Blogs Cross posted Urdu Articles

Hyperbolizing our piousness – by Mubarak Haider

مبارک حیدر نے1963ءمیں گارڈن کالج راولپنڈی سے انگریزی ادبیات میں ماسٹرز کیا، وہیں پوسٹ گریجویٹ یونین کے صدر تھے جب شہید ذوالفقار علی بھٹو سے پہلی ملاقات ہوئی۔64ءمیں اسلامیہ کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ شاعر اور انقلابی کی حیثیت سے ملک بھر میں پذیرائی ملی۔ دانشوروں اور طلبا کو منظم کرتے ہوئے فکری مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران پاکستان پیپلزپارٹی معرضِ وجود میں آئی تو68ءمیں بھٹو مرحوم نے انہیں لیبر ونگ کا سربراہ مقرر کیا۔74ءمیں سرگرم سیاست کو خیر باد کہا تاہم آمریت آئی تو دوبارہ قید وبند سے واسطہ پڑا۔ جستجو اور تحقیق کے لیے دنیا کے اکثر ممالک کا سفر کیا۔ اس دور میں قومی اور عالمی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہے۔


نئی صدی کی پہلی دہائی میں ملک میں بڑھتی اور پھیلتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اور خود پسندی پر ان کی کتاب”تہذیبی نرگسیت“ کو عالمی پذیرائی اور ان کے منفر تجزیہ سے پورے ملک میں مکالمہ کو ایک نئی زندگی ملی۔ پروفیسر کی یہ نئی کتاب” مبالغے مغالطے“ قوم کو جھنجھوڑنے اور جگانے کی مہم کی دوسری کوشش ہے اور بقول ان کے ہمارے بس میں فقط کاوش ہے، ایک ایسی کاوش جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو، گذشتہ دنو ں سانجھ پبلیکیشنز کے زیرِ اہتمام ان کی کتابمغالطے مبالغے “ کی تقریب رونمائی کا انعقاد ہو ا ۔ جس میں صاحبِ کتاب مبارک حیدر نے شرکت کی اور مہمان خصوصی ظفر اقبال تھے۔مقررین میں امجد علی شاکر ، سعید اختر ابراہیم اور امجد سلیم شامل تھے ،کتاب سے درج ذیل اقتباس پیش ہے.


پارسائی کامبالغہ

مبارک حیدر

 

یہ شاید ہماری نرگسیت یا مریضانہ خود پسندی کی ایک علامت ہے کہ ہم کریڈٹ اپنے لیے رکھ کر ملامت دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ مسلم معاشروں اور خصوصی طور پر پاکستان کی الجھنوں کا ایک سبب شاید یہ ہے کہ اِن کے بلند آواز عناصر کی خود اعتمادی انہیں اپنی آواز کے سوا کچھ سننے ہی نہیں دیتی۔ کہنے کو تو ہمارے ہاں روحانیت کے چرچے ہیں لیکن فضیلت کی بنیاد مال اور اقتدار کے سوا کچھ نہیں۔ نہ علم ودانش کی کوئی وقعت ہے نہ خدمت وخلوص کی، نہ محنت و استقامت کسی کھاتے میں ہیں نہ ہنر اور لگن، نہ ہی سادگی اور انکسار قابل احترام بن سکے ہیں۔

زیادہ غور سے دیکھنا ہمارے ہاں ناپسندیدہ عمل ہے، ہم گزرتی ہوئی عورتوں کے علاوہ کسی بھی حقیقت کو زیادہ توجہ سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ تاہم اگر کچھ وقت کے لیے اِس قانون کو بدل دیا جائے اور غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ہماری نظر میں مال اور اقتدار بھی اُسی صورت میں باعث فضلیت ہے اگر وہ ہمارا اپنا ہے یا ہمارے پسندیدہ لوگوں کا ہے۔ حتیٰ کہ عبادت بھی وہی ٹھیک ہے جو ہمارے پسندیدہ مسلک کے مطابق کی جائے۔

سنتِ رسول کے کچھ ظاہری پہلووں کو دنیاوی جاہ وجلال کا ایسا ذریعہ بنا لیا گیا ہے کہ نبی کے سارے باطنی کمالات آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے آپ کی ذات میں شفقت و انکسار، محبت، درگزر، شیریں کلامی، فراخدلی، تنگدستی میں وقار اور حسِ جمال ایسی خوبیاں تھیں جو صرف نعتوں اور خطبوں کا مضمون ہیں۔ اقبال نے اپنے پہلے لیکچر میں رسول کی ایک دعا کا ذکر کیا تھا ”اے اللہ مجھے واقعات وکائنات کی اصل صداقتوں کا علم عطا کر۔“ یوں لگتا ہے کہ جیسے علم کی یہ آرزو اب ہمارے لیے قابل تقلید نہیں رہی۔ قابل تقلید ہے تو بس ایک مخصوص خلیہ، جسے دیکھ کر دل نہیں مانتا کہ عربوں کے نفیس ترین صاحب جمال کی مشابہت اِن لوگوں سے ہوسکتی ہے جن کے کاروبار حرص کے جہنم اور گھر خوشحالی کے نمائش کدے ہیں، جن کے وعظ کڑکتی بجلیوں جیسے اور چہرے کرختگی کے صحرا ہیں، جہاں اپنائیت سے بھری ایک مسکراہٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کی آنکھیں بھرآئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے دولت اور خوشحالی سے منع نہیں کیا بلکہ اِس دنیا میں جو اچھا ہے سب حلال ہے۔ تو کیا کرخت خلیے، اپنائیت سے خالی چہرے اور جستجو سے محروم آنکھیں یہی ”حَسنہ“ کی تعریف میں آتی ہیں؟

