Original Articles

Tavilay ki bala: from Ifitkhar Chaudhry to Jamshed Dasti

طویلے کی بلا بندر کے سر – از افتخار چودھری تا جمشید دستی

یہ بہت پرانامحارہ ہے آپ نے بھی سن رکھا ہو گا۔ لہذا اس کی وجہ تسمیہ سمجھانے کے لیئے ہم آپ کو مزید بور نہیں کر یں گے اس لیئے کہ اول تو جواس کی وجہ تسمیہ ہے وہ قرین قیاس نہیں ہے دوسرے آپ اتنی بار سن چکے ہیں کہ زبانی یا د ہو گئی ہوگی ۔ جیسے اس غزل کے شعر جن کے خالق انہیں بار بار پڑھنے کے عادی ہیں۔ جبکہ ہمارے خیال میں اس محاورے میں ترمیم ہو نا چا ہیئے کیونکہ آجکل محاورہ الٹ گیا ہے اب صورت َ حال یہ ہے کہ بندر اپنی بلاطویلے کے سر ڈال کر بھا گنے کی کو شش کر رہا ہے۔ ہم اس کے بجا ئے آپ کوایک دوسری مثا ل دےکر سمجھا تے ہیں۔ وہ اس طرح ہے کہ علی گڑھ یو نیورسٹی کے طلبا ء ایک زمانے میں اپنی شرارتوں کے لیئے بہت مشہور تھے۔ ایک دن وہ ایک جنازہ لیکر یونیورسٹی ہوسٹل سے نکلے

چونکہ لوگوں کے دلوں میں اس وقت طلبا ءکے ساتھ ہمدردی تھی جو ہمیشہ سے چلی آرہی تھی، سوائے آج کے جب کہ ان میں سے کچھ نےاسلام سمجھ کر اسلام دشمنوں کے ایجنٹوں کے ہا تھ پر بیعت کرلی اور شدت پسندی اختیا کر لی اور اس طرح عام مسلمانوں کی ھمدردیا ں کھو دیں؟

ہان تو لوگ ھمدردی میں جنا زے سا تھ ہو تے گئے اور جب جنازہ قبر ستان پہو نچا تو معلوم ہو ا کہ یہاں تو کئی قبریں تیا ر ہیں لہذا یہ کون صا حب ہیں نام کاپتہ چلے تو ان کو انکی قبر میں دفن کیا جا ئے؟ سب سے پو چھا گیا مگر کسی کو پتا نہیں تھا اور طلبا ءایک ایک کر کے وہاں پہونچتے سے پہلے کھسک چکے تھے۔ چونکہ مردے کے منہ سے چادر ہٹانا ان کے عقائد کے مطابق حرام تھا۔ لہذا کوئی چادر ہٹانے کو تیار نہ تھا۔

بہر حال ایک گورکن سے کہا گیا تو اس نے اس کا حل دریافت کر لیا جو کہ کافی پرا نا تھا۔ جو پہلے رائج تھا کہ مردے کا دیدار قبر ستان میں کر نا بد عت نہیں تھا وہ پہلے میت کے قریب آیااور اس سے پہلے کہ لوگ اسے روکتے اچانک اس نے کفن کھینچ لیا منہ کھلا تو معلوم ہوا کہ ایک بڑے سا ئز کا گڈا محوِ استراحت ہے ۔ لو گ بیوقوف بننے پر بڑے شر مندہ ہو ئے اور اور وہاں سے چپ چاپ گھر چلے گئے کیونکہ ان کے پاس گھر لوٹ آنے کی ہی گنجا ئش تھی

(Source)

پاکستان کی این جی او مارکہ سول سوسایٹی کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے. محترمہ مختاراں مائی کے ساتھ بے انصافی سپریم کورٹ نے کی، گینگ ریپ کرنے والے درندوں کو بے گناہ سپریم کورٹ نے قرار دیا لیکن جعلی سول سوسایٹی کے کچھ گماشتے جن میں شیری رحمان کی ایک ریسرچ اسسٹنٹ ، ایک میڈیا بلاگ، کچھ نام نہاد لبرل صحافی اور بلاگرز شامل ہیں، دونوں ہاتھ اور منہ دھو کر جمشید دستی کے پیچھے پڑ گئے ہیں – گویا سپریم کورٹ میں ججوں کی کرسی پر دستی صاحب تشریف فرما ہیں. یقیناً جمشید دستی کا بیان قابل مذمت ہے لیکن دستی اور پی پی پی پر غیر متوازن تنقید اور افتخار چودھری اور دیگر اینٹی سیکولر ، آئ ایس آئ کے پٹھو ججوں پر تنقید سے گریز؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟

یاد رہے کے یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے پچھلے تین سال سے آصف زرداری اور یوسف گیلانی کو ہر بڑے چھوٹے معاملے میں ذلیل کیا ہوا ہے. یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے جمشید دستی کو نا اہل قرار دیا، یہ وہی عدالتیں ہیں جو حافظ سعید، مولوی سیف الله اختر، مولوی عبدالعزیز (لال مسجد) اور دیگر دہشت گردوں کو رہا کرتی ہیں اور پی پی پی کے رہنماؤں مولانا حامد سعید کاظمی اور ریاض ملک وغیرہ کو گرفتار کرواتی ہیں

یقیناً اسی موقع کے لیے کہتے ہیں طویلے کی بلا بندر کے سر

About the author

Abdul Nishapuri

2 Comments

Click here to post a comment