Original Articles

MQM must refrain from threatening media

MQM Attack on AAJ TV on 12 May 2007

After being exposed & unveiled Muttahida Qaumi Movement(MQM) and its leadership has been facing the toughest situation and hardest time since the recent press conference of Dr. Zulfiqar Mirza on 28th August, which mainly revolved around the heinous crimes of the biggest fascist party & Karachi’s ruling mafia gang.

While hearing the suo moto case against targeted killings Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry observed that report about Ajmal Pahari was enough much to open the eyes. Ajmal Pahari, an elite member of MQM death squad, who killed over 100 innocent pathan sindhi baloch and punjabi and also attacks on political offices of different political parties.

Terrorist Leaks also proved Wali Khan Babar was murdered by MQM and released video tape containg the confession of Muhammad Shahrukh Khan – MQM(A) Terrorist.

In a completely shocking decline the biggest Mafia of Karachi city loses nerve and once again threatens media.

Following are related news items on BBC Urdu.

’بھتہ خوری کے لیے قانون کیوں نہیں؟‘

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ حکومت قانون سازی کے ذریعے بھتہ خوری کو جرم قرار دے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سندھ حکومت سے سوال کیا ہے کہ انسدادِ بھتہ خوری کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک قانون سازی نہیں ہوگی یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟

منگل کو جیسے ہی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آئی جی سندھ واجد درانی کو ہدایت کی کہ پندرہ جولائی سے اس وقت تک گرفتار کیے جانے والے افراد کی تفصیلات عدالت کو فراہم کی جائیں۔

بھتہ خوروں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

’پشت پناہی کرنے والوں کا جاننا چاہتے ہیں‘

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخار گیلانی کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ملزم اجمل پہاڑی سے کی گئی جوائنٹ انٹروگیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اجمل پہاڑی کا کیا ہوا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

اس موقعے پر جسٹس غلام ربانی نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ ثبوت موجود ہیں وہ سب کچھ بتا رہا ہے، اس کی جماعت
کے بارے میں کیا کارروائی کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے واضح کیا کہ یہ انٹروگیشن رپورٹ ہے، فوجداری کارروائی نہیں ہے۔ جسٹس ربانی نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ صرف پولیس کی رپورٹ نہیں ایم آئی اور آئی ایس آئی کی بھی رپورٹ ہے، جسٹس ربانی نے سوال کیا کہ اگر جوائنٹ انٹروگیشن کی رپورٹ پر بھی عمل نہیں کرسکتے تو بناتے کیوں ہیں؟

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بتایا کہ انہوں نے ساری رات جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پڑھی ہے جو آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی، منی پاکستان اور اقتصادی مرکز ہے۔ ریڑھی والے سے لیکر صنعت کار تک کو تحفظ نہیں ملے گا تو یہ ملک کیسے چلے گاگ بقول ان کے یہ نمبر بنانے کی بات نہیں ہے وہ لوگوں کو پرامن ماحول دینا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی صدر عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ کراچی میں بدامنی اور ہنگامہ آرائی آج کی بات نہیں ہے یہ دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کے بقول ایم کیو ایم تخریب کاری کی مشینری ہے۔ بقول عاصمہ جہانگیر ایم کیو ایم کی اگر تاریخ دیکھی جائے تو وہ مسئلہ پیدا کرتی رہی ہے اور گزشتہ دس سالوں میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ایم کیو ایم گڑ بڑ کرتی ہے جس کے بعد دوسری جماعتیں شامل ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ مکمل طور پر سچی نہیں ہوگی مگر اس میں جو بیانات ہیں وہ قابل غور ہیں۔ ایک سیکٹر انچارج کو دوسرے کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

آئین میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کسی تنظیم پر پابندی کے حوالے سے موجود شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جماعت پر پابندی ایک بڑی غلطی ہوگی، اس کے سیاسی نتائج نکلیں گے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ کچھ لوگ فوج بلانے کی بات کر رہے ہیں مگر فوج مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہے جس کے آنے سے مسائل اور بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے پولیس کی اسپیشل برانچ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی جس میں بتایا گیا تھا، کہ شہر میں چالیس کے قریب سیاسی جماعتیں بھتہ اور چندہ وصول کرتی ہیں، جس میں متحدہ قومی موومنٹ، سنی تحریک ، پیپلز امن کمیٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، کالعدم سپاھ صحابہ اور دیگر جماعتیں اور گروہ شامل ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک صوبائی اسمبلی قانون سازی نہیں کرے گی یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟ حکومت قانون سازی کرے اور اسے جرم قرار دے۔

اس موقعے پر چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جب تک بھتہ خوری کے خلاف قانون سازی ہو،گورنر کو کہہ کر آرڈیننس جاری کیا جائے۔

ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے عدالت کو بتایا کہ بھتہ خوری پر کافی ضابطہ ہوا ہے پولیس مزید کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوے فیصد ٹارگٹ کلرز موبائل ٹیلیفون استعمال کرتے ہیں مگر ان کا سراغ لگانے کے لیے ان کے پاس سہولت دستیاب نہیں ہے۔

بدھ کو سماعت کے موقعے پر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جج کی خالی آسامیاں بھی زیر بحث آئیں اور چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ دو روز میں یہ آسامیاں پر کی جائیں۔

چیف جسٹس نے پولیس سے کورنگی میں پولیس بس پر فائرنگ اور اس میں گرفتاریوں کی تفصیلات بھی معلوم کیں۔

Source: BBC Urdu

’خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے

Mustafa Kamal warned media and anchor persons.
پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم پر کی جانے والی تنقید پر میڈیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

منگل کی رات کو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ’وہ میڈیا اور دوستوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ انیس سو بانوے نہیں بلکہ دو ہزار گیارہ ہے، ایم کیو ایم کی ملک کی بقا اور امن کے لیے خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور مہاجر قوم اور مہاجروں کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی سازش بند کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی رگوں میں پاکستان بنانے والوں کا خون ہے، اس لیے وہ ملک توڑنے اور سازش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، ماضی میں بھی ان پر جناح پور کے الزام لگائے گئے جو وقت نے غلط ثابت کیے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میڈیا نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو بڑا ہیرو بنا رکھا ہے اور ایم کیو ایم اور اس کی سربراہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے مبینہ طور پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو لکھے جانے والے خط کا ذکر کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھاکہ’ تعصب پرست اینکر اس خط کو اچھال کر میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں جبکہ ملک کی تاریخ ایسے افسانوں سے بھری ہوئی ہے۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور فوج کے حلقوں میں غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر جب آئی ایس آئی کو وزرات داخلہ کے ماتحت کرنے کی بات ہوئی تو ایم کیو ایم نے سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اسی طرح کیری لوگر بل کی بھی کھل کر مخالفت کی گئی۔

’ہماری مخالفت یا حمایت کسی کو خوش کرنے یا ناراض کرنے کے لیے نہیں رہی، ہمیں تو فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہونے کا طعنے دیے جاتے رہے ہیں۔‘

سابق سٹی ناظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرزا نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ سے وفاقی وزیر بابر غوری کی وزارت کے دوران نیٹو کے ہزاروں کنٹینرز جس میں طرح طرح کا اسلحہ تھا ایم کیو ایم نے چوری کرائے مگر ان میں سے کبھی کسی ایک کی بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، ذوالفقار مرزا اس وقت وزیر داخلہ تھے انہوں نے ایسا کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے ایک سینئر صحافی کا نام لیے بغیر کہا کہ ٹائیاں لگا کر، موچھیں بنا کر گیارہ سے بارہ بجے سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ساری خرافات نکال لیتے ہیں اور اپنے پورے خواب پورے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل مزید گھمبیر نہ ہو جائیں ایم کیو ایم نے اپنے جذبات اور رد عمل کو دبائے رکھا اور جواب دینا گوارہ نہیں کہ کہیں صورتحال میں گرمی پیدا نہ ہو۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عدلیہ کی آزادی کا احترام کرتی ہے وہ چاہتے ہیں کہ جو الزامات ہیں وہ عدالت میں ثابت کیے جائیں جب تک کسی کو مجرم قرار نہ دیا جائے مگر بعض اینکر پرسن اور مذہبی رہنما عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Source: BBC Urdu

’اجمل پہاڑی، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث‘

کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کےحوالے سے کی گئی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں دو ہزار پانچ سے اب تک ٹارگٹ کلنگز میں سرگرم چھ گروہوں میں سے ایک گروہ کا سربراہ اجمل پہاڑی تھا۔

اجمل پہاڑی کو ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دیگر ملزمان کے ساتھ اجمل پہاڑی کی بھی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پیش کی گئی ہے۔

یہ تفتیش پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی موجودگی میں کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ملزم نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ میں جیل سے رہائی کے تقریباً دو ماہ بعد اسے محمد انور نے ایم کیو ایم کے لندن سیکریٹیریٹ سے ٹیلیفون کر کے دبئی بلایا، جہاں ایک ہوٹل میں محمد انور سے ملاقات ہوئی جس میں لیاقت قریشی، شکیل عمر، امتیاز مانڈو اور سعید بھرم پہلے سے موجود تھے۔

رپورٹ میں اجمل پہاڑی کے اعترافی بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ محمد انور نے دوران میٹنگ حکم دیا کہ انہوں نے واپس کراچی جا کر ٹیمیں بنانی ہیں تا کہ متحدہ کے مخالفین کا کراچی سے صفایا کیا جا سکے۔ بقول اجمل پہاڑی اس سلسلے میں انہیں ایک لسٹ بھی فراہم کر دی گئی۔

اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق دبئی سے واپسی پر کراچی میں آٹھ ٹیمیں بنائی گئیں جو بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، پاک کالونی، لیاقت آباد، لائنز ایریا اور لیاری کے علاقوں میں سرگرم رہی۔ ان ٹیموں کے پاس کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی اور دیگر جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔

ملزم نے ٹیم کو بتایا ہے کہ جب کسی کی ٹارگٹ کلنگ کرنی ہو تو احکامات دیتے وقت کوڈ ورڈز استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے فائل خرید لو یا پیمنٹ لے لو جیسے الفاظ شامل ہیں۔

اجمل پہاڑی نے پولیس کو ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اس کے علاوہ اقبال رعد ایڈووکیٹ، مسلم لیگ ن کے رہنما بدر اقبال، ایم کیو ایم حقیقی، پیپلز پارٹی، اور اورنگی میں گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات کے موقع پر ہلاک ہونے والے بہاری قومی موومنٹ کے سربراہ سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اجمل پہاڑی نے انیس سو چھیاسی میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور علاقائی طور پر پارٹی کے کاموں میں دلچسپی کے ساتھ کام کرتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق دس سال بعد یعنی انیس سو چھیانوے میں اجمل پہاڑی بھارت میں تربیت کے لیے گئے جہاں دلّی سے تین چار گھنٹے کی مسافت پر واقع کسی جنگل میں قائم آرمی ٹریننگ سینٹر میں انہیں اسلحہ چلانے کی خصوصی تربیت دی گئی ان کے ساتھ پارٹی کے دیگر کارکن بھی موجود تھے۔

اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق ایک ماہ کی تربیت مکمل ہونے کے بعد سنی نامی شخص ملزم اور دوسرے چار لڑکوں کو لینے آیا اور واپس دلّی والے اسی گھر لے گیا جہاں وہ پہلے رکے تھے اور یہاں وہ آئندہ چھ ماہ تک رہائش پذیر رہے۔

ملزم نے بتایا کہ دلّی میں قیام کے دوران ملزم اور اس کے ساتھیوں کو سنی انقلاب کے موضوع پر کتابیں لا کر دیتا تھا اور سب کی یہی تربیت کی جاتی تھی کہ اگر حقوق نہ ملے تو الطاف حسین کی زیر قیادت کراچی اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں کو الگ کر کے علیحدہ ریاست بنائیں گے۔

ملزم اجمل پہاڑی نے بتایا کہ فروری یا مارچ 1997 میں دلّی میں سنی نے ملزم اور ذیشان کو غیر قانونی طور پر پاکستانی بارڈر کراس کر کے پاکستان لے جانے کے لیے بھارتی گائیڈ مہیا کیا جو انہیں دلّی سے بھارتی پنجاب لے گیا اور ایک رات تقریباً نو بجے بذریعہ سوزوکی پِک اپ لاہور پہنچا کر خود واپس چلا گیا جہاں سے ملزم اور ذیشان بذریعہ ٹرین کراچی پہنچ گئے۔

ملزم نے بتایا کہ سنہ انیس سو چھیانوے میں سندھ سیکریٹیریٹ پر راکٹ لانچرز سےحملے کے تقریباً دو ماہ بعد ملزم کو لندن سے ندیم نصرت نے حکم دیا کہ وہ ذیشان پی آئی بی والے کے ہمراہ ایران چلے جائیں اور جانے سے پہلے نائن زیرو گئے جہاں سے انہیں خرچے کے لیے پچاس ہزار روپے فراہم کیے گئے۔

جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ کے مطابق اجمل پہاڑی پر ٹارگٹ کلنگز کے سو واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

رپورٹ پر ایم کیو ایم کا ردعمل

جوائنٹ انٹروگیشن پرایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ دو ہزار میں جب اجمل پہاڑی کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس سے سرکاری ٹارچر سیل میں سو لوگوں کے قتل کا اعتراف کرایا گیا تھا۔

ان کے مطابق ’پاکستان میں تفتیش کے دوران کون کون سے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، کیسے ہاتھی کو ہرن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس شخص نے جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پیش کی ہے اگر اس کو دوگھنٹے کے لیے پولیس کے حوالے کیا جائے تو وہ نائن الیون کی ذمہ داری بھی قبول کر لے گا۔‘

اجمل پہاڑی کے بھارت جانے کے بارے میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ’ آپریشن کے وقت جان بچانے کے لیے کارکنوں کو دوسرے ممالک جانا پڑا، جسے جہاں سہولت ملی وہ وہاں گیا اور سینکڑوں لوگ انڈیا گئے۔ جان بچانے کے لیے کسی ملک میں پناہ لینے والے پر تربیت کا الزام لگانا سراسر ناانصافی ہے۔‘

Source: BBC Urdu