Academic Articles Original Articles Urdu Articles

Urdu text of Amn Tehrik’s Peshawar Declaration: A comprehensive strategy to eliminate terrorism

Amn Tehrik (Peace Movement) is an emerging and dynamic movement of concerned individuals and organizations from the province of Khyber Pakhtunkhwa for the promotion of peace in the troubled regions of the province. Amn Tehrik has been regularly organising seminars, conferences and demonstrations to influence policymaking with reference to the situation in certain areas of Khyber Pakhtunkhwa.  Amn Tehrik has dealt with a range of issues from the role of armed forces in Malakand to the Afghan-Pakistan policy in relation to terrorism. In addition, the Amn Tehrik has been strongly opposing pro-terrorism clerics. Here is Urdu text of their proposed strategy named as Peshawar Declaration to eliminate terrorism and bring peace and harmony to their land Khyber Pakhtunkhwa and FATA. (English text is available here)
پاکستان میں دہشت گردی سے نجات اور دیرپا امن کے لیے
اعلانِ پشاور 

 

 

 

بارہ اور تیرہ دسمبر 2009 ء کو سول سوسائٹی کی تنظیموں اور دہشت گرد مخالف سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ دو روزہ کانفرنس اور ورکشاپ منعقدہوا۔ اس کا صرف ایک ہی ایجنڈا تھا ’’ دہشت گردی ختم کرنے کے طریقے Terrorisim – the ways out شرکاء اس بات پر متفق ہوئے کہ دہشت گردی سے نجات کیلئے سیاسی، نظریاتی و سٹریٹیجک ، تعلیم اورآگاہی ، اقتصادی ، ثقافتی موضوعات پر بحث کی جائے ۔ لہٰذا ان پانچ گروپوں کیلئے شرکاء نے اپنی منشا کے مطابق اپنا گروپ منتخب کیا ۔ ہر گروپ نے اپنی پسند کے موضوعات پر دو دن مکمل جمہوری انداز میں اپنی اپنی رائے دی۔ ہر گروپ پہلے دن ایک عارضی ڈرافٹ لکھنے میں کامیاب رہا ۔ دوسرے دن یہ گروپ اس عارضی ڈرافٹ پر مزید بحث کے بعد حتمی ڈرافٹ مرتب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں سب سے دلچسپ اور حوصلہ افزاء بات یہ رہی کہ پانچوں گروپ میں تمام مختلف الخیال گروپ کثرت رائے کی بجائے مکمل متفقہ ڈرافٹ کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں اپنی لکھی ہوئی رپورٹ کے ساتھ حاضرہوئے ۔

اس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین، پیپلزپارٹی شیرپاؤ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی،نیشنل پارٹی اورعوامی پارٹی کی صوبائی قیادت نے شرکت کی ۔ امن تحریک میں شامل سول سوسائٹی کی تمام تنظیموں، تاجر،ٗ اساتذہ،ٗ طالب علم، مزدو روکسان ،وکلاء، ڈاکٹرز اور دانشور طبقہ نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فاٹا کی تمام ایجنسیوں سوات، ملاکنڈ اوربونیرکے نمائندے خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔ خواتین کی نمائندہ تعداد نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔

ورکشاپ کے ہر گروپ نے کانفرنس کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کی ۔ شرکاء نے ہر رپورٹ پر اعتراضات، تجاویز اور کمی بیشی کے متعلق اپنی رائے دی۔ یہ فیصلہ کیاگیا کہ ان تمام رپورٹس کو یک جا کرکے ’’ اعلان پشاور‘‘ کے نام سے دستاویز کی شکل دی جائے ۔ اس کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ اس کمیٹی کو یہ دستاویز مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

کانفرنس میں بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا کہ اعلان پشاورکوعملی شکل دینے کے لئے اس کانفرنس میں شامل تمام تنظیمیں مشترکہ جدوجہد کریں گی ۔ اس مقصد کیلئے دس رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دیدی گئی

جس میں اے این پی، پی پی پی پی، پی پی پی (ش) ، پی میپ، عوامی پارٹی پاکستان، نیشنل پارٹی اور امن تحریک کے نمائندے شامل ہیں ۔شرکاء کے سامنے جب رپورٹس پیش کی گئیں تو سیاسی اور نظریاتی و سٹریٹیجک کو ایک ہی رپورٹ بنا دیاگیا ۔


دہشت گردی کی تعریف

اپنے غرض کے حصول کے لیے دوسرے انسان کو خوف زدہ کرنا دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی صرف دھمکی کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے مارپیٹ ، اغوا ، جیل میں ڈالنا، قتل وقتال کے ذریعے بھی یہ غرض پورا کیا جاسکتا ہے۔ ایک فرد، گروہ ، نسل، فرقہ، قوم، ملک، حکمران طبقہ اپنے اغراض کے حصول کے لیے دہشت گردی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ زن، زر، اور زمین بھی دہشت گردی کی بنیاد ہوسکتے ہیں۔

موجودہ دہشت گردی

وقتاً فوقتاً انسان نے اپنے خود غرضانہ مقاصد کے حصول کیلئے دوسرے انسانوں پر بے تحاشا ظلم ڈھائے ۔ مختلف ادوار میں مختلف نوعیت کی دہشت گردی کی گئیں تمام شرکاء اس بات پرمتفق تھے کہ موجودہ دہشت گردی انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ خطرناک دہشت گردی ہے ۔ موجودہ دہشت گردی دراصل مذہبی جنونیت، فرقہ واریت ، تمدن وتہذیب دشمنی، انسان د شمنی اور انتہائی حد تک بے رحمی کا ایک پیجیدہ مجموعہ ہے ۔
موجودہ دہشت گردوں کی منزل یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو قتل کیا جائے اور ان دہشت گردوں کی مرضی کا معاشرہ تمام دنیا کا حکمران بنے ۔ اوران کے ذ ہن کا فتور تمام دنیا کا نظام بنے ۔ جنونیت کی ا نتہا یہ ہے کہ اس دہشت گردی کا استاد اپنے سپاہی کو جنت کا ٹکٹ اور حوروں سے نکاح کرواتا ہے اور سپاہی انسانوں بشمول عورتوں اورمعصوم بچوں کی موت میں اپنے لئے جنت کی سیٹ کنفرم کراتا ہے ۔

ہمارے ہاں یہ دہشت گردی تین اشکال میں پائی جاتی ہے۔ ۱۔ طالبانائزیشن ۲۔ فرقہ پرستی ۳۔ اغوا برائے تاوان۔ اس سے وصول ہونے والی رقم دہشت گردوں کے مالی وسائل میں سے ایک ہے۔

دہشت گردی کے موجودہ لہرکوختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اس دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل کو سمجھا جائے ۔

