Original Articles Urdu Articles

We need a mature approach towards India-Pakistan relations – by Naveed Ali


پاکستان اور انڈیا کے حالیہ میچ سے پہلے اور بعد جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا بہت غیر متوقع تو نہیں مگر تکلیف دہ پھر بھی ہے.دونوں طرف یار لوگوں نے ایک کھیل کو جس طرح سے انا کا مسلہ بنا لیا، کفر اور اسلام کا مقابلہ، کشمیر کا انتقام، جہاد، ممبئی دھماکوں کا انتقام، دہشت گردوں کو سزا اور خدا جانے کیا کیا کچھ، ہم اپنی تمام خوش فہمیاں یا یوں کہیں کہ غلط فہمیاں اور مغالطے کھل کر سامنے لے آئے

اچھی بات یہ ہے کہ ایک بڑی اکثریت ایسی بھی ہے جو ان خوش فہمیوں کا شکار نہیں ہے اور لوگوں نے معاملہ فہمی اور دانش مندی کی باتیں بھی کیں کہ کھیل کو کھیل سمجھا جائے، فاصلے دور کرنے کے مواقعے ملیں تو ان سے فایدہ اٹھایا جائے، پر سکون اور مثبت سوچ کے ساتھ رہا جائے. دونوں حکومتوں نے بھی موقع سےفایدہ اٹھایا اور بات چیت کی راہ نکالی.

کھیل ہوا ، بہت خوب ہوا اور حسب معمول ایک ٹیم ہاری ، ایک جیت گئی، مگر ہمارے روئیے کئی سوال چھوڈ گئے اور کسی حد تک ایک خلش بھی کہ کاش کبھی ہم کھلے دل اور دماغ سے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر سکیں اور مل کر چل سکیں

پاکستان اور ہندوستان دونوں طرف اکثریت کی فکری کج فہمیوں کی بڑی وجہ وہ معلومات ہیں جو عوام کو فراہم کی جاتی ہیں اور وہ نصاب جو نظام تعلیم کا حصّہ ہے اور فکری بنیادیں فراہم کرتا ہے. ہمارا میڈیا عام طور سے دونوں ممالک کے تعلقات کی جو تصویر پیش کرتا ہے اور جو رائے ہمارے اصحاب دانش عام طور پر رکھتے ہیں وہ سازش کے نظریے پر مشتمل ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ کچھ بھی ہو ہم ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر سکتے اور ہم ایک دوسرے کی سلامتی کے لئے ایک مستقل خطرہ ہیں.

اسی طرح ہماری نصابی کتب بھی یک طرفہ، کمزور اور خود ساختہ تصویر پیش کرتی ہیں جو تاریخی حقائق کی صریح نفی ہے مگر اتنا زیادہ ہمارے خیالات اور اعتقادات کا حصّہ بن چکی ہے کہ ہم یہ بھی برداشت نہیں کر پاتے اگر کوئی اس کے خلاف کوئی بات کرے. ظاہر ہے کہ بچپن میں سے سیکھ لئے جانے والے اور دماغ پر نقش ہو جانے والے خیالات ہماری ذات اور شخصیت کا حصّہ بن جاتے ہیں اور ان کی نفی ہماری انا اور ذات کی نفی بن جاتی ہے.

اگر ہندو اور مسلمان اتنے ہی تضادات کے حامل تھے جتنا کے ہماری نصابی کتب بتاتی ہیں تو پھر یہ ہزار سال سے زیادہ ایک ساتھ کیسے رہے؟ اگر ہندو اتنے ہی برے تھے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہندوستان میں اسلام پر امن طریقے سے پھلا پھولا، ظاہر سی بات ہے کے ہندو ہمیشہ سے اکثریت میں تھے اگر ان میں عام رواداری اور برداشت نہیں ہوتی اور معاشرہ امن پسند اور خود کفیل نہ ہوتا تو باہر سے آنے والوں کو اپنے اندر ضم کیسے کرتا. حقیقت یہی ہے کہ مسلمان آج بھی ہندوستانی معاشرے کا ایک حصّہ ہیں اور اسلام کو ہندوستان میں کوئی خطرہ نہیں ہے.

یہ درست ہے کے ہندوستانی معاشرہ تضادات کا شکار ہے، اور فرقہ پرستی، ذات پات، غربت اور جہالت اس ملک کے بڑے مسائل ہیں مگر یہ مسائل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ان مسائل کو صرف ہندو مسلم یا مذہبی اختلافات کے پس منظر میں دیکھنا کسی طور جائز نہیں. اسی طرح پاکستانی بھی اتنے ہی انسان ہیں جتنے کے ہندوستان میں رہنے والے، ہم اسی طرح ہنستے بولتے، خوش اور غمگین ہوتے ہیں جیسے دنیا کا کوئی اور انسان، یہاں سارے کے سارے تنگ نظر ملا نہیں رہتے جیسا کے میڈیا بتاتا ہے یا نصاب میں لکھا جاتا ہے. ہم اتنے ہی زندہ دل اور امن پسند ہیں جتنا کے ہمارے پڑوسی.

