Original Articles Urdu Articles

Biased analysis and guesswork against democracy

ہم چینل سرفنگ، ویب براؤسنگ، اور ایس ایم ایس کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ جہاں کی بورڈ، ماؤس، سیل فون اور ریموٹ کنٹرول کی صورت یں پوری دنیا انسان کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ محض ‘سائن ان’ کرنے سے ہم اپنا رشتہ پوری دنیا سے جوڑ لیتے ہیں۔ ہم بلاگز، فیس بک، ٹویٹر،یوٹیوب، سے اپنے خیالات اور مطالبات دنیا کے کسی بھی فرد اور ادارے تک پہنچا سکتے ہیں۔ اطلاعات ور معلومات کے اس عہد میں پاکستان میں بھی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے مراحل بڑی تیزی سے طے ہوۓ ہیں۔ سٹیلائٹ کیبل ٹی وی، سائبر میڈیا، انٹرنیٹ اور کیمونیکشن کے جدید آلات کا پھیلاؤبڑھتا جارہا ہے۔ اخبارات کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے صفحات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

مگر دوسری طرف تضاد کی صورت یہ ہے کہ ہمارے ہاں درست اطلاعات اور معلومات کا ایک قحط اورافلاس واضع نظر آتا ہے۔ ہماری بے خبری کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنی تاریخ، حال اور مستقبل سے لاعلم ہو چکے ہیں۔ ہمارےنصاب تعلیم سے ٹاک شو اور کرنٹ آفیرز کے پروگرامز تک گمراہی اوربےخبری کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ آذاد میڈیا کے نام پر ہونے والے ٹاک شو ‘افواہ سازی’ کے کاروباری مرکزکا منظر پیش کرتے ہیں۔

غیر زمےدار میڈیا تضادات اور سراب میں مبتلہ معاشرے کو مزید ہیجان کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ٹی وی ٹاک شو میں غیرت مندی پرمنبی تبصرے، جذبات پرمنبی آراء اور حکومت کو گھر بھیجنے کی خواہش نے خبر کو ‘خبرناک’ بنا دیا ہے۔ اس مسخرہ پن میں ہمارے اینکرز، سٹیج کے بھانڈوں کو بٹھا کر ہنسانے کی کوشش میں پوری قوم کو رولا رہے ہیں۔

اب ہمارے پاک امریکہ تعلاقات کے تبصرہ کار اورپاکستان میں میں جمہوری کشمکش اور سیاسی ارتقاء کو بیان کرنے والے یہی بھانڈ ہیں،ان مسغروں نے قوم کے اردو تلفظ کو ٹھیک کرتے کرتے قوم کو جہالت کےاندھیرے راستے پر ڈال دیا ہے۔

ہر روز 8 سے 11 بجے کے درمیان اینکر حضرات اپنی دکان کا شٹر کھولتے ہیں، جہاں امیدوں اور خواہشات پر مبنی تجزیوں کا سودا فروخت ہوتا ہے، جہاں ریٹنگ اور ریونیو کےلۓ مہمانوں کے درمیان ‘ٹکر بازی’ کا مقابلہ کرایا جاتا ہے۔ اور گمراہ کیے جاتے ہیں معصوم عوام۔

شیخ رشید صاحب جن کی آراء کے بغیر ٹاک شو مکمل نہیں ہوتا، جو چیف جسٹس کے بارے میں یہ راۓ رکھتے تھے’ آپ ‘یو ٹیوب’ پر سن سکتے ہیں۔ آج آن کے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔ کل وہ جنرل مشرف کے حق میں دلیلیں دیتے نہیں تھکتے تھے اور آج جنرل کیانی کے۔ ان کی حیشیت نیوز میڈیا کے لۓ افلاطون کی سی ہے۔

ہمارے شعبدہ باز اینکرز اور شوشے چھوڑنے والے ان کے پسندیدہ مہمان، جن کو عوام انتخابات میں بری طرح رد کرچکی ہے، ان کی آرا کو پوری قوم پر مسلط کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔

نزیر ناجی صاحب درست فرماتے ہیں، جن کے پاس بولنے کے لۓ کچھ نہیں ہوتا وہ ذیادہ بھونکتے بولتے ہیں۔

قیاس آراؤں اور افواہوں کا ایک بازار سجاۓ، دانشمند اینکرز چلا چلا کرپوچھ رہےہوتے ہیں کہ ‘سوال یہ ہے’، ٹی وی اینکر بننے کے لۓ معیارشائد بد تمیز ہونا طے پا چکا ہے۔ جو ذیادہ بدتمیز اور بدتہذیب اسکی ریٹنگ اتنی بہتر۔ یہاں بد تمیزی اور بد تہذیبی کا نام ‘کھری بات’ رکھ لیا گیا ہے۔

فوج اور سپریم کورٹ کے ‘بادی النظر’ الائنس اور کمزور سویلین حکومت کے درمیان ممکنہ تصادم کی تصویر کشی کرنےوالے ان اینکرز کی امیدوں پرصدر آصف علی زرداری کی چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی کی ملاقات نے پانی انڈیل دیا۔ جوامیدوں، خواہشات اور طلب کو رہنما بنا کر تجزیہ پیش کر رہے تھے۔

ان کے تضادات اور مفادات کی یہ صورت ہے کہ ان کو اپنے قوم کے منتخب صدراوروزیرا عظم سے انتہائ نفرت اور تعصب ہے اوران کی کسی بات پرایمان نہیں، جبکہ ایک سازشی امریکی شہری جس کا ہر لفظ پاکستان کی نفرت میں ڈوبا ہوا ہے، اس کے تحریر کردہ کاغذ کے ٹکڑوں کو الہامی حیشیت دی جار ہی ہے۔ انہیں تضادات اور مفادات کی نشاندہی محترم نزیر ناجی اپنے ‘روزنامہ جنگ’ میں شائع ہونے والے کالم میں کر رہے ہیں۔