Original Articles

Taliban/Sipah-e-Sahaba’s terrorists massacre 50 Barelvi and Shia Muslims at Sakhi Sarwar shrine in D.G.Khan, scores injured

Related articles: Taliban and Sipah-e-Sahaba’s attack on Eid Milad-un-Nabi rallies

Sipah-e-Sahaba’s attack on Lahore’s Data Darbar, at least 37 killed, 175 injured

Sectarian attack in D.G. Khan: 36 Shia killed, over 30 injured in DG Khan blast

It is widely known that according to two of the most dangerous groups of ISI’s footsoldiers, i.e., extremist Deobandis of the Taliban and Sipah-e-Sahaba and extremist Wahhabis of the Lashkar-e-Taiba, Barelvis are polytheists (mushrik) and Shias are infidels (kafir).

Today’s attack on the Sakhi Sarwar shrine in D.G.Khan which took lives of at least 20 Barelvi Muslims is yet another reminder that ISI’s ‘Good Taliban’ doctrine is destined to fail. Those who are attacking innocent Pakistanis of all faiths and ethnicities have clearly demonstrated times and again that more than anything else they remain loyal to their own sectarian priorities and inclinations.

According to The News: Police have apprehended an alleged suicide bomber. His suicide jacket has been defused while he has been shifted to undisclosed location for investigation.

According to The News: At least 36 devotees were killed and more than 80 people in two blasts near Sakhi Sarwar Shrine, Geo News reported on Sunday. The blasts occurred near the main gate of Shrine blast. Rescue teams have rushed towards the shrine after blast. The injured and dead bodies were being shifted to near by hospitals. The condition of several injured is said to be critical.

According to Xinhua, at least 20 people were killed and over 80 others injured in three serial blasts that occurred Sunday afternoon at a crowded shrine in Pakistan’s central city of Deraghazi Khan, reported local Urdu TV channel Express. According to the report, police have foiled another suicide attack attempt at the shrine following the first two blasts were reported and another two militants were also reportedly arrested at the blast site.

اگرچہ دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کی اکثریت امن پسند اور اعتدال پسند ہے لیکن ایک معمولی مگر مؤثر اقلیت کو آئ ایس آئ اور پاکستانی فوج نے اپنے جہادی ایجنڈا کے لیے خوب استعمال کیا ہے . ان دیوبندی اور اہل حدیث یا وہابی جہادیوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بریلویوں کو مشرک اور شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں. پاک فوج ان کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتی ہے انڈیا اور امریکہ سے لڑنے کے لیے، لیکن یہ انہی ہتھیاروں اور تربیت سے مسلح ہو کر پہلا حملہ نہتے بریلویوں، شیعوں ، مسیحیوں ، احمدیوں، اور ایسے تمام افراد پر کرتے ہیں جن کو یہ اپنے تنگ نظر اور دقیانوسی فرقہ وارانہ خیالات کی وجہ سے اسلام دشمن سمجھتے ہیں.

سرائیکی وسیب کے مشھور صوفی حضرت سلطان سخی سرور کے دربار پر آج کا حملہ سپاہ صحابہ یعنی انتہا پسند دیوبندیوں کی بربریت کا ایک تازہ ترین نمونہ ہے. افسوس اس بات کا ہے کہ یہ حملہ نہ تو پہلا ہے نہ ہی آخری. پاکستان کے عوام پر اس طرح کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک پاک فوج ان جہادی اور فرقہ وارانہ سنپولوں کو دودھ پلانا بند نہیں کرتی. جنرل کیانی اور پاشا کو اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ اسلام کے نام پر جہاد کرنے والے پاک فوج کے نظم و ضبط کی بجاے اپنے مولوی اور مسلک کے غلام ہوتے ہیں. اچھے طالبان اور سٹرٹیجک گہرائی جسے بیکار نظریات پاکستان کو نظریاتی اور مادی گہرائیوں میں دھکیل رہے ہیں .

Express TV report
http:// www. youtube.com/watch?v=NK4jSeABw-Y

According to Press TV

Pro-Taliban militants and Saudi-inspired Wahhabi extremist groups have launched a violent campaign against Shia Muslims and Sufi gatherings. They appear to have widened their terror campaigns in major Pakistani cities. Several religious gatherings have been targeted in different parts of the country over the past few months.

Since the 1980s, thousands of people have been killed in sectarian-related incidents in Pakistan. Despite an offensive by the Pakistani government against pro-Taliban militants, they have spread their influence in various regions, killing people and security forces every day. More than 4,000 people have died in bomb attacks across Pakistan since 2007.

A brief history of Sakhi Sarwar

Sakhi Sarwar is a town and union council of Dera Ghazi Khan District in the Punjab province of Pakistan. This town is named after a famous Saint Syed Sakhi Sarwar.

Syed Ahmad Sultan Sakhi Sarwar is also known as Lakh Data, Sakhi Sultan and Lalan Wali Sarkar. He was the son of Hazrat Zainul Abedin, who migrated from Baghdad and settled in Shahkot (near Multan) in 1220 AD. He studied in Lahore and later went to Dhounkal, near Wazirabad for higher education. Sakhi Sarwar preached Islam in Sodhra, near Wazirabad. He also stayed at Dhounkal with his contemporary saints Shaikh Shahabuddin Suhrawardy and Hazrat Moinuddin Ajmeri. From Dhounkal, Sakhi Sarwar came to Dera Ghazi Khan and settled in Nagaha, now named after him, Sakhi Sarwar. Many villages in Punjab, India have shrines of Sakhi Sarwar who is more popularly referred to as Lakha Data Pir. (Source)

The town of Sakhi Sarwar was renamed after its saint while previously it was known as Nigaha or Moqam, a sacred place for Hindus. According to the Hindu mythology, god Shiva was born in Moqam and spent his childhood here. Islam started spreading in the area after the arrival of Hazrat Sakhi Sarwar Syed Ahmed in the thirteenth century. Now the Hindus, the Muslims and the Sikhs have great respect and reverence for the saint’s shrine and the town. According to the gazetteer of Dera Ghazi Khan district (1893-97), Hazrat Sakhi Sarwar was born to Hazrat Zainulabdeen in 1220 AD, who had come from Baghdad. Devotees mainly from Punjab and Sindh come here in large numbers to take part in urs which continues almost for two months.

Sher Miandad Khan – Sakhi sarwar Dha Mela

Here is another resource (in Urdu) on Hazrat Sakhi Sarwar:

حضرت سید سلطان احمد سخی سرور

ڈیرہ غازی خان کو اگرچہ ڈویژن کا درجہ حاصل ہےلیکن بلحاظ ترقی بےحد پسماندہ ہے۔
یہاں کی زبان سرائیکی ہے جس میں بےحد مٹھاس اور شیرینی ہے۔ لوگ سادہ‘ ملنسار‘ مودّب اور محبت کرنے والے ہیں۔ شاید یہ نمایاں خصوصیات ان بزرگانِ دین کی تعلیمات کا ثمر ہیں۔ جو اس علاقےمیں بطرف جنوب پچاسی میل کےفاصلے پر کوٹ مٹھن میں حضرت خواجہ غلام فرید بجانب مشرق اڑتالیس میل دور تونسہ شریف میں حضرت سلیمان تونسوی اور مغرب کی سمت پچیس میل دور حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید آسودہ خواب ہیں۔

