Book Reviews Original Articles Urdu Articles

Tehzibi Nargasiat – by Mobarak Haider


Mobarak Haider

Title: Tehzibi Nargasiat (Cultural Narcissism)
Category: Psychology
Publisher: Sanjh Publication
Year of Publication: 2009
Price: Rs150

سرورق

Here are some comments and reviews on an excellent, non-fiction book by Mobarak Haider.

Ever wondered why a certain kind of Musalman is always whining? This book has all the answers. If you have felt during this year that we as a nation suffer from some disease, this book provides the diagnosis. Tehzibi Nargasiat should be compulsory reading for high school students as well as our TV anchors….It’s brilliantly written with a very clear-headed analysis of the political situation, and it looks at the Muslim world’s relationship with the rest of the world from a historical perspective.

Mohammed Hanif, BBC Urdu

Source: 1, 2

If you have ever wondered why Muslims whine so much, this very well written polemic answers all the questions. A very well written analysis of our current troubles, Nargasiat charts our political history through the lens of pop psychology and comes up with the definitive diagnosis for our spiritual ailments.

Source: Dawn

مبارک حیدر کو مبارک ہو
سیلِ رواں کی مخالف سمت تیرنے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔
جب زمانے بھر میں ایک نظریہ ایمان کا درجہ اختیار کر جائے تو کم لوگ ہی اس کی خامیوں پر قلم اٹھاتے ہیں۔ جب دانشوروں کے پاس اپنی قوم کو دینے کے لیے کوئی امید کی کرن نا ہو تو وہ بھی مایوس لوگوں کے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے سرابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ لیکن سچا انقلابی اپنے آدرش سستی شہرت کے عوض بیچا نہیں کرتا اور نہ ہی جزباتیت کے شکار معاشرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تمغہ امتیاز کا تمنائی ہوتا ہے۔ اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ بصیرت و بصارت کو عام کرے سطحی سوچ کے بجائے حالات و اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اگر زمانے کے سردو گرم جھیل طکا ہو تو یہ سہ آتشہ والی بات ہوگئی۔
مبارک حیدر بھی کچھ اسی قسم کے انقلابی ہیں “
Rizwan – Urdu Mehfil

….

تہذیبی نرگسیت: ایک خطرناک روگ

عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے علمی، ادبی، ثقافتی اور سیاسی حلقوں میں مبارک حیدر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
پینتالیس برس قبل ایک نوجوان جوشیلے مزدور لیڈر کے رُوپ میں شروع ہونے والا اُن کا سفر ارتقاء کی فطری منزلیں طے کرتا ہوا اِس پختہ عمری میں انہیں ایک متحمل مزاج لیکن زِیرک اور تجربہ کار انقلابی دانشور کی منزل تک لے آیا ہے۔

مبارک حیدر نے امریکہ کو محض سامراجی عفریت کہہ کر پیچھا نہیں چُھڑا لیا بلکہ اُس کے نظام میں کارفرما پائیدار عناصر کا تجزیہ بھی کیا اور جس نے ماسکو سے اپنی عقیدت کو محض لینن کے فریم شدہ پورٹریٹ تک محدود رکھنے کی بجائے خود ماسکو جاکر وہاں کے نظامِ معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کا تنقیدی نگاہ سے مطالعہ کیا۔۔۔ اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد اپنے عمر بھر کے تجربات کو آج کے نوجوانوں کے لئے تحریری شکل میں مرتب کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

مبارک حیدر نے وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔

شاخسانہ
مبارک حیدر نے اپنی کتاب میں وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی ہے اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔
مبارک حیدر کے خیال میں اسطرح کی سوچ ہماری پوری قوم کی تہذیبی نرگسیت کا شاخسانہ ہے، اسی عنوان سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب میں مبارک حیدر اس اصطلاح کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قدیم یونان کی دیومالا میں نارسس نام کا ایک خوبصورت ہیرو ہے جو اپنی تعریف سنتے سنتے اتنا خود پسند ہو گیا کہ ہر وقت اپنے آپ میں مست رہنے لگا اور ایک روز پانی میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ رات دِن اپنا عکس پانی میں دیکھتا رہتا۔ پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی وہ پانی کو ہاتھ نہ لگاتا کہ پانی کی سطح میں ارتعاش سے کہیں اسکا عکس بکھر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے عکس میں گُم بھوکا پیاسا ایک روز جان سے گزر گیا۔۔۔ اور دیوتاؤں نے اسے نرگس کے پھول میں تبدیل کردیا جو آج تک پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔

یہ تو تھی دیو مالائی کہانی، لیکن علمِ نفسیات میں نرگسیت کی اصطلاح بیماری کی حد تک بڑھی ہوئی خود پسندی کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ یعنی جب گرد و پیش کے حقائق سے آنکھیں چُرا کر کوئی شخص اپنے آپ کو دنیا کی اہم ترین حقیقت سمجھنا شروع کردے اور اپنی ذات کے نشے میں بدمست رہنا شروع کردے۔

مبارک حیدر نےایک جوشیلے مزدور لیڈر سے ایک متحمل مزاج تجزیہ کار تک کا سفر درجہ بہ درجہ طے کیا ہے مبارک حیدر نے اس اصطلاح کو ذاتی سطح سے اُٹھا کر اجتماعی سطح پر استعمال کیا ہے اور ہمیں باور کرایا ہے کہ کسی فرد کی طرح کبھی کبھی کوئی پوری قوم اور پوری تہذیب بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے اور اسی اجتماعی کیفیت کو وہ تہذیبی نرگسیت کا نام دیتے ہیں۔ مبارک حیدر اپنی کتاب کی ابتداء ہی میں قارئین کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں تشدّد کی موجودہ لہر کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اور مسلم اُمّہ بالعموم اس تباہ کاری پر خاموش کیوں ہے؟ مبارک حیدر کا جواب یقیناً یہی ہے کہ اس وقت ہم سب قومی سطح پر ایک تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں۔ مصنف کی زیرِ نظر کتاب دراصل اسی اجمال کی تفصیل ہے اور اسی کلیدی اصطلاح کے مضمرات کا احاطہ کرتی ہے۔

کتاب کے آخری حصّے میں مبارک حیدر نے خود قرآن و حدیث کے متن سے وہ حوالے پیش کیے ہیں جنہیں بنیاد پرست عناصر اپنی کارروائیوں کے حق میں سامنےلاتے ہیں۔ لیکن بقول مصنف ان عبارتوں سے کہیں بھی شدت پسندی اور ساری دنیا پر زبردستی چھا جانے اور اپنے نظریات مسلط کردینے کا جواز نہیں ملتا۔

تہذیبی نرگسیت
کتاب: تہذیبی نرگسیت
مصنف: مبارک حیدر
اشاعت: جنوری 2009
ناشر: سانجھ پبلیکیشنز ٹیمپل روڈ لاہور
بیرونِ ملک قیمت: دس ڈالر
پاکستان میں قیمت: 150 روپے

آگے چل کر مصنف نے بنیاد پرستوں کے ایک ایک مفروضے پر تفصیلی بحث کی ہے اور اسے کج فہمی، ہٹ دھرمی اور کوتاہ نظری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ’تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پہ ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جِسے اکسانے کےلئے ایک چھوٹا سا عیّار اور منظم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سر گرمِ عمل ہے۔۔۔ یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘

کتاب کی اختتامی سطروں میں مصنف کی طرف سے درجِ ذیل انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ ’تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہوجائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوعِ انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔‘

ظاہر ہے کہ اس کتاب کے مندرجات پر مختلف طبقوں کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوگا لیکن کتاب میں ایسے بنیادی مسائل چھیڑے گئے ہیں جن کا تعلق ہماری روزمرّہ زندگی، ہمارے مستقبل اور ہماری بقاء سے ہے۔ چنانچہ معاشرے میں ان مسائل پر کھل کر بحث ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

Source: BBC Urdu

About the author

Abdul Nishapuri

50 Comments

Click here to post a comment
  • تہذیبی نرگسیت
    صبا نور

    دہشت گردی اور اس سے پھیلنے والی تباہی رفتہ رفتہ پوری دنیا کا مسئلہ بن گئی۔ جس کو روکنے اور اس سے نمٹنے کے لیے بڑی طاقتوں نے نہ صرف طاقت کا استعمال کیا بلکہ بڑی بڑی تہذیبوں پر بھی نشانہ بازی کی۔ تاہم جس بات کو نظر انداز کیا جاتا رہا وہ رویئے ہیں جو صدیوں سے افراد کے اندر پنپ رہے ہیں اور آہستہ آہستہ نفرت کے انتہا ئی درجے تک پہنچ گئے۔

    ہم نے دہشت گردوں پر تنقید کی۔ ان کے مارنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرایا اور ظالم و مظلوم کی بے انتہا تعریفیں لکھ ڈالیں لیکن افسوس کہ حقیقت کیا ہے اس سے بے بہرہ ہی رہے۔ مبارک حیدر کی کتاب”تہذیبی نرگسیت” بظاہر ایسے مرض کا تعارف پیش کرتی ہوئی لگتی ہے جس کا مریض خود کو اعلیٰ اور برتر سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر، اُس مرض میں مبتلا مریض کے نزدیک اپنی خواہشات کی اہمیت ہے جبکہ دوسروں کی کوئی وقعت نہیں۔ اسی طرح جب یہ مرض کسی تہذیب کو لاحق ہو جاتا ہے تو وہ تہذیب خود کو عالمی تہذیبوں میں اعلیٰ اور برتر سمجھنے لگتی ہے اور یہ گمان کرنے لگتی ہے کہ تمام اختیارات اِسی کو حاصل ہیں اور اس کو حق حاصل ہے کہ وہ باقی تمام تہذیبوں کو ملیا میٹ کر دے۔