موجودہ دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل

موجودہ دہشت گردی دو عناصر کا مجموعہ ہے اس میں سے ہر عنصر کااپنا پس منظر ہے ۔ القاعدہ اس دہشت گردی کا اہم عنصر ہے :۔ دراصل القاعدہ عرب توسیع پسندی کی ایک ایسی شکل ہے جس کوعالمگیر اسلام کا لباس پہنایاگیا ہے اپنے طویل پس منظرا وروہابیت کے باقی مسلمانوں پر غلبے کے نتیجے میں عرب باقی مسلمانوں پر غالب رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ القاعدہ کا یہ عنصر موجودہ دہشت گردی کے اجزاء، طریقہ کار ،طریقہ واردات ،ترتیب اور تنظیم کا سپشلسٹ ہے ۔

پاکستان کے فوجی حکمرانوں کی ترتیب دی گئی تذویراتی گہرائی یا اسٹریڑجک ڈیپتھ کی  پالیسی اس دہشت گردی کا دوسرا عنصر ہے ۔ اس پالیسی کا مقصد یہ رہا ہے کہ ہندوستان مخالفت اور اپنے ایٹمی ا ثاثوں کوفوجی گہرائی دینے کے لئے جہادی کلچر کو فروغ دیاجائے ۔ افغانستان کوپہلے اپنا طابع اورپھر پانچواں صوبہ یا آزاد کشمیرماڈل بنایا جائے ۔ یہ مقصد پھر اس کے بعد اس حد تک آگے جاتا ہے کہ اس ایجنڈے کے حصول کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں کوکلائنٹ ریاستوں میں تبدیل کیا جائے ۔

پاکستان کے فوجی حکمرانوں کی بنائی گئی یہ پالیسی ایک طویل پس منظر کی حامل ہے مذہب کی بناء پرقوم کے تصور نے اس کیلئے پہلی اینٹ کاکام کیا۔ ،فوجی چھاؤنیوں پر جہاد فی سبیل اللہ پاکستان کے مختلف شہروں کے چوراہوں پر ٹینکوں، جنگی جہازوں و میزائل اور چاغی کے پہاڑ بناکر جنگی ماحول فراہم کیا گیا ۔ اسی ماحول کے نتیجے میں ملک کو فلاحی مملکت کی بجائے سیکورٹی ریاست بنا دیاگیا۔ قرار داد مقاصد (1949)نے ملا ملٹری الائنس کے اتحاد کو جنم دیا ۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں اس قرارداد کو 1973ء کے آئین کا حصہ بنایا۔ مذہبی پس منظر، جنگی ماحول، سیکورٹی ریاست اور ملا ملٹری الائنس کے نتیجے میں الشمس اور البدر کی شکل میں بنگال میں پہلی دہشت گرد تنظیموں کو میدان میں اتارا گیا  یہاں کی شکست سے سبق سیکھنے کی بجائے یہ تجربہ کشمیر، پاکستان اورافغانستان میں سٹرٹیجک ڈیبتھ پالیسی کے ذریعے آزمایا گیا ۔ کشمیر میں حزب المجاہدین، حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد، پاکستان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، فاٹا میں لشکر اسلامٗ انصار اسلام امر باالمعروف، تحریک نفاذ شریعت محمدی اورتحریک طالبان اس کی مثالیں ہیں ۔ ان سب تنظیموں کو سٹریٹیجک اثاثے کہا گیا افغانستان میں یہ عمل 1972 سے شروع ہوا ۔ پہلے گلبدین حکمتیار وغیرہ کو پشاور لایاگیا اسی وقت کرنل امام وغیرہ کو افغانستان بھیج دیاگیا انِس سواٹھتّر تک گلبدین حکمتیار پروفیسر مجددی، برہان الدین ربانی ، پیر گیلانی ، عبدالرب رسول سیاف کو باقاعدہ جنگجو تنظیمیں دے دی گئی اوران کو اپنی تنظیموں کا سربراہ بنایاگیا جب یہ لوگ افغانستان فتح کرچکے تو انہوں نے پاکستان کو مداخلت سے روکا یعنی Strategic Assets اس پالیسی کے بنانے والوں کے کام نہ آئے ۔ یہاں بھی سبق نہ سیکھاگیا اورایک اوراثاثہ ’’ طالبان ‘‘ کی صورت میں بنایا گیا جو کہ زیادہ جارحانہ اور افغانستان کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ۔یہی پر طالبان القاعدہ اتحاد کی بنیاد پڑی ۔اور یہ اتحاد افغانستان کاحکمران بنا۔

اسٹریٹجک ڈیپتھ کی پایسی کے نتیجے میں پورا ملک 9/11 سے پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا تھا ۔ شعیہ سنی فسادات اور ایک دوسرے پر حملے معمول بن چکے تھے ۔ پاکستان میں خود کش حملے 1993 سے شروع ہوئے ۔ احمد شاہ مسعود کو جس خود کش حملے میں مارا گیا وہ 9/11 سے صرف ایک دن پہلے ہوا ۔ ہندوستان اور افغانستان تو پہلے ہی حملے کی زد میں رہے ۔ خود پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی پروان چڑہی اور فرقہ واریت شروع ہوئی۔ شیعہ کے ساتھ بریلوی بھی ان حملوں کانشانہ بنے ۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1978 میں افغانستان کے سوشلسٹ انقلاب کی مخالفت میں پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ، چین، عرب ممالک، یورپ، وغیرہ افغانستان پر عالمگیریلغار میں کامیاب ہوئے۔ صرف دینی مدرسوں کے قیام کے لیے 24 ارب پیٹرو ڈالر دئے گئے ہزاروں کی تعداد میں مدرسے کھولے گئے۔ جنگ جویانہ مقاصد کو جہاد کا نام دیا گیا۔ اس پورے دور نے ملا ، ملٹری اور ملیٹنٹ کے پہلے سے موجود تکون کے لیے ایسا کام کیا جیسے فصل کے لیے کھاد اور پانی یا آگ کے لیے پٹرول اور مٹی کا تیل ۔
افغانستان میں مندرجہ بالا دو عناصر کی حکومت میں پھر چیچنیا، ازبکستان، سنکیانگ، غرض پورے جہاں کے دہشت گردیہاں آئے اور افغانستان دہشت گردوں کا مرکزبنا اس مرکزسے دنیا کے کئی ممالک متاثر ہوتے رہے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ سارے عناصر اب فاٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود ہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ آج کا فاٹا ان عناصر کا مقبوضہ علاقہ ہے اور یہ حقیقت بھی نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ جنوبی پنجاب اور مریدکے آج کے دہشتگردی میں بہت بڑی اہمیت کامقام رکھتے ہیں۔

موجودہ دہشت گردی کے جنگ زدہ علاقوں اور ملک کے غیر متاثرہ یا کم متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے ذہنوں میں حالات کی متضاد یا مختلف تصاویر