سخی سرور میں صرف ایک ہی چھوٹا سا ٹیڑھا میڑھا بازار ہے جس کےشمالی کنارے پر بسوں کا اڈا اور جنوبی سرے پر حضرت سلطان سخی سرور شہید کےمزارِ اقدس کی عمارت کا صدر دروازہ کھلتا ہے۔ اس کےاوپر دو منزلہ کمرے بنےہوئے ہیں اندر داخل ہوں تو سامنےکشادہ صحن اور تین کمرے ہیں جن میں سےایک میں مزارِ مبارک پر چڑھائےگئے پرانےغلاف رکھےہیں۔ اس کےساتھ چھوٹےسےتاریک کمرے میں ہر وقت شمع روشن رہتی ہے۔ دیوار کےساتھ اونچا سا تھڑا ہے جس پر مصلیٰ بچھا ہوا ہے اس پر حضرت صاحب عبادت و ریاضت کیا کرتےتھے۔ اس سےملحقہ کشادہ کمرے میں دائیں کونےمیں آپ کا مزار ہے۔ اس کےقریب چھوٹےسےچبوترے پر ہر وقت چراغ روشن رہتا ہے۔ مزارِ اقدس کےقدموں کی طرف نیچےزمین کےاندر ڈیڑھ دو بالشت چوڑا سوراخ ہے جو قبرمبارک کےاندر جاتا ہے۔ زائرین اس میں ہاتھ ڈال کر کچھ تلاش کرتےہیں۔ بعض اوقات کسی کو کوئی چیز مل بھی جاتی ہے تو وہ خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہے۔ مقامی لوگوں کےسوا آٹھ صدیاں قبل جب حضرت سلطان سخی سرور شہادت کےبعد یہاں دفن کئےگئےتو اس ویرانےمیں آپ کی بیوی اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ آپ کی بیوی نےبارگاہِ خداوندی میں فریاد کی کہ اب مجھےکس کا سہارا ہے تو حکم ایزدی سےاس جگہ سے زمین شق ہو گئی جس میں آ پکےبیوی بچےسما گئے۔ اس واقعہ کی کسی مستند حوالےسےتصدیق نہیں ہو سکی لیکن اتنا ضرور ہےکہ آپ کی محترمہ بیگم کی قبر یہیں پر ہے۔

حضرت سلطان سخی سرور شہید کا شجرہ نسب

حضرت سید احمد سخی سرور لعلاں والا بن سید زین العابدین بن سید عمر بن سید عبدالطیف بن سید شیخار بن سید اسمٰعیل بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن زین العابدین بن حضرت حسین بن حضرت علی۔

مقبرے کےکمرےاور صحن کےبائیں جانب مسجد ہے۔ جس کےتین محراب ہیں، اور کمرے کے ہر کونےمیں آپ کےچار یاروں سخی بادشاہ سید علی شہید، سیدنور شہید، سید عمر شہید اور سید اسحاق شہید کےاسمائےگرامی رقم ہیں۔

مسجد کےبالمقابل مشرقی سمت اونچی سی جگہ پر دو بہت بڑی دیگیں پڑی ہیں جن میں منوں اناج پک سکتا ہےکہتےہیں جب حضرت سخی سرور حیات تھےتو بغیر آگ جلائےان دیگوں میں جو چاہتے پکا لیا کرتےتھے۔

بجانب مغرب جدھر آپ کا چہرہ انور ہے آپ کےچار یاروں کی قبور ہیں۔ حضرت سید علی شہید اور حضرت سیدنور شہید کی پختہ قبریں ایک پہاڑی کی چوٹی پر ہیں جبکہ حضرت سیدعمر شہید اور حضرت اسحاق شہید کی کچی قبور اس کےبالمقابل دوسری پہاڑی کی چوڑی پر ہیں۔ چشم باطن سےدیکھنےوالوں کو یوں احساس ہوتا ہےجیسےآپ اپنےیاروں کی طرف دیکھ رہےہوں۔

حضرت سید احمد سلطان سخی سرور شہید کےوالد بزرگوار حضرت زین العابدین سرزمین پاک و ہند تشریف لانےسےقبل بائیس سال سےروضہ رسول اطہر کی خدمت کرتےچلے آ رہے تھے۔ ایک روز سیدالانبیاء وختم المرسلین نےعالم خواب میں ہندوستان جانےکا حکم دیا۔ آپ نےفوراً رخت سفر باندھا اور ضلع شیخوپورہ میں شاہکوٹ میں قیام کیا۔ یہ 520 ہجری (1126ء) کا واقعہ ہے۔ آپ ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتےتھے۔ گزر اوقات کیلئےآپ نےزراعت کےعلاوہ بھیڑ بکریاں بھی پال رکھی تھیں۔ دو سال کےبعد آپ کی اہلیہ محترمہ بی بی ایمنہ جنت الفردوس کو سدھاریں۔ ان کےبطن سےتین لڑکےحضرت سلطان قیصر، حضرت سید محمود اور حضرت سید سہرا تھی۔ شاہکوٹ کا نمبردار پیرا رہان آپ کا مرید تھا۔ اس نےاپنی کھوکھر برادری سےمشورہ کےبعد اپنی بڑی دختر بی بی عائشہ کو آپ کے عقد میں دے دیا۔ ان کےبطن سے524 ہجری (1130ء) میں حضرت سید احمد سلطان پیدا ہوئےاور پھر ان کے بھائی حضرت عبدالغنی المعروف خان جٹی یا خان ڈھوڈا نےجنم لیا۔

بچپن ، تعلیم و تربیت

آپ بچپن سے ہی بڑے ذہین و فہمیدہ تھے۔ اکثر اوقات اپنے والد مکرم سےشرعی مسائل سیکھتےرہتےتھے۔ ان دنوں لاہور میں مولانا سید محمد اسحاق ظلہ العالی کےعلم و فضل کا بڑا شہرہ تھا۔ آپ کو علوم ظاہری کےزیور سےآراستہ کرنےکیلئےلاہور بھیج دیا گیا۔ حضرت مولانا کی محبت و تربیت و تعلیم کی بدولت آپ ان تمام صلاحیتوں اور صفات سےمتصف ہو گئےجو کسی عالم دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔ تحصیل علم کےبعد واپس آکر باپ کا پیشہ اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا تھا۔ ظاہری علوم کےہم آہنگ علوم باطنی حاصل کرنےکا جذبہ اشتیاق سینےمیں کروٹیں لینےلگا جس میں روزافزوں طغیانی آتی گئی۔ آپ کےوالد محترم نےجب اپنےاس ہونہار بیٹےکا رجحان دیکھا تو اس طرح تربیت فرمانےلگےجیسےمرشد مرید کی تربیت کرتا ہے۔ لیکن دل کی خلش برقرار رہی۔ چاہتےتھےکہ سلوک و معرفت کی راہوں پر گامزن ہوں۔ علم لدنی سےمالامال ہوں اور کسی صاحب حال بزرگ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوں۔

جب 535 ہجری (1141ء) میں آ پ کےوالد گرامی نےرحلت فرمائی اور شاہکوٹ میں ہی مدفن ہوئےتو آپ کےخالہ زاد بھائی ابی۔ جودھا ساون اور مکو نےآپ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ روزافزوں ان کی چیرہ دستیوں اور زیادتیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے پیرا رہان کی وفات کےبعد زرخیز زمین اپنےپاس رکھ لی اور بنجر ویران اراضی آپ کےحوالےکر دی لیکن اللہ کےکرم سےوہ زرخیز و شاداب ہو گئی تو وہ بڑے نالاں وافسردہ ہوئےاور حسد کی آگ میں جلنےلگے۔ وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتےتھےکہ حیلے بہانے سے آپ کو نقصان پہنچائیں۔

