Original Articles

Music binds people & souls, says Rekha Bhardwaj

Rekha Bhardwaj at the 2010 Airtel Mirchi Music Awards

Music has power to bind souls, saturate valor, associate humanity, and express feelings of love, care, happiness and pain, it has also great power to pacify.

The traditional music and folk songs of the subcontinent particularly connect various religions and attach people i.e Qawwali is a vibrant musical tradition that stretches back more than 700 years. Originally performed mainly at Sufi shrines throughout the subcontinent.

The music give message of peace, coexistence and accord. As coexistence and harmony of various, large and small, racial, cultural, language groups has been proverbial in South Asia, for example Hindu Brahmans leading Sachal Sarmast’s Doli and the participation of people from all creeds in Sakhi Lal Shahbaz Qalandar’s mehndi, procession led by Hindus as well as Muslim artists performing Kirtan at the Golden Temple have been a regular features.

Music is a language that can bind people from any race, ethnicity or religion. It is also a global expression of love and peace and knows no boundaries, limitations & it transcends borders.

The following is an interview with Rekha Bhardwaj, originally published in BBC Urdu. Rekha Bhardwaj is an Indian playback singer. She is the wife of famous Director-Producer-Music Composer Vishal Bharadwaj. She is also a big fan of great Faiz Ahmed Faiz and other Pakistani artists like Mehdi Hasan, Abida Parveen. She believes that music has immense power to connect people across borders and it can bind strangers.

’موسیقی انجان لوگوں کو بھی جوڑ دیتی ہے‘


صوفی اور ہندی فلموں کی گلوکارہ ریکھا بھردواج کا کہنا ہے کہ موسیقی انجان لوگوں کو بھی جوڑ دیتی ہے اور یہ تعلق کبھی کبھی خوبصورت رشتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ریکھا نے اگرچہ اب تک پاکستان میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کیا ہے لیکن پھر بھی وہ پاکستانیوں کے لیے انجان نہیں ہیں۔


انہوں نے یہ بات بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے پاکستانی مداحوں کے حوالے سے کہی۔


نمک عشق کا ، راجھا رانجھا اور سسرال گیندا پھول
جیسے مقبول گیت گانے والی ریکھا کا کہنا تھا کہ ’آج ہم انٹرنیٹ کے ذریعے بہت سارے لوگوں سے جڑ جاتے ہیں۔ ایک پاکستانی لڑکی کائنات میرے نغمے بہت سنتی ہے. اس سے فون پر بات ہوتی ہے ، وہ مجھے آپا بلاتی ہے. وہ کہتی ہے کہ میری البم ’اشكا اشكا‘ اسے بہت پسند ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’خوشی ہوتی ہے جب موسیقی آپ کو نامعلوم لوگوں سے جوڑ دیتی ہے اور وہ تعلق خوبصورت رشتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے‘۔

ویسے تو ریکھا بھردواج اب تک ایک ہی بار پاکستان گئی ہیں لیکن ان کا پاکستان سے رشتہ بچپن میں جڑ گیا تھا۔

ریکھا نے بتایا، ’میرے والد موسیقی کا شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے دہلی میں اردو کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے سب سے اچھے دوست احسان صاحب تقسیم میں پاکستان چلے گئے تھے۔ سنہ 1976 میں جب میں بہت چھوٹی تھی ، تب احسان صاحب کے بیٹے اور ان کے دوست ہندوستان آئے اور میں نے ان سے کچھ نغمے سیکھے. وہ ان سے جڑنے کا ایک طریقہ تھا‘۔

ریکھا خود سنہ 2006 میں کارا فلمی میلے میں شرکت کے لیے کراچی گئی تھیں جہاں ان کے شوہر اور ہدایت کار وشال بھردواج کی فلم اوم كارا دکھائی گئی تھی۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ریکھا نے کہا ، ’ویسے بہت سوچتے تھے کہ وہاں کے لوگ کیسے ہوں گے، لیکن. جو پیار وہاں پر ملا وہ ناقابلِ بیان ہے‘۔

ریکھا نے اگرچہ اب تک پاکستان میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کیا ہے لیکن پھر بھی وہ پاکستانیوں کے لیے انجان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ، ’میری البم ، اشكا اشكا کے گانے ’تیرے عشق میں‘ پر وہاں اسی نام کا ایک سیریل بھی بنایا گیا جس میں یہ نغمہ بطور ٹاٹل سونگ استعمال کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ گلزار صاحب کے افسانوں پر پاکستان میں بننے والے سیریل ’کہانی سانس لیتی ہے‘ کا ٹاٹل سونگ بھی میں نے گایا۔ میرے پاس اس طرح کے نغمے بہت آتے ہیں اور میں گاتی ہوں‘۔

مہدی حسن ، راشد خان ، نور جہاں اور فريدہ خانم ریکھا کے پسنديدہ پاکستانی گلوکار ہیں جبکہ کالج میں انہوں نے نورجہاں کے گانے گا کر کئی ایوارڈ بھی جیتے۔

موسیقی کو پیار کا پیغام ماننے والی ریکھا کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان اور پاکستان کی بات کریں ، تو سیاسی سطح پر جو بھی مشکلات ہیں ، لیکن عام لوگ تو وہی ہیں ، ہمارے جیسے ہی ہیں وہ بھی. یہ تو سرحدیں كھنچ گئیں ، نہیں تو ہم لوگ تو سب ساتھ ہی تھے. ہم لوگوں کا (ہندوستان اور پاکستان) خاص طور پر موسیقی کی وجہ سے جو تعلق ہے ، محبت ہے ، وہ بالکل ہی مختلف ہے‘۔

پاکستانی گلوکاروں سے اپنے رشتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریکھا نے بتایا ،’راحت فتح علی نے وشال کے لیے کافی نغمے گائے ہیں ، تو ان سے ایک رشتہ ہے، پاکستانی بینڈ میكال حسن کے سابق گلوکار جاوید بشیر سے میری دو تین ملاقاتیں ہوئی ہیں ، فون سے بھی ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے. جیسے ہی کچھ سلسلہ بنے تو ہم کچھ ایک ساتھ کریں گے. امن کی آشا کے پروگرام میں میں نے صنم ماروي کے ساتھ حیدرآباد میں فن کا مظاہرہ کیا ہے‘۔

ریکھا پاکستانی قوال ، مہر علی اور شیر علی کے ساتھ بھی گانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ،’میں انہیں بھارت بھی بلانا چاہتی ہوں اور میں نے وشال سے کہا ہے کہ انہیں فلم میں بھی گانا گوائے‘۔

Rekha Bharadwaj pays tribute to legend Faiz Ahmed Faiz

http://www.youtube.com/watch?v=vswRoPVNprI