    مبارک حیدر کی اِس کتاب کو شاید اس دور کی جذباتی کتابوں میں سے ایک شمار کیا جائے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کتاب نے وہ پہلو اجاگر کیے جو ہماری نظروں سے اوجھل تھے یا شاید دماغ کی اُن گہرائیوں میں دفن تھے جن کو باہر آنے کا راستہ معلوم نہ تھا۔

    مصنف نے جن پہلوئوں کی نشاندہی کی وہ روایات کا خاصہ بھی ہیںوہ ہماری کوتاہیوں کا پیش خیمہ بھی جن سے ہم نگاہیں چراتے ہی رہے ہیں پوری دنیا اسلام اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کی تلاش میں ہے اور ایک بڑی تعداد کے مطابق دہشت گردی اسلام کے بنیادی کردار کا حصہ ہے ایسے میں بہت سے دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کا تصور ہی موجود نہیں۔ اگر ایسا ہے تو مسلم معاشروں میں موجود تشدد کی لہر کے خلاف احتجاج نہ ہونے کے برابر کیوں ہے؟

    مصنف سوال اُٹھاتے ہیں کہ اگر اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کی جگہ نہیں ہے تو ہم ان تشدد پسندوں سے نفرت کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہیں اِ ن کو بُرا بھلا کہتے؟ جبکہ ہم یہ جانتے اور دیکھتے ہیں کہ جب ہمارا معاشرہ کسی عمل سے سخت نفرت کرتا ہے تو وہ عمل پر وان چڑھ نہیں پاتا۔ اور اس کی جڑوں کو نکلنے کا موقع ہی نہیں ملتا پھر کیوں ہمارا معاشرہ بے حسی کی تصویر بنا بیٹھا ہے اور ان لوگوں سے نفرت کرنے کے لیے تیار ہی نہیں جن کے نزدیک تشدد اُن کی منزل کا راستہ ہے۔ الغرض اس کتاب کا مقصد یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے والے عناصر کو روکا جائے اور ان سے اس حد تک نفرت کی جائے کہ یہ عناصر ہماری تہذیب کا حصہ نہ بن سکیں۔

    ہم نے اپنے معاشرے کو خود ہی اتنی رسیوں میں اُلجھا دیا ہے کہ ہرگِرہ میںکئی بل ہیں جن کو سلجھانا نہایت دشوار ہے۔ ہم نے خود ہی کچھ زاویوں پر بلا جواز نفرت کی ایسی بلند وبالا دیواریں تعمیر کر رکھی ہیں جن کو کوئی پھلانگنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ رویے وہ اقدار اور وہ نظریات جو پوری دُنیا کے لیے لمحہ فکریہ بن گئے ہیں اُن کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا ہے۔

    یہ کتاب ہمارے خود پسند معاشرے کو آگاہی دلاتی ہے کہ اُن کی خود پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ ایک مرض کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کے فوائد تو دربعید اس کے نقصانات ہمارے مستقبل کے چراغوں کو ہوا دینے لگے ہیں۔

    مصنف نے سخت الفاظ میں اُن لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے دین کو سیاست اور روزگار کا حامل بنا رکھا ہے اور اِس کی اصل روح کو مسخ کر دیا ہے۔ نام نہاد مدرسوں اور قاریوں نے مسلمان نوجوانوں کی نفسیات کو اس حد تک نقصان پہنچایا جس نے ان نوجوانوں میں تنگ نظری اور ایذاپسندی کو جنم دیا اور غلبہ اسلام کی تحریک نے زور پکڑا جس کے پیچھے کار فرما عقائد نے معاشرے میں مسلم تہذیبوں کے خلاف اس قدر مضبوط جڑیں قائم کر لیں جن پر تناور درخت کھڑے ہو گئے ہیں اور ان کی وسعت میں اضافہ ہو تا چلاجارہا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف آواز بلند کرنے کو تیار نہیں۔

    غلبہ اسلام کی تحریک پاکستان اور افغانستان میں کسی اسلامی حکومت کے قیام سے شروع ہوکر مرحلہ وار یہ عزائم رکھتی ہے کہ خلافت کو قائم کیا جائے اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے پھر تمام مسلم ممالک میں یکجہتی پیدا کر کے قریبی ایشیائی ممالک سے لے کر یورپ اور امریکہ تک کو فتح کیا جائے۔فتح اور شکست کا سلسلہ ازل سے ہی چلا آرہا ہے جس میں دُنیا کی مختلف تہذیبوں نے اپنے اپنے وقتوں میں دوسری تہذیبوں اور قوموں کو فتح کیا۔ ان کے علاقوں پر ظلم کیے۔

    ہر فاتح کو ظالم قرار دیا گیا اور مفتوح کو مظلوم ۔ جس کی مثالیں تاریخ میں بے شمار تعداد میں ملتی ہیں اور آج کل بھی نظر آتی ہیں مگر حقیقتاً فتح کے اس انداز پر دنیا کی ہر تہذیب خواہ اُس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو تنقید کرتی ہے اگر ایسا اس تہذیب کے عروج میں نہ ہوا تو اُس کی آئندہ نسلوں نے تنقید ضرور کی بلکہ اکثر فاتح قوموں نے خود اس پر احتجاج کیا۔ مگر اسلامی تاریخ میں اگر چودہ سو سال کا جائزہ لیا جائے تو کوئی ایسا منکر نہیں ملتا جس نے مسلمانوں کے فتح کے انداز پر اعتراض کیا ہو کیونکہ یہ ہر مسلم کے ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو اسلام کے نام پر کی جائے وہ صداقت ہے۔خواہ اُس عمل کے پیچھے کیسے بھی مقاصد کیوں نہ ہوں

    ۔یہی وجہ ہے کہ غلبہ اسلام سے سرشار افراد کے نزدیک اُن کے عقائد اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ وہ کچھ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں جس میں علماء کا اہم کردار ہے دنیا نے ترقی کی راہ اپنائی اور حالات و واقعات کو بدل ڈالا لیکن مسلم اُمہ کی فکری حالت نہیں بدلی اور وہ صدیوں سے خود کو خود پسندی اور ملی فخر کے غار میں ہی قید کیے بیٹھے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فکری اور علمی سطح پر عقائد کی اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو گیا۔

    مصنف نے پاکستانی معاشرے میں موجود مذہبی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے اِس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں مذہبی قیادت اضطراب کا شکار ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد مذہب کو اٹل معنی میں لیتا ہے مگر عمداً اسلامی اقدار سے دور بھاگتا ہے۔نہ تو دینی قیادت معاشرے کی اصلاح کرنے کی خواہاں ہیں اور نہ ہی سیاسی قیادت اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم جبکہ دونوں قیادتوں کے نزدیک تمام مسائل کا حل اسلامی معاشرہ اور اسلام کی حکومت میں مضمر ہے اور اسلامی حکومت کے قائم ہوتے ہی تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

    وہ اِس زمرے میں صرف تین قسم کی مذہبی قیادت کا ذکر کرتے ہیں۔

    1۔ تبلیغی مذہبی قیادت: جو مسائل پر زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرتی اور ان کا ذکر اجمالی انداز میں کرتی ہے اور اللہ سے دُعا کرتی ہے کہ وہ ان مسائل کو دور کرکے مسلمانوں کو دنیا میں سرفراز فرمائے۔ جبکہ اِن کا اولین مقصد اسلام کی تبلیغ ہوتا ہے۔

    2۔ سیاسی قیادت: جو مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔

    3۔ جہادی مذہبی قیادت:یہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کی حفاظت اور بالاآخر اسلام کے غلبہ کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کے لیے عوامی اور قومی مسائل فوری اہمیت نہیں رکھتے۔

    الغرض ہماری مذہبی قیادت عوام اور ان کے مسائل سے بے بہرہ ہی رہتے ہیں اِن کو عوام کی پریشانیاں اور تکلیفیں بے چین نہیں کرتیں بلکہ اُن کے لیے ایک ہی چیز مسلسل اضطراب کا باعث بنتی ہے اور وہ معاشرے میں پھیلنے والی فحاشی اور عریانی ہے ۔ یا پھر ارکان اسلام کی ادائیگی میں لوگوں کی کوتاہیاں۔ان کے پاس معاشرتی مسائل کے حل کے لیے کوئی بات عمل نہیں۔ ان کو پریشان کرتے ہیں صرف امریکہ کے عراق اور افغانستان پر مظالم، لیکن اپنے ہاں موجود مظالم اُن کی آنکھ سے اوجھل ہی رہ جاتے ہیں۔

    مصنف اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ہمارا مسلم معاشرہ نرگسیت کے مرض کی حدود میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کو صرف اپنا آپ ہی دیکھائی دیتا ہے بغور دیکھیں تو ہماری مسلم تہذیب دوسری تہذیبوں کی موجودگی سے انکار اور اُن کے حق ِ موجودگی سے انحراف کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جو کہ نرگسیت کی واضح دلیل ہے۔

    نرگسیت علم نفسیات کی اصطلاح ہے جس کا مفہوم خود پسندی ہے۔ جس کی مثبت حالتیں ہر ذی فرد میں پائی جاتی ہیں ۔ جیسا کہ خود اعتمادی،عزت نفس اور مسابقت ۔ حقیقتاً نرگسیت سے مراد بالعموم ایسی نرگسیت ہوتی ہے جس کا علاج کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ شخصیت کا مرض ہے جو تنظیمی اور سماجی معاملات میں سنگین مسائل کا سبب بنتاہے اور اِس مرض میں مبتلا افراد اپنے ارد گرد کے دوسرے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں جبکہ المیہ یہ ہے کہ اس مرض میں مبتلا مریض خود کو مریض تصور ہی نہیں کرتا۔نرگسیت کا مرض جس طرح فرد واحد کی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے، خاندان اور تنظیم کے نقصان کا باعث بنتا ہے