باپ کےوصال کے بعد آپ کی شادی گھنو خاں حاکم ملتان کی بیٹی بی بی بائی سے ہو گئی۔ امراءروساء نےنذرانے پیش کئے۔ جب آپ دلہن کو گھر لائےتو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مائی عائشہ نےگھی کےچراغ جلائےاور خوب خوشیاں منائیں۔ اس پر آپ کےخالہ زاد بھائی سیخ پا ہو گئےاور دل ہی دل میں آپ کو بےعزت کرنےکےمنصوبےبنانےلگے۔ انہوں نےلاگیوں اور بھانڈ میراثیوں کو بہلا پھسلا اور لالچ دےکر بھیجا کہ وہ حضرت سید احمد سلطان کو بدنام و شرمسار کریں اور ترکیب یہ بتائی کہ اگر وہ سیر دے تو وہ سواسیر مانگیں۔ انہوں نےایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنےنیک بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ آپ نےنہ صرف لاگیوں‘ بھانڈوں‘ میراثیوں کو ہی نہیں بلکہ غربا و مساکین اور محتاجوں کو بےشمار دولت جہیز کا سامان اور دیگر اشیاء سے خوب نوازا اس دن سےآپ سخی سرورر‘لکھ داتا‘ مکھی خاں‘ لالانوالہ‘ پیرخانو‘ شیخ راونکور وغیرہ مختلف القابات سےنوازے جانےلگے۔ لیکن سخی سرور کا لقب ان سب پر حاوی ہو گیا۔ آپ کےخالہ زاد بھائی بھلا یہ کب برداشت کر سکتےتھے لہٰذا ان کی آتش حسد و انتقام مزید بھڑک اٹھی۔ اسی اثناء میں آپ کی والدہ محترمہ اور سوتیلے بھائی سید محمود اور سید سہر راہی ملک عدم ہوکر شاہکوٹ میں ہی دفن ہوئےتو آپ دل برداشتہ ہو گئے۔ کسی مردحق کے ہاتھ میں ہاتھ دینےکا جذبہ بڑی شدومد سےبیدار ہو گیا۔ چنانچہ تلاش حق کیلئے آپ بغداد شریف پہنچےجو ان دنوں روحانی علوم کا سرچشمہ تھا۔

بیعت و روحانی تربیت

آپ نےسلسلہ چشتیہ میں حضرت خواجہ مودود چشتی سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور سلسلہ قادریہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ علیہم سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔
بغداد شریف سےواپسی پر آپ نےچند دن لاہور میں قیام فرمایا اور پھر وزیرآباد کےقریب سوہدرہ میں دریائےچناب کےکنارے یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ عشق، مشک اور اللہ کےاولیاءکبھی چھپےنہیں رہتے۔ یہ الگ بات ہےکہ عام دنیادار انسان ان کےقریب ہو کر بھی فیضیاب نہ ہو۔ آپ کی بزرگی و ولایت کا چرچا چار دانگ عالم میں ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کا ہجوم ہونےلگا۔ جو بھی حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا تہی دامن و بےمراد نہ لوٹتا۔ آ پکو جو کچھ میسر آتا فوراً راہ خدا میں تقسیم فرما دیتے۔ ہر جگہ لوگ آپ کو سخی سرور اور سختی داتا کےنام نامی اسم گرامی سےیاد کرنےلگے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونےوالےدنیا کےساتھ دین کی دولت سےبھی مالامال ہونےلگے۔ دن بدن آپ کےمحبین، معتقدین اور مریدین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دھونکل میں بھی آپ نےچند سال قیام فرمایا۔ جہاں آپ نےڈیرہ ڈالا وہ بڑی اجاڑ و ویران جگہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےوہاں پانی کا چشمہ جاری فرما دیا۔ مخلوق خدا یہاں بھی جوق درجوق پہنچنےلگی۔ میلوں کی مسافت طےکر کےلوگ آگےاور اپنےدکھوں، غموں اور محرومیوں کےمداوا کے بعد ہنسی خوشی واپس لوٹ جاتےایک دن دھونکل کےنمبردار کا لڑکا مفقود الخبر ہو گیا۔ نمبردار نےحاضر خدمت ہو کر عرض کیا تو ارشاد فرمایا ‘مطمئن رہو شام تک لوٹ آئےگا‘۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وطن مالوف سےنکلےکئی سال ہو گئےتھے۔ لہٰذا واپس شاہکوٹ تشریف لےگئے۔ اس اثناء میں آپ کی شہرت و بزرگی کےچرچے پورے ہندوستان میں پہنچ چکےتھے۔ سینکڑوں میلوں کا سفر طےکر کےلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔ آپ کےخالہ زاد بھائیوں کو آپ کی یہ شہرت و مرتبہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنےلئےخطرہ محسوس کرنےلگے۔ لہٰذا ان کی دیرینہ دشمنی پھر عود کر آئی۔
جب خالہ زاد بھائیوں کی عداوت انتہا کو پہنچ گئی تو آپ نقل مکانی فرما کر ڈیرہ غازی خان تشریف لےگئےاور کوہِ سلیمان کےدامن میں نگاہہ کےمقام پر قیام فرمایا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل آپ کا مزار اقدس ہے اور اب سخی سرور کےنام سےمشہور ہے۔ لوگوں کا یہاں بھی اژدہام ہونےلگا۔ ہر مذہب و ملت کےلوگ آپ کےدرِ دولت پر حاضر ہونےلگے۔ کئی ہندو، سکھ اور ان کی عورتیں بھی آپ کےعقیدت مندوں اور معتقدوں میں شامل تھیں جو سلطانی معتقد کہلاتےتھےاور اب بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔
آپ کےارادت مند ‘عقیدت مند‘ معتقد اور مریدین بےشمار تھےلیکن ان میں سےچار اصحاب خاص الخاص تھے۔ یہ چار یاروں کےنام سےمشہور تھے۔ انہیں آپ سے بےحد عشق تھا۔ آپ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔

آپ کےخالہ زاد بھائیوں نےآپ کو یہاں بھی سکھ کا سانس نہ لینےدیا۔ انہوں نےاپنی قوم کےان گنت لوگوں کو آپ سے بدظن کر دیا اور جم غفیر لےکر آپ کو شہید کرنےکیلئے چل پڑے۔ ان دنوں آ پ کےسگے بھائی حضرت سید عبدالغنی المعروف خان ڈھوڈا نگاہہ سے بارہ کوس دور قصبہ ودود میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتےتھے۔ ان کےخادم نےجب خالہ زاد بھائیوں کےعزائم کےبارے میں اطلاع دی تو تن تنہا ان کےمقابلے پر اتر آئےاور بہتر اشخاص کو حوالہ موت کرنےکےبعد جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کےبعد وہ سب لوگ نگاہہ پہنچے۔ اس وقت حضرت سید احمد سلطان سخی سرور نماز پڑھنےمیں مصروف تھے۔ چند ایک خادم اور چاروں یار موجود تھے۔ نماز سےفراغت کے بعد جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ گھوڑی پر سوار ہو گئے۔ بھائیوں نےحملہ کیا تو آپ نے بھی جنگ شروع کر دی اور یاروں سمیت مقام شہادت سےسرفراز ہوئے۔ دم واپسی آپ نےارشاد فرمایا کہ میرےیاروں کو مجھ سے بلند مقام پر دفن کیا جائے۔ چنانچہ حسب الارشاد ایسا ہی کیا گیا۔

