Original Articles

On the USA-Pakistan army alliance: Sleeping with the enemy? – by Rashid Aurakzai

US has a history of dancing with third world dictators at the cost of democracy, rights and liberties.

Like a rabbit popping out of a magician’s empty hat, Osama bin Laden (OBL) was not ‘smoked out’ of any cave in Afghanistan but right from under CIA’s 63 year old strategic partner’s Sandhurst, Abbottabad.

Capitol hill and Pentagon are furious at the snake up their sleeves but the overwhelming, oppressed and democratic majority of Pakistan is gloating for deserving reasons. For them the Islamists’ Hero is dead and hence the militant ideology should now give way to pragmatic and democratic approach like that of the Middle East. They adore the fact that their de facto rulers, the arrogant generals (GHQ) in Rawalpindi stand naked and ridiculed locally as well as internationally. They are not surprised at all and are giggling at the US decade of stupidity.

Just last month, Pakistan army’s notorious spy agency, the ISI, made much ado of Raymond Davis Case, the one of many attempts to sabotage or at least vilify the democratically elected coalition of secular parties (PPP-ANP-MQM).

Discrediting democracy and politicians is Pak Army’s favorite pastime when it’s not directly ruling. Their maneuvers are countless to detail here. Enough for American audience is Gen. Kayani’s opposition to Kerry Lugar Bill since the funds were to be scrutinized, performance based and for civilian purposes.

Right from its controversial inception, the country has acted like GB’s implant at its Imperial sunset to counter the WWII victor and advancing communist Russia. Reduced in its global powers, London handed over the strings to Washington. Since then dictators have ruled the country for more than half of its age directly and the rest indirectly with US tacit consent. Pakistan has never had a true democracy in its history but brief and tumultuous transitions in between, hampered and foiled by military at the end of decade.

The phenomenon is global. US has a history of dancing with third world dictators serving her foreign policy. It’s easy to bully an illegitimate single then multitude of crowd-pleasing, elected politicians. The Americans should be scolding themselves for their recent recommending of top two Generals, Kayani and Pasha for extensions in services, forgetting that Musharaf’s decade hadn’t yielded either OBL or stopped Taliban infiltration across the Durand Line.

Even the public opinion against Taliban took u-turn under the otherwise corrupt Zardari.

Rejoicing OBL’s death & discovery, why should democratic Pakistanis believe their Army was not complacent in Ms. Bhutto’s assassination, fourth in the same family leading the country’s only biggest party. US needs to change with changing world. It must rationalize its foreign policy. They should question their still alive ‘Pet’, Musharaf, the self exiled London’ite. How could he be oblivious of OBL? Waterboard him if it has to be any and the coward Commando vomit it all.

US must stop thinking with its knees and start realizing the reality. If Pakistan breeds hatred against US, its not something to be astonished about. Majority of powerless Pakistanis holds US responsible for her involvement in their country’s affairs. Power brokers including the religious right implore Washington when it comes to King’s making.

And even if they are conspiracy theories, its because 50% of country budget goes in debt servicing and more than 60% of the rest in defense. Aid and loans have directly or indirectly gone into military obesity. How can unarmed and loosely bonded political parties withstand an organized, disciplined, trained, resourceful and cunning Army? It strictly controls the interior and foreign ministries.

They managed to wrench two hikes, this year to take their spending around Rs.900 billions despite beating drums about country’s bankruptcy. Why shouldn’t extremism sprout where only 1.5% of GDP goes to education and even less then that in health. And even that curriculum indoctrinates and teach distorted history to glorify Army.

Yes, the change has to come from within but can we imagine the pattern when General Ayub signed SEATO & CENTOs, General Zia fought their War against Russia and General Musharraf against the Islamist-cum-China to fortify themselves. The US fulfils its lust but does not care about consequences. It’s time USA atone for its foreign policy adventures.

It’s time America support democracies for the sake of world peace. There is no way the third world will hate the American way of life. US establishment needs to remind themselves that others are ‘men’ too and are created equal, endowed by their Creator with certain unalienable rights, that among these are life, liberty and the pursuit of happiness. Export democracy, rights and liberty if you have to.

About the author

Guest Post

4 Comments

Click here to post a comment
  • “Rejoicing OBL’s death & discovery, why should democratic Pakistanis believe their Army was not complacent in Ms. Bhutto’s assassination, fourth in the same family leading the country’s only biggest party.”

    You hit the nail on the right spot, Rashid!

    Pakistan Army = Al Qaeda = Taliban

    Pakistan army’s generals, not politicians, need to rot in Attock jail.

