Original Articles Urdu Articles

Waah Salim Safi Waah!!! – by Danial Lakhnavi

جب میں نے سلیم صافی کے بارے میں اپنا پہلا آرٹیکل لکھا تو کچھ دوستوں کو عجیب بھی لگا کہ ایک صحافتی نابالغ کو اتنی اہمیت دینا ایں چہ معنی دارد؟ لیکن  سلیم صافی حالیہ کالمز میں کیمبرج اور آکسفورڈ کے طلباء سے خطاب کا تذکرہ ان کے لئے بھی اچنبھے کا باعث تھا

میں نے کہا بھائی صاحب بانو قدسیہ کا راجہ گدھ ناول پڑھو، ان انگریزوں کا تعلق بھی مجھے فرقہ ملامتیہ سے لگتا ہے جن کو اپنی انا کے غباروں سے ہوا نکالنے کے لئے سلیم صافی جیسی رودالیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تنک مزاج بڑھیا کی طرح ان کو کوسنے دے سکے اور رہی بات بقول سلیم صافی صاحب کی عظیم درسگاہوں میں خطابات اور بالخصوص پاکستان طلباء کی تو بھائی وہ ریڈیکلائزیشن میں یہاں سے کچھ کم تو نہیں آخر کار حزب التحریر کے جری مجاہدوں کو کی نرسری تو وہی ہے۔

سلیم صافی کو اس بات پر حیرت تھی کہ ان سے کسی نے پاکستانی سیاستدانوں کے بارے میں کیوں نہ پوچھا تو بھائی صاحب یہ آپ کی تربیت گاہ فکری و عملی اسلامی جمعیت طلبہ کے جھنڈے تلے چلنے والی پنجاب یونیورسٹی یا عمران خان کے پرستاروں سے بھری کوئی لمز یونیورسٹی تو ہے نہیں، یہاں تو پاکستان کا تعارف آپ کی جوانی کے ہیرو اسامہ بن لادن اور آپ کے جہادی قائدین کے حوالے سے ہے نہ کہ باہر کی دنیا میں غیرمعروف سیاستدانوں کے حوالے سے۔


اور اگر انہوں نے نہ کیا تو آپ نے تو کالم کا عنوان زرداری کے نام سے سجا کے وہ کمی پوری ہی کردی۔ لیکن بھائی صاحب زرداری صاحب کی مدح و توصیف میں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف میں آپ جوش خطابت میں کچھ زیادہ ہی بہ گئے۔ اس لئے بھائی صاحب ہوش میں آئیے کہ بقول غالب

کہ گیا عالم جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

لیکن صاحبہ آپ کے ہوش کیمبرج میں ضرور بحال رہے اور آپ اپنی پیش رو اور سرپرست خفیہ ایجنسیوں کی صفائی میں نہیں چوکے الحمدللہ کہ آپ کا اعتماد تا حال اپنی عظیم ایجنسیوں پر برقرار ہے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جب ان سوالوں پر آپ سٹپٹائے تو پاکستانی صحافتی مزاج کے مطابق اپنے فیورٹ پنچنگ بیگ صدر زرداری کو نہ بھولے،

واہ واہ کیا کمال کا مضمون باندھا ہے یہ آپ نہیں آپ کے اندر کا جماعتیا بول رہا ہے یہ کیا کہ تنقید سے جھنجھلائے اور اپنے دماغ میں ہی عدالت لگالی، ملزم کٹہرے میں پیش کئے اور خود افتخار چوہدری بن کر فیصلہ سنا دیا، کیانی بری، پاشا بری، نوازشریف بری، ق لیگ بری، فضل الرحمٰن بری، ایم کیو ایم بری غرض یہ کہ سب بری مجرم کا قرعہ فال نکلا ہے تو زرداری کے نام، واہ واہ مان گئے سلیم صافی صاحب، آخر ہے نا ہونہار بردا کہ چکنے چکنے پات۔

جماعتی مزاج کے مطابق آپ جماعت اسلامی کی مرتّبہ اور سینہ بہ سینہ تاریخ نگاری کی جس روایت کے امین ہیں اس کے تحت آپ ایسے ہی کالم لکھ سکتے ہیں، کہ جیسے جماعت سے باہر کی زندگی مودودی فکر کی اصطلاح میں جاہلیت سے تعبیر کی جاتی ہے ویسے ہی اس فکر کی چھتری سے باہر کی تاریخ اور تفصیل کہاں قابل توجّہ ٹھر سکتی ہے

About the author

Danial Lakhnavi

6 Comments

Click here to post a comment
  • Great article, but difficult to read. Change the font. Danial Sahib, change the font of all your articles.

  • Zamrak says: @ Omar Khattab says:@

    I think there will be no change in Danial or his font so solve this issue, please open this site with apple “SAFARI” then you can read his articals, i am using this from last few week only to read his articals…

  • Saleem safi wo Jamatia hay, jise Jamaat walay Jamatia nheen mantay.

    Zaradari ka tazkara na ho to kis ka ho, aakhir nizam-e-hakumet Zaradari ke ilawa kon chala rha hay.. Zaradari jo corruption ka bay-Taj badshah hay.