    اُسی طرح تہذیبی نرگسیت، قوموں اور عالمی تنظیموں کے مخالف کھڑی ہوتی ہے اور ان کو اضطراب کا شکار کرتی ہے جس سے ان کی برادری کی اجتماعی نشوونما کا سلسلہ رُک جاتا ہے۔نرگسیت کا مرض صرف کسی ایک تہذیب میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی موجودگی کے عناصر ہر انسانی معاشرے میں پائے جاتے ہیں جہاں اجتماعی اور انفرادی نرگسیت کی خصوصیت کا حلیہ اکثر اوقات ایک سا ہی ہوتا ہے مگر ہر معاشرے میں اس کی موجودگی مختلف انداز میں پائی جاتی ہے۔لیکن جب تہذیبوں میں رنگ رنگ کے کلچر اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں اور نئے نظریات ، عقائد پیدا ہوتے ہیں تو تہذیبی برداشت اور مفاہمت کا راستہ اپناتے ہوئے نرگسیت کے زور کو توڑ ڈالتی ہیں لیکن وہ تہذیبیں جو اس تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں وہ نرگسیت کے مہلک مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

    نرگسیت سے چھٹکارا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب تبدیلی کے عمل کو چلنے دیا جائے اور اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنا جائے۔”پاکستان میں ملک سے بغاوت ”کے مظاہر اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ یہاں فرد واحد یا گروہ خود کو مملکت سے بڑ ا یا برابر سمجھتے ہیں اور دوسری طرف مملکت فرد کو کسی آئینی اور قانونی اصول سے تبدیلی کا موقع فراہم نہیں کرتی۔ یعنی فرد اور مملکت اپنی اپنی نرگسیت کا اظہار کرتے ہیں جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے۔تاہم مشاہدات کی رو سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ انفرادی رویوں میں تہذیبی نرگسیت کی چھاپ اتنی ہی گہری ہوتی جاتی ہے جتنی کہ ان کے معاشروں میں اختلاف رائے پر پابندی ہوتی جاتی ہے۔ہمارے ہاں قبائل کو نرگسیت کے مرض سے جوڑا جاتا ہے۔ جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیںکہ دنیا میں بہت سے قبائل نے حالات کے بدلائو کے ساتھ خود کو بھی بدلا اور نئی روایات کو ان ہدایات میں شامل کیا جس سے وہ نئے حالات میں مدغم ہو گئے۔

    مگر پاک افغان قبائل کا رخ عالمی معاشروں کے مخالف ہی رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان قبائل نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا انہوں نے نئی اقدار کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ارد گرد کے ممالک کو درہم برہم کرنے کے اقدامات کیے جبکہ پاک افغان قبائل کی موجودہ جنگ صرف اپنی قبائلی روایات کے تحفظ کی جنگ مزاحمت نہیں بلکہ یہ جنگ اس تہذیبی نرگسیت کا پھل ہے جس کا رد عمل طیش کی صورت اختیار کر کے عالمی خطرہ بن گیا ہے۔

    مریضا نہ نرگسیت کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں۔ نرگسیت کے مرض میں مبتلا فرد ، گروہ یا معاشرہ اپنے ارد گرد باصلاحیت اشخاص ، گروہوں اور سیاستدانوں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف کردار کشی اور تذلیل و تنقید کی مہم چلاتا ہے اور اس عمل میں وہ اپنی فضیلت اور صلاحیت کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں اور کسی احتیاط یا انکساری کو ضروری نہیں سمجھتے۔ بہر حال نرگسیت میںمریض کسی اصول کا پابند نہیں ہوتا۔ اُسے اپنی خواہشات اور پیش قدمی کے لیے جو بھی موضوں لگتا ہے وہ کر گزرتا ہے مثلاً اگر اُس کو طاقت میں برتری حاصل ہے تو وہ طاقت کو میرٹ قرار دے گا۔

    اسی طرح نرگسیت کی ایک اور علامت سازش کا خوف اور احساس مظلومیت ہے۔ مریض کو لگتا ہے کہ لوگ اس کی عظمت سے خائف ہیں اور حسد کرتے ہیں چنانچہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اس کے لیے وہ ہر ممکن ذریعے سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کو خود سے کم تر رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاہم نرگسیت کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ نرگسیت کی مندرجہ ذیل علامات ہیں۔

    1۔ نرگسیت کے مرض میں مبتلا افراد اپنی ضروریات کو اجتماعی ضروریات پر فوقیت دیتا ہے۔

    2۔ جذباتی رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔

    3۔ اپنی غلطی کو دوسروں کے سر ڈال دیتا ہے۔

    4۔ تکبر، خودنمائی، فخر اور فنکارانہ مطلب برادری کا قائل ہوتا ہے۔

    5۔ ندامت اور تشکر سے انکار کرتا ہے۔

    6۔ اُس کی گفتگو میں نمائش کا عنصر غالب رہتا ہے۔

    نرگسیت اور خوش فہمی بھی باہم لازم و ملزوم دِکھتے ہیں جیسے نرگسیت فرد کی شخصیت کے منفی پہلو کو بڑھاتی ہے اُسی طرح خوش فہمی اُس کی شخصیت کی نشوونما کو روکتی ہے اور اگر خوش فہمی ملکی اور قومی سطح پر آجائے ایسے میں یہ بد ترین شکل اختیار کرتے ہوئے بھیانک نتائج سامنے لاتی ہے۔

    معاشرتی حالات سے نکل کر اگر ہم مذہبی حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہم مذہب میں بھی نرگسیت کا شکار ہیں ہم نے نرگسیت کا ادراک کرتے ہوئے ایسے تصورات کو شامل کر لیا ہے جو کہ درحقیقت اس طرح سے نہیں ہیں جس طرح سے ہم ان کو بیان کرتے ہیں۔

    بقول مصنف اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ایک دعویٰ ہے جس کی قرآن و حدیث میں کہیں تاکید نہیں کی گئی اور نہ ہی ایسا کوئی مفصل بیان موجود ہے جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہوں کہ اس کے بعد کسی ریسرچ، کسی علم کی ضرورت نہیں ہے پھر مصنف کہتاہے کہ خود حدیث نبوی ۖ سے ثابت ہے کہ اجتہاد یعنی اپنی عقل و دانش سے فیصلہ کرنے کا اختیار بعد کے مسلمانوں کو حاصل ہے۔ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن و حدیث میں دی گئی ہدایات بعض معاملات پر مفصل اور بعض پر نہایت مختصر ہیں اور اسلام کو وقت کے ساتھ بدلنے اور مکمل ہونے کی ضرورت ہمیشہ رہے گی یعنی جب تک دنیا اور انسان کا وجود باقی ہے مسائل اور ان کے حل آتے رہیں گے۔ یعنی قیامت کے دن تک ہر نظام تکمیل کے مراحل سے گذرتا رہے گا۔ یہ تسلیم کر لینا کسی طرح بھی اسلام کی عزت اور فضیلت میں کمی نہیں کرتا۔ چنانچہ یہ دعویٰ کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے محض مذہبی قیادت پر مسلط ایک طبقہ کا دعویٰ ہے۔ جس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مسلم عوام اس طبقہ سے بے نیاز ہو کر اپنی عقل سلیم اور علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی جرأت نہ کریں(صفحہ99)۔

    دوسرا بڑا مفروضہ جس پر تہذیبی نرگسیت کی بنیاد ہے وہ ہے غلبہ اسلام یعنی ہر دوسرے دین پر اسلام کو غالب کرنا۔ جبکہ قرآن و حدیث میں اس مفروضے کی بھی تاکید کہیں موجود نہیں ہے۔

    ”مذاہب کا وجود مٹا دینا یا تمام مذاہب کے ماننے والوں پر مسلمانوں کا چھاجانا حکمران ہونا یا غالب آنا اس آیت میں یا کسی دوسری آیت میں موجود نہیں فتح کے ذریعے فضیلت حاصل کرنے کا فلسفہ اگرچہ اسلاف نے اپنایا اور ایک عرصہ مسلمانوں نے دنیا کے بیشتر حصوں پر حکومت کی۔ تاہم اس کا تعلق دین کے کسی حکم سے نہیں۔ نہ ہی کوئی ایسا حکم آج کی دنیا کے لیے دیا جاسکتا ہے کہ جب مسلمان اپنے کردار اور علم کے اعتبار سے دنیا کی پسماندہ ترین قوموں میں سے ہیں(صفحہ102)

    غلبہ اسلام کے مفروضے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ مذاہب کا وجود ختم کر دینا یا تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مسلمان کر لینا۔ حکمران ہونا یا غالب آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسلام کا غلبہ ہونا چاہیے۔ تاہم اگر رسول پاکۖ اس موجودہ زمانے میں ہوتے تو تشدد سے بڑھتی ہوئی نفرت اور بین الاقوامی رابطوں کے اس دور میں تشدد کے مقابلے میں سفارت اور مکالمے کو ترجیح دیتے، طاقتور دشمن کی بے انصافی اور ظلم کے خلاف امن پسند اور منصف مزاج قوتوں کو متحرک کرتے ۔