فاٹا اور ملاکنڈ دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں صوبہ پشتون خوا کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں جو دہشت گردی سے متاثر نہ ہوا ہو یوں تو پورے ملک بلکہ ساری دنیا میں دہشت گردی کے اثرات پائے جاتے ہیں جنوبی پنجاب یا مرید کے کے بارے میں بھی حقیقت حال سب پر واضح ہے پنجاب میں دہشت گری کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں تاہم فاٹا اور پشتون خوا صوبہ کے عوام موجودہ دہشتگردوں اور ان کی دہشتگردی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں مختلف حوالوں سے دہشت گردی کی حقیقت، وجوہات، فوجی اپریشنز، ڈرون حملے اور غیر ملکی ہاتھ وغیرہ کے حوالے سے ان علاقوں کے لوگوں اور باقی ملک کے رہنے والوں کے تصورات الگ الگ ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

اس کی ایک وجہ تو قدرتی ہے وہ یہ کہ پشتو کی کہاوت ہے کہ ’’جلن اسی جگہ ہوتی ہے جہاں آگ لگی ہو‘‘ اس کی دوسری وجہ حکومتی پالیسی ہے جنرل مشرف کے دور حکومت میں جو میڈیا پالیسی بنی اور اس پالیسی کے نتیجے میں جن لوگوں کو دہشت گردی کے حوالے سے میڈیا پر لایاگیا وہ خود دہشت گردوں کے حمایتی یا پروردہ رہے ہیں۔ اس میں چند ریٹائرڈ جرنیلوں اور چند صحافی/ تجزیہ نگاروں کے نام ہی کافی ہیں۔ اسی کے نتیجے میں ملک میں رہنے والے وہ عوام جو اس جنگ سے متاثر نہیں تھے ان کے ذہنوں میں مسلسل آٹھ سال ایک مخصوص سوچ ڈال دی گئی۔ جنگ کے متاثرہ علاقے کے عوام چونکہ خود روزانہ کے حالات دیکھتے رہے اس لیے ان کی سوچیں دہشت گردی کے اس جنگ کے حوالے سے مختلف ہیں۔ اس کی چند مثالیں دینا ضروری ہے:

* ملکی میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ موجودہ دہشت گردی دراصل روس کے خلاف جہاد کا تسلسل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس کے خلاف جنگجوؤ ں میں تمام کے تمام لیڈران اور ان کی پارٹیاں اب افغانستان میں باقاعدہ سیاست میں حصہ دار ہیں وہ ان دہشت گردوں کے سخت ترین مخالف ہیں ان میں پروفیسر مجددی ، برہان الدین ربانی، پیرگیلانی، عبدالرب رسول صیاف، احمد شاہ محسود مرحوم کی پارٹی، رشید دوستم وغیرہ شامل ہیں۔

روس کے خلاف لڑنے والوں میں صرف دو لیڈر گلبدین حکمت یار اور جلال الدین حقانی آج کے دہشت گردوں میں بھی حصہ دار ہیں۔ گلبدین حکمت یار کی پارٹی تقریباً مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے صرف ان کا ایک کمانڈر کشمیر خان اور چند افراد ہی ان کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ حقانی پہلے ہی طالبان میں شامل ہوچکے تھے۔* ازبک ، چیچن، سنکیاگ، سوڈان، یا دوسرے غیر ملکی افغانستان میں طالبان حکومت کے دور میں آئے تب روس جاچکا تھا ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہوچکی تھی۔ ان لوگوں کا روس کے خلاف جنگ کے دوران وجود ہی نہیں تھا۔
* پاکستان میں پیدا کردہ تنظیمیں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ، جیش محمد، لشکر اسلام، انصار لاسلام، امر بالمعروف ، تحریک نفاذ شریعت محمد ی وغیرہ میں سے کسی تنظیم کا بھی روس کے خلاف لڑائی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
* افغانستان کے طالبان اور اس کے بعد پاکستان کے طالبان کا بھی اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ان حقیقتوں کے باوجود میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ موجود دہشت گرد، روس کے خلاف جنگ کا حصہ تھے اور وہ تیس سالوں سے قبائلی علاقوں میں آباد ہیں انہوں نے یہاں رشتے کیے اور یہ انہی قبائلی علاقوں کے لوگ بن گئے ہیں۔ حالانکہ قبائلی علاقوں میں موجود خیل اور قبیلے کے علاوہ اگر کوئی پناہ کے لیے صدیاں بھی گزاردے تو یہاں کے باسی تسلیم نہیں کئے جائینگے۔محسود قبیلہ وہ واحد قبیلہ ہے جس نے روس کے خلاف جنگ کے دوران کسی کو بھی اپنے علاقے میں پناہ نہیں دی ۔
* ایک اور غلط بیانی جو کہ میڈیا پر چلتی آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت وقت نے ہمیشہ غیر ملکیوں کی تعداد ایک سو یا دو سو بتائی۔ حالانکہ فاٹا میں گیارہ ہزار ازبک، چھ ہزار عرب، اور ۹ ہزار پنجابی بھی موجود ہیں۔ وزیرستان سے لے کر سوات تک پختون دہشت گردوں کی کل تعداد 4 ہزار سے زیادہ نہیں اس کے باوجود تمام طالبان کو پختون اور تمام پختون قوم کو دہشت گرد ثابت کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔
* فوجی اپریشن ،معاہدوں اور فوج اور طالبان کی لڑائی کے متعلق بھی انہیں عوامل کی وجہ سے متاثرہ اور باقی ملک کے عوام کے خیالات بالکل مختلف ہیں۔مثلاً: جنگ زدہ علاقوں کے عوام کا یہ متفقہ تاثر ہے کہ فوج اور طالبان ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ بہترین اتحادی ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ فاٹا میں کل 17 فوجی اپریشن ہوئے لیکن ان اپریشنوں کے باوجود دہشت گردوں کی قیادت کیوں ختم نہیں ہوئی ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فاٹا میں کئے جانے والے ان فوجی اپریشنوں میں کسی اپریشن میں بھی دہشت گردوں کی پہلی ،دوسری اور تیسری درجے کی قیادت کا ایک بھی لیڈر نہ تو قتل ہوا نہ زخمی اور نہ ہی گرفتار ہوا۔ حد تو یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے بڑے لیڈروں میں چند ایک کی موت کی خبریں دو، دو، یا تین دفعہ نشر کی گئیں۔ جبکہ وہ آج بھی زندہ ہیں ان میں اکرام الدین، شاہ دوران، اور ابن امین جیسے کمانڈر شامل ہیں ۔ سوات میں تین دفعہ آئی ایس پی آر کی طرف سے خبر چلائی گئی کہ مولانا فضل اللہ فوج کے نرغے میں ہے۔ لیکن ایک ماہ بعد اسی میڈیا کے ذریعے بتایا گیا کہ موصوف افغانستان جا چکے ہیں۔ فضل اللہ کے ساتھی مسلم خان، ہارون، اور محمود گرفتار ہوئے 6 ماہ گزرگئے کچھ پتہ نہیں کہ ان کا کیا بنا۔ ہم نے تو ماضی میں یہ دیکھا کہ صوفی محمد گرفتار ہوا اور پھر چند سال بعد رہا ہوا۔ صوبے کی بہادر پولیس نے 38 دہشت گرد جن میں وہ دہشت گرد بھی شامل تھے جو خود کش جیکٹ سمیت پکڑے گئے پھر ان دہشت گردوں کو خفیہ والے مزید تفتیش کے بہانے اپنے ساتھ لے گئے اور پھر جس دن پرویز مشرف نے ایمرجنسی پلس نافذ کی ایک چھوٹی خبر کے ساتھ باعزت رہا کیے گئے یہی وجوہات ہیں کہ متاثرہ علاقے کے لوگ نہ فوجی اپریشنوں سے مطمئن ہیں اور نہ ہی ان کے وعدے وعید سے۔ 

