Newspaper Articles

Democracy triumphs: Parliament passes pro-women bill


Prime Minister Yousuf Raza Gilani congratulated all parliamentarians, particularly women parliamentarians, for the unanimous passage of the Anti-Women Practices Criminal Law Amendment Bill 2008.

Gilani recalled that Shaheed Benazir Bhutto had always given high priority to legislation that protected the rights of women and it was in this spirit that all the Pakistan Peoples Party parliamentarians had lent their full support to the bill.

The Prevention of Anti-Women Practices Act prohibits and punishes exploitative practices such as depriving women of inheritance, forcing them into marriage to settle personal or family disputes, bartering them or making them marry the holy Quran.

The Pakistan women now have a landmark law aimed at protecting them from abuses, discrimination, injustice and violence. And this is largely thanks to Parliament and Pakistan Peoples Party. Once again PPP has used its pro people approach, influence and vote power to eliminate injustice and discrimination against women.

The following are two news stories about the Prevention of Anti-Women Practices Act.

Prevention of Anti-Women Practices Bill unanimously approved by NA

The Prevention of Anti-Women Practices (Criminal Law Amendment) was unanimously approved by the National Assembly on Tuesday, Express 24/7 reported.

The historical bill was tabled by Member of National Assembly Dr Donya Aziz. The bill is aimed at prohibiting exploitation and discrimination against women.

According to the bill, a punishment of up to 10 years imprisonment and a penalty of Rs5 million will be handed to anyone who forces a woman into marriage, while a person who marries a woman against her consent will be imprisoned for three to ten years with a fine of Rs0.5 million.

The bill also states that those who are involved in conducting weddings in exchange for personal gains or settling difference will be sentenced to five years in prison, whereas, marrying a girl off to the Quran will end up in imprisonment for seven years and a fine of Rs0.5 million.

The bill, which advocates greater social protection for women, had earlier been shot down in the National Assembly after some members had refused to vote without having received a copy of proposed amendments to the bill.

The debate on the bill had been deferred after Shah Mahmood Qureshi and a Pakistan Muslim League – Nawaz (PML-N) MNA, Ayaz Amir, had raised the objection.

Source: The Express Tribune

 

خواتین دشمن روایات کے خلاف قانون منظور


اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی نے خواتین کی صلح کے بدلے، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی اور خواتین کو املاک میں حقِ وراثت سے محروم رکھنے کے خلاف قانون منظور کرلیا ہے۔
اس قانون کے تحت بدل صلح، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی کے مرتکب افراد کو دس برس قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔

منگل کو نجی کارروائی کے دن کے موقع پر یہ بل مسلم لیگ (ق) کی رکن ڈاکٹر دونیہ عزیز نے پیش کیا جو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔
حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کی رکن جسٹس (ر) فخرالنساء کھوکھر کی بعض ترامیم مسترد کردی گئیں جبکہ فنی نوعیت کی بعض ترامیم جو متحدہ قومی موومنٹ کے رکن ایس اقبال قادری نے پیش کیں وہ منظور کرلی گئیں۔
’یہ ایکٹ خواتین دشمن روایات کا امتناع (فوجداری قانون ترمیم) ایکٹ، 2011 کے نام سے موسوم ہوگا اور فوری نافذ العمل ہوگا۔‘
مجموعی تعزیرات پاکستان میں ’عورتوں کے خلاف جرائم‘ کے عنوان سے ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی دھوکہ دہی یا غیر قانونی ذرائع سے کسی عورت کو وراثت کی تقسیم کے موقع پر منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی وراثت سے محروم کرے اس کو کسی ایک نوعیت کی زیادہ سے زیادہ دس سال اور کم از کم پانچ سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
اس قانون کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ ’جو کوئی بھی دیوانی جھگڑے یا فوجداری معاملے کے تصفیے کی بابت بدلِ صلح ونی یا سوارہ یا کسی نام کے تحت دیگر کسی رسم یا رواج کے طور پر کسی عورت کی شادی کرتا ہے یا دیگر کسی صورت میں اس کو شادی کرنے پر مجبور کرتا ہے، اس کو کسی ایک نوعیت کی زیادہ سے زیادہ سات سال اور کم از کم تین سال قید کی سزا ہوگی اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔‘
ایک شق کے مطابق ’جو کوئی بھی جبری یا کسی طریقے سے کسی عورت کو شادی کرنے پر مجبور کرے گا اس کو اسی نوعیت کی زیادہ سے زیادہ دس سال اور کم از کم تین سال قید کی سزا ہوگی اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔‘
جبکہ قرآن سے شادی پر مجبور کرنے والے کو سات سے تین سال تک قید ہوگی اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے قانون میں کہا گیا ہے ’خاتون کا قرآن پاک پر حلف اٹھانا کہ وہ اپنی بقیہ زندگی غیر شادی شدہ رہے گی یا وراثت سے اپنا حصہ نہیں مانگے گی تو وہ قرآن سے شادی تصور ہوگی۔‘
اس بل میں ایک ترمیم یہ بھی شامل ہے کہ صوبائی حکومت زنا کی سزاؤں میں مداخلت نہیں کرے گی اور ایسی سزاؤں کو معاف کرنے یا کم کرنے کا بھی انہیں اختیار نہیں ہوگا۔ اس قانون کے تحت سیشن جج یا درجہ اول کے مجسٹریٹ مقدمات نمٹائیں گے۔ کسی کو بناء ورانٹ گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔
یہ بل چونکہ نجی کارروائی کے دن ہی زیر بحث لایا جاتا ہے اس لیے تین بار یہ التویٰ کا شکار رہا اور منگل کو منظوری سے قبل بھی ایسا لگا کہ شاید آج بھی منظور نہیں ہوگا۔ ایک موقع پر جب ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت کارروائی جاری تھی اور ایجنڈے کے سات نکات متعلقہ اراکین کی غیر موجودگی کی وجہ سے زیر بحث نہیں آئے اور نویں نمبر پر اس بل کی باری پر اراکین نے نکتہ اعتراضات پر بولنا شروع کردیا۔
لیکن بعد میں قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اجلاس کی صدارت سنبھالی تو اجلاس کی کارروائی بدھ کی شام تک ملتوی کرنے کا اعلان کرنے سے پہلے یہ بل منظور کیا گیا۔
ایک موقع پر ڈاکٹر دونیہ عزیز نے کہا کہ مختلف معاملات پر جب قانون سازی ہوتی ہے تو اراکین کو پتہ تک نہیں ہوتا کہ کیا منظور ہو رہا ہے لیکن خواتین کے بارے میں اس بل پر غیر ضروری ترامیم کا بہانہ بنا کر اُسے منظور نہیں ہونے دیا جا رہا۔
بعد میں جب بل اتفاق رائے سے منظور ہوا تو سپیکر نے پورے ایوان کو مبارکباد دی اور کچھ اراکین نے ڈیسک بھی بجائے۔ لیکن ڈیسک بجانے میں کوئی گرمجوشی نظر نہیں آئی۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد جب صدرِ پاکستان اس پر دستخط کریں گے تو یہ نافذ العمل ہوگا۔

Source: BBC Urdu

About the author

Junaid Qaiser

2 Comments

Click here to post a comment