اس نرگسی تمدن کی تہہ میں بہت سی خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں ہیں، مبالغے اور مغالطے ہیں، جن کے نتیجے میں یہ تمدن ایک ایسی اذیت میں پھنس گیا ہے جو ہر دن بڑھتی ہے لیکن دردمندی اور احساس کے بجائے الٹا کرختگی کو جنم دیتی ہے۔ بے حسی اور خود پسندی کی وہ شکلیں جو ہمیں اپنے اِس معاشرے کے طاقتور اور خوشحال طبقوں میں ملتی ہیں غالباً دنیا کے بدترین سرمایہ پرست معاشروں کے مافیا کے ہاں بھی نہیں۔ یورپ اور امریکا ، روس اور چین جنہیں ہم مادیت پرستی کے طعنے دیتے نہیں تھکتے، وہاں کے بدترین سرمایہ پرست اگر ہمارے تاجر، عالم دین اور مجاہد کی سنگ دلی دیکھ لیں تو شدتِ رشک سے پتھر ہوجائیں۔

حقیقی اذیت کا شکار معاشرہ کے وہ کم نصیب طبقے ہیں جو اکثریت میں ہیں، لیکن احتجاج کی شدت ایسے خوش نصیبوں کے ہاں ملتی ہے جنہیں بظاہر کوئی تکلیف نہیں۔ دل دہلا دینے والی چیخیں ایسے حلقوں سے سنائی دے رہی ہیں جو دین کی نگرانی کے دعویدار ہیں، یا جن کا تعلق نفاذ دین کی تحریکوں سے ہے جنہیں ایک تو خود مسائل کا سامنا نہیں دوسرے عوام کے مسائل کبھی ان کا مسئلہ نہیں رہے۔ پاکستان کی صنعت و حرفت پر مسلسل زوال ہے، جبکہ غیر پیداواری تجارت، کرپشن اور غیر ملکی امداد کچھ لوگوں کی خوشحالی کے واحد ذرائع رہ گئے ہیں۔ ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم امریکا کی مجبوری بن گئے ہیں لہٰذا وہ اور دے گا۔

فوجی آمریتوں کے ساتھ دینی قوتوں اور مسلمان کاروباری طبقوں کا کچھ ایسا فطری اتحاد ہے کہ آمریتوں کے دس برس ایک مست سناٹا چھایارہتا ہے، جبکہ سول حکمرانی آتے ہی چیخ وپکار آسمان تک جاتی ہے، میڈیا ایک ایک دن کا حساب مانگتا ہے، دین کی حفاظت پر مامور جماعتیں اذیت میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور خوشحال کاروباری عناصر کی زندگی جہنم دکھائی دیتی ہے۔ اِس نفرت کا نتیجہ ہے کہ محترم نواز شریف، جو خوشحال کاروباری طبقوں کے محبوب قائد مشہور تھے، ان طبقوں میں صرف اس لیے ناقابل برداشت ہوگئے کہ انہوں نے فوج کو دعوت دینے کے بجائے سول حکومت سے تعاون کر لیا۔

سول حکمرانی اور جمہوریت کا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ نظام اس لیے بہتر ہے کیونکہ یہ رضامندی اور شمولیت کا نظام ہے۔ انسانی عقل اور علم کو جائز مانتا ہے۔ اجتماعی عقل اور شراکت اقتدار کو برحق قرار دیتا ہے۔ کسی یونیورسٹی یا کسی مدرسہ کی سند کو عوام پر حکمرانی کا پروانہ نہیں مانتا۔ یہ نظام کسی جرنیل یا جج کا یہ حق نہیں مانتا کہ وہ عوام کی تنخواہ وصول کرتے کرتے ان پر حکمران بن کر مسلط ہوجائے اور پھر اسے ہٹانے کا کوئی راستہ ہی نہ ہو۔ یہ لوگوں کو اپنے حکمران چننے کا بار بار موقع فراہم کرنے کا نظام ہے جو ایسے لوگوں کو زہر لگتا ہے جنہیں لوگ زہر لگتے ہیں اور لوگوں کی شمولیت عذاب۔

بشکریہ: ہم شہری

About the author

Shaista Aazar

2 Comments

Click here to post a comment