* متاثرہ علاقوں کے لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کو چوکوں اور چوراہوں میں اسی طرح قتل کیا جائے جس طرح یہ معصوم عوام حتی کہ شبانہ جیسی عورت کو قتل کرتے تھے۔ متاثرہ علاقوں کے عوام حتمی اور حقیقی فوجی اپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور فوجی ڈرامے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں یہاں کے عوام ان دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے حامی نہیں جبکہ ملک کے باقی عوام اپریشن بند کرنے اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔

* ڈرون ایک اہم مسئلہ ہے متاثرہ علاقوں کے لوگ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی واحد چیز سے مطمئن ہیں تو وہ ڈرون ہے۔ وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ڈرونز نے کبھی بے گناہ لوگوں کو نہیں مارا۔ بلکہ وزیرستان کے کچھ لوگ ڈرونز کو ابابیل کہتے ہیں۔ میڈیا کا کچھ حصہ ، کچھ ریٹائرڈ جنرلز، مخصوص تجزیہ نگار/ صحافی اور طالبان کی ہمدرد چند پارٹیاں پورے ملک میں ایک اور ہی تاثر پھیلا رہے ہیں

یہی حال بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا ہے ۔ موجودہ دہشت گردی میں شامل مذکورہ تنظیموں اور فوج کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں یا تو بے بس عوام ہیں اور یا کچھ علاقوں میں وہ بھی ہجرت کرچکے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تنظیموں میں سے کونسی تنظیم ایسی ہے جو پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے نہ بنائی ہو اور ان میں پھر وہ کونسی تنظیم ہے جو کہ غیر ملکی ایجنٹ بن گئی ہے۔ اور اگر ایسا ہے بھی تو پاکستان کی حکومت اقوام متحدہ میں یا سفارتی سطح پر ثبوت کے ساتھ اس ملک اور اس تنظیم کا ذکر کیوں نہیں کرتی۔

البتہ ایک امکان موجود ہے کہ دہشت گردوں میں دوسرے یا تیسرے درجے کا وہ دہشت گرد شخص جس کے ہاتھ میں کچھ خودکش ہوں وہ کسی بیرونی ملک سے رقم کے بدلے فروخت کردے تاہم یہ عمل تنظیمی طور پر ممکن نہیں ہاں مستقبل میں یہ امکان ضرور ہے کہ اگر یہ افراتفری اسی طرح رہی تو واقعی نہ صرف بیرونی ممالک اس میں کود پڑینگے بلکہ یہ امکان بھی ہے کہ خود اقوام متحدہ اپنی امن فوجوں کے ساتھ ان علاقوں میں آجائے۔کانفرنس کے تمام شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ فاٹا میں موجودہ فوجی اپریشنوں کی ناکامی اور روز بروز فروغ پاتی دہشت گردی اس وجہ سے نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج میں اہلیت کی کمی ہے بلکہ سب کا متفقہ جائزہ یہ تھا کہ یہ سب کچھ ارادا تاً ہورہا ہے اور ہماری اسٹبلشمنٹ اپنے فوجی اثاثوں کو کسی صورت بھی ضائع کرنے کو تیار نہیں۔
موجودہ دہشت گردی میں دوست اور دشمن کا تعین
کانفرنس اس بات پر متفق ہے کہ ہر وہ فرد، لکھاری، دانشور، ادارہ، تنظیم، یا ملک جو کہ ان دہشت گردوں کا مخالف ہے اور دل سے اس کا خاتمہ چاہتا ہے وہ ہمارا دوست ہے۔

ہر وہ شخص، تنظیم، ادارہ، پارٹی، یا ملک جو کہ دہشت گردوں کو پناہ کے لیے جگہ دے ،مالی امداد دے ،ان کی حمایت کرے، ان کے لیے مختلف بہانوں سے وقت کو طول دے یا اصل مسلے کی بجائے غیر اہم مسلوں کو مسلہ بنائے اور اصلی مسئلے کو لوگوں کی نظروں سے اجھل کرنے کی کوشش کرے وہ دہشت گردوں کا دوست اور اس کانفرنس کے شرکاء کی نظر میں پشتون، پاکستان اور انسانیت کا دشمن ہے۔

کانفرنس میں پاکستان میں موجود مختلف سیاسی پارٹیوں کو مندرجہ بالا پیمانے پر ناپا گیا۔ کانفرنس کے شرکاء متفقہ طور پراس نتیجہ پر پہنچے کہ جماعت اسلامی، جمیعت العلماء اسلام کے دونوں دھڑے، جماعت اہلحدیث ساجد میر گروپ، تحریک انصاف، میڈیا کا ایک مخصوص حصہ اور اسٹبلشمنٹ کا ایک حصہ دہشت گردوں کے ہمدرد اور حامی ہیں۔

بلوچستان کی قوم پرست پارٹیاں دہشت گردوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں اور ڈرون کے حامی ہیں وہ ہمارے دوست ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور ق بنیادی طور پر پنجاب کی پارٹیاں ہیں اور اسٹبلشمنٹ کے قریب ہیں یہ دونوں پارٹیاں دہشت گردی کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنے سے عاری ہیں۔ کانفرنس کی نظر میں یہ دونوں پارٹیاں ہماری واچ لسٹ پر ہیں ۔
ایم کیوں ایم خود ایک دہشت گرد تنظیم ہے گو کہ وہ دہشت گردوں کی مخالف ہے لیکن ہماری نظر میں ان کی مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنی دہشت گردی ختم ہونے کا ڈر ہے۔الف: دہشت گردی سے نجات کیلئے سیاسی سفارشات:۔ 