شہادت

22رجب المرجب 577 ہجری (1181ء) کو تریپن سال کی عمر میں جب آپ کی شہادت ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچ گئے۔ لاکھوں محبین کےقلوب ورد و غم اور ہجر و فراق سےفگار ہوگئے۔ مختلف محبین و مریدین نےآپ کےمزارِ اقدس کی تعمیر میں وقتاً فوقتاً حصہ لیا لیکن بستی سخی سرور کےمکینوں کےبقول مزار کی عمارت کی تعمیر بادشاہ بابر نےاپنی نگرانی میں کرائی تھی اور اس ضمن میں اس نےایک مہر شدہ دستاویز بھی لکھی تھی۔ مغرب کی جانب ایک بہت بڑا حوض بنوایا تھا تاکہ اس میں پانی جمع رہے۔ مسجد کی محراب کےنیچےاور سطح زمین سےتقریباً پچاس فٹ اونچی بابا گوجر ماشکی سیالکوٹی کی قبر ہے کہتے ہیں کہ آپ پہاڑ پر سے پانی لا کر نمازیوں کو وضو کرایا کرتےتھے۔

حضرت سخی سرور شہید کی یاد میں ہر سال مختلف شہروں میں میلہ لگتا ہے جس میں بےشمار لوگ حصہ لیتے ہیں۔ پشاور میں اسےجھنڈیوں والا میلہ کہتےہیں۔ دھونکل میں جون، جولائی کےمہینےمیں بہت بڑے میلےکا اہتمام ہوتا ہے۔ لاہور میں اسےقدموں اور پار کا میلہ کہا جاتا ہے اور ڈیرہ غازی خان میں آ پ کا عرس گیارہ اپریل کو بڑی دھوم دھام سےمنایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ دور و نزدیک سےشریک ہو کر اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے چراغ روشن کرتےاور فیضیاب ہوتےہیں۔

Source1 Source 2

Situated in the foothills of the Koh Suleman range. Devotees are moving towards the shrine there (you can't see the shrine in this shot). The shrine of Hazrat Sakhi Sarwar, maintaining its peculiarity of being the most frequently visited place in the district since the ancient times.

About the author

Abdul Nishapuri

19 Comments

Click here to post a comment
  • Spending 3 weeks in mystic touch

    Staff Report

    DERA GHAZI KHAN: The three-week long urs of Hazrat Sultan Sakhi Sarwar came to end in Sakhi Sarwar town on Friday. The urs begins on the first day of Chait, the first month of the Hindi calendar, and lasts till the first Thursday of Baisaakh. Thousands of people attended the urs to pay homage to the saint.

    Syed Ahmad Sultan Sakhi Sarwar, also known as Lakh Data, Sakhi Sultan and Lalan Wali Sarkar, was the son of Hazrat Zainul Abedin, who migrated from Baghdad and settled in Shahkot (near Multan) in 1220 AD. He studied in Lahore and latter went to Dhounkal, near Wazirabad for higher education. Sakhi Sarwar preached Islam in Sodhra, near Wazirabad, from where he got famous. Later, he proceeded to Dhounkal to join his contemporary saints Shaikh Shahabuddin Suhrawardy and Hazrat Moinuddin Ajmeri. From Dhounkal, Sakhi Sarwar came to Dera Ghazi Khan and settled in Nagaha, now named after him, Sakhi Sarwar. According to Hindus, god Shiva was born and grew up in Moqam, the old name of Sakhi Sarwar town.

    Hindus in Punjab were also Sultan Sakhi Sarwar’s devotees. Phairo, a Hindu Brahman, who was a poor man, became rich with the blessings of the saint.

    Chana is the first event of the urs and people from Toba Tek Singh and Sheikhupura visit to pay homage to the saint. Doaba is the second main event of the urs, wherein people from Faisalabad visit the shrine. Weesakhi is the third event, in which local residents pay homage to the saint. People perform, dhamal, at the shrine, bathe in Kali Hill’s stream wells and lay chadors on the shrine.

    http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2006%5C04%5C16%5Cstory_16-4-2006_pg7_43

  • SAKHI SARWAR
    POSTED IN BIOGRAPHICAL – MUSLIMS RULERS AND SUFI SAINTS

    SAKHI SARWAR, lit. the Bountiful Master, also known by various other appellations such as Sultan (king), Lakhdata (bestower of millions), Lalanvala (master of rubies), Nigahia Pir (the saint of Nigaha) and Rohianvala (lord of the forests), was the founder of an obscurantist cult whose followers are known as Sultanias or Sarwarias. His real name was Sayyid Ahmad. He was the son of Sayyid Zain ulAbidm, an immigrant from Baghdad who had settled at Shahkot, in present day Jhang district of Pakistan, Punjab, and Ayesha, daughter of the village headman married to the Sayyid. Accounts ofAhmad`s life are based on legend and not many factual details are known about him.

    It is said that the maltreatment he received from his own relations after the death of his father took him to Baghdad where he was blessed with the gift of prophecy by three illustrious saints Ghaus ulAzam, Shaikh Shihab udDin Suhrawardi and Khwaja Maudud Chishti.On his return to India, he first settled at Dhaurikal, in Gujranwala district, and then at Shahkot. At Multan he had married the daughter of a noble. In due course he became famous for his miraculous powers and soon had a considerable following.

    This aroused the jealousy of his family who planned to kill him. Sakhi Sarwar got to know of their plans and escaped to Nigaha at the foot of the Sulaiman mountain, in Dera Ghazi Khan district, but his relatives pursued him there and ultimately murdered him in 1174. He was buried there and his followers built a shrine on the spot which subsequently became a place of pilgrimage for the devotees. Within the enclosures of the shrine are the tombs of Sakhi Sarwar, his wife, known as Bibi Bai, and of the jinn (demon) w^hom he had held in his power and who brought many miracles for him.

    Near the shrine at Nigaha there are two other holy spots called Chorn and Moza, both associated with `All Murtaza, the son in law of Sakhi Sarwar. At Chom, an impression of the former`s hand was said to have been imprinted when he prevented a mountain from collapsing over the cave in which he had taken shelter.Nothing is known about the religious belief or teachings of Sultan Sakhi Sarwar. It was stories of his miracles and, especially, the protection he gave the animals that attracted many people to him.

    He did not lay down any creed or doctrine for his disciples, nor any code of conduct or ritual. His followers commonly known as Sultanias thus had the freedom to retain their Hindu or Muslim affiliations. Hindus as well as Muslims visited the Pir`s shrine at Nigaha usually in locality wise organized groups called sang led by bharais, the drumbeating Muslim bards who acted as professional guides and priests at local shrines called pirkhanas. Members of a sang addressed each other as pirbhaior pirbahin (brother or sister in faith).

    Their halting points on well marked routes were known as chaukis (posts) where the pilgrims slept on the ground. Devotees who were unable to undertake the pilgrimage to Nigaha went at least to one of the chaukis.If they could not do even that, they went to any other village on the route for a night. Those who could not go anywhere at all slept on the ground at home for at least one night in a year.

    This ritual of sleeping on the ground instead of on a cot was called chauki bharna. The greatest number of visitors from central Punjab visited the shrine during the week long Baisakhi fair in the month of April. A month long fair was also held at Dhaunkal in Gujranwala district during JuneJuly. Other fairs were Jhanda Mela (fair of the flag) at Peshawar in November, and Qadamon ka Mela (fair of the feet) at Lahore in February. Another common ritual was offering of a rot, i.e. a huge loaf prepared from 18 kilograms of wheat flour sweetened with gur or jaggery weighing half that quantity, once a year on a Friday.

    It was prepared by a Bharai, who took one fourth of the rotas offering, the remaining being consumed by the donor family and distributed among fellow Sultanias. During the time of the Gurus, many Sultanias especially those from Jatt castes in southern Punjab embraced Sikhism, though several of them continued to adhere to their former beliefs and practices.The travels of Guru Har Rai, Guru Tegh Bahadur and Guru Gobind Singh through this region brought a large number of Sultanias into the Sikh fold. But as time passed the Sultania influence asserted itself in certain sections among the Sikhs.

