Original Articles Urdu Articles

مرتا کیا نہ کُرتا


 

ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کُرتے کا ذکر کیا ہوگا  لوگ باگ بشارتیں دینے لگیں گے اور وہ  صورت حال پیدا ہو جائے گی کہ جس میں آدمی کہتا ہے کہ ‘جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں’، اور کیا کہیں بس اتنی وضاحت کر سکتے ہیں کہ ہمیں کُرتے بچپن ہی سے بے حد عزیز ہیں، یہاں تک کہ ہم تو کرتے کو بھی کُرتے ہی پڑھتے تھے


یہ آرزو تھی تجھے گل  کے  روبرو  کُرتے
ہم   اور   بلبل   بے  تاب    گفتگو    کُرتے
پیامبر    نا   میسر   ہوا    تو   خوب    ہوا
زبان   غیر  سے  کیا  شرح    آرزو  کُرتے


تاوقتیکہ ان استاد کی کلاس میں نہ آ گئے جو قلمیں مروڑتے تھے اور  یہی ان کی وجہہ شہرت تھی، خدا کرے کہ جہاں ہوں خوش ہوں ، انہوں نے جب یہ سنا


اسباب غم عشق بہم  کُرتے  رہیں گے
ویرانی دوران پہ  کرم کُرتے رہیں گے


تو انھیں حال آ گیا اور ہرچند کہ وہ سمجھتے ہونگے کہ ابھی ہمارا نشو نما کا وقت ختم نہیں ہوا تھا پھر بھی ازراہ عنایت انہوں نے جو ہماری قلمیں مروڑیں تو کھڑے کھڑے پانچ فٹ چار انچ سے پانچ فٹ آٹھ انچ ہو گئے. اس کے بعد سے ایک مدت تک کرتے اور کُرتے سے دور ہی رہے. ایسے استاد آج کے زمانے میں کہاں ملتے ہونگے، جو زبر اور پیش کا فرق ایسے سمجھائیں کہ کبھی نہ بھلایا جا سکے اور  کُرتے کا ذکر آتے ہی ہاتھ سیدھے قلموں کو طرف بڑھ جائیں جیسے نیت باندھتے ہوں،  آج بھی یقین نہیں کہ وہ اپنی جگہ ہیں کہ اکھڑ گئیں


پھر بھی بندہ بشر ہے،  کُرتے ہمیں آج بھی بھاتے ہیں،  خاص طور پر صنف مخالف پر تو خوب پھبتے ہیں اور  کُرتے سے صرف نظر کرتے نہیں بنتی. پھر بھی ہمارا خیال ہے کہ کُرتے کو صنفی امتیازات کا نشان نہیں بننا چاہیے، صنف نازک اور صنف کرخت دونوں کا کُرتے پر برابر کا حق ہے. ویسے بھی کُرتے سے بہت کچھ چھپ جاتا ہے جیسے  پھٹی ہوئی بنیان اور سفید پوشی کا بھرم رہ جاتا ہے.  تو کوئی  کُرتے سے بیزار کیوں ہونے لگا، ہاں اگر  کُرتے جیسے غریب پرور لباس کو اہل زمانہ خاص الخاص بنا لیں، نمود کا ذریعہ اور نمائش کی شے، جسے مارکیٹنگ کی زبان میں برانڈ کہتے ہیں. اگر محض لباس کو ایک مظہر بنا لیا جائے شخصی و ظاہری نیکو کاری اور شرافت و دینداری کا تو پھر ایسے فعل اور ایسے افراد کی عقل پر ماتم ناجائز تو نہ ہوا؟ ملا نصرالدین کو کسی نے دعوت میں بلایا یہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے بنہچ گئے، منتظمین نے نکال باہر کیا. دوسری دفع کسی سے بے حد اعلیٰ  پوشاک ادھار لی اور لباس بدل کر پھر دعوت میں پنہچے، اب کے ہاتھوں ہاتھ لئے گئے، دسترخوان  پر بیٹھے تو بہترین جگہ ملی، دونو ہاتھوں سے کھانا اپنی پوشاک پر ملنے لگے، ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے انہوں نے ڈانٹا کہ صاحب یہ کیا کرتے ہیں، ملا بولے بھائی یہ سب اس پوشاک کی بدولت ہے، یہ عزت اسی سے ملی ہے تو یہ کھانا بھی اسی کا حق ہے. تبدیلی جانچنے کا اصل ترازو تو خود معاشرہ ہے، اگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ہنوز دلّی دور است