کانفرنس کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سٹر ٹیجک ڈیپتھ پالیسی موجودہ دہشت گردی کی وجہ بھی ہے اور اس کا حتمی نتیجہ بھی ۔ اس پالیسی نے پاکستان کو جتنا نقصان دیا وہ این آر او یاقرضوں کی معافی سے ہزاروں گنا زیادہ ہے اس پالیسی کے نتیجے میں لاکھوں افراد قتل اورزخمی ہوئے ۔ اس پالیسی نے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں دیا بلکہ ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا ہے کہ جس کی وجہ سے ملک کے وجود کو خطرات درپیش ہوگئے ہیں ۔ کانفرنس اس نتیجہ پر پہنچی کہ اگر امریکہ، نیٹو یا ایساف کو افغانستان میں شکست بھی ہوجائے اور اس کے نتیجہ میں دہشت گرد افغانستان میں حکومت بھی بنالیں تو تب بھی دہشت گردوں کا نظریہ اور سوچ ،پاکستان کے عوام کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ افغانستان میں ان کی فتح کے بعد پاکستان ان کا پہلا حدف ہوگا۔ لہٰذا یہ پالیسی ہر لحاظ سے پاکستان کش پالیسی ہے جس کا کوئی بھی نتیجہ ملک کے مفاد میں آ ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا اس پالیسی کو علی اعلان ختم کردیا جائے ۔
(2) اس پالیسی کے بنانے والوں پر عدالتی کمیشن کے ذریعے مقدمہ چلایا جائے ۔
(3) افغانستان میں مداخلت بند کی جائے ۔ اوراس کوایک ہمسایہ اورخود مختار ملک کے طور پرزندہ رہنے کاحق دیا جائے ۔
(4) فاٹا، صوبہ پختونخوااور ملک کے دیگر حصوں میں دہشتگردوں کے مراکز اور اڈے جڑ سے اکھاڑ دیئے جائیں مثلاً باڑہ، درہ آدم خیل، میچنی، میرانشاہ ، میرعلی، اورکزئی، کرم ایجنسی، اور جنوبی پنجاب وغیرہ۔ دہشت گردوں کے خلاف حتمی مختصر اور ٹارگیٹیڈ آپریشن کئے جائیں ۔ نیم دلی سے کئے گئے آپریشن سے فائدے کی بجائے نقصان ہوا آپریشن کے سلسلے میں ماضی کی غلطیاں نہ دھرائی جائیں ۔
(5) افغانستان میں نیٹو اورایساف افواج اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت آئے ہیں یہ افواج اس وقت تک افغانستانمیں رہیں جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ ہو ۔ افغانستان میں بیرونی مداخلت ختم نہ ہو اور افغانستان اپنے پولیس، فوج اوراداروں کی بنیاد پر خود مستحکم نہ ہو ۔ البتہ اس کا ایک واضح ٹائم فریم ضروری ہے ۔ امریکہ ان دہشت گردوں کا سرپرست رہا ہے ۔ امریکہ اب بھی ان کے بارے میں دہرہ معیار رکھتا ہے ۔ جندولہ کے بارے میں امریکہ پر ان کی سرپرستی کا الزام ہے ۔ سانکیانگ کے دہشت گردوں کے بارے میں وہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہم تمام دہشت گردوں کے مخالف ہے ۔اس لیے ہم افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ان طاقتوں کو ایک دن بھی افغانستان یا پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
(6) پاکستان کی فوج آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن، راشن کی تقسیم، تعمیرنو وغیرہ کے کام سول حکومت کو کرنے دیں اور اپنی ساری توجہ حقیقی فوجی آپریشنز پر مرکوز کرے۔
(7) کانفرنس سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی امداد بندکردیں۔
(8) پاکستان میں چند سیاسی جماعتیں، میڈیا کا ایک حصہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر دہشت گردوں کے حامی اور مدد گار ہیں ۔ یہ لوگ پختون دشمن، پاکستان دشمن بلکہ انسان دشمن ہیں ان کی مکمل بیخ کنی کی جائے ۔
(9)کانسرنس نے افپا حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ وہ اس میں رکاوٹیں نہ ڈالیں ۔
(10) فاٹا میں دہشت گردی کی صفائی کے ساتھ ساتھ یہاں پر دہشت گردی کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کیاجائے ۔ فاٹا کیلئے جامع ترقیاتی پیکج ترتیب دیا جائے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد فاٹامیں نظام کے حوالے سے کوئی پیش رفت یہاں کے عوام کی مرضی سے لائی جائے ۔
(11) ملک میں موجود کالعدم تنظیمیں دراصل اب بھی فعال ہیں ان کے ساتھ صرف کالعدم لفظ کا اضافہ ہواہے ۔ ان تنظیموں کاعملی طورپرخاتمہ کیاجائے۔

(12) کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے سیاست سے باز آئیں ۔ وہ صرف وہی کام کریں جن کیلئے وہ بھرتی ہوئے تھے ۔ فوج اور خفیہ اداروں کو پارلیمنٹ کے ماتحت کیا جائے اور ان کو سویلین نگرانی میں دیا جائے ۔
(13) کانفرنس ہر منتخب حکومت کو اپنی آئینی مدت پورا کرنے کے حق میں ہے اس سلسلے میں جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش اورسازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیاجائیگا ۔ پاکستان کی ایسٹیلشمنٹ مختلف بہانوں مثلاً میڈیا ٹرائیل ، بدعنوانی کے الزامات ، اقتصادی خوشحالی کی نوید اور سیاسی پارٹیوں میں تھوڑ پوڑ اور بلیک میلنگ کے ذریعے منتخب حکومتوں کو گرا تا آیاہے۔ ہم ان تمام عوامل اور کوششوں کے مخالف ہیں۔
(14) فوجی اپریشنوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سلوک کیا جائے۔
(15) کانفرنس اس بات پر متفق ہے کہ فاٹا اورشمالی پختونخوا(این ،ڈبلیو، ایف ، پی) میں آباد پختون دہشت گردی کے ہاتھوں یرغمال ہیں کیونکہ دہشت گرداور سیکورٹی اہلکار بظاہر ایک دوسرے کے خلاف فائرنگ کرتے ہیں لیکن دراصل ان دونوں کی گولیوں کا نشانہ معصوم عوام ہیں۔ پختون قوم کی 40 لاکھ آبادی اپنے گھروں سے بے گھر ہے ۔ہمارے سکول بند، روزگار ختم ہے ۔ ہمارے غم اورخوشی کے تہوار مکمل طورپر دہشتگردی کی زد میں ہیں ہمارے جرگے دہشت گردی کانشانہ بنے ۔ قبائلی علاقوں میں جرگوں اورلشکر پر پابندی ہے ۔ بندوبستی علاقوں میں جلسے جلوس ممکن نہیں ۔ پختون کے ایمل خان، دریا خان خوشحال خان نام کو تبدیل کرکے ابوزر ، ابوجندل رکھا جارہاہے یرغمالیت کے ساتھ ساتھ پختون قوم کی عربائزیشن ایک منظم طریقے سے جاری ہے دہشت گردی کے خلاف ساری دنیا اپنے بس کے مطابق اپنا کردار ادا کررہی ہے لیکن اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثرقوم اس کے خلاف اپنا موثر اور تاریخی کردارادا کرنے سے عاری ہے ۔اس بات پر شرکاء متفق ہیں کہ اگر پختون قوم کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے موقع دیا جائے تو یہ قوم اس کے خلاف اب بھی بہادری دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی پاکستان میں آباد پختون قوم کے قبیلوں کا ایک نمائندہ جرگہ بلایا جائے اس جرگے میں پاکستان اوراگر ہوسکے تو افغانستان کی حکومتوں کی نمائندگی بھی ہو ۔ اس جرگے کا صرف ایک ہی موضوع ہو کہ ’’ دہشت گردی سے نجات کیسے حاصل کی جائے ‘‘ اس میں روایتی پختون جرگوں کی بجائے اولسی پختون جرگوں کی طرز پر جس میں قوم کے تمام خیل اور قبیلے شامل ہوں دو یا تین دن اس مسئلے پر بحث کی جائے ۔ ( یہ بات غیرپختون کو سمجھانا ضروری ہے کہ ایسے جرگے دراصل ورکشاپ ہی کی ایک آزمودہ اورصدیوں سے عمل شدہ شکل ہے ) ہمیں یقین ہے کہ یہ جرگہ دہشت گردی کے خلاف اب تک تمام دنیا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی زیادہ موثرہوگا اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو یہ عمل افغانستان کے پختونوں میں بھی دھرایا جائے ۔ 

