Original Articles

وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟

ایک پہلوان حضرت ابراہیم ابن ادھم کے پیچھے پڑ گیا کہ مجھ سے کشتی میں مقابلہ کرو، انہوں نے نرمی سے انکار کر دیا تو وہ اور پیچھے پڑ گیا، آخر پوچھا کیا تم مجھ سے طاقتور ہو ؟ اس نے جواب دیا ہاں، یہ بولے پھر لڑنے سے کیا فایدہ تم نے مجھے ہرا ہی دینا ہے، وہ بولا نہیں ہم دونوں برابر ہیں، انہوں نے جواب دیا ‘پھر تو ہم میں کبھی فیصلہ نہیں ہو سکے گا، وہ زچ ہو کے بولا نہیں تم مجھ سے طاقتور ہو، انہوں نے جواب دیا، پھر تم کیوں شکست کھا کر اپنا مذاق بنواتے ہو؟ پہلوان خاموش ہو گیا. ہم جب بھی لوگوں کو بڑھکیں مارتے سنتے ہیں تو یہ قصّہ یاد آ جاتا ہے، اس سے بھی بڑا المیہ یہ  ہے کہ ہم اپنی ذاتی زندگی میں جن چیزوں سے بچتے ہیں کہ کہیں نقصان نہ اٹھا بیٹھیں، قومی اور اجتماعی حوالوں سے ایسی باتوں کی زوروشور سے حمایت کرتے ہیں، غنڈوں کو سر جھکا کر بھتہ دیتے ہیں، کام نکلنے کے لیے رشوت دیتے ہیں، ہتھیار بند ڈاکو کو اپنا سب مال اسباب دے کر جان بچی سو لاکھوں پائے کا ورد کرتے ہیں، زور کو سلام کرتے ہیں، پوری کوشش کرتے ہیں کہ جان پہچان، سفارش، خوشامد وغیرہ سے اپنے کام نکال لیں ، مگر جہاں قصّہ اپنی ذات سے آگے بڑھے وہاں عزت غیرت حمیت ذلّت وغیرہ وغیرہ سب یاد آ جاتا ہے.

حقیقت پسندی ، ذمّہ داری، آگاہی اور سنجیدگی یہی سکھاتی ہے کہ مومن کو بغیر تیغ کے لڑنے کا مشوره دینے والے پہلے خود تجربہ کر لیں، جاتے جاتے ان پر کم از کم شمشیر کی ضرورت واضح ہو جائے  گی، یہاں ہماری مراد شمشیر سے محض شمشیر نہیں ہے بلکہ صلاحیت، استطاعت، کار گزاری اور حیثیت ہے، اور ہمارا خیال ہے کہ یہ سب حاصل کرنے کے بعد قومیں اتنی تجربہ کار ہو جاتی ہیں کہ خود کشی اور جنگ میں فرق کر سکیں. جذبہ کسی بھی عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر محض جذبہ ہی کافی نہیں ہوتا، جذبات پر بہت زیادہ زور غصّے، جھنجھلاہٹ اور مایوسی کا باعث بھی بن سکتا ہے، سن زو کا قول ہے کہ ‘ فاتح جنگ پہلے جیتتے ہیں اور لڑائی بعد میں چھیڑتے ہیں، اور مفتوح لڑائی پہلے شروع کر دیتے ہیں جیتنے کی کوشش بعد میں کرتے ہیں’.

ویسے تو جو کام بھی کیا جائے اس کے کچھ نا کچھ آداب کچھ تقاضے ہوتے ہیں، ملک سے باہر قیام کے دوران ساتھیوں نے کرکٹ ٹیم کے قیام کا ڈول ڈالا،   ہمیں ذمّہ داری دی گئی کہ چند بزرگوں کو کرکٹ کے اصول سکھائیں، ہم نے بولنگ اور فیلڈنگ سے آغاز کیا، بیٹنگ تک پنہچتے پنہچتے زیادہ تر جضرات اونگھنے لگے، ہم کہہ رہے تھے کہ ‘آپ کو رن کے لیے بھاگنا ہو گا ‘ تو ایک صاحب چونکے اور بولے، ‘وہ کدھر ہوگی؟’ ہم نے کہا ‘کون؟’ بولے، ‘رن’ .