    دشمن کی اپنی صفوں میں عدل و انصاف کی جو قوتیں موجود ہیں اُن سب مثبت قوتوں کی حمایت آج ہم نے صرف اس لیے گنوا دی ہے کہ ظلم کے خلاف ہماری نام نہاد جنگ کی کمان رسولۖ جیسے عالمی مدبر کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ایسے جاہلوں کے ہاتھ آگئی ہے جن کا نظریہ حیات انسانی تہذیب سے نفرت پر مبنی ہے۔

    معاشرے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف کا کہنا ہے کہ معاشرے میں نرگسیت ہر فعل و عمل میں پائی جاتی ہے بلکہ ہم اس کو انفرادی کمزوریوں کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔

    چونکہ فرد اور قبیلے کی طرح تہذیبوں کو بھی دوسری تہذیبوں سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے فرد، قبیلہ کے بغیر ادھورا اور قبیلہ تہذیب کی غیر موجودگی میں نامکمل ہوتا ہے اُسی طرح تہذیب بھی اپنے اندر نامکمل ہوتی ہے اور اس کو اپنی تکمیل کے لیے دوسری تہذیبوں میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ اور جب کوئی تہذیب ایسا نہ کرے تو وہ اُس نفسیاتی فرد کی مانند ہو جاتی ہے جس کو معاشرہ اور قبیلہ کہنا چھوڑ دیتا ہے اور اِس کا سفرِ زندگی رُک جاتا ہے۔

    روحانیت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مصنف نے اس رائے کا اظہار کیا کہ روحانیت کے مفہوم کو سمجھنا نہایت مشکل ہے چونکہ ہر مذہب نے روحانیت کے جو اصول مقرر کیے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہندو مذہب میں موسیقی کو روح کی غذا گردانا جاتا ہے تو اسلام میں روحانیت کو عبادات میں رکھا گیا ہے۔ مشائخ کے ہاں روح کا سفر تو اِن روز مرہ عبادات سے کہیں آگے جا کر ہی شروع ہوتا ہے جو فرد دن میں پانچ نماز ادا کر کے نبھاتا ہے۔

    ایسی صورت حال میں یہ فیصلہ کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے کہ روح کی غذا کس حد تک مقرر کی جائے اور اس کے لیے کیسا طرز اختیار کیا جائے؟ جبکہ حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں کہ روز بہ روز زندگیوں میں تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ بے شمار تحریکیں پنپ رہی ہیں اور یہ تیز تر تبدیلی اِنسانوں میں پریشانی کا باعث ہے جو افراد اِن تبدیلیوں کو اپنانے سے قاصر ہیں اُن کے پائوں اُکھڑ رہے ہیں اور روحانیت جو سکون قلب کا باعث ہے اُس کے معیار کا تعین ایک الگ پریشانی ہے۔

    ”ایسے ذہنی خلفشار اور فکری خلا میں مذہبی قیادت کا یہ بیان مرہم کی طرح سکون دیتا ہے کہ بندے تیری پریشانی کا باعث یہ ہے کہ تو مادیت کے پیچھے دوڑتے دوڑتے اپنی روح سے غافل ہو گیا ہے۔روحانیت کی طرف پلٹ کہ اسی میں تجھے سکون ملے گا۔”(خبر دار دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ملتا ہے)قرآن کی اس آیت میں اللہ کے ذکر سے مراد کیا ہے اس کے کیا اعلیٰ معنی ہیں اس سے بے خبر مذہبی عالم جو خود دنیا داری ہی میں سر کے بالوں تک ڈوبا ہوا ہے بیان کرتا ہے کہ مذہبی عبادات اور احکام پر عمل کرنا ہی ذکر اللہ ہے ۔ صدیوں کی عادات اور روایت یہی رہی ہیں کہ لوگ مذہب کے تحت زندگی گزار دیتے آئے ہیں۔ چنانچہ عالمِ دین کی یہ آواز اپنی طرف کھینچتی ہے اور فکری تربیت سے محروم عام آدمی قبول کرلیتا ہے کہ پلٹ کر مذہب کی آغوش میں آجانا یعنی اپنے آبائو اجداد کی بتائی ہوئی عبادات پوری کرنا روحانیت ہے۔(صفحہ 116)

    کتاب کے آخری اسباق میں مصنف حالات کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے کہ کیا اِ ن تمام حالات کو دیکھتے ہوئے”طالبان کے پاس اپنے عوام اور دنیا بھر کے عوام کے لیے موجودہ انسانی اور جمہوری حقوق سے بہتر حقوق موجود ہیں؟ کیا لوگوں پر اُن کی رضامندی کے خلاف ہر طرح کا جبر مسلّط کرنا اور اُن پر جبراً حکومت کرنا، عورتوں کو تمام موجود ہ حقوق سے محروم کر کے انہیں گھروں میں بند کر دینا کیا ایک بہتر دنیا کا نقشہ پیش کرتا ہے(صفحہ 134)

    بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ ازل سے لوگ اپنی عزت نفس کے لیے لڑتے آئے ہیں اور ہر اُس چیز کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں جس کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ آج کل کے انسان کی ضروریات بڑھ گئی ہیں اور وہ مساوات، عدل اور ترقی کا خواہاں ہے۔ ایسے میں کیا طالبان بطور قوم دنیا بھر کے انسانوں کی اِ ن امنگوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی نظام متعارف کروا سکیں گے؟ آج کل کی دنیا کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ قوموں کے بیچ طاقت کے لیے رسّہ کشی جاری ہے جو کہ علمی برتری سے ہی ممکن ہے کیا طالبان کے پاس ایسا فارمولا ہے جس سے مسابقت کے اِن میدانوں میں انصاف اور توازن قائم ہو سکے؟ کیونکر ایسا کرنے کے لیے پہلے اس دوڑ میں برابر کی شمولیت ضروری ہے۔

    آج کی دنیا کا تیسرا بڑا مسئلہ طاقت اور تشدّد کا استعمال ہے۔ کیا طالبان کوئی ایسا لائحہ عمل دے سکتے ہیں جس کی بدولت عالمی براداری خود بخود اِن کی طرف کھینچی چلی آئے؟

    چوتھا بڑا مسئلہ آج کی دنیا میں گھٹتے وسائل، بڑھتی آبادی، توانائی، پانی اور خوراک و سائل ، درجہ حرارت کا بڑھنا اور سمندروں کی حدوں کا بلند ہونا ہے ایسے میں کیا طالبان کو اِن مسائل کا علم ہے؟ اور کیا وہ اِن سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل رکھتے ہیں؟

    اور وہ پانچواں بڑا مسئلہ عالمی نظامِ سرمایہ کا ہے جس کی زد میں ہر صدی میں کئی انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کیا طالبان نے اِن سے نمٹنے کا کوئی طریقہ کار وضع کیا ہے؟

    شروع ہی سے یہ طرزِ عمل اپنایا گیا ہے جس میں افراد کے ایک گروہ کو دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تاکہ دوسرے گروہوں میں تعاون اور اتحاد پیدا کیا جاسکے۔ الغرض یہ کہ ایک سیاسی طرز ضرور ہے مگر کچھ ایسا نہیں جس کو تبدیل نہ کیا جاسکے۔ لوگوں کو تعاون اور اتحاد کی لڑی میں پرو کر رکھنے کے لیے کسی دوسرے کو نفرت اور دشمن کا روپ دینا ہرگز درست نہیں۔

    شاید وقت آگیا ہے جب ہم اپنے روّیوں کا بغور جائزہ لیں اورنفرت اور اضطراب کے وہ روےّے جو ہماری زندگیوں میں متحرک ہیں اِن کا سِرا کھینچ لیں کیونکہ ”تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پر محیط ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جسے اُکسانے کے لیے ایک چھوٹا سا عیار اور منظّم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سرگرم ہے اس منظّم گروہ کی سرپرستی کرنے والے عالمی فنکار بھی اپنی قوموں کا ایک قلیل حصہ ہیں یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

    تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے۔ لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہو جائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوع انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔”

    مبارک حیدر کی یہ کتاب بلا شک و شبہ لچکدار ذہنوں میں کئی سوالات اُبھارتی ہے جن کے جوابات حاصل کرنے کی جستجو میں وہ ذہن ضرور منزل تک پہنچ سکتے ہیں مگر یہ اُن ذہنوں کے لیے باعثِ ہل چل اور تکلیف دہ ہے جو کہ تصویر کو مخصوص زاویے سے دیکھنے کے عادی ہیں ۔ بہر حال مصنف کی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتامگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب افراد کو کچھ سمجھانا مقصود ہو تو اُن کی عزتِ نفس کی پاسداری کی جائے ۔

    ان کے نظریات اور عقائد کی ہتک اور تذلیل نہ کی جائے خاص کر مذہب کی اہمیت، اس کے ماننے والوں کے لیے اُن کا کل سرمایہ ہوتی ہے جس پر تنقید وہ برداشت نہیں کرتے۔ بلاشبہ ہمارے معاشرے میں ایسے ناسور پیدا ہو چکے ہیں جن کے خلاف رائے کا کھل کر اظہار کیا جانا چاہیے اور اِن کے غلط رویوں کی نشاندہی بھی کی جانی چاہیے مگر اس کے لیے جو راستہ بھی اختیار کیا جائے اُس میں میانہ روی اور انسانیت کے معیار موجود ہوں تاکہ وہ خود بخود ایسے افراد کو لمحہ فکر مہیا کرے ۔ جو ان کے عقائد کو مزید پختگی نہ دے اور نہ ہی تنقید برائے تنقید کا باعث بنے کیونکہ بعض اوقات خالص تنقید بھی نرگسیت کے مرض کی پیدائش کا باعث بن سکتی ہے۔

    http://www.tajziat.com/issue/2009/05/detail.php?category=taj&id=13

  • مبارک حیدر اور ہماری نرگسیت
    [القمرآن لائن] May, 2009

    مبارک حید ر کے مطالعہ میں ہم سے مراد مسلمان ، بعد میں تخصیص سے بر صغیر جنوبی ایشا کے یا زیادہ تخصیص سے پاکستانی مسلمان ہیں۔
    امین مغل ۔ لندن