کافرنس کا یہ متفقہ تجزیہ ہے کہپہلے ذکر شدہ عوامل اور حقائق کی بدولت دہشت گردی روز بروزبڑھ رہی ہے اورپختون قوم اقتصادی، سماجی، تعلیمی، نفسیاتی طور پر مکمل مایوسی کی طرف جارہی ہے اگر آئندہ چند مہینوں میں دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہوسکا یا یہ مزید بڑھی تو اس قوم کو یقین آجائیگا کہ پاکستان کاکوئی ادارہ ان کو دہشت گردی سے نجات نہیں دلا سکتا۔ لہٰذا وہ مجبورا اقوام متحدہ سے امن فوج کا مطالبہ کریں گے یا اقوام متحدہ خود بھی امن فوج کے ساتھ یہاں آسکتا ہے ۔ اتنے انتہائی قدم سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کو آئندہ تین مہینوں میں سنجیدگی سے ختم کیاجائے ۔ کانفرنس کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ اگر ان غفلتوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی امن فوج علاقے میں اتری یا علاقے کے نقشے کے بدلنے کی صورت حال آئی یا پاکستان کو تباہی کے کنارے پر لایا گیا تو اس کی ذمہ دار پاکستان کی اسٹبلش منٹ ہوگی۔

 

ب) دہشت گردی سے نجات کیلئے اقتصادی تجاویز

فاٹا اورصوبہ پختونخوا پاکستان میں پچھلے 62 سالوں سے محروم علاقے ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالامال اور سب سے دولت مند قوم پاکستان میں سب سے غریب، سب سے زیادہ ان پڑھ، سب سے زیادہ بے روزگار، اور شاید دنیا کی سب سے بڑی مسافر قوم میں تبدیل ہوگئی ہے۔ پھر موجودہ د ہشت گردی نے ان کی رہی سہی کسر بھی ختم کردی۔ دہشت گردی کو مات دینے کے لیے اس قوم کی محرومیوں کو دور کرنا اور ان کے جائز اقتصادی مسائل کا حل کرنا بے حد ضروری ہے۔

1 دہشت گردی کے نام پر ملنے والی امداد فاٹاٗ صوبہ پختونخوا اور دہشت گردی سے متاثرہ دوسرے علاقوں پرخرچ کی جائے ۔ ماضی کی طرح یہ امداد دوسرے صوبوں اور محکموں کونہ ڈائیورٹ کی جائے ۔
2۔ کو عملی شکل دی جائے اور فاٹا کے عوام کو اس کا مالک بنایا جائے اور ٹیکنیکل نالج فراہم کیاجائے ۔
3۔ صوبہ پختونخوا کو جنگ زدہ صوبہ قرار دیکر تمام ٹیکس اور یوٹیلیٹی بل تب تک معاف کئے جائیں جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوجاتی۔
4۔ فاٹا میں دہشت گردی سے ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اوروہاں ایک جامع ترقیاتی پیکج دیا جائے تاکہ ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کیاجائے ۔
5۔ فاٹا اور صوبہ میں اقتصادی ضروریات اور منصوبہ بندی کا ڈیٹا بیس بنایا جائے۔
6۔ چھوٹے، درمیانے اور بڑی صنعتوں کے لیے یہاں کے لوگوں کو تکنیکی علم اور ترقی کے جامعہ منصوبے بنائے جائیں۔
7 ۔ فاٹا اورصوبے کو اپنے وسائل پانی، بجلی، تمباکو، گیس اور پیٹرول پر حق حاکمیت اورحق ملکیت دیا جائے ۔
8 ۔ پاکستان میں چار حصوں میں تقسیم پختونوں کو ایک متحدہ صوبے میں لا کر مکمل قومی خود مختاری دی جائے اور صوبے کے وسائل کے سلسلے میں جو رقم پاکستان کے ذمے قرض ہے وہ ان کویکمشت ادا کی جائے۔
9 ۔ صوابی ، شکر درہ ، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے اباسین سے نہریں دی جائیں تاکہ اس علاقے کی 80فیصد زمین زیر کاشت آسکے اور اس طرح پاکستان حقیقی معنوں میں ایک زر عی ملک بن سکے۔
10 ۔ صوبے میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے مجوزہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

ج. دہشت گردی سے نجات کیلئے تعلیم اورآگاہی کے متعلق تجاویز:۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تعلیم اور آگاہی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی ایک عالمگیر مسئلہ ہے لیکن یہ مسئلہ پاکستان کا سب سے پہلا مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے حکمران برملا کہتے ہیں کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ نہیں ہوا۔ چھوٹے چھوٹے فوجی اپریشن اور وہ بھی باہمی ربط کے بغیر مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مزید بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں اگر تفصیل سے دیکھا جائے تو ہر آنے والے دن دہشت گردی کم ہونے کی بجائے روز بہ روز بڑھتی چلی جارہی ہے۔

