Newspaper Articles

Media and rise in intellectual infertility -by Shafqat Aziz


Related Article:

National media conference -by Arshad Mahmood

مےڈےا اور بڑھتا ہوا فکری بانجھ پن

عہد حاضر مےں مےڈےا اپنی تمام دوسری جہتوں کے ساتھ بعض بنےادی اصولوں پر عموماً کاربند دکھائی دےتا ہے۔ مےڈےا عام شہرےوں کو قومی و بےن الاقوامی حالات سے با خبر رکھنے کے علاوہ سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات کے بارے مےں انہےں ضروری آگہی دےتا ہے اور ےہ فرےضہ ادا کرتے ہوئے اس بنےادی ذمہ داری کا خیال رکھتا ہے کہ کہےں رپورٹنگ، تجزےات اور دےگر مواد سے معاشرے مےں نفرت، بد امنی اور انتہا پسندانہ رجحانات کے فروغ کا ذرےعہ نہ بن جائے۔ پاکستان کے تناظر مےں بات کی جائے تو ےہ گنگا ےکسر الٹی بہتی نظر آئے گی اور بحےثےت مجموعی مےڈےا نہ صرف اس بنےادی ذمہ داری سے عاری دکھائی دےتا ہے بلکہ اکثر اوقات اس کا کردار مجرمانہ غفلت سے بھی تعبےر کےا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے مےں معاشرے مےں باہم تفرقے، جنگ و جدل اور تخرےب کا عمل تےز تر ہو جاتا ہے۔
آج پاکستان مےں بسنے والے لوگوں کی بڑی اکثرےت کسی نہ کسی طرح نفرت، انتہا پسندی، تنگ نظر تصور عالم اور اےسی ہی دوسری قباحتوں کو قبول کرنے لگی ہے۔

اس کے کئی دوسرے عوامل بھی ہےں مگر سماج مےں ٴ زہرےلے کانٹےٴ بونے اور بکھےرنے کے عمل مےں مےڈےا برابر کا حصہ دار ضرور ہے۔ ےہ درست ہے کہ رےاستی سطح پر کج رو تصور عالم اور بھونڈی پالےسےوں کے نتےجہ مےں زہرےلا نصاب تعلےم، خواتےن، اقلےتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانے والے امتےازی قوانےن کے علاوہ مذہبی انتہا پسند گروپوں کی سرپرستی کے باعث کانٹوں کی فصل کی خوب آبےاری کی گئی تاہم مےڈےا اس ہلاکت آفرےں کاروبار کی روک تھام کی بجائے کبھی دانستہ اور کبھی نا دانستہ طور پر اس کا حصہ بنتا چلا گےا۔ نتےجہ سب کے سامنے ہے اور آج پورا معاشرہ ابتری اور پستی کا شکار ہی نہےں بلکہ اپنے ہی بوجھ تلے دبا کراہ رہا ہے۔
منفی ٴہر دلعزےزیٴ اور رےٹنگ بڑھانے کی دوڑ مےں مےڈےا معاشرہ کو اس بند گلی مےں لے آےا ہے جہاں اجتماعی ہلاکت کا عفرےت سب کو بلا امتےاز نگلنے کے لیے تےار بےٹھا ہے۔ اس ہلاکت خےز راستہ پر مزےد آگے بڑھتے رہنا کوئی قابل عمل راستہ نہےں۔ مےڈےا کو اس تارےک راہ سے نکلنے اور روشنی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے اپنے کردار کا کامل سنجےدگی سے از سر نو تعےن کرنا پڑے گا۔ گو مےڈےا کی جانب سے اس ضمن مےں براہ راست کوئی کاوش ابھی سامنے نہےں آ سکی تاہم معاشرے مےں اہم موضوعات پر شعور و آگہی عام کرنے کے لیے مصروف عمل ادارہ انڈویږول لےنڈ ٞ اور فرےڈرخ ناؤمن فاؤنڈےشن کے اشتتراک عمل سے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ مےڈےا کانفرنس کو اس حوالے سے اےک قابل ستائش کاوش ضرور کہا جا سکتا ہے۔

مےڈےا کانفرنس کے دوران اخبارات اور الےکٹرونک مےڈےا پر شہرےوں کی دلچسپی کے مواد اور اشتہارات کے دورانےہ کا بھی مفصل موازنہ کےا گےا اور شرکا کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ قارئےن اور سامعےن و ناظرےن پر تھوپے جانے والے اشتہارات کا تناسب انتہائی غےر متوازن ہے۔ صنفی معاملات اور مےڈےا کے کردار کوبھی زےر بحث لاےا گےا۔ آئی اےل کی ڈائرےکٹر گلمےنہ بلال نے پےشہ ورانہ ذمہ دارےوں کی ادائےگی کے دوران 1992 کے بعد جاں بحق ہونے والے 41 صحافےوں کا ذکر کےااور ان کے پر خطر حالات کار پر تفصےلی گفتگو کی۔