    The Singh Sabha reform movement gaining strength in the closing decades of the nineteenth century attempted to counter this influence. In 1896, Giani Ditt Singh, the erudite Singh Sabha crusader, published a pamphlet Sultan Puara attacking the worship by Sikhs of the grave of Sakhi Sarwar or of any other saint or sufi.This was a common plank of the Singh Sabha and Akali reformers. But what ended the Sakhi Sarwar legend among the Sikhs was the forcible exchange of populations between India and Pakistan at the time of the partition of 1947.

    Most of the Bharais, who were exclusively Muslim, migrated to Pakistan, Secondly, Nigaha and other places connected with Sakhi Sarwar being all in Pakistan were suddenly rendered out of reach for his Indian devotees. Even now pirkhanas marked by flags with peacock tail on top may be seen in some villages in the Malva area, but the number of the followers of Sakhi Sarwar has dwindled drastically.

    References :

    1. Oberoi, Harjot Singh, “The Worship of Fir Sakhi Sarwar: Illness, Healing and Popular Culture in the Punjab,” in Studies in History.
    2. Census Reports

    http://www.thesikhencyclopedia.com/muslims-rulers-and-sufi-saints/sakhi-sarwar.html

    Gurudwaras in Pakistan

    Gurudwara Thara Sahib at Sakhi Sarwar Distt D.G.Khan

    Guru Nanak Ji came to Sakhi Sarwar from D.I.Khan and the place where he stayed is known as Thara Sahib.
    Sakhi Sarwar is about 400 kilometer from Lahore. It is also called by tj e name of “Nigaha” and a metalled road leads direct to this town from D.G.Khan. The railway station which serves it too. A semi cobbled road leads into the city. The place where Guru Nanak Ji had stayed is located in the compound of the tomb of Hazrat Sakhi Sarwar. Munshi Hukum Chand writes, “The Southwestern side is known by the name of Baba Nanak, while the other cells are on the eastern side”

    This sacred place lies between the mosque and mazar (tomb). The fair is held every year, but no recitation of Granth Sahib is done

    Acknowledgements:

    Text and photographs:Historical Sikh Shrines in Pakistan : Iqbal Qaiser

    http://www.allaboutsikhs.com/gurudwaras-in-pakistan/gurudwara-thara-sahib-at-sakhi-sarwar-distt-d-g-khan.html

  • Suicide bombers attack DG Khan shrine
    Published: April 3, 2011

    Screen capture of the crowd around the shrine.

    DERA GHAZI KHAN: At least 30 people have been killed and 80 others injured in twin blasts at the shrine of sufi saint Sakhi Sarwar in Dera Ghazi Khan during the 942nd urs of the saint.
    Awais Jafferi reporting for Express 24/7 said that three suicide bombers carried out the attack. One of the bombers has been arrested and a suicide jacket has been seized from him.
    RPO of DG Khan, Ahmed Mubarik said the blast took place on the steps of the shrine. Witnesses claim the explosions happened at the shrine’s staircase, while rescue officials say the explosions took place at the gate.
    The injured have been taken to District Headquarters Hospital. Witnesses say police were chasing a suspicious person when the explosion took place.
    Militants have attacked shrines of saints on numerous occasions and security has been tightened due to such terrorist activities.
    Militants have previously attacked shrines of Data Ali Hajvery in Lahore, Abdullah Shah Ghazi in Karachi and Rehman Baba in Peshawar.
    Shrines have also been attacked in Swat, Buner and Tribal Areas.

    http://tribune.com.pk/story/142210/militants-attack-shrine-in-dg-khan-3-dead/

    Death toll in Sakhi Sarwar Shrine blasts climbs to 36

    Updated at: 1915 PST, Sunday, April 03, 2011
    D.G. KHAN: At least 36 devotees were killed and more than 100 people injured in three blasts near Sakhi Sarwar Shrine, Geo News reported on Sunday.

    According to monitoring incharge Rescue 1122 Punjab Muhammad Ahsan, the blasts occurred near the main gate of Shrine blast as a result 36 devotees were killed and more than 100 injured.

    Rescue teams have rushed towards the shrine after blast. Around 60 injured have been shifted to near district hospital. The condition of several injured is said to be critical.

    The blasts are said to be suicide attacks.

    Police have apprehended an alleged suicide bomber. His suicide jacket has been defused while he has been shifted to undisclosed location for investigation.

    http://www.geo.tv/4-3-2011/79992.htm

  • From Twitter: Read from the bottom-up:

    javeednusrat Nusrat Javeed
    by AbdulNishapuri
    The PML-N candidate against Awais had indeed made his millions via Saudi Arabia…
    20 minutes ago Favorite Undo Retweet Reply

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    @
    @javeednusrat @iamthedrifter Hafiz Abdul Karim’s Saudi funded madrassahs stretch from D.G.Khan to Bahawalpur #SakhiSarwar massacre
    18 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    @javeednusrat Geo TV was involved in promoting sectarianism in Sakhi Sarwar / Choti Zerin http://criticalppp.com/archives/25777
    19 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    @
    @javeednusrat #SakhiSarwrar massacre http://criticalppp.com/archives/45348
    21 minutes ago

    javeednusrat Nusrat Javeed
    by AbdulNishapuri
    Dangerous spin of Sakhi Sarwar incident can get out of hand. Trying to contact Awais Leghari. He was in islamabad but is rushing back.
    24 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    @
    @javeednusrat PML-N’s candidate in recent NA elections was a sectarian mullah of Sipah Sahaba Hafiz Abdul Karim. #SakhiSarwar massacre
    22 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    سرائیکی وسیب کے مشھور صوفی سلطان سخی سرور کے دربار پر آج کا حملہ سپاہ صحابہ یعنی انتہا پسند دیوبندیوں کی بربریت کا ایک تازہ ترین نمونہ ہے.
    23 minutes ago

    javeednusrat Nusrat Javeed
    by AbdulNishapuri
    Many from DG Khan called me to claim they have been punished for not voting for a “Wahabi candidate,” who contested on the PML-N ticket.
    25 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کی اکثریت امن پسند ہے لیکن ایک معمولی مگر مؤثر اقلیت کو آئ ایس آئ نے اپنے ایجنڈا کے لیے خوب استعمال کیا ہے
    24 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Sovereignty Belongs to Maulana Maududi – by Hakim Hazik http://criticalppp.com/archives/12239
    28 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Anyone who is working against the democratic government, from Ansar Abbasi to Najam Sethi, is directly or indirectly an aide of the Taliban
    31 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Terrorist ex-MP Shah Abdul Aziz freed by judiciary in Pakistan. Shame on you, pro-Taliban judges! http://criticalppp.com/archives/1394
    33 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Why can’t Pakistan convict any terrorists? – by Rabia Shakoor and Eqbal Alavi http://criticalppp.com/archives/12078 #SakhiSarwar
    35 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Here is another asset, released by General Pasha, thanks to Iftikhar Chaudhry Dajjal http://criticalppp.com/archives/10455
    35 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    These are the two SSP terrorists released by Shahbaz Sharif and Iftikhar Chaudhry: http://criticalppp.com/archives/6840
    36 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    The mastermind of the Sakhi Sarwar blast was released by General Pasha Shahbaz Sharif & Iftikhar Chaud http://criticalppp.com/archives/35205
    38 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    FIR of the Sakhi Sarwar attack must be registered against General Pasha and his proxies: Ansar Abbasi (right wing), Najam Sethi (left wing)
    41 minutes ago