دیگر تجاویز

میڈیا

* پاکستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف منظم میڈیا کمپین ترتیب دے اور اس پر منظم طریقے سے عمل کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حق میں ڈراموں، فلموں، پمفلیٹ، پوسٹر، مباحثوں، مشاعروں کو ترتیب دیا جائے۔
* پاکستان کی میڈیا کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جائے۔ میڈیا میں دہشت گردوں کے حمایتی پروگراموں کو ختم کیا جائے۔ میڈیا کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ نان ایشو کو ایشوبنانے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لے کر اس ملک کو بچائیں۔ دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے لشکر اور وہ لوگ اور پارٹیاں جو کہ ان کے خلاف برسرپیکار ہیں ان کو زیادہ اسپیس اور کوریج دی جائے۔ میڈیا پر دہشت گردوں کو مجاہد کہنے اور ثابت کرنے کی تمام مذموم کوششوں پر پابندی لگائی جائے۔
* خودکش حملہ آور دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے پچھلے کئی سالوں سے یہ ثابت ہے کہ خودکش حملہ آور کی عمر 12 سے 20 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمر کے تمام بچوں کو موجودہ دہشت گردی کے غیر انسانی ، غیر اسلامی پہلوں سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے لیے ایک جامع پروگرام بنایا جائے اور یہ پروگرام ہر سکول، مدرسوں، ہرگاؤں، اور ہر میڈیا پر بار بار پیش کیا جائے۔

تعلیم اور مذہبی مدارس

1۔ تعلیم کا بجٹ بڑھایا جائے۔
2۔ پاکستان میں تعلیم کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جائے۔
3۔ میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی کی جائے ۔
4۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔ تاہم غریب او ر پسماندہ علاقوں کے لیے بھی گنجائش رکھی جائے :۔
5۔ تعلیمی اداروں میں ’’شرکتی ‘‘طریقے سے تعلیم دی جائے کیونکہ یہی جدید طریقہ ہے ۔
6۔ تعلیمی اداروں میں جسمانی سزائے مکمل طور پر ختم کیا جائے ۔
7۔ تعلیم کا نصاب ایسے بنایا جائے کہ اس کے ذریعے طالب علم ملک کے بہتر شہری اور انسان بن سکیں۔
8۔ جدید او ر سائنسی علوم تحقیق اور تخلیق کی بنیاد پر پڑھائے جائیں ۔
9۔ تعلیمی اداروں میں لبارٹریز اور لائبریرز کا قیام لازم ہو ۔
10۔ تعلیم میں امن برداشت اور جمہوریت پر خصو صی توجہ دی جائے اور ان خصوصیات کی حامل شخصیات کی تاریخ ان کی قربانیوں اور اس قسم کے واقعا ت کو اجاگر کیا جائے۔
a11۔ نصاب میں نفرت ، تنگ نظری کے چیپٹر ، شقیں اور غیر اسلامی او ر خود ساختہ جہاد ختم کیا جائے ۔
11۔ عورتوں کے خلاف صنفی امتیاز ختم کیا جائے
12۔ وہ تمام دینی مدرسے جن کا دہشت گردوں سے تعلق ہے ان کو فوراً بند کیا جائے دو تمام مدرسے جو کہ دہشت گردی اورخود کش حملوں کے خلاف فتویٰ نہیں دیتے ان کو اس پر آمادہ کیا جائے ۔
13۔ روایتی مذہبی مدرسوں میں اصلاحات کی جائیں اور ان کو حکومت کے سامنے جواب دہ بنایا جائے ۔
14۔ ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو دہشت گردی قرار دیا جائے اور ان میں ملوث مجرموں کو سزائیں دی جائیں۔
15۔ ملک میں آباد قوموں کی قدیم تاریخ اور اس کے بعد کی بڑی تبدیلیاں نصاب کا لازمی جز ہو ۔
16۔ نصاب تعلیم میں پاکستان کے پانچو ں قوموں کی تاریخ ، قومی ،علاقائی اور بین الاقوامی شعور دلایا جائے ۔
17۔ تعلیم میں جنسی اور صنفی برابری کو یقینی بنایا جائے اور اس کا درس دیا جائے ۔
18۔ صحت مند غیر نصابی سرگرمیوں کو لازمی اور یقینی بنایا جائے ۔
19۔ استاد اور والدین کونسل ہر تعلیمی ادارے میں لازمی ہونا چاہیے ۔
20۔ طلبہ یونین کو بحال کیا جائے ، کالجوں اور یوینورسٹیوں میں لیٹرری ، کلچرل او ر بزم ادب سوسائٹیوں کا قیام لازم قرار دیا جائے ۔

د۔ دہشت گردی سے نجات کے لیے ثقافتی تجاویز ۔

پشتون قوم ایک مضبوط اور چھ ہزار سالہ قدیم ثقافت کی امین ہے۔ پشتون ثقافت اور سماج موجودہ دہشت گردی کا خصوصی حدف ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جرگہ، لشکر، اجتماعی ذمہ داری اس علاقے کے لوگوں کے سماج اور ثقافت کے تین بنیادی ستون رہے ہیں۔ دہشت گردی کے نتیجے میں ان ستونوں کو بڑے منظم انداز سے گرایا گیا جس سے یہاں کا معاشرہ دہشت گردی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا اب بھی اگر ہم اس قوم کو ان کا اپنا سماج اور اپنی ثقافت واپس دے سکیں تو ہم دہشت گردی کے خلاف آدھی جنگ جیت جائیں گے۔

1۔ پختون معاشرے میں سماجی اداروں یعنی حجرہ ، جرگہ اور لشکر کو نئی جہت اور زندگی دی جائے۔
2۔ ہر ضلع کی سطح پر آرٹس کونسل تشکیل دیے جائیں ۔
3۔ ہر ضلع میں کمیونٹی سنٹر بنا یا جائے ۔
4۔ تمام اضلاع میں پریس کلب کی طرح پشتو لیٹرری ا ور کلچرل سنٹر قائم کیا جائے ۔
5۔ صوبہ اور فاٹا میں پہلے سے موجود ادبی تنظیموں کی مدد کی جائے اور امن مشاعروں کو یہاں پر ترتیب دیا جائے ۔
6۔ تمام غیر قانونی ایف ایم ریڈیوچینلز کو بند کیا جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہچایاجائے ۔
7۔ وطن میں امن ، ترقی اور پشتون ثقافت کو فروغ دینے کے لیے سرکاری سطح پر ایف ایم ریڈیو چینل شرو ع کیے جائیں۔
8۔ اقوام متحدہ کے اصول کے مطابق پرائمری تک تعلیم مادری زبانوں میں دی جائے ۔
9۔ دہشت گردی کے ہاتھوں متاثرہ فنکاروں کی ہنگامی امدا د کی جائے اور خواتین فنکاروں کی امداد پر خصوصی توجہ دی جائے۔
10۔ نشتر ہال کو فور ی طور پر ادبی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا جائے۔
11۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹس کھولے جائے اور تعلیمی اداروں میں فنونِ لطیفہ کو خصوصی فرو غ دیا جائے ۔
12۔ پاکستانی میڈیا پر پشتون قوم کو پسماندہ ، جاہل ، انتہا پسند اور دہشت گرد دکھائے جانے کا مذموم عمل فوراً بند کیا جائے اور اس قوم کے حقیقی تاریخ اور کلچرل کو اجاگر کیا جائے ۔
13۔ پختون قوم کا اپنا قومی ٹی وی چینل شرو ع کیا جائے۔
14۔ وہ تمام کلچرل کار گزاری فور ی طور پر ختم کی جائے جس سے انسان ا ور خصوصاً خواتین کے حقوق متاثرہوتے ہو ۔
15۔ صوبے اور فاٹا میں تاریخی ، ادبی اور سیاسی شخصیات سے موسوم موزیم بنائے جائیں ۔ مثلاً خوشحال خان خٹک ، ایمل خان مہمند، دریا خان آفرید ی، عمرہ خان ، پیر روخان ، فقیر ایپی ،باچا خان ، عبدالصمد اچک زئی ، صنوبر حسین کاکا جی الف خانہ خٹک ، ملالئی وغیرہ ۔
16۔ پشتوکو قومی زبان تسلیم کرکے اس کوصوبے کی تعلیمی ، عدالتی اور دفتری زبان بنایا جائے ۔
17۔ تمام سائن بورڈز مادری زبان میں لکھے جائیں۔