ویسے ہم اپنے محترم استاد کے بے حد مشکور ہیں کہ ان کی وجہ سے سمجھ پائے کہ


ہاں   تلخی   ایام  ابھی  اور    بڑھے   گی
ہاں  اہل  ستم مشق  ستم کرتے  رہیں  گے


اور خدائے بزرگ و برتر کا بھی لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے جزا و سزا اپنے ہاتھ میں رکھی ورنہ تو حضرت انسان نے لڑ مر کر ہی رہ جانا تھا اور کسی کے ہاتھ کچھ نہ آنا تھا، اختلاف رائے انسان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے اور ترّقی کی نشانی ، کسی سیانے نے کہا تھا کہ اگر سب ایک جیسا سوچنے لگیں تو اس کا مطلب ہے کوئی کچھ نہیں سوچ رہا، ویسے تو آج کل وہ لوگ پسند کیے جاتے ہیں جو ہاں میں ہاں ملائیں، تین حضرات بیٹھے تھے دو میں بحث ہو رہی تھی، ایک نے تیسرے سے پوچھا ‘کیوں صحیح کہا نا ‘ یہ بولے ‘جی آپ صحیح کہہ رہے ہیں ‘ دوسرے صاحب کو غصّہ آ گیا . بولے ‘یہ کیسے صحیح کہہ سکتا ہے؟’ وہ بولے ‘آپ صحیح کہہ رہے ہیں’. ایک اور حضرت پاس بیٹھے تھے ، سن رہے تھے، بول پڑے ‘یہ دونوں کیسے صحیح کہہ سکتے ہیں؟’ تیسرے صاحب بولے ‘آپ بھی صحیح کہہ رہے ہیں’. ویسے تو امان اسی میں ہے کہ ان صاحب کی طرح سب کو خوش رکھنے کی کوشش کی جائے مگر پڑھے لکھے جاہل یہ بات سمجھ نہیں پاتے، جاہل ٹھہرے نا اور منطق میں لگ جاتے ہیں صحیح اور غلط کے پھیر میں پڑ جاتے ہیں ، اگر مگر کرنے لگتے ہیں، یوں ہوتا تو کیا ہوتا، ووں ہوتا تو کیا ہوتا، ہمیں تو ہمارے ایک دوست نے کہہ  دیا کہ


ڈبویا تجھ کو ہونے نے
نا ہوتا  تو تو  کیا  ہوتا


ہم ان کو کہتے ہیں کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں، مگر ہم نے ہی ان کو وہ لطیفہ بھی سنایا تھا، اس لئے ہمارا یقین نہیں کرتے بلکہ اور چڑ جاتے ہیں. ہمارے دوست کا خیال ہے کہ جو وہ سمجھتے وہ صحیح ہے اور آپ کو ان سے متفق ہونا چاہیے کیونکہ  وہ صحیح ہیں اور اگر آپ اختلاف کرتے ہیں تو ان کا آپ کو جہنمی ہونے کی بشارت دینا جائز ہے کیونکہ وہ صحیح ہیں. سوال یہ رہ جاتا کہ یہ دوستی کیسے چل رہی ہے، وہ تو اس انتظار میں ہیں کہ ہم ان کے تجویز کردہ مقام تک کب پہنچتے ہیں، اور ہم امید سے ہیں کہ شاید
……………


یار   سے   چھیڑ   چلی  جائے اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی صحیح

 

About the author

Naveed

7 Comments

Click here to post a comment
  • نوید بھائی، بہت خوب لکھا ہے، الله کرے زور قلم اور زیادہ

    آخری شعر میں ایک معمولی تصرف کیا جا سکتا ہے

    یار سے چھیڑ چلی جائے اسد
    گر نہیں وصل توکرتا ہی صحیح

    گر بھاگتے چور کی لنگوٹی حلال ہے تو بھاگتے یار کے کرتے میں کیا مضائقہ؟

  • . تبدیلی جانچنے کا اصل ترازو تو خود معاشرہ ہے، اگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ہنوز دلّی دور است
    میاں تبدیلی تو ائی ہے نہ اور وہ بھی دلکش ….. کرتے سے کرتی اور پھر چولی اور وہ بھی ناف سے کچھ اوپر …

  • ویسے کرتا بڑے برکت کی چیز ہے – اگر حضرت جنید صاحب کی برانڈ بن جاتے تو برکت ہی برکت

  • Bravo Naveed. Thanks for exposing the growing absolutism in us, but in such a light hearted manner. There is way more to the humble ‘kurta’ than I ever imagined 🙂

  • دیکھیں اسجد بھائی چولی حرام ہے اس کے ذکر سے اجتناب کریں ، صرف چولا جائز ہے کیونکہ یہ بار بار بدلا جا سکتا ہے، کبھی یہ چولا کبھی وہ چولا

  • ویسے کرتے اور چولے کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اس لئے کرتے کو چولے سے بدلا جا سکتا ہے، بلکہ ایسا ہی ہونا چاہیے اسی میں تو فایدہ ہے.
    اور یہ چولی دامن کا ساتھ بلکل غلط محاورہ ہے