    اگر مسلمان کی اصطلاح کی دھند کو ہٹا کر تاریخی خط کے ساتھ سفر میں دیکھا جائے، تو ہم مسلمانوں کوعلاقائی یا قبائلی شناختوں میں بٹا پائیں گے، جیسے عرب، مغل، پٹھان، ایرانی، سلجوق، ہندوستانی،; وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب لوگ مسلمان کے چھتر کے نیچے دیکھے جاتے ہیں، جو حقیقی بھی ہے اور غیر حقیقی۔

    اپنے زمانے کے تاریخی چیلنجوں کا جواب ان سب نے مختلف انداز میں دیا، جن میں کچھ عوامل مشترک بھی تھے، جیسے ایک امت کا حصہ ہونے کے ان کے احساس کی بدولت ان کا اپنے مذہب کے حوالے سے اپنے تخیلی عرب ماضی کے ساتھ جڑا ہونے کا احساس۔

    چنانچہ جب ہم پاکستانیوں کی نفسیات کی بات کرتے ہیں، تو اس کے غالب حد تک مسللمان آبادی ہونے کی وجہ سے ہم لا محالہ پاکستان کے مسلمانوں کی بات کرتے ہیں، جب کہ پاکستانی اور مسلمان شناختیں اپنے پس منظر میں بلکہ اپنی تحتانی سطحوں میں پنجابی، پشتون، بلوچ ایسی شناختوںا میں بٹی ہوئی اور اس کے ساتھ ہندو، سکھ،بدھایسی شناختوں کے ساتھ گندھی ہوئی یا گتھم گتھا نظر آتی ہیں۔
    یہی معاملہ دوسری مذہبی شناختوں کا ہے، جیسے عیسائی یا یہودی۔

    ان تمام عوامل کی وجہ سے; کسی ثقافتی زمرے کا مطالعہ انتہائی پیچیدہ بن جاتا ہے اور اس کا مکمل احاطہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس کی کوشش کرنا ایک احسن کام ہے۔

    تاریخ میں کوئی کٹ آف ڈیٹ یا تاریخ انقطاع نہیں ہوا کرتی، لیکن ہم سہولت کے لئے اس طرح کے خطوط کھینچنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان اور اسلامی دنیا آج جس خلفشارمیں مبتلا ہیں، اس; کے لئے عام طور پر مغربی استعمار کی مسلمان معاشروں پر یلغار کے آغاز کو خط انقطاع سمجھا جا سکتا ہے۔

    جب سے ان معاشروں پر نوآبادیاتی حملہ ہوا ہے، اس وقت سے ان کے دانش ور اپنی ہزیمت کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ افغانی ہوں یا اقبال، مشرقی ہوں یا مودودی، غلام احمد پرویز ہوں یا پرویز ہود بھائی یہ سب ہمارے زوال یا شکست کے اسباب اور ان کی روشنی میں ان کے لئے ردعمل تلاش کرتے رہے ہیں۔

    ;مبارک حیدر اس تناظر میں اسی قبیلے کے آدمی ہیں۔
    انہوں نے ہمارے سقوط کے سبب کا سراغ لگانے اور اس کی تصویر سازی کے لئے تہذیبی نرگسیت کی اصطلاح ایجاد کی ہے یا کم سے کم اسے استعمال کیا ہے۔ ایک اور عالم نے اسی مقصد کے لئے کلچرل سکٹزوفرینیا یعنی ثقافتی سکٹزوفرینیا کی اصطلاح کا سہارا لیا ہے۔

    نفسیات کے مختلف مکاتب میں نرگسیت کی اصطلاح قائم بالذات فرد کے سلوک کو سمجھنے کے لئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس کا استعمال کاروباری اداروں میں نرگسیت میں مبتلا افراد کے سلوک کا مطالعہ کرنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ مبارک حیدر نے اس وسیع تر استعمال سے استفادہ کیا ہے۔ گویا، تہذیبی نرگسیت کی اصطلاح کاروباری نرگسیت کا وسیع سطح پریعنی ثقافتی سطح پر استعمال ہے۔ وہ کاروباری اداروں اور تہذیبی اداروں کے فرق سے آگاہ ہیں، لیکننرگسیت کی اصطلاح کو ایک مفید اوزار سمجھتے ہیں، اور انہوں نے اسے انتہائی چابکدستی اورذمہ داری سے استعمال کیا ہے۔

    مبارک حیدر نے ایک ماہر نفسیات کے اتباع میں نرگسیت کی دس علامتوں کو قابل غور گردانا ہے۔ ان میں اجتماعی ضرورتوں کے مقابلے میں اپنی ضرورتوں کو ترجیح دینے، انا کے دفاع کے لئے غیر ضروری جذباتی رد عمل ظاہر کرنے، سے لے کر خود نمائی تک، اور اپنے سے بڑوں کی تقلید سے بڑا بننے کی کوشش، وغیرہ شامل ہیں۔

    مصنف نے نرگسیت کی ان علامتوں کی مدد سے مسلمان معاشروں کی نرگسیت کے مظاہر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ اس بحث میں عراق اور افغانستان، عریانی اور فحاشی، ماضی پرستی ، متلون مزاجی، ہمارے شمال کے قبائل اور ان کے ہندوستان پر حملوں کے پیچھے ن معاشرتی اور دوسرے عمرانی محرکات، احساس محرومیت اور دوسروںکی طرف جارحانہ رد عمل، اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا تصور، اسلاف پر فخر، اسلام کے عمرانی پس منظر، اور تاریخ میں اس کی مقامیت،پوری دنیا پرر تلوار کے بل پر اسلام کا غلبہ وغیرہ پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔

    یہ مباحث کسی نہ کسی شکل میں ہم سب کی نظر سے گزرتے ہیں، لیکن مبارک حیدر کا ان سے بحث کرنے کا ایک منفرد انداز ہے، جو اردو میں بہت کم ملے گا۔
    عام طور پر ان امور سے بحث کرنے والا یا تو ابوالکلام آزاد کی طرح پیغمبرانہ جلال سے بات کرتا ہے، یا مودودی صاحب کی طرح منبر پر بیٹھا ہوتا ہے، پرویز صاحب کے ہاں، انگریزی نثر کے نثر پن ﴿پروزیکنیس﴾ کی جھلک ملتی ہے ﴿جسے میں خوبی سمجھتا ہوں﴾۔ مبارک حیدر کے اسلوب میں تبلیغی عنصر ان کے استدلالی اسلوب کے نیچے دبا رہتا ہے، اور ان کی نثر میں انتہائی ہلکی شاعرانہ رنگینی پائی جاتی ہےجو بے قابو نہیں ہوتی، اور ان کی طنز اور تیکھے پن کے ساتھ عجیب قسم کا امتزاج بناتی ہے۔ لیکن ان کے اسلوب کی اصل خوبی ان کا سقراطی طریقہ ہے، جس میں وہ اوکہم کے استرے کا استعمال مہارت سے کرتے ہیں، جیسے پیاز کی تہیں ایک ایک کر کے اتار رہے ہوں۔

    ایک مثال ملاحظہ ہو:
    ہمارا مستقبل دنیا کے مقصد سے گڑا ہوا ہے کہ نہیں یہ بھی ابھی تک سوال بنا ہوا ہے۔ کیا ہر سوال کا جواب بھارت کو سامنے رکھ کر دیا جائے گا؟ بھارت سے جنگ کرتے رہنا کیا ہمارے وجود کی شرط ہے؟ یعنی یہ کہ یہ جنگ یا نفرت دو قومی نظریہ کی بنیاد ہے؟۔۔ کیا قومی آزادی کسی دوسری قوم سے نفرت کے بغیر ممکن نہیں؟ ۔۔۔ کیا بھارت سے نفرت کے نتیجہ میں یا اسلام کا بڑھ بڑھ کر نعرہ لگانے سے ہم نے پچھلے ساٹھ برس میں ترقی کی ہے؟ کیا ترقی کا تصور ہی اسلام میں ممنوع ہے؟ ۔۔ اور پھر یہ کہ کیا بھارت سے مسابقت اور ہماری قومی سربلندی کا دار و مدار اس پر ہے کہ ہم اپنے اسلامی تشخص کو آخری حدوں تک شدید کرتے جائیں ، حتی کہ ہم تلوار اور گھوڑے کی تہذیبی سطحوں کو چھو لیں۔۔۔ “کیا بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” کا فلسفہ علمی، عقلی بحث کے ذریعہ سے ماننا یا چھوڑنا ممکن نہیں؟ یعنی کیا اس فلسفے کی صحت کا فیصلہ صرف اسی دن ہوگا جب مسلمان پوری دنیا کو فتح کرنے خالی ہاتھ نکلیں گے اور جنگ میں فتح یا شکست کے بعد ہمارے علمائے دین نتائج پر اظہار خیال کی اجازت دیں گے؟۔۔۔ حتی کہ یہ سوال کہ کیا اسلام میں کسی مدرسہ اور دینی طبقہ کی فائق حیثیت کا کوئی تصور موجود ہے؟ ۔۔۔