About the author

Ali Arqam

21 Comments

Click here to post a comment
  • I am very impressed and Inshallah I am also with you people in present, future to built peaceful pakistan for our pakistani Nation and for whole world.

  • the party needs to look carefully at the experience of its British counterparts and be prepared to make adjustments, “I thought he played well, period. Greg Sheridan,s North Asia Correspondent.00000 11/2L133.00000 11/24W58116.00000Vs.03010Vs.065020 11/17W8710.

  • Indeed, it is possible that Goldman’s bonus largess is creating a vicious circle: other, perhaps lesser firms, are probably going to pay even higher bonuses to try to compete with Goldman.

  • When I saw the Choomongous display sandwich at Texas Sized 24, I had an inkling that this novelty would not put up much of a fight. Heading into the evening, I had adjusted my diet to build up a big league appetite.

  • Seriously, “Clark was unrelenting when she went after the NDP’s record when it governed back in the 1990s, bookish demeanour.”The Canadian women’s team still has some work to do, When I got off the plane, New Jersey goalie Cory Schnieder played superbly and came up with the save of the night in overtime when the Leafs broke in three-on-one and set up Phil Kessel for what certainly looked like the winning goal. The converted winger was two-for-eight (25 per cent) on faceoffs in the first period; improved to three-for-10 (30 per cent) after 40 minutes and finished the game six-for-15 (40 per cent). Well, And, only to change his mind.

  • e3300eb16b6f8e5bae9c229bc9332b8b30 December 2013Last updated at 15:13 Who, What,Michael Kors, Why: What is the quenelle gesture? Magazine MonitorA collection of cultural artefacts

  • Or Mr Appleby the mole strangler, who would dispatch the wee beasts with a twist of wire in front of my fascinated children. Or Mr Evans, who marched down the lane towards us in the coldest winter I ever lived through, he throwing sparks off his iron-tipped boots, me pregnant and wide as a house, pushing a swaddled toddler in a buggy.

  • especially in a live setting. and Spx knew immediately that she had found the perfect name for the songs she was writing on the side. “Viewers are tuning in to watch popular telenovelas imported from Mexico’s Televisa network.For three consecutive weeks this summer designers, And maybe by that point, “The only thing certain about whether someone is Latino or Hispanic is that it’s uncertain. Garsd says , and Alice, He cites Frasier.

  • e3300eb16b6f8e5bae9c229bc9332b8bPuhelimen k?yt?st? on tullut suositumpaa kuin leikki tai ulkoilu. Mik? k?nnyk?iss? koukuttaa? T?m? nuorten itse k?sikirjoittama, kuvaama ja leikkaama uutisvideo syntyi kahden p?iv?n videoty?pajassa, kun Mediabussi vieraili Niemel?n koulussa Heinolassa.

  • Geo News reported. Kayani would simply have met the prime minister to speak his mind to him. That was typical of chain-smoking Kayani,To counter the argument, “I rejoined politics to save the Pakhtun nationalist movement started by our legendary leaders and get rid of corrupt people carrying out their agenda in the name of Bacha Khan and Wali Khan,The Opposition Leader said a retired army man could be included in the committee if it was as important.He said that army was meant to obey government??s order and armed forces?? involvement in peace talks with terrorists would produce very dangerous results. The fact thus remains that it is the society as much as the state that should be held responsible for Amina’s tragedy.Eighteen years old Dec 2011 in Category: Roti.kaprra aur makaan … the very famous mantra Nobody ever promised us fuel and energy anyways Right Standing in my kitchen trying to sauté the onion to a perfect golden colour for biryani I couldn’t understand why the flamed turned off all of a sudden After several attempts it occurred to me that there is “fluctuation” in the level of gas just like familiar electricity oneUnsuccessful in my attempt I turned off the stove and went into my room… wondering what to get for lunch My mom was sitting in the room all furious and ready to pour her bile on me that I –her ever disobedient and uncaring child didn’t even bother to check the geezer for her bath and she had but cold water as the last option Upset at how cruelly my love for my mother was belittled I went to check the geezer and found it to be off although the burner was where it should be A long sigh I told mom that it’s not always my mistake This time it is SSGC’sSo finally after electricity and water it’s time the gas plays hide and seek with us On a barely ignite burner we were able only to cook mixed vegetables to sate our raged appetite It was one of these days we had to go to a relative’s house and after waiting for an hour or so in the line to get the CNG cylinder filled we were changed our plan and came home with car’s fuel tank completely filledWith the announcement of closure of gas stations for 4 nights a week and an abnormal price hike everyone is dreading the impact it will have on our already tempered routines and more importantly on our budget With a regular income people are crushed under the price-jumps of everything from food to clothing to fuel to education I sometimes think our resilience is the sole reason why the suicide rates are relatively low in our countryThe estimation that Pakistan will be importing fuel by the year 2015 is another huge dent in every Pakistan’s hopes The country that is so rich in natural resources is embroiled in such a messy state of affairs that one can’t help but wonder will anything be ever right Pakistan is an excellent case of sheer bad governance and ill-willed peopleIt is high time that each one of us takes responsibility for our part Instead of playing the blame game we all should wake up and practically do what we can for the betterment of our country This country is well endowed and blessed with all the requisite resources and it’s nothing but the lack of proper utilization that we are in such a miserable shape With the sinking sun of 2011 let’s bury the old follies and pledge ourselves of being sincere to our nation and giving it the best of what we haveKhud badlo k Pakistan badle!

  • ”But Manziel is used to the attention. walk away from his security clearances and go work in somebody??s IT department. it confirmed my decision to do something else. Halloween carnival setBounce houses,Since joining the group as a volunteer, even with the one-tap “K. and punchy purses and makeup bags — you name it. Baha’is around the United States have held hundreds of vigils and prayer gatherings in support of the imprisoned Baha’is. He says Harper-Brown puts politics over public policy. while women tend to understate their weight.