Newspaper Articles

Husain Haqqani’s resignation letter – by Hakim Hazik


Source

To,

President Asif Ali Zardari
President of the Islamic Republic of Pakistan

And,

Field Martial Avatar P Kayani
The Supreme Leader,
In-charge S Wing
Father of the Nation

Through the Good Offices of,

Mr Mansoor Ijaz,
Interlocutor to Admiral Mullen, President Obama and God.

Dear Sirs,

Please find enclosed my resignation from the post of the ambassador in Washington. I have submitted it simultaneously to the FO, the YouTube and the Twitter.

Your Excellencies,

Much has been made of my alleged memorandum to Admiral Mullen regarding the S-Wing. I want to make it clear that I have no recollection of ever sending it and as the world media now knows, the respected Admiral has no memory of receiving it. However, I realize that there are times in the life of nations when hard decisions have to be made for the greater good of the gentle souls in hobnailed boots which are only occasionally applied on the presidential posteriors.

The least I can do to save the posterior that I hold dear, more than any other in the world (my own) is to tender my resignation. This, I hope, will clear the air and will allow both nations to get on wholeheartedly with the most important task at hand, which may otherwise have been neglected, that of slaughtering the Afghans.

We need to realize that the administration of both countries are swimming against national tides. I know that the average American wants to eviscerate the average Pakistani and the average Pakistani wants to behead the average American. The people who hold the levers of power should do their best to facilitate this mutual enactment of national ideals whilst never losing sight of the ultimate goal of pulverizing Afghanistan, the policy objective that the both strategic allies strongly support.

At this juncture, I must pay tribute to Mr Mansoor Ijaz whose selfless devotion to international statecraft is unsurpassed in the modern history and matched only by the likes of Metternich, Kissinger and Raymond Davis.

Armed with a clear sense of destiny and a BlackBerry Bold 9900TM, he has served both the great nations and changed the course of world history. When the future historian (Yours Truly) writes an account of these momentous events, in the fullness of time (next week), he will not fail to note the sagacity, perspicacity and strength of character, that drove this intrepid servant of soft strategic depth to undertake amazing acts of valour at great personal risk.

Dear Field Marshall,

I owe you a personal debt of gratitude that you have been gracious in sparing my gonads, the attention of your forthright and patriotic hobnailed boots. I will never forget this act of kindness and am very grateful for not having to join the misguided and foolish cohort of petty pen-pushers such as Hayat Ullah Khan and Syed Salim Shehzad. I will try and repay this benevolence as soon as I have sold the 1st millionth copy of my memoirs.

Dulce et decorum est pro patria mori.

Husain Haqqani
Embassy of Pakistan,
Washington, DC 20008

About the author

Jehangir Hafsi

3 Comments

Click here to post a comment
  • Share
    زرداری بنام کیانی!…آفتابیاں …آفتاب اقبال