  • پاکستانی ایجنسیاں اور شدت پسند تنظیمیں

    اوون بینٹ جونز
    بی بی سی نیوز ، اسلام آباد

    باہر سے آنے والے لوگ اکثر پاکستان کے کچھ شدت پسندوں کے خلاف جارحانہ رویے اور کچھ کے لیے برداشت کے جذبے سے بوکھلا جاتے ہیں۔

    پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی نے ایک بار پھر ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں اور جہادی شدت پسندوں کے درمیان روابط کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے ان مغربی رہنماؤں کو ہمیشہ پریشان کیا ہے جو پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر امداد میں دیتے ہیں اور اس کے بدلے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون چاہتے ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گزشتہ برس کہا تھا کہ وہ ایسی صورتحال برداشت نہیں کر سکتے جس میں پاکستان ’دونوں طرف دیکھ سکتا تھا‘ تاکہ وہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی بھی کر سکے۔

    اور گزشتہ ماہ ہی امریکہ کے جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن نے، پاکستانی ٹیلی ویژن پر کھلے عام، پاکستانی کی مرکزی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ان طاقتور قبائلی گروپوں سے روابط کا الزام لگایا تھا، جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ طالبان جنگجؤوں کی پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے آر پار نقل و حمل میں مدد کرتے ہیں۔

    ایڈ مرل ملن نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے حقانی گروپ سے ’دیرینہ تعلقات‘ ہیں۔ اتنے اعلیٰ عہدے رکھنے والے سیاسی اور فوجی رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں شکوک کا اظہار ان کی اس بات پر بیزاری ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف دس سالہ جنگ کے باوجود افغانستان میں طالبان تحریک مضبوط ہو رہی ہے۔

    اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اسامہ بن لادن کی اس کی سرزمین پر موجودگی کا علم تھا؟ بہت سے پاکستانی جو یہاں کی سکیورٹی انتظامیہ کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے واقف ہیں، کہتے ہیں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسامہ کی موجودگی آئی ایس آئی کے علم میں تھی۔

    پاکستان کی پالیسی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف طرح کی شدت پسندوں تنظیموں کے درمیان فرق کو سمجھا جائے۔ کچھ تنظیمیں جیسے کے پاکستانی طالبان ہیں پاکستان کے اندر ہی حملے کر رہی ہیں اور ان کے اہداف میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔
    بریگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر کہتے ہیں ’ یہ نا ممکن ہے کہ آئی ایس آئی کو ان کی یہاں موجودگی کا علم نہ ہو‘۔ ’ایک ایسے گھر پر حملہ کیا گیا جس کے کے بارے میں ہمیشہ شک ظاہر کیا گیا تھا‘۔

    اس کے بر عکس کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کو علم نہیں تھا۔ یہ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ شدت پسندوں کو پکڑنے کے بارے میں ان کا ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ وہ انہیں پناہ دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

    بریگیڈیئر اسد منیر نے جو امریکہ پر نائن الیون کے حملوں سے پہلے آئی ایس آئی میں کام کر چکے ہیں کہا کہ ہم نے زیادہ سے زیادہ لوگ گرفتار کیے جنہیں گوانتانامو لے جایا گیا۔’میرے خیال میں سن دو ہزار ایک اور دو ہزار تین کے درمیان ہم نے دو سو ساٹھ لوگ گرفتار کیے تھے‘۔ ’میرے خیال میں کوئی ہمارے ریکارڈ کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘۔

    صورتحال الجھی ہوئی ہے اور باہر سے آنے والے لوگ اکثر کچھ شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کے جارحانہ رویے اور کچھ کے لیے برداشت کے جذبے سے بوکھلا جاتے ہیں۔

    جہادیوں نے پاکستان میں طوفان کھڑا کیا ہوا ہے۔ ہر ہفتے کم سے کم ایک خود کش حملہ ہوتا ہے جن میں نائن الیون کے بعد تقریباً پینتیس ہزار پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پاکستان کی پالیسی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف طرح کی شدت پسند تنظیموں میں فرق کو سمجھا جائے۔ کچھ تنظیمیں جیسے کے پاکستانی طالبان ہیں پاکستان کے اندر ہی حملے کر رہی ہیں اور ان کے اہداف میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔ اس لیے پاکستان کی فوج ان کے خلاف لڑائی کر رہی ہے۔ اس لڑائی میں فوج کے ہزاروں اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لیکن کچھ تنظیمیں افغانستان میں متحرک ہیں۔ پاکستان ایک عرصے سے افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ وہاں سے امریکیوں کے چلے جانے کے بعد آنے والی کسی بھی حکومت سے اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

    پاکستان کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان دفاعی حکمت عملی کے نقطہ نظر سے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ کابل میں دوست حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان اپنی تمام تر عسکری قوت مشرق میں انڈیا کی سرحد پر مرکوز کر سکتا ہے۔

    اسلام آباد کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ انڈیا حالیہ برسوں میں کابل کو ایک ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے اور فغانستان میں پاؤں جما رہا ہے۔ افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

    اب کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ حامد کرزئی کی جو بھی جانشین حکومت ہو گی اس میں طالبان شامل ہوں گے، پاکستان کا طالبان رہنما ملا عمر کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے میں مفاد نظر آتا ہے۔