    اگر معاشرہ ایک طویل عرصہ سے صرف عقائد اور عبادات کا پرچار کرتا رہا ہو تو ریسرچ اور سائنس یا ٹیکنالوجی کا فروغ آسان نہیں ہوتا۔۔۔ اگرچہ ایرانی علماء دوسرے مسلم علما کےے مقابلے میں موجودہ علوم سے کہیں زیادہ واقف ہیں، اس کے باوجود ان کے بنیادی طرز فکر کی وجہ سے ایران اپنے علمی سفر میں دوسری قوموںں کے ساتھ نہیں چل سکا۔۔۔ کیا دین سے اختلاف کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ تو پھر آج تک کیوں نہیں دی گئی اگر نہیں دی جا سکتی تو پھر انسانی عقل کا مصرف کیا ہے؟ جب یہ طے ہے کہ سچائی صرف دین اسلام میں ہے تو پھر عالم دین کے علاوہ اور کسی قسم کی قیادت یا ماہرین کی گنجائش کہاں ہے؟

    مسلمان معاشروں کی تہذیبی نرگسیت اس استعماری دورکے حاصلات سے مستفید ہونے اور اس دور کے گزر جانے کے بعد اس کی دلفریب یاد سے پیدا ہوئی ہے جسے اسلام کا سنہری زمانہ کہا جاتا ہے، لیکن جو در اصل عرب استعمار ﴿بذریعہ اقبال﴾ اور اسلام قبول کرنے والی دوسری جمعیتوں کے استعمار یا دور حکومت پر محیط تھا۔ ان اقوام اور جمعیتوں کے مادی اقبال کے لئے اسلام ﴿عیسیائیوں کے سلسلے میں عیسائیت﴾ کو نظریاتی جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    جہاں تک اس طرح کے دور کی یاد کا تعلق ہے ضروری نہیں کہ یہ یاد حقائق پر مبنی ہو۔ قوموں کی یاد داشت یوں بھی انتخابی ہوتی ہے لیکن ان کی سیاسی ضرورتیں تاریخ کو متھ بنا دیتی ہیں۔ چنانچہ مسلمان جس سنہرے دور کا ذکر کرتے ہیں اس کی ان کی یاد داشت ایک مائتھالوجی کی حیثیت رکھتی ہے۔
    لیکن یہ مائتھالوجی ایک زبر دست قوت محرکہ کا کام کرتی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں ماضی کی مختلف تعبیریں کی جاتی ہیں جن کا مقصد نوآبادیاتی نظام کا مقابلہ کرنے کےلئے آئیڈالوجی مہیا کرنا ہوتا ہے۔ ان میں ایک آئیڈیالوجی احیا کی تھی۔ ہمارے ہاں احیا کا کام حالی، شبلی سے لے کر صادق حسین سردھنوی اور نسیم حجازی تک پھیلا ہوا ہے۔

    انیسیوں صدی میں ماضی گری کی تحریکیں ہندوؤں میں بھی چلی تھیں۔ یہ احیا مثبت رجحان بھی بن سکتا ہے، لیکن اس کی منفی جہت بھی ہو سکتی ہے۔

    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حالی نے مسدس حالی میں اپنے آباء ﴿حالانکہ وہ خالصتاً ہندوستانی تھے﴾ کی جو خوبیاں گنائی ہیں وہ خرد پسندی، سائنس دوستی اور انسان دوستی سے اخذ کی گئی ہیں جب کہ نسیم حجازی کے کردار اللہ کی راہ میں تلوار کا استعمال کرتے ہیں۔

    منفی احیا جمعیت میں ایک خاص قسم کی نرگسیت پیدا کرتا ہے۔ اسی کے زیر اثر اسلامی طب، اسلامی سائنس، اسلامی معاشیات کی طرح کی اصطلاحیں تراشی جاتی ہیں اور ماضی پر تفاخر کے لئے جواز مہیا کئے جاتے ہیں۔

    اس ناجائز تفاخر کا نتیجہ اپنے ارد گرد حصار بنانے کی شکل میں نکلتا ہے۔ پھر کنویں کے مینڈک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مظاہر اور اشیا جو اس وقت اس کے تصرف میں نہیں انہیں وہ اپنے ماضی میں دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ اسے ہر موجود شے، ہر جدید دریافت کا سراغ اپنے ماضی میں مل جاتا ہے۔

    نرگسیت کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ فرد اور جمعیتیں اپنے آپ کو عین الحق کے مرتبے پر فائز کر لیتی ہیں۔ انہیں اپنی محبت میں گرفتار ہو کر باہر دیکھنے کی فرصت نہیں ملتی۔ یہ مریضانہ دروں بینی ذہنی اہلیتوں کو خارج سے تعامل کرنے سے روکتی ہے، اپج مفلوج ہو جاتی ہے، اور انسان نہ صرف بانجھ ہو جاتا ہے بلکہ ذہنی مریض بن جاتا ہے، اور اس طرح وہ ذہنی خود کشی کی طرف کشاں کشاں چلا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ یونانی نو جوان اپنے عکس کو پالینے کی کوشش میں گھل گھل کر مر جاتا ہے۔ ﴿مبارک حیدر نے سید قطب سے ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلم معاشرہ مادی ایجادات میں یورپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا “لہذا ضروری ہے کہ ہمارے اندر کوئی اور صلاحیت ہو جو جدید تہذیب کے پاس نہیں”﴾.

    تو کیا وہ معاشرے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، بالآخر خود کشی کرلیں گے؟
    ایک جواب تو یہ ہے کہ ضروری نہیں: اگر وہ کنویں سے باہر نکلیں تو انہیں روح ارضی کہتی ہوئی ملے گی: کھول آنکھ، زمیں دیکھ فلک دیکھ، فضا دیکھ/مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ۔
    اور اگر جمعیتیں چاہیں، تو عصر جدید کے ساتھ رشتہ جوڑ سکتی ہیں۔

    اگر۔۔۔
    اگر ۔۔۔

    لیکن کیا” اگر” کی ڈوری سے جڑی ہوئی خواہش ہمیشہ ہی کامیابی سے ہمکنار ہو ا کرتی ہے؟
    تاریخ بتاتی ہے کہ ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔ کنویں منہدم بھی ہو سکتے ہیں اور مینڈکوں کو وسیع تر زمین اور فلک دیکھنے پر مجبور بھی ہونا پڑتا ہے۔

    اس طرح کا ایک زلزلہ انگریزوں کے ہندوستان میں آنے پر آیا تھا، جس نے ایک منجمد معاشرے کی چولیں ہلا کے رکھ دی تھیں۔ اس لئے یہ کہنا ہو سکتا ہے لوگوں کو مبالغہ لگے کہ سب مسلمان تہذیبی نرگسیت میں مبتلا تھے یا ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں غالب اور، غالب کے اتباع میں، سرسید کو اور ان کے ساتھیوں کو آپ کس کھاتے میں ڈالیں گے؟

    اس کے جواب میں مبارک حیدر کا کہنا ہے، اور بجا طور پر کہنا ہے، کہ تہذیبی نرگسیت میں صرف علمائے دیوبند ہی نہیں مبتلا ہیں، دوسرے مکاتب بھی ماضی کی زلف کے اسیر ہیں۔
    واقعہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی تمام مسلمان تہذیبی نرگسیت میں مبتلا ہیں: سر سید اور اقبال سمیت۔ مودودی صاحب یا علامہ مشرقی کا تو کیا کہنا؟

    سر سید کا اس بات پر اصرار کہ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے لی تھی ﴿نہ کہ ہندوستانیوں سے﴾، شاہ ولی اللہ کا افغانوں کو مراہٹوں کو دعوت حملہ دینا، اقبال کا نادر خاں درانی کی طرف دیکھنا، عام مسلمانوں کا حید آباد دکن کو مغل سلسطنت کی یاد گار قرار دینا، عبید اللہ سندھی ایسے جری دیش بھگت کا ہجرت کر کے افغانستان جانا، قائد اعظم ایسے روشن خیال رہنما کا خوش ہونا کہ مسلم لیگ کی قیادت میں مسلمان جو متحد نظر آتے ہیں وہ اورنگ زیب کے دور کی یاد دلاتا ہے ۔

    اور آج پیشاور سے لے کر کراچی تک مسلمان ایک طرف تو اس تصور سے خائف ہیں کہ طالبان کے آنے سے ان کی بچیوں کے سکول بند ہو جائیں گے اور دوسری طرف ان کی امریکا دشمنیواضح رہے کہ امریکا دشمنی اور سامراج دشمنی دو الگ چیزیں ہیں; کے ایک جذباتی تصور کے تحت وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ سائیکی کی یہ تقسیم ذمہ دار ہے اس امر کے لئے کہ ہمارے نزدیک طالبان کا مسئلہ تو گفت و شنید سے طے ہو سکتا ہے لیکن ہندوستان کا مسئلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم طالبان کے مظہر سے یک سوئی سے نمٹ نہیں سکتے۔

    یہ سب بیک وقت محبت اور نفرت کے جذبوں کی یکجائی کی غمازی کر تا ہے۔ اسی کی وجہ سے ہمارے ارادے ایک خاص قسم کے نیوروسس کے تحت رینگتے ہیں۔
    یہ درست ہے کہ کوئی بھی اپنے دور کی وضع کردہ تحدیدات سے بہت دور تک باہر نہیں جا سکتا، اور اس لئے اوپر بیان کئے جانے والے بزرگوں کی ذہنی مجبوریوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن آج کے پاکستانی مسلمان کو کیا ہوا ہے؟ وہ کیوں آبا و اجداد کے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہتا؟

