Newspaper Articles

Woh takhta dar per paida hoa tha -by Saeed Ahmed

وہ تختہ دار پر پیدا ہوا تھا؟

اور 4 اپریل کی درمیانی شب دو بجے 3 ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر پیدا ہوا تھا۔

اس کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرنے کی آخری تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔
عدالت اعظمیٰ کے عزت مآب چیف جسٹس انوار الحق نے ایک فیصلہ صرف دس سیکنڈ میں سناتے ہوئے 6 فروری کے سپریم کورٹ کے دائمی زندگی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

6 فروری کو بھٹو کاتاریخ میں ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق نے پڑھ کر سنایا جس سے جسٹس کرم الٰہی چوہانٴ جسٹس اکرم اور جسٹس نسیم حسن شاہ نے اتفاق کیا لیکن تین ایسے جج بھی تھے جسٹس صفدر شاہٴ جسٹس دراب پٹیلٴ اور جسٹس ایم حلیم جنہوں نے اختلاف کیا کہ آج ایک شخص جنم لے گا کہ آنے والی نسلیں اس کو ہمیشہ یاد رکھیں گیà

وہ کوئی اور شخص تھا جو 5 جنوری
1929 ئ کو پیدا ہواٴ اور جس نے امریکہ اور برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کیٴ اور وہ جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون پڑھایا کرتا تھاٴ اور وہ شخص جس نے اپنے وقت کے ڈکٹیٹر سے اختلاف کیا اور اس کی سیاست کو ماننے سے انکار کیاٴ اور حکومت سے علیحدہ ہوکر عوام تک پہنچا۔ اس نے پاکستان کے 20 برسوں سے یرغمال انسانوں کو آزاد کرانے کی جدوجہد کا آغاز کیاٴ
وہ باغی تھاٴ وہ کیسا عجیب شخص تھاٴ وہ انقلابی تھاٴ وہ وزیراعظم بن گیاٴ اس نے عوام کو احتجاج کرنا سکھایاٴ وہ عوام کی آواز تھاٴ گہری تاریک رات میں وہ ایک تنہا آواز جو لوگوں نے سنی اور اس کو پہچان لیا کہ وہ لوگوں کو عزت اور احترام کی زندگی دینے آیا ہے۔ اس نے کمزوروں ٴ غریبوں اور مجبوروں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی ہمت دیٴ اس نے عوام کے اندر بغاوت اور انقلاب کی آگ بھڑکا دیٴ وہ گرجتا تھا تو عوام کے دل دھڑکتے تھے۔ وہ کیسا شخص تھاٴ اس کو جنون تھا کہ وہ عوام کی زندگیاں بدل کر رکھ دے گاٴ سامراجی آقائوں کے غلاموں کو زندگی کا نیا چلن سکھائے گا۔
وہ عوام کی آواز تھا اور یہ اس کا جرم تھا۔ وہ عوام کی امید تھا یہ اس کا گناہ تھا۔ اس شخص نے یہ جرم کیا اور وہ خوش تھاٴ پرامید تھاٴ آنے والے دنوں میں لوگوں کی وہ تعبیر تھاٴ وہ صبح کا ستارا تھاٴ وہ چمکتا ہوا سورج تھا۔

ایک مستبد اور جابر ڈکٹیٹر کو اس کی یہ ادا پسند نہ آئیٴ اس نے دیکھا کہ لوگ اس کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیںٴ ڈکٹیٹر بوکھلا گیاٴ اس نے عجلت میں کہ کہیں عوامی بغاوت نہ پھوٹ پڑےٴ اس کو زندان میں ڈال کر عدل و انصاف کا سٹیج تیار کیا۔ عدالت اعظمیٰ میں بڑے بڑے ججوں نے اس کے مقدمے کی سماعت کی۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا کہٴٴ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی نا انصافیاںٴٴ

جنگوں کے میدانوں میں اور عدالتوں کے ایوانوں میں کی گئی ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو جانتا تھاٴ کہ وہ جسم میں زندہ رہ سکتا ہے لیکن اس نے تاریخ میں زندہ رہنے کو پسند کیا۔ انقلابیٴ باغی اور عوامی لیڈر اپنی پسندٴ اور اپنی مرضی سے زندہ رہتے ہیںٴ انہیں خوب راس آتی ہیں جیل کی تنہائیاںٴ جیل کی اذیتیںٴ اور ان کی راتیں جاگ کر گزرتی ہیںٴ عوام کے دکھوں کو وہ دن بھر محسوس کرکے سلاخوں کے پیچھے سے آسمانوں کو دیکھتے ہوئے وہ جانتے ہیں کہ زندگی اور موت کے کوئی معنی نہیں ہیںٴ وہ ایک ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جو موت کی بانہوں میں ہوٴ وہ اپنے عمل سے زندگی اور موت کا مفہوم اور مقصد طے کرتے ہیں۔

3 اور 4 اپریل کی درمیانی شب کو ذوالفقار علی بھٹو پیدا ہوا۔

27 دسمبر کی شام کو بے نظیر نے جنم لیا۔
20 ستمبر کو ایک سڑک پر خون میں لت پت مرتضیٰ بھٹو نے آنکھیں کھول کر مردہ لوگوں پر ایک نگاہ ڈالی۔
18 جولائی کو 27 سالہ شاہنواز بھٹو کی بے یارو مدد گار میت سے ایک نوجوان نے اپنے بابا کو پکارا اور دائمی زندگی حاصل کی۔

گڑھی خدا بخش کا فاصلہ کربلا کے میدان سے صرف چند لمحوں میں طے ہوتا ہے۔ صحراٴ تپتی ہوئی ریتٴ تیز دھوپ میں جلتے ہوئے خیمےٴ اور اپنے جسموں کے نذرانے پیش کرنے والوں کا مقابلہ کون کرسکتا ہےٴ کوئی تلوارٴ کوئی نیزہٴ کوئی بندوقٴ پھانسی کا کوئی پھندہ انہیں صرف ہمیشہ زندہ رہنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتا ہے۔

زندہ لوگوں میں کتنے ہزاروں اور لاکھوں لوگ ہیں جو مرچکے ہیںٴ اپنے لئے زندہ رہنے والے ساری زندگی اپنی ہی لاش کو اٹھائے پھرتے ہیں اور وہ جو دوسروں کے لئے اپنی جان قربان کردیتے ہیں وہ گڑھی خدا بخش میں رہتے ہیں۔

کیسا گھر ہےٴ اور ذرا اس گھر کے مکینوں کو دیکھوٴ ایک ہی صف میں قطار اندر قطار اپنے اپنے گھروں میں کیسے سکون اطمینان اور خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں کہ وہ جو دربدر ہیںٴ اور جنہیں زندہ رہنے کی سزا ملی ہے۔ اور وہ جو حرف انکار کہنے کی جرات کرتے ہیںٴ وہ جو زندان میں ہیںٴ اور وہ جنہیں زنجیریں پہنائی گئیں
۔
اور وہ جنہیں ایک بار پھر کڑی آزمائش سے گزارنے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیںٴ ان کے سینوں میں بغاوت کے علم روشن ہیںٴ وہ گڑھی خدا بخش سے چاروں اطراف پھیلنے والی ہوائوں پر لکھے ہوئے اس شخص کا پیغام پڑھ رہی ہیں جو 3 اور 4 اپریل کی درمیانی شب پنڈی کی ایک جیل میں تختہ دار پر پیدا ہوا تھا؟

Source: Daily Mashriq Lahore

About the author

Junaid Qaiser

2 Comments

Click here to post a comment