    MirSohaib Mir Sohaib Mengal
    by AbdulNishapuri
    Reopen the case of shaheed Hameed #baloch too. A very valid demand by provincial minister #Balochistan Mir Asad Baloch.
    1 hour ago

    marvisirmed Marvi Sirmed
    by AbdulNishapuri
    The same SSP which runs on ISI money? RT @AbdulNishapuri: Sipah-e-Sahaba’s attack on Sakhi Sarwar shrine in D.G.Khan http://nblo.gs/gcnl3
    1 hour ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Shame on you Gen Kayani: Sipah-e-Sahaba’s attack on Sakhi Sarwar shrine in D.G.Khan kills at least 40, scores injured http://tiny.cc/yk093
    46 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    ISI’s Assets: Extremist Deobandis (Taliban/Sipah-e-Sahaba) & extremist Wahhabis (LeT) consider Barelvis as polytheists & Shias as infidels
    47 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    جنرل کیانی اور پاشا کو اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ اسلام کے نام پر جہاد کرنے والے پاک فوج کے نظم و ضبط کی بجاے اپنے مسلک کے غلام ہوتے ہیں
    49 minutes ago

    AbdulNishapuri Abdul Nishapuri
    Sipah-e-Sahaba’s attack on Sakhi Sarwar shrine in D.G.Khan kills 10, many injured http://nblo.gs/gcnl3

  • Death toll reaches 41

    Twin suicide attacks ‘kill 41’ at Pakistan shrine

    A bomb blast outside the popular shrine of the 12th century saint, Baba Farid, also known as Ganjshakar in the Punjab town of Pakpattan, killed four people, including women, in October last year.
    The Pakpattan site is the second most popular Sufi shrine after the Data Darbar shrine in the eastern city of Lahore, where two suicide bombers blew themselves up among crowds of worshippers in July last year, killing 42 people.
    On October 7, two suicide bombers blew themselves up at a Sufi shrine of Abdullah Shah Ghazi in Karachi, killing nine worshippers, including two children.
    More than 4,150 people have been killed in suicide attacks and bomb explosions, blamed on homegrown Taliban and other Islamist extremist networks, since government troops stormed a radical mosque in Islamabad in July 2007.

    http://news.yahoo.com/s/afp/20110403/wl_asia_afp/pakistanunrestblastshrine

  • The Tehrik-i-Taliban Pakistan have claimed responsibility for the attack, Reuters reports.

    Taliban claim Pakistan shrine attack; toll 41
    By Agencies
    Published Sunday, April 03, 2011
    The Taliban claimed responsibility for suicide attacks at a Sufi shrine in eastern Pakistan on Sunday in which 41 people were killed and up to 65 wounded, a militant spokesman said.

    “Our men carried out these attacks and we will carry out more in retaliation for government operations against our people in the northwest,” Ehsanullah Ehsan told Reuters by telephone from undisclosed location.

    “These were suicide bombings and we arrested an attacker who could not completely detonate the explosives on his body. He was wounded,” Zahid Ali, a police officer in Dera Ghazi Khan city where the blasts took place, told Reuters by telephone.

    Al Qaeda-linked Taliban militants abhor the unorthodox Sufi interpretation of Islam and have attacked Sufi targets in Pakistan several times.

    http://www.emirates247.com/news/world/taliban-claim-pakistan-shrine-attack-toll-41-2011-04-03-1.376583

  • ڈی آئی جی احمد مبارک نے بتایا کہ حملوں کے بعد دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک کو زخمی حالت میں پکڑا گیا ہے جس کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے جبکہ دوسرے دھماکے کی جگہ سے بھی ایک اور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110403_dikhan_balst_fz.shtml

  • Suicide attack on sufi shrine: Chaos at hospital

    Suicide bomber captured in DG Khan shrine attack

  • مزار پر حملے میں تینتالیس ہلاک، ’ایک حملہ آور گرفتار‘

    ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا

    حضرت سخی سرور کے مزار پر اتوار کی شام تقریباً ساڑھے چار بجے دوخود کش حملے ہوئے جن میں تینتالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملے کے وقت سالانہ عرس میں شرکت کے لیے ہزاروں زائرین دربار پر موجود تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دربارکے داخلی دروزے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔ اس مقام پر پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی۔ یہی دھماکہ زیادہ جان لیوا ثابت ہوا۔ تقریباً پچیس منٹ بعد ایک اور خود کش حملہ آورنے مزار کے عقب میں واقع ندی میں زائرین کے لیے سجائے گئے بازار میں خود کو اڑانے کی کوشش کی۔یہاں پر زائرین کے لیے بازار بنایا گیا تھا۔

    ہمارے نامہ نگار غظنفر عباس نے بتایا کہ پولیس حکام کے مطابق دوسرے حملہ آور کی کوشش ناکام رہی، اس نے زخمی حالت میں بھاگنے کی کوشش کی لیکن گرفتار کر لیا گیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کسی دربار کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اس سے قبل لاہور کے داتا دربار اور پاکپتن میں فریدالدین گنج شکر کے مزار پر بھی حملے ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کے مطابق سخی سرور دربار کی سکیورٹی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔

    گزشتہ روز کے خود کش حملوں سے دربار کے مرکزی حصے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، داخلی دروازے کے قریب فرش پر چھروں کے نشانات بن گئے۔ حکام کے مطابق مزار پر رش کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    دھماکہ کے فوراً بعد ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، پولیس اور بی ایم پی کے اہلکار مزار پر پہنچ گئے۔ مرنے والوں کی زیادہ تر لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کیا گیا۔

    دوسرے حملہ آور کی کوشش ناکام رہی اس نے زخمی حالت میں بھاگنے کی کوشش کی لیکن گرفتار لیا گیا
    دھماکے کے بعد رات کو پورے شہر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی اور مزار کی عقبی ندی میں بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکاروں نے اس جگہ پر حفاظتی باڑ لگائی ہوئی تھی جہاں انھی کے مطابق دوسرے خود کُش حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بارڈر ملٹری پولیس کے مقامی تھانہ کے محرر فیاض لغاری نے وہ خود کش جیکٹ اور ہینڈ گرنیڈ بھی دکھایا جسے زخمی ہونے والے حملہ آورسے برآمد کیا گیا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق خود کش دھماکہ مزار کے داخلی دروازے سے چند گز دور اس مقام پر ہوا جہاں پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی اور دھماکے کے وقت سینکڑوں لوگ وہاں موجود تھے۔

    سید احمد سلطان المعروف حضرت سخی سرور کا سات سو ستانواں عرس گزشتہ ماہ دس مارچ کو شروع ہوا تھا۔ یہ تقریبات دس اپریل تک جاری رہتی ہیں۔ پاکستان کے جنوبی ضلع ڈیرہ غازی خان سے تقریباً چالیس کلومیٹر جنوب مغرب میں کوہ سلیمان کے دامن میں موجود مزار پر یوں تو سال بھر ہر جمعرات کو زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر موسم بہار کی چار جمعراتوں کو یہ میلہ اپنے عروج پر ہوتاہے۔

    اس میلے میں نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا سے بھی زائرین مزار پر حاضری دینے آتے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110404_dg_blast_update_a.shtml

  • مزار پر حملہ: ہلاکتوں کی تعداد پچاس، ’ایک حملہ آور گرفتار‘

    ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی لاش کے گرد لواحقین نوحہ کناں

    پاکستان میں پنجاب کے جنوبی ضلع ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر گزشتہ روز ہونے والے خود کُش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعدا پچاس ہوگئی ہے۔ مزار کو زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    کلِک حملے کے بعد: تصاویر