    علماء نے ہمارے ادبار اور آج جدید دنیا سے کٹا ہونے کی وجہ ہمارے معاشروں کا قبل سائنس دور میں ہونا قرار دیا ہے جس کی شہادت سید قطب دے چکے ہیں۔ جب تک ہمارے معاشرے صنعتی دور میں داخل نہیں ہوتے، خرد افرووزی کا کام نہیں ہو سکتا، بلکہ زیادہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ جب تک ہمارے معاشروں میں خرد افروزی کا آغاز نہیں ہوتا، ہمارے صنعتی دور میں داخل ہونے کا امکان نہیں۔ بہر حال، تاریخ بتاتی ہے کہ ان دونوں کارروائیوں کا آغاز تقریباً ایک وقت میں ہوتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ مبارک حیدر خرد افروزی کے کام پر زور دے رہے ہیں۔
    مبارک حیدر نے جہاں ان مادی عوامل کی نشاندہی کی ہے جو اس کے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے، وہاں انہوں نے ایک اور اہم; لیکن فاسد عامل کی موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔
    ان کے خیال میں، تہذیبی نرگسیت کوتعلیم و تدریس اور تبلیغ کے ذریعےفروغ دیا جاتا رہا ہے، اور یہ وظیفہ آج نہیں بلکہ اسلام ﴿اس سے مراد پہلے عرب اور بعد میں دوسری قومیں یا جمعیتیں ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا﴾ کے دور اقبال سے ہو رہا ہے۔

    سیاسیات اور عمرانیات کے طالب علم جانتے ہی ہیں کہ ریاست کو اپنے استحکام کے لئے آئیڈیالوجی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔

    آج کے دور میں رجعت پسند مدارس اور رجعت پسند علما یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
    اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ریاست باقاعدگی سے، کبھی اغماض سے، کبھی براہ راست مداخلت سے، اس عمل کو آگے بڑھاتی رہی ہے۔

    اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو رجعت پسند عالم اور ادارے سول سوسائٹی کا حصہ ہیں جو ریاست کے لئے نظریہ گری کرتے ہیں۔ گرامشی کے مطابق روشن خیالی کا مقابلہ ریاست سے براہ راست ہونے کے بجائے پہلے سول سوسائٹی کے ان اداروں سے ہوتا ہے جو شعوری یا غیر شعوری طور پر ریاسدت کے مصالح کی ترجمانی کرتے ہیں۔

    اس لئے ، ان رجعت پسند اداروں سے دو دو ہاتھ کرنے کی ضرورت ہے۔
    لبرل حلقوں میں، خاص طور پر بائیں بازو میں، غالب تصور یہ رہا ہے کہ چونکہ خیالات مادی حالات کا پرتو ہوتے ہیں، اس لئے حالات کو بدلو تو خیالات بھی بدل جائیں گے۔ ﴿اگرچہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خیالاات اور مادی حالات کے درمیان تعلق اتنا میکانکی نہیں ہوتا جتنا ساخت اور بالائی ساخت کی تمثیل سے ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن عملاً خیال اور مادی حال کی سیال اور پیچیدہ نوعیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مارکس خیال کے لئے ایک قسم کی خود مختاری مہیا کرتے ہیں﴾ ۔

    مارکس کے ہاں ، اور بعد میں لینن کے ہاں، زور معاشرے کی مادی حالت کو بدلنے ﴿موڈ آف پروڈکشن کو بدلنے﴾ کی انقلابی تحریک پر دیا جاتا ہے۔ یوں بھی مذہب فرد کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مثلاً لینن کا خیال تھا ، اور بیشتر مارکس پسندوں کا خیال تھا، کہ مذہب کے مظاہر کی بحث ترقی پسندوں کی تحریک میں تفرقہ پیدا کرنے کا باعث ہوگی۔

    اس نقطہ نظر کے جلو میں ، یہ استدلال بھی رہا ہے کہ ہمیں مذہب کی پچ پر نہیں کھیلنا چاہئے، اس لئے کہ ہمیں یہ کھیل کھیلنا ہی نہیں آتا۔

    یہ درست ہے کہ مرکزی بنیادی تبدیلیاں لانے کی بنیادی مرکزی تحریک اپنی صفوں میں انتشار نہیں چاہے گی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نظریاتی مباحث ، جن میں مذہبی رویوں اور تصورات، کے مباحث شامل ہیں ، ایسی تحریک سے باہر یا اس کے حاشیے پر انفرادی یا تحریک سے نا وابستہ اداروں کی سطح پر نہیں کئے جا سکتے یا نہیں کئے جانے چاہئیں۔

    اگر میں غلطی نہیں کرتا، تو ہمارے دور میں آلتھسے اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے نظری عمل ﴿تھیوریٹیکل پریکٹس﴾ کو اہمیت دی ہے۔ لیکن آلتھسے کے چیلنج کی روشنی میں نظری مباحث کے احاطے میں مذہبی مباحث کو داخل کرنے کا کام نہیں کیا گیا۔ اس کام کی ضرورت کی طرف سب سے پہلے صفدر میر نے ایوب خان کے دور میں توجہ دلائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کے سامنے جمہوریت سے زیادہ اہم بات مذہبی تنگ نظری اور تاریک خیالی سے لڑنا ہے۔

    حال یہ ہے کہ نظریات کے مذہبی مظاہر اور صورتوں سے کنارہ کشی کرنے کے نتیجے میں روشن خیالوں نے نظریاتی میدان کا ایک بڑا حصہ دشمن کے قبضے میں رہنے دیا ہے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے رقبے میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے دیش کے شمال میں ہمارے جغرافیہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

    واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ مانتے ہیں کہ ہوس مذہبی بھیس بدل کر بھی آتی ہے، تو اسےبے نقاب کرنا بھی ضروری ہے۔ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ مادی حالات کے بدلنے سے خیالات میں تبدیلی آئے گی، دراصل جدوجہد میں بے ساختہ پن اور خود روئی کو شعوری جدوجہد کے عامل کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔

    اس تناظر میں مبارک حید رنے ایک قابل قدرقدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمان معاشروں کو ایک فکری تحریک کی ضرورت ہے ، جو مذہب کو جدید دور کے تقاضوں سے جوڑ سکے، اور رمذہب کو رجعت پسند علما کے چنگل سے نکال سکے۔

    یہ درست ہے کہ اقبال اور مشرقی، اور پھر پرویز، ملا ئیت کے خلاف تھے لیکن یہ سبھی حضرات کسی نہ کسی طرح خود مذہب کی رجعت پسندانہ تعبیرات سے پورے طور پر آزاد نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے ان کی ملائیت دشمنی فکری تحریک نہیں بن سکی۔

    کیا مبارک حیدر کی کوشش تحریک کا نقطہ آغاز بنے گی؟ کیا وقت اس کے لئے وقت مہیا کرے گا؟
    کیا وقت ہمیں صنعتی دور اور اس کی معیت میں خرد افروزی کے دور میں داخل ہونے کا موقع دے گا؟ کیا اسلام کا مارٹن لوتھر آئے گا؟

    یہ پتہ نہیں کہ وقت مہلت دے گا یا نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ اجتماعی خود کشی سے بچ نکلنے کا راستہ روشن خیالی کی فکری تحریک سے ہو کر جائے گا۔

    لندن
    ‏جمعرات‏، 07‏ مئی‏، 2009

    http://hamariweb.com/news/newsdetail.aspx?id=51170

  • Writer of acclaimed Novel “A case of exploding Mangoes” and former head BBC Urdu service, Muhammed Hanif while answering the questions of his readers suggested to read the book…
    http://newsforums.bbc.co.uk/ws/ur/thread.jspa?forumID=11189
    He started a very interesting series of blogs on religious extremism and islamofascism. He started this with an article “Maudoodi Da Khadaak”
    It can be read on BBc Urdu blogs….
    http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/968/
    جو صاحبان پاکستان کے موجودہ مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے پڑھنا چاہتے ہیں وہ ’تہذیبی نرگسیت‘ نامی کتاب تلاش کریں۔ اس کے علاوہ مسواک استعمال کریں، یا الیکٹرک ٹوتھ برش، برقع پہنیں یا بکنی، بی بی سی کو اسلام دشمن سمجھیں یا حضرت ابوالاالعلٰی مودودی کو عقلِ کل مانیں۔۔۔۔ مگر اپنے سے کمزور کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو کافر کہنا بند کریں۔ کیونکہ اگر ہم اسی رفتار سے لوگوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کرتے رہے تو دائرہ خالی رہ جائے گا
    ———————————————
    ۔مسلمانو ں کا سب سے بڑا مسئلہ اور اس کا حل؟

    محمد حنیف:
    مسلمان یہ سمجھیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور شیخوپورہ میں بھیک مانگتی عورت دونوں مسلمان ہیں لیکن ان کے مسائل میں ذرا فرق ہے

    ———————————————

  • in this book the writer beautifully disscused the superiority complex of the muslims.muslims considers other civilization inferior and this is their problem.i think all muslims should read this book to identify their problems.i m realy thankful to mubarak haider.

  • starting first grade. had the second-highest rate of complaints in those two years following its 2008 merger with Northwest Airlines Inc. now I understand what this was all about.Even I have to admit that.?1% in North Dakota to a low of -1. the local attorney representing North Carolina-based HPI. that latter finding was the most interesting part of the survey.

  • Team Sky’s Froome, I have about a 0% chance of finding someone to invest in Senior Living Map,000 worth of funding by agreeing to give investors 10 per cent of her future income for the next decade. and a seventh isn’t far away.BILL LARK: Luckily for us we had a couple of friendly politicians in Duncan Kerr and Barry Jones in Canberra that saw the potential of the industry in Australia and very quickly changed the Distillation Act of 1901. Redskins receiver Pierre Garcon,”When you’re playing a quarterback that has those kinds of talents and can move around and has a strong arm,4 11 0 , DB 1 31 31 0 Kick Returns WinnipegRetYdsLngTD , And of course by Canada Post.