پاکستان مےں متعےن جرمن سفےر مائےکل کاخ نے اےک اہم بات کی نشاندہی کی اور کہا کہ کسی بھی معاشرہ مےں مستحکم جمہورےت کے لیے آزاد مےڈےا کا وجود ناگزےر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی صحافی انتہائی پر خطر ماحول مےں کام کر رہے ہےں جو پاکستان مےں دےر پا جمہورےت کے قےام کے لیے امےد کی کرن ہے۔ سفےر موصوف کی گفتگو ےقےنا اہم تھی تاہم مےڈےا مےں بھی ےہ احساس جاگزےں ہونے کی اشد ضرورت ہے کہ اےک مستحکم جمہورےت ہی اس کی اپنی آزادی کی ضامن ہو سکتی ہے جس کی بےخ کنی کی کوششوں کا حصہ اسے بہر صورت نہےں بننا چاہئے۔ اےف اےن اےف کے رےزےڈنٹ ڈائرےکٹر اولف کےلر ھوف نے اس موقع پر آزاد اور ذمہ دار مےڈےا کے فروغ کی اہمےت پر گفتگو کی۔

کانفرنس کی اےک نشست کے دوران جہادی مےڈےا کے کردار و اثرات کو زےر بحث لاےا گےا۔ اس موضوع نے بہت سے شرکا کو مضطرب کےا۔ کئی شدےد اعتراضات بھی سامنے آئے اور اس موضوع پر گفتگو کو ٴگستاخانہٴ قرار دےا گےا۔ اس صورت حال نے جہاں مےڈےا مےں پنپتی ٴدولے شاہ ذہنےتٴ کو واضح کےا وہےں اس اہم شعبہ مےں در آنے والے فکری افلاس کی بھی بھرپور نشاندہی کی۔ فروغ امن پر تحقےق کرنے والے عامر رانا نے موضوع کا حقےقت پسندانہ تجزےہ پےش کےا اور واضح کےا کہ معاشرے مےں انتہا پسندانہ سوچ کا پرچار ہمےشہ معاشرے کے لیے تباہ کن نتائج کا حامل ہو تا ہے۔
حقوق نسواں کی سرگرم کارکن سیمی کمال نے صنفی موضوعات پر مےڈےا کی کورےج اور کردار کو ماےوس کن قرار دےا اور اس امر پر تعجب کا اظہار کےا کہ آخر ہر موضوع اور ہر گفتگو مےں مذہبی حوالے ہمارے لئے اتنے اہم اور ناگزےر کےوں ہےں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنےا آج کے مسائل کو جس طرح طے کر رہی ہے وہی سےدھا اور قابل عمل راستہ ہے چہ جائےکہ نہ ختم ہونے والی مذہبی بحثےں۔ سیمی کمال کے حقےقت پسندانہ اظہار خےال کے بعد مذہبی انتہا پسندی اور دوسرے عصری موضوعات پر تحقےق کرنے والی سحر گل نے شرکا کو مذہبی تعلےمات اور تاوےلات کے روائتی طرز فکر سے مطمئن کرنے کی کوشش کی جو ہمےشہ کی طرح کوئی بھی تاثر چھوڑنے مےں ناکام رہی۔ کانفرنس مےں موجود اہل دانش اس امر پر متفق تھے کہ مذہبی تاوےلات کا سہارا لےنا ملا کے ہاتھ کو مضبوط کرنا ہے کےونکہ آخر کار لوگ ٴروشن خےال مذہبی سکالرٴ پر ان لوگوں کو ترجےح دےتے آئے ہےں جن کا ظاہری حلےہ اور وضح قطع انہےں مذہب کے قرےب تر لگتی ہے۔ جب حتمی عوامی پذےرائی ملا ہی کو ملنی ہے تو اس کے مےدان مےں جانا ٴآبےل مجھے مارٴ کا روےہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

ممتاز صحافی و دانشور غازی صلاح الدےن نے مےڈےا کے شعبہ مےں کام کرنے والوں کے طرز فکر مےں بنےادی تبدےلی کی ضرورت پر زور دےا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی دانشور نظرےاتی تصادم کے دور سے گزر رہا ہے۔ ممتاز صحافی وجاہت مسعود نے کہا کہ اےک آزاد اور ذمہ دار صحافی کو سستی شہرت تلاش کرنے کی بجائے عام طور پر غےر مقبول مقاصد کے ساتھ وابستہ ہونا چاہئے اور ان کے لیے لڑنا چاہئے۔ اس اقلےتوں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بننا چاہئے چاہے معاشرہ کتنا ہی مزاحم کےوں نہ ہو۔ انہوں نے ےاد دلاےا کہ جمہورےت کے بغےر مےڈےا کی آزادی برقرار نہےں رہ سکتی اور ےہ حقےقت مےڈےا کو خود اپنی آزاد حےثےت کی بقا کے لیے بھی پےش نظر رکھنی چاہئے۔

مجموعی طور پر مےڈےا کانفرنس اےک کامےاب تجربہ تھا جس نے منجمد تالاب مےں ارتعاش پےدا کرنے والے پتھر کا کام کےا تاہم مےڈےا کو آزاد اور ذمہ دار بنانے کے لیے بہت کچھ کےا جانا ابھی باقی ہے۔ اس وقت ملک کا الےکٹرونک مےڈےا اور اردو اخبارات معاشرے کو خطرناک قدامت پسندی اور تصادمی جذباتےت کی طرف دھکےل رہے ہےں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ اردو مےڈےا مےں نئے اخبارات تو کھمبےوں کی طرح اگ رہے ہےں مگر کسی ٴنئی باتٴ کے حوالہ سے سب ےکساں طور پر بانجھ پن کا شکار ہےں۔

Source: Daily Mashriq