    گزشتہ روز ہونے والے خود کش دھماکے کے سوگ میں شہر میں بازار بند رہے۔ تاہم زائرین کی آمد کا سلسلہ چلتا رہا جو صبح کی نماز کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔

    سخی سرور کے مزا ر پر موجود سعید ملک کا کہنا تھا کہ پیر کو زائرین کی آمد کا سلسلہ حسب معمول صبح کی نماز کے بعد شروع ہوگیا تھا۔

    دربار پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تخریبی کارروائیاں انھیں اولیاء کی قربت سے دور رکھنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ نے دربار پر سیکورٹی بڑھا دی ہے۔

    دوسری طرف مقامی پولیس نے پکڑے جانے والے خود کُش حملہ آور کی اطلاع پر شہر کے فرید ی بازار میں واقع ایک ہوٹل کے مالک اور چار ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔

    ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا

    ہوٹل انتظامیہ کے مطابق خود کش بمبار انتیس مارچ کویومیہ تین سو پچاس روپے کرایہ کے عوض کمرہ نمبر اکیس میں ٹھہرے اور وقوعہ کے روز یعنی تین اپریل کو دن کےگیارہ بجے ہوٹل سے چیک آؤٹ کر گئے۔ پولیس نے ہوٹل میں موجود وہ رجسٹر بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے جس پر ان کی آمد کا اندراج کیا گیا تھا۔

    حکومت پنجاب نے سخی سرور میں خود کش حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے سینیئر مشیر ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں سانحہ سخی سرور کے زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پکڑے جانیوالے حملہ آور کو علاج کے لیے ملتان منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حکومت اس حملے میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کر کے دم لے گی۔ ذوالفقار کھوسہ نے اس موقع پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر وفاقی حکومت انھیں مطلوبہ وسائل مہیا کرے۔

    یاد رہے کہ اتوار کی شام کو حضرت سخی سرور کے مزار پر دو خود کش حملے ایسے وقت ہوئے جب وہاں سالانہ عرس میں شرکت کے لیے ہزاروں زائرین موجود تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دربار کے داخلی دروازے کے قریب اڑا دیا۔ اس مقام پر پانی کی سبیل لگی ہوئی تھی۔ تقریباً پچیس منٹ بعد ایک اور خود کش حملہ آور نے مزار کے عقب میں واقع ندی میں زائرین کے لیے سجائے گئے بازار میں خود کو اڑانے کی کوشش کی۔یہاں پر زائرین کے لیے بازار بنایا گیا تھا۔

    پولیس حکام کے مطابق دوسرے حملہ آور کی کوشش ناکام رہی اور جب اس نے زخمی حالت میں بھاگنے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کسی دربار کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اس سے قبل لاہور کے داتا دربار اور پاکپتن میں فریدالدین گنج شکر کے مزار پر بھی حملے ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کے مطابق سخی سرور دربار کی سکیورٹی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110404_sakhi_sarwar_bombing_update_as.shtml

  • میں نے اس سے یہ کہا

    ———–
    یہ چند ہزار مولوی

    نفرتوں کی ہیں زباں

    وحشتوں کی ہیں دکان

    باٹتے ہیں قوم کو

    مارتے ہیں قوم کو

    مبروں پے بیٹھ کر

    نفرتوں کی بات کر

    اس طرف نہ دیکھیو

    اس طرف نہ جائیو

    تو اس طرف نہ جانیو

    میں نے اس سے یہ کہا

    میں نے اس سے یہ کہا

    تو خدا کا نور ہے

    عقل ہے شعور ہے

    قوم تیرے ساتھ ہے

    تیرے ہی وجود سے ملک کی نجات ہے

    بولتے جو چند ہیں

    سب یہ شر پسند ہیں

    ان کی کھینچ لے زبان

    ان کا گھونٹ دے گل

  • According to Taliban suicide bomber: “The shrine going Barelvis are worse infidels than Americans”

    ’مجھے تو جنت میں ہونا چاہیے تھا‘

    غضنفر عباس
    ملتان

    ’دربار پر جانے والے لوگ امریکیوں سے بھی بڑے کافر ہیں‘

    ّ ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور دربار پر خود کش حملےکلِک کی ناکام کوشش کرنے والے پندرہ سالہ عمر عرف فدائی نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ ان کے والد زبیر کراچی میں ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور عمر کے بقول ان کے والد فیکٹری میں بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

    تفتیش کے دوران عمر نے بتایا کہ وہ افغان سرحد کے قریب طورخم کا رہائشی ہے اور جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں نور پبلک سکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ ’اسی سکول میں طالبان نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھے مرکز لے گئے اور وہاں میرا نام فدائی رکھا۔ امیر (جس کا نام عمر کومعلوم نہیں) مجھے ٹریننگ دیتا تھا۔‘

    گرفتاری کے بعد ہسپتال میں اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے عمر سے سوال کیا کہ اس نے اس قدر تکلیف کیوں اُٹھائی؟ اس کا ایک بازو کٹ گیا ہے اور اس کا جسم بھی زخموں سے چُور ہے۔ عمر کا جواب تھا ’یہ تکلیف اس نے بہشت کے لیے اُٹھائی ہے۔‘

    خود کُش بمبار عمر کے مطابق امیر نے انہیں بتایا تھا کہ ’دربار پر جانے والے لوگ امریکیوں سے بھی بڑے کافر ہیں‘۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر پشتو لہجے میں ٹوٹی پھوٹی اردو بول رہا تھا جبکہ اس کے چہرے پر خوف کی کوئی علامت نہیں تھی۔

    تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمر کو ظفر نامی ایک شخص سخی سرور کے مزار پر چھوڑ کر گیا تھا۔ عمر کے گھر میں والدہ اور دو بہنیں ہیں جنھیں وہ بتا کر بھی نہیں آٓیا تھا۔

    نشتر ہسپتال میں اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ عمر نے ہوش میں آنے کے بعد کہا کہ اسے تو ’جنت میں ہونا چاہیے تھا‘ ہسپتال میں کیوں ہے؟ اس نے یہ بھی کہا کہ ’تم لوگ میری زندگی بچا رہے ہو جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے وہ مجھے ہرگز زندہ نہیں چھوڑیں گے‘۔ اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔
    نشتر ہسپتال میں اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ عمر نے ہوش میں آٓنے کے بعد کہا کہ اس کو تو ’جنت میں ہونا چاہیے تھا وہ ہسپتال میں کیوں ہے‘ اس نے یہ بھی کہا کہ ’تم لوگ میری زندگی بچا رہے ہو۔ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے وہ مجھے ہرگز زندہ نہیں چھوڑیں گے‘۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔

    آٓرپی او ڈیرہ غازی خان احمد مبارک احمد نے میڈیا کو بتایا کہ سبیل کے پاس خودکش حملہ کرنے والے کا نام اسماعیل عرف فدائی تھا۔ ’وہ ہر اس بندے کو فدائی کہتے ہیں جو ٹریننگ لے لیتا ہے۔ عمر نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اسماعیل کا اصل نام عبداللہ ولد نوراللہ تھا۔‘

    آر پی او کے مطابق عمر نے بتایا کہ طورخم میں پانچ ٹریننگ کیمپ بنے ہوئے ہیں۔ ’ٹریننگ کیمپ کے متعلق مزید تو وہ کوئی بات نہیں بتاسکا سوائے اس کے کہ جو ٹرینر تھا اس کا نام سنگین خان تھا۔ سنگین خان بھی تحریکِ طالبان کے لیڈران سے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110406_suicide_bomber_profile_rh.shtml

  • Punjabi Taliban / Sipah-e-Sahaba arrested:

