئے بھی اور معاملات کا ذکر نہیں کر نا جاہتا کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اب پاکستانی قوم اس مشکل کو حل کرنا جایتی ھے یا حل ھوتے ھوئے دیکھنا چاہتی ھے جو کہ دن بدن نہ صرف اپنے ناعقبت اندیش تجزیہ نگاروں، سیاسی اداکاروں، ٹھکرائے ھوئے سیاستدانوں کی ملی بگھت کے ساتھ ساتھ اب انٹرنیشنل میڈیا اور کچھ پرانے انٹرنیشنل کھلاڑی بھی شامل ھو گئے ھیں۔ پیپلزپارٹی کوئی فرشتوں کی جماعت نہیں کہ جس سے کوئی غلطی نا ھوئی ھو لیکن سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ پیپلزپارٹی کو اس کے تاریخی کاموں کی سزا آخر کیوں دی جاتی ھے اور اس میں وہ ادارے جو کہ پیپلز پارٹی کے مرحون منت ھونے چاھیں ان اداروں کے کچھ لوگ ھی پیپلزپارٹی اور اسکی قیادت کے پیچھے پڑ جاتے ھیں۔

پیپلزپارٹی کو دفن شدہ مقدمات اور پاسٹ اینڈ کلوز ٹرانزیکشنز میں زبردستی گھسیٹا جا رھا ھےاور جن مقدمات میں حکومتوں کو گرانا اور ناجائزحکومتوں کو بنایا گیا اور دیگر بڑے بڑے مقدمات کو ہاتھ تک نہیں لگایاجارہاھے۔ پیپلز پارٹی  بھٹو شہید نے اپنے خلاف پھانسی کا حکم دینے والے ججز کو بھی مائی لارڈ کہہ کر پکارا اور تاریخ گواہ ھے کہ پیپلزپارٹی نے کبھی بھی عدلیہ پر حملہ نہیں کیا۔ اور اب صدر پاکستان آصف علی زرداری اور موجودہ حکومت نے آرٹیکل 58 2b ختم کردی ھے اور وہ راستے بھی بند کردئیے کہ جس سے صدر پر پر یشر ڈال کر اسمبلی کو جلتا کر دیا جاتا تھا۔ تو پھر کونسا راستہ بچ جاتاھے کہ جس سے نہ صرف حکومت کو چلتا کیاجاسکے بلکہ 35 سال پہلے جلنے والی ناپاک سازش کو پایہ تکمیل پہنچایاجائے کیونکہ اس سے عوامی راج کا خاتمہ بھی مقصود ھے۔ کھیل وہی کھیلا جارہا ھے لیکن اب زرا انداز مختلف ھے اور اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہا ھے۔ پیپلز پارٹی ایک نظریہ ھے اور اس میں شہید قائدین اور شہید کارکنان کا لہو بھی شامل ھے اور ان سیاسی فرعونوں کو یہ معلوم ھو نا چاھیئے کہ شہید اور بھٹوز کبھی نہیں مرتے۔ اب تو نہ صرف بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو نے بھی اپنے شہید نانا اور شہید ماں کی طرح اس ملک پر قربان ھونے کی قسم اٹھالی ھے بلکہ نوجوانوں اور پارٹی کے جیالوں نے بھی ان کے لیئے اپنا خون کا آخری قطرہ تک دینے کا ازم کر رکھا ھے۔

 


About the author

Farhad Jarral

5 Comments

Click here to post a comment