    پیارے کیانی صاحب ،اسلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ میں اور میری پارٹی بالکل ٹھیک ہیں اور آپ کے لئے حسب سابق دعاگو ہیں۔ آپ کے خدشات رفع کرنے کے لئے میں نے آج کل برادرم حسین حقانی کو یہاں اپنے پاس بلا رکھا ہے۔ وہ بیچارہ صبح دوپہر شام مجھے اپنی داستان المناک سنا سنا کر پہلے تو خود روتا ہے اور اس کے مجھے بھی رلانے کی بھونڈی سی کوشش کرتا ہے جس میں اسے تاحال کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔
    برادرم کاکہنا ہے کہ آپ اور جنرل پاشا اس کے بارے میں خواہ مخواہ کی بدگمانی رکھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طور سفارت سے فارغ ہوجائے۔ یہ بات اس نے روہانس ہو کرکہی جس کا میرے دل پر چنداں اثر نہیں ہوا۔اس کے بعد وہ بلیک بیری فون کا تذکرہ لے بیٹھا ،اس نے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ اپنا بلیک بیری فون بھی میرے حوالے کرنے کی پیشکش کی جسے میں نے فی الحال اس لئے مسترد کردیا ہے کہ ایک تو یہ فون نہایت پرانا اور بوسیدہ سا ہے جس کی قیمت زیادہ سے ز یادہ ڈیڑھ دو سو ڈالر ہوگی جو کہ میرے لئے نہایت معمولی بلکہ غیر معقول ہے تاہم میں نے احتیاطً برادرم کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اپنے پاس امانتاً رکھ لیا ہے کہ جب تک مقدمہ ہذا کا فیصلہ نہیں ہوتا یہ ہمارے قبضے میں ہی رہے گا۔ لیپ ٹاپ نہایت جدید اور قیمتی ہے اگر آپ چاہیں تو سپرداری پر آپ کو پیش کیا جاسکتا ہے اور اگر جنرل پاشا صاحب بلیک بیری کا شغف رکھتے ہوں تو مذکورہ فون ان کی خدمت اقدس میں پیش کیاجاسکتا ہے حالانکہ بابر اعوان کی اس پر پہلے سے ہی نظر ہے۔
    برادرم حسین حقانی نے یہ بھی کہا ہے کہ منصور اعجاز پرلے درجے کا فراڈیا اور دو نمبری شخص ہے جس کا اعتبار پورے امریکہ اور برطانیہ میں کوئی نہیں کرتا۔ یہ سی آئی اے کا خاص الخاص آدمی ہے اس کی کسی بات پر یقین نہ کیا جائے۔ یہ بات کہتے ہوئے برادرم زاروقطار رونے کی کوشش بھی کرتا رہا مگر رحمن ملک اور بابر اعوان کے بار بار آنے جانے کی وجہ سے وہ اپنی توجہ رونے دھونے پر مرکوز نہ کرسکا ورنہ اس نے کم از کم آدھا گھنٹہ مجھے مزید بور کرنا تھا۔
    ویسے یہ بات تو میں بھی کہوں گا کہ منصور اعجاز کے فراڈیا ہونے میں تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں اس سے تو میرے وزیر مشیر بھی پناہ مانگتے ہیں حالانکہ میرے وزیر مشیر معاملات عقل و خرد میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ علاوہ ازیں میں نے اور میرے وزیر دفاع برادرم احمد مختار نے اس متنازعہ خط کا بغور مطالعہ کیا ہے مگر یقین کریں ہمیں اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ احمد مختار تو خیر باقاعدہ غبی اور بے وقوف شخص ہے مجھے بھی اس میں کچھ ایسا نہیں ملا کہ جس پر آپ لوگ یوں سیخ پا ہوئے جارہے ہیں۔ چودھری شجاعت صاحب جو کہ ذہانت اور” کرتوت چالاکی“ کا مینار ہیں ،کل رات مشورہ دے رہے تھے کہ کسی طرح منصور اعجاز کو بہلا پھسلا کر یہاں بلالیا جائے اور اسے ٹھہرایا بھی گجرات جائے تو ساری بات ایک گھنٹے میں سمجھ آسکتی ہے کہ وہ کمبخت یہ حرکت آخر کس کے ایما پر کررہا ہے؟ چودھری صاحب کا شک انڈین لابی کی طرف جاتا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ انڈین لابی کو ہماری حکومت سے بھلا کیا خطرہ ہوسکتا ہے جتنی خدمت ان دوستوں کی ہم کررہے ہیں اتنی تو خود جواہر لعل جی نے بھی نہیں کی ہوگی۔ چودھری صاحب بھی بعض اوقات خواہ مخواہ بے پر کی اڑاتے ہیں۔ میرا خیال ہے نظر کے ساتھ ساتھ ان کی دھوپ کی عینک بھی تبدیل کرنی پڑے گی۔
    اور پھر برادرم حقانی کی آخری گزارش میں بڑا وزن پایا جاتا ہے ،کہتا ہے کہ اگر اس ڈھائی سو سالہ بڈھے کھوسٹ امریکی ایڈمرل تک کوئی خط پہنچانا مطلوب ہو تا تو مجھے اس کلموہے منصور اعجاز کو بطور مڈل مین استعمال کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ بابا جی کے ساتھ میرے اپنے
    تعلقات بہت اچھے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بزرگوں(مراد ایڈمرل صاحب) نے اپنے پہلے بیان میں تو خط کی موجودگی سے انکار کردیا تھا مگر پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ یہ اس کا قصہ لے بیٹھے۔ یہ ایڈمرل صاحب بھی اپنے قائم علی شاہ کے دور کی چیز لگتے ہیں۔ اس پیرانہ سالی میں تو یہ تک یاد نہیں رہتا کہ آپ نے ناشتہ کیا ہے یا ابھی نہیں، بھنگ پی ہے یا ابھی نہیں۔ ایک اور شادی کی ہے یا ابھی نہیں ،توخط بھلا کہاں یادرہتا ہے، چنانچہ ،ہونہ ہو، یہ سب کچھ ایک نہایت سوچی سمجھی سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
    بہرحال ،برادرم کو ہم نے یہیں بٹھا رکھا ہے اور سخت تنبیہ بھی کردی ہے کہ متعلقہ تھانے اطلاع کئے بغیر اسلام آباد سے باہر قدم نہ نکالے۔ استعفیٰ اس مسکین نے ویسے ہی دے دیا ہے۔ اس لئے اب معاملے کو جاتا کریں اور پاشا صاحب کو بھی ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں کہ ہم سب کے سب بشمول آپ کے ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ ہم آپس میں لڑتے اچھے نہیں لگتے، یقین کیجئے یہ باتیں میں اپنی حکومت بچانے کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت بچانے کے لئے کہہ رہا ہوں اور شاعر نے جمہوریت کے بارے میں کیا خوب کہہ رکھا ہے۔
    جمہوریت بہترین انتقام ہے
    مورخین کو اگر کبھی اس مقولے کی تعبیر جاننی مطلوب ہوئی تو انشاء اللہ وہ ہمارے اس سنہری دور کا تذکرہ ضرور کرے گا اور تو ایسی کوئی خاص بات نہیں جو لائق تحریر ہو جواب کا منتظر۔
    آپ کا بھائی
    آصف علی زرداری

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=574961