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نا تھا —  وہ بات ان کو بہت خوشگوار گزری ہے

جہاں کا یہ قصّہ ہے وہاں رن کے ذکر پر ایسا ہی ردعمل دیکھنے کو مل سکتا تھا. بات یہ ہے کہ حد سے زیادہ پابندیاں بھی انسان کو خوش فہم بنا دیتی ہیں, اور حد سے زیادہ خواہشات بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں. کج فہمی غلط فہمی بننے میں زیادہ وقت نہیں لیتی، اندازے غلط ثابت ہوں تو نقصان ہوتا ہے، اور فیصلے غلط ثابت ہوں تو بھی.  ایک ٹرک ڈرئیور کو ایک جج نے چھیڑا کہ ‘تمھاری ذرا سی غلطی آدمی کو زمین سے چار فیٹ نیچے پہنچا دیتی ہے’، ڈرئیور بولا  ‘اور آپ کی غلطی زمین سے چار فٹ اوپر’. واقعات کے پیچھے کئی محرکات ہو سکتے ہیں، اور محرکات کو جانے بغیر واقعات کی تشریح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اور یہ عمل یعنی محرکات کی نشاندہی آسان کام نہیں، اس قابل بننے میں وقت لگتا ہے،  بہت کچھ ہے جو دکھائی نہیں دیتا مگر ہوتا ہے ،

جگر کی چوٹ اوپر سے کہیں معلوم ہوتی ہے؟ —— جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے

ایسی چوٹوں کی آگہی ان کو ہو سکتی ہے جو خود چوٹ کھا کر بیٹھے ہوں. ایک دریا کو پار کرنے کے لیے مسافروں کی کشتی چلی ہی تھی کہ ایک شخص نے شور مچانا شروع کر دیا، اتنا ہنگامہ کیا کہ سب پریشان ہو گئے، ایک دانا بھی مسافروں میں شامل تھے، انہوں نے انتہائی رسان  سے اس شخص کو پانی میں دھکیل دیا، وہ بیچارہ غوطے کھانے لگا پہلے شور کیا خوب چلایا پھر سست ہو چلا، اب دانا نے ملاحوں سے کہا کہ اسے پانی سے نکال لو، جب نکالا گیا تو خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا، کسی نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا تو دانا نے جواب دیا، ‘اسے پہلے پتا ہی نہیں تھا کہ ڈوبنا کسے کہتے ہیں، پانی میں گرا تو کشتی کی اہمیت پتا چلی’. تو جناب ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی باتیں سن کر دل کرتا ہے کہ ان کو بھی پانی میں پھینک دیا جائے.

مگر ضروری نہیں ہے کہ ہر بات تجربہ کر کے ہی سیکھی جائے ، تاریخ اسی لئے ہے کہ سبق حاصل کر سکیں، جیسا کہ جنگ ہے، جنگ محض فتح اور شکست کا معاملہ ہی نہیں بلکہ کئی المیے چھپائے ہوتی ہے، جنگ ختم ہو جاتی مگر اس کے اثرات دور تک جاتے ہیں، اس کے نتیجے میں جو تبدیلیاں آتی ہیں ان کا بھی اندازہ ہونا چاہیئے. جو لوگ ابھی تک حضرت نسیم حجازی کے اثر سے نہیں نکلے اور قرون وسطیٰ میں رہتے ہیں، ان کو دور حاضر کے ہر جنگ زدہ ملک کی سیر کرانی چاہیئے، تاکہ دیکھ سکیں کہ عام آدمی کو چند مہم جو افراد کے کیے کی کیا سزا ملتی ہے. آج کے دور میں جنگ طاقتور کی چال ہے، چاہے وہ خود لڑے چاہے کسی اور کو لڑوائے ، جن کو اپنی خود مختاری، اپنا مستقبل، اپنی نسلوں کی بہبود عزیز ہے وہ بے حد محتاط رہتے ہیں.

گراؤ جس پے تم بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟

 

About the author

Naveed

5 Comments

Click here to post a comment
  • جناب ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی باتیں سن کر دل کرتا ہے کہ ان کو بھی پانی میں پھینک دیا جائے

    LOL

    I can think of Javed Chaudhry and Mosharraf Zaidi 🙂

  • Sage words my friend! More power to you.

    Be careful offering prescriptions though – people have started preparing lists of their bete noires to toss off the rickety boat 😉

  • زور ایک مسلمہ حقیقت ہے اور یہ مشرق اور مغرب میں دونوں جگہ پائی جاتی ہے

  • Power struggle is always there, but we need to understand what and where is real power; surely conflicts and wars are no good.