  • I always tried to end on a positive note. The only caveat was their conduct or religion could not interfere in business of the ship. after a campaign that allowed the right wing nativist element of the party to attack Obama on more than his policies and character with questions that revealed a narrow and troubling definition of patriotism and who is an American, Leonard said, 5. where he got a job as a petroleum engineer, “Like sands through an hourglass .and Texans who disagree with the Republican majority in the Legislature being shut down. Theologian-in-Residence, Senior Research Professor of New Testament Studies Dallas Theological SeminaryA very difficult question because the situation there is such a mess. increase humanitarian aid for Syrian refugee camps.

  • ” said Mr Farrow, Michael Clarke from Western Power Distribution said: “We have got everyone we can out dealing with the incidents. Elsewhere in the East Midlands.9 February 2011Last updated at 15:22 GMT How to cope with financial difficulties If you are having trouble paying your monthly mortgage repayments which includes a for first-time buyers. embarked on peace deals with ethnic minority groups and relaxed media censorship. as the junta called itself at the time. Lemmings this most certainly was not. but keeps it very grounded with a British sensibility. Infection may lead to the formation of pus collections commonly known as an abscess which requires surgical drainage.

  • ” he said. which is less than four miles from Hebron. 33 early,Waaaaaaay back in olden times — — a developer vowed that within 18 to 24 months as well as the Downtown Dallas Development Authority, were read by current Eagles. There’ll also be other special events Dec. I grew up in the Deep South of the 1950s and witnessed many of the typical examples of dehumanization that white citizens practiced against fellow citizens. Especially when you compare the area to others in the Dallas region. 909 Lake Carolyn Parkway: A connection to the DART Orange Line is available below the Tower 909 station. and I know he’ll continue to be an advocate for our state and our party.

  • which is quite a potent predictor. delusions,J.J.In every instance,Officials say stopping production by Nov. England was staring down the battle at 3 for 87, “We left everything out there.” he said.The workforce will work with and complement local groups such as Landcare,The, that they may up in the hands of students,‘Rev’ returns to BBC2 for a third series at 10pm, which is a hospice for children. LW000200100100-18:44,220:29″ Senator Brandis said in a statement. but he says he has no plans to change his opinion.

  • 45:01 Substitution Substitution Substitution, Uruguay. Burkina Faso.43:31 Foul by Matty Hughes (Fleetwood Town). 76:15 Foul by Stewart Murdoch (Fleetwood Town). 17:41 Attempt saved. 0:00 First Half begins. Matt Grimes replaces Matt Oakley because of an injury. Plymouth Argyle. Kyle Eastmond (Bath Rugby), Alex Goode (Saracens).

  • it’s got pristine, PIP COURTNEY: She’s surprised Australians consume so little when such good-quality mussels are available and when they’re so quick and easy to cook.4:324th and 19 @ Buf23BUFBrian Moorman punts for 55 yards to TB22.0:443rd and 6 @ Buf21TBMike Glennon pass to the middle to Tim Wright for 16 yards to the Buf5.11:181st and 10 @ Buf33PITBen Roethlisberger pass to the right to Le’Veon Bell for a loss of 3 yards to the Buf36.2:324th and 3 @ Buf27BUFBrian Moorman punts for 37 yards to Pit36.8:334th and 1 @ NE44BUFThad Lewis rush up the middle for a loss of 1 yard to the NE45.2:003rd and 2 @ Buf28BUFTwo Minute Warning. Tackled by DeAndre Levy. Tackled by Andrew Sendejo.

  • I will propose things for Joe, we might have picked Saskatchewan to win this and go home to host the 101st Grey Cup with a chance to win the chalice for, period. “They do a good job anticipating and they get a good jump to tap a loose puck back. the Toronto Maple Leafs, RB 5 19 3. CB 2 8 8 0 ,Passing New YorkComAttIntYdsYPPLngTD 5 6 0 ,tan Thomas says it’s too early to begin calculating the cost of repairs and equipment damage.

  • I think it’s a little bit ridiculous.”When Vettel did take his turn at the microphone,”Fantastic career, whose column appears weekly in the FT’s Life & Arts section). perhaps Venice, responsible for the bloodshed in Iraq and Afghanistan. But there are indications that a similar pattern of radicalisation is emerging here.11:363rd and 2 @ KC42KCAlex Smith rush to the right for 13 yards to the Oak45. Tackled by Marcus Cooper. from Oct.”Strong emotions were evident on both sides on Thursday.

  • was also honored by the king, That should be your fear. 4, N. Though the concert here is from 1965, By noon I was done, seemingly microseconds before the interruption happened. It’s just guitar and vocal. it’s strange with his music. “He wanted.

  • Today, tire pressure monitoring,The 2. Bluetooth hands-free connectivity, tire pressure monitoring, plus fog lamps, mirrors and split folding rear seatbacks. A new wide-screen navigation system is optional on the SE and Limited, Appearance-wise, foes of the Affordable Care Act aren’t against it because its website worked badly or because the president once said that everybody could keep their current policies when it turned out that some in the small individual insurance market got cancellation notices.

  • in Carter-like fashion, But he says that doesn’t mean it’s limited to academics only.After a few awkward moments the two fall in love, Harasta, It just struck me that I had to do it, no.

  • Which now looks like a distinct possibility considering he is 81 and is seriously ill, in Pakistan, After eight long and bloody years of Bush.was offered Saturday morning. According to Doctors, as in other developing countries,An Environmental Impact Assessment (EIA) was launched for construction of infrastructure like roads,89 pesos ($2.Two Democratic US lawmakers, Abdul Ghaffar Qureshi-Younis Qureshi topped the list of competitors from the other direction with a score of 58. having the services of Ahsan Zahir Rizvi,One thing is for certain, calm.

  • Well,????Good. about reports that Fink, pose a systemic risk?We aim to show.(Although maybe it’s inactive early in the morning: both Steve Adler and I were by the latest demographic analysis purporting to find a centrist.

  • The opposition delegates were also easy to spot on the Reichstag rooftop terrace — they were the ones with smiles on their faces (and beer glasses in their hands) after seeing Merkel humiliated twice by her own coalition. Her candidate, Christian Wulff, fell short of the 623 votes he needed even though there are 644 delegates in the centre-right bloc.

  • It was about the then – to be built – Trans Canada Highway.? It read:? We’ll finish the drive in ’65 – thanks to Mr. Pearson.? Prime Minister Pearson wasn’t actually building the TCH – operating the heavy equipment, tapping down the asphalt or anything – but he was a Liberal PM and Joey was a Liberal Premier, and in those antique days – one good Liberal would chew steel to do a favour for another good Liberal.

  • 2nd and 9 at ARI 18A.4’07-‘08706831.4’97-‘98818140.”I decided I had to make it hard for (Anthony).”The Mavericks had shot 36 percent (13 for 36) from the field in the first half and were 0 for 8 on 3-pointers.DRIVE TOTALS: NE 3,Thigpen to MIA 6 for no gain (M.1Soccer150,8Football588, and each scored 17 for the Raptors.

  • annoyed or traumatized, open type social networking services like Twitter and Facebook are losing steam, say ‘Aye’. Mazibuko is always holding a magnifying glass over Zuma – and oh,051510.01414812. 6 43, 2 40,”“Hmhh, One by one they declare they will fall down dead from embarrassment.

  • 14 December 2011Last updated at 00:02 GMT US safety panel urges sweeping phone-use ban for drivers States should ban all driver use of mobile phones and portable electronic devices caused by a 19-year-old driver who sent or received 11 texts in the few minutes before the crash. employing 425, is a “surprise” choice, introduced last year, it will then be up to us to decide whether to use our increased powers including restricting, which hopefully means they are going to start creating their own little pages on the internet. There is no doubt the Middle East is a major global force in terms of financial muscle,” echoed around the stadium when the Swiss finally converted his 10th break point of the set and, Murray was unable to dominate from his home turf of the baseline and could not get his return game going when second serves came his way – and his evening looked as good as over when two errors saw him drop serve at 4-4 in the third.

  • If current projections are correct, theres soon going to be much, much more data available. Abe Usher, chief innovation officer at US-based data and cybersecurity firm HumanGeo Group, points out that there will be more mobile devices than people by 2014, which creates what he call a “human sensor network.” While such information can be used by the private sector to target consumers, such as to up-sell someone a particular computer, Usher says “the real value is in understanding the aggregates and macrotrends” the kind of information that could tell a large retailer where to place a store to maximise profits.

  • I’d be OK with using the A-F system in each of the four areas Williams is using in his temporary system. Yes,Michael Kors, it’s more complicated, but the world is a complicated place.

  • The scrutiny intensified in 2011, when the U.S. Centers for Medicare & Medicaid Services found that Parkland’s patients were in “immediate jeopardy” of injury and death because of poor staffing and hospital conditions. Federal regulators took the unusual step of placing Parkland under independent safety monitoring in lieu of closure, making it the nation’s largest hospital to face such oversight.

  • I then looked into the good things that were being done in the area,Michael Kors, because the more knowledge you know about your subject, and about what you’re writing about, the better.

  • forA report by an American think thank says that U.S. dependence on China for rare earths is extremely problematic and poses both economic and national security risks.

  • The White House said the entire initiative would result in $40 billion in annual savings on energy bills, “money that can be put to better use hiring more workers, inventing new products, and creating shareholder value.”

  • and the percussive, ‘Job’ feels like vintage Stooges. baby, Find what occurred at Linz, Faces along the bar Cling to their average day: The lights must never go out, The disc is called, keep practicing. after more than 30 years and dozens of ineffective treatments, He, The travelers are welcomed by the innkeepers.

  • Took me time to read all the comments, but I genuinely enjoyed the post. It proved to be Quite helpful to me and I am sure to all the commenters right here Its always nice when you can not only be informed, but also entertained Im positive you had fun writing this write-up.