    کئی ایسی تنظیمیں جن کے آئی ایس آئی کے ساتھ روابط ہیں انڈیا میں کارروائیاں کر چکی ہیں۔ مثال کے طور پر نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کا الزام بھی پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ پر لگایا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے شدید بین الاقوامی دباؤ میں تنظیم کے بانی حافظ سعید کو نظر بند کر دیا، تاہم انہیں کچھ ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔
    ملا عمر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں طالبان کے حملوں کے حق میں نہیں۔ مزید برآں اگر پاکستان پنجابی طالبان کو افغانستان میں لڑائی کا موقع فراہم کرتا ہے تو وہ لوگ پاکستان میں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔

    لیکن مسئلہ افغانستان تک محدود نہیں۔ کئی ایسی تنظیمیں جن کے آئی ایس آئی کے ساتھ روابط ہیں انڈیا میں کارروائیاں کر چکی ہیں۔ مثال کے طور پر نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کا الزام بھی پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ پر لگایا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے شدید بین الاقوامی دباؤ میں تنظیم کے بانی حافظ سعید کو نظر بند کر دیا، تاہم انہیں کچھ ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔

    تنظیم کے کچھ ارکان کو حراست میں لیا گیا تھا لیکن ان میں سے کسی کے خلاف مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔

    پاکستانی روزنامہ ڈان کے سابق مدیر عباس ناصر نے کہا ہے کہ ریاست کے کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو چند شدت پسندوں کی رہائی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگ مارے گئے، پھر قاتلوں کو پکڑ کر سکیورٹی ایجنسیوں کے ایماء پر بغیر فرد جرم عائد کیے چھوڑ دیا گیا۔‘

    ’یہ لوگ انڈیا کو سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں افغانستان ہو چاہے کشمیر اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط بنانے کے لیے جہاد اور بین الاقوامی جہادی طاقتوں کی ضرورت ہے۔‘

    پاکستانی ریاست کی طرف سے کچھ جہادیوں کے خلاف قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کی کمی بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی رفتار سے واضح ہے۔ اس قتل میں طالبان کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد اور پانچ مشکوک افراد کی گارفتاری کے باوجود ان کے خلاف کارروائی مختلف وجوہات کی بنیاد پر مؤخر کی گئی ہے۔

    اس سے کم اہمیت کے مقدموں میں بھی جہادی بعض اوقات اس سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ گواہ اور جج ڈر کے مارے سامنے نہیں آتے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ قانونی نظام شدت پسندوں کے فائدے میں ہے۔ مثال کے طور پر دھماکہ خیز مواد اور خود کش حملوں کی جیکٹ برآمد ہونا قابل ضمانت جرائم ہیں۔

    بہت سے پولیس افسران جہادیوں کو چھوڑنے کے واقعات بتا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایس ایس پی اکبر ناصر خان نے مثال کے طور پر ایک شخص کو پشاور میں ایک سیاستدان کے گھر پر راکٹ لانچر سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس شخص کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا تھا اور حملے کے چشم دیدہ گواہ بھی مل گئے تھے۔

    تین ماہ بعد معاملہ عدالت میں گیا، پھر وہ ملزم اکبر ناصر خان کے دفتر پہنچ گیا اور ساتھ چائے پینے کی پیشکش کی۔ اسے عدالت نے اس بنیاد پر ضمانت پر رہا کر دیا تھا کہ وہ امن عامہ کے لیے خطرہ نہیں۔

    کچھ پولیس افسران عدالتوں کی جہادیوں کو سزا دینے میں ناکامی سے اس قدر مایوس ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں ہلاک کرنے کو ترجیح دیں گے۔کراچی میں ایک پولیس افسر نے کہا کہ وہ بائیس ملزمان ہلاک کر چکے ہیں۔

    اپنی انگلی ماتھے پر رکھتے ہوئے پولیس افسر نے کہا کہ ’وہ ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہیں، مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ جلدی کرو‘۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110512_pakistan_killing_a.shtml

  • They were sleeping with their enemies with their pants down. Shameless misbegotten generals of Aanjihani Zia.

  • Rashid Aurakzai, this is an excellent article and you are right about the United States need to “support democracies for the sake of world peace.” I have been meaning to write about this, and will get to it. I speak in defense of the U.S. so often readers are sometimes unaware of my ability to see our faults and address them, but I do.
    It is true that the U.S. foreign policy has been one of “sleeping with the enemy” due to short term goals, with no real regard to whether it is an oppressive authoritarian regime- Shah, Zia, Sadaam, Saudi family, et. al.. Foreign policy has been uneven, but the story is much deeper than a comment like this can serve to clarify. I’ll just say this in defense of your thesis, a. America could have supported many more democracies through history than it has and now is the time to connect with the Arab Spring and other democratic grassroots uprisings where it is invited (atrocities in Syria and Bahrain). b. When we had the 9/11 momentum it was derailed by bad choices, and OPEC lobbies helped to fund neo-Wahhabis that infiltrated various Washington committees and advisors, Saudis and Qatar used influence and money to also fund university programs and NGOs- all sympathetic to jihadists right under the noses of American officials, who had no cue. This is still and issue today. The tone of your article right on. Congratulations!