    سخی سرور حملہ: ’ماسٹر مائنڈ گرفتار‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر ہونے والے خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ بہرام خان عرف صوفی بابا سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ریجینل پولیس آفیسر احمد مبارک احمد نے پولیس لائن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشیشں جاری ہیں۔

    ضلع ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے مزار پر تین اپریل کو ہونے والے خود کُش حملوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ملتان سے صحافی غضنفر عباس نے بتایا کہ آر پی او احمد مبارک کا کہنا تھا کہ بہرام خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے میر علی سے ہے۔ ان کے مطابق بہرام خان نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کمانڈر ایوب اور زرعلی کے ہمراہ درباروں پر خوکش حملوں کی منصوبہ بندی دو ہزار دس میں کی تھی اور اس کے لیے دربار سخی سرور کا انتخاب کیا گیا۔

    آر پی او کے مطابق بہرام خان ڈیرہ غازی خان میں مچھر دانیاں اور گرم جیکٹس بیچنے والے کے روپ میں مزار سخی سرور کے بارے میں معلومات لیتا رہا۔

    احمد مبارک کے مطابق ملزمان نے ڈیرہ غازی خان کے لیاقت بازار میں قائم راجپوت سرائے میں مقیم اپنے قریبی عزیز سلیم جان کے پاس رہائش اختیار کی اور اسے بھی اعتماد میں لیا۔ سلیم جان ڈیرہ غازی خان میں پرانے کپڑوں کا کاروبار کرتے ہیں۔

    آر پی او کے مطابق انتیس مارچ کو ملزم زرعلی دو خوکش حملہ آوروں عبداللہ عرف اسماعیل اور عمر کو لے کر ڈیرہ غازی خان پہنچے اور انہوں نے چار روز تک مدینہ ہوٹل میں قیام کیا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں بہرام خان، منشی بشیر، فاروق، سلیم جان اور اصغر شامل ہیں۔

    آر پی او کے مطابق اصغر موبائل فون کی فرنچائز کا کام کرتا ہے۔

    احمد عرف ایاز پنجابی نے خودکش جیکٹس اور ہنڈ گرینیڈ لانے کے لیے اپنے ایک رشتہ دار کی جیپ استعمال کی۔

    پولیس نے اس خودکش حملے میں استعمال ہونے والا موبائل فون اور جیپ قبضے میں لے لی ہے۔

    احمد مبارک نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بہرام خان کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر سخی سرور پولیس کے حوالے کرتے ہوئے ملزم کو 28 اپریل کو عدالت میں پیش کربنے کا حکم دیا ہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110418_sakhi_sarwar_arrests_rh.shtml

  • According to the Saudi Salafi-Wahhabi mullah, Jihad must be against Hazrat Bal, Khwaja Nizamuddin Chishti Ajmeri and other shrines in India and Kashmir. According to him the Jihad to make Kashmir autonomous or a part of Pakistan is not Jihad.

    http://youtu.be/1bGyhf7HD6o

    Here is an extremist Deobandi mullah (Ilyas Ghumman) of Sipah-e-Sahaba who is criticizing Hafiz Saeed and Lashkar-e-Taiaba, describing Hafiz Saeed as an American and British agent.

    http://youtu.be/Ses_6GBCoSo

  • Why attack the shrines?
    penny lane | 17th October, 2010
    19

    A spate of terrorist attacks by puritan extremists on a number of famous Sufi shrines in Pakistan has brought into focus the shrine-going culture and its opponents. This is an important development, especially considering the negligible knowledge today’s young, educated urbanites have of this popular culture even though shrines continue to play an important spiritual and economic role in the lives of a majority of Pakistanis.

    The shrine culture of devotional, recreational and professional activity around the shrines of Muslim saints has been present in the subcontinent for over a thousand years. It is largely associated with activity around the shrines of Sufi saints who started arriving from Iraq, Iran and Central Asia with various waves of Muslim imperialists from 8th century onwards.

    These men (and some women) allowed for fusing Muslim esotericism, as it had developed in their home countries over the years, with the cultural rituals of Indian non-Muslim communities — all were welcome to the presence of the Muslim divine. More than the ulema, it was the Sufi saints whose all-inclusive approach helped spread Islam in this region.

    Over time, a permissive culture of devotional music, indigenous rituals and assorted intoxicants (said to be used to induce trance-like state) started taking shape around the shrines. The shrine culture was patronised by various Muslim dynasties that ruled the subcontinent, and by the 19th century, it had become a vital part of the belief and ritual system of a vast majority of Muslims.

    This system has remained intact despite the many puritan movements that attempted to expunge what they alleged were innovations that Muslims of India had adopted from Hinduism. However, around late 1960s urban middle-class Pakistan had left this culture to the largely uneducated and the superstitious lot or the feudal lords who presided over them.

    But just like middle-class hippies in the West in the 1960s, who had chosen various esoteric eastern spiritual beliefs to demonstrate their disapproval of the ‘soullessness’ of the western culture, many young, middle-class Pakistanis in the 1970s, began looking to the shrine culture as a way to make a social and political connect with the dispossessed masses. Thus urban middle-class youth came into contact with rural peasants, petty traders and the urban working classes who thronged the shrines.

    Middle-class Pakistani youth began to frequent shrines, especially on Thursday nights when a number of shrines hold nights dedicated to the traditional Sufi devotional music. The popular genre of qawali has been sung in the region for over seven hundred years. Now it has become a commercially lucrative art form, but at its pristine best it remains an impassionate fixture at shrines on Thursday nights.

    The shrine culture is strongly owned by the Barelvi, mainstream Sunnis. They celebrate the ritual and social outcome of Sufism’s historical engagement with other faiths. This acceptance inherent in the popular belief system historically worked well to harmonise relations between Muslims and the Hindu majority of India. Pakistan’s military as well as civilian ruling elites did not meddle with the shrine culture. In fact, the Z.A. Bhutto regime (1972-77) actually patronised (and utilised) it as an expression of populism.

    According to a report published in 1979, more Pakistanis visited shrines than they did mosques. Though some scorn at this, there are many who would say that the level of violence, crime and corruption in society was much lower than what it climbed up to from 1980s onwards. The Ziaul Haq dictatorship (1977-88) was inspired by the more puritan strains of the faith, and found it hard to introduce certain harsh Islamic laws in a social scene that was steeped in centuries-old traditions of tolerant shrine-going Muslim creed.

    This popular religious culture was not attuned to a puritan interpretation of jihad, which constituted a problem for the Zia regime. He had to propagate the importance of ‘jihad against the infidels’ in the wake of Pakistan’s frontline status in the CIA-backed guerrilla war against Soviet occupation forces present in Afghanistan. The dictatorship went about building a number of puritan mosques and madressahs, mostly funded by donations from the Gulf states. Zia also began partronising certain spiritual leaders (pirs) around some shrines.

    This was also done because many shrines (especially in Sindh) had become the centre of activity of various anti-Zia political forces. The tactic of hijacking the shrines by the Zia regime was successful in diminishing the participation of the middle-class in the shrine culture, but the culture’s core participants (the masses) remained intact. The status quo in this regard remained unchanged, and many shrines faced neglect and growth of crime around them.

    The state’s interest in reinvigorating the all-encompassing shrine culture was revived after the tragic 9/11 episode. Governments under Musharraf (and the current PPP-led coalition) put in efforts to upgrade various shrines in an attempt to arrest the growth of extremism which has also found an appeal among the urban middle-class. This is why puritan terror outfits like the Taliban have begun targeting the shrines.

    http://dawn.com/2010/10/17/smokers-corner-why-attack-the-shrines/