Original Articles

Punjab: “Land grabbing”, an instrument of religious persecution

There is another subtle instrument of oppression against religious minorities in Pakistan: “land grabbing”. It is based on rent, purchase or expropriation of large plots of land, and in Pakistan this abuse is systematically used by large landowners or powerful businessmen at the expense of farmers, Christians or Hindus. This is what is denounced by minorities rights organizations.

Last October 5 the Christian village of Chak 34/16-L in the district of Mian Chanuu, in Punjab, was attacked by a group of extremists who drove the Christian families out in order to grab their land. In the raid a Christian was killed and 38 seriously injured, including women and children.

Director of “Centre for Legal Aid Assistance and Settlement” CLAAS) Mr. Joseph Francis told media “The attackers drove families out with violence and without mercy, children were beaten and thrown into the street, even using firearms. Sabir Masih, a Christian youth aged 22, who wanted to defend a woman with children, was killed. ”

Law enforcement agencies have failed to arrest the killers and attackers despite the fact that long period has gone. The minority rights organizations accused that this attack and delay in arrest was not possible without the patronage and the tacit complicity of the police and the district administration.

The minority rights organizations, pointing out the serious problem of “mafia landowners” in Punjab, and ask for an intervention on behalf of the central government and for the protection of minority rights.

The following related report is in Urdu, taken from the BBC Urdu:

پنجاب فائرنگ: ایک عیسائی نوجوان ہلاک

پاکستانی مسیحی برادری کے لوگ مسیحوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے
پنجاب کی تحصیل میاں چنوں کے ایک گاؤں میں مبینہ طور پر اراضی پر قبضے کی کوشش کے دوران فائرنگ سے ایک عیسائی نوجوان کی ہلاکت اور بائیس مسیحوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

واقعے میں ملوث مفرور ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔

پولیس کے مطابق 23 افراد کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور ابھی سات ملزم مفرور ہیں۔ تمام ملزم مسلمان تھے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک عیسائی عدیل کاشف کی اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش کے دوران پیش آیا اور اس واقعہ کا مقدمہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بائیس سالہ نوجوان صابر کے والد کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

مسیحیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کلاس کے مطابق یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نچلے طقبے کے محنت کش اور ہنر مند افراد جیسے ترکھان اور لوہار وغیرہ کے لیے سرکاری طور پر الاٹ ہونے والی اراضی پر قبصے کی کوشش کی گئی۔

تنظیم کے عہدیدار ندیم انتھونی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ایک کنال ارضی پر اقبال نامی شحص رہائش پذیر تھا اور اس نے مقامی پٹواری سے ملکر یہ اراضی عبدالرحمان اورعنصر نامی افراد کو ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کردی حالانکہ وہ قانونی طور یہ اراضی فروخت کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

ندیم انتھونی نے بتایا کہ محمد اقبال غیرقانونی طور پر یہ اراضی فروخت کرنے کے بعد دوسرے گاؤں منتقل ہوگیا جس کے بعد یہ اراضی قانونی طور عدیل مسیح کو الاٹ کردی گئی۔

تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ جب عبدالرحمان کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ اراضی عدیل مسیحی کو مل گئی ہے تو اس نے مسلح افراد کے ساتھ ملکر اس اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے نوجوان صابر کے والد اور مقدمہ کے مدعی بشیر مسیح کے مطابق پانچ اکتوبر کو عبدالرحمان اور محمد عنصر کے ساتھ ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل پر سوار دو درجن کے قریب افراد گاؤں میں آئے اور ان کے پاس جدید اسحلہ بھی تھا۔

مبینہ حملہ آور عدیل میسحی کے گھر میں زبردستی داخل ہوگئے اور گھر کا سامان باہر پھینکنا شروع کردیااس پر گھر میں موجود افراد نے شور مچایا اور گاؤں کے لوگ ان کی مدد کے لیے وہاں پہچ گئے۔

مدعی کا کہنا ہے کہ میبنہ حملہ آور نے لوگوں کو اپنے طرف آتا دیکھ کر ان پر جدید اسحلے سے فائرنگ کی جس کے نیتجے میں ایک نوجوان صابر کی موت ہوگئی جبکہ بائیس کے قریب مسیحی افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق سات ملزم ابھی مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