ہمارے اختلافات نے ہم کو اس حد تک کوتاہ نظر اور خود غرض بنا دیا ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو انسان سمجھنا چھوڈ دیا ہے. ہندوستانی یا پاکستانی کا خیال کرتے ہی ہمارے ذہنوں میں سازش، نفرت اور تعصب کے ایسے خیال جنم لیتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں اور ایک دوسرے کا ایک فرضی خاکہ تیار کر کے ٹھان لیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو اعتماد نہیں کرنا.

ہمیں یہ ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر ہو یا سیاچین ،دفاعی معاملات ہوں کہ قدرتی وسائل کا اشتراک ، یہ سب سیاسی معاملات ہیں کوئی آفاقی حقیقت نہیں کہ بات چیت اور رضامندی سے حل نہ ہو سکیں. ہمارا یہ رویہ ہر بار ابھر کر سامنے آتا کہ ہماری نظریاتی قدریں اتنی کمزور ہیں اور ہم اتنے کمزور اور غیر محفوظ ہیں کہ کوئی موقع ہو ہم اعتماد اور سکون کے ساتھ حالات کا سامنا نہیں کر سکتے. ہمارے سیاسی اور نظریاتی خیالات اتنے غیر مستحکم، غیر حقیقی اور فرسودہ ہیں کہ ہم خود اپنا مذاق بن جاتے ہیں اور دنیا کو خود پر ہنسنے کا موقع دیتے ہیں. ہم ایک کھیل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ معرکہ حق و باطل میں تبدیل کر دیتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ کتنا بچکانہ اور غیر حقیقت پسند رویہ ہے

ہمارے نصاب اور ابلاغ میں ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں سب کچھ بے حد شاندار تھا ، ماضی میں ہمارے اجداد نے اگر کوئی غلطیاں کن یا شکاست و ریخت کا سامنا کیا تو یا تو ان کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا یا پھر ذمےداری کسی اور قوّت یا ایسے عوامل پر ڈال دی جاتی ہےکہ ہم ذمّہ داری سے بچ نکلیں، اسی طرح حال کا بھی یہ سبق دیا جاتا ہے کہ ہم تو اچھے ہیں اگر ہمارے ساتھ برا ہوتا ہے تو اوروں کی وجہ سے، نتیجہ یہ ہے کے اس نصاب کو پڑھنے والے شکست کا سامنا نہیں کر سکتے، ہمارا یہ رویہ بھی ہمارے بیشتر رد عمل میں جھلکتا ہے. ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کے انڈین ٹیم آزمودہ، تجربہ کار، اور منجھے ہوے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی اس لئے ان کا کھیل بہتر رہا

کسی نے کہا تھا کہ ہار جیسی کوئی چیز نہیں ہر عمل کے نتائج ہوتے ہیں کہ ان سے سبق سیکھا جا سکے تاکہ مستقبل میں اور اچھی کوشش کی جا سکے اور بہتر کام کئے جا سکیں. نتائج سے سیکھنا زندہ قوموں اور اشخاص کا وطیرہ ہے اور ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے

About the author

Naveed

3 Comments

Click here to post a comment
  • Away from the breathless excitement and nail-biting tension of the India-Pakistan semi-final match, the mood inside the Long Room at the Mohali cricket ground was remarkably different—warm, poetic and contemplative. An encounter of another kind was afoot here, a meeting over dinner between Prime Minister Manmohan Singh and his Pakistani counterpart, Yousuf Raza Gilani. Flanked by Congress president Sonia Gandhi and her son, Rahul, Manmohan Singh recited an Urdu couplet to welcome Gilani and his entourage. It set the mood for the two sides to partake of the lavish spread—and for informal parleys. Gilani too responded with a couplet and profusely thanked the Indian PM for hosting him as also creating the opportunity for the two countries to interact at the highest political level.

    http://www.outlookindia.com/article.aspx?271162

  • The new phase of civility in relations between India and Pakistan seems over before it even began. The Pakistani police has picked up an Indian High Commission official in Islamabad in what is being is seen as a tit-for-tat response to the detention of a Pakistan High Commission employee in Mohali.

    The Ministry of External Affairs has already registered its protests with the Pakistan foreign office. “We have told them that they should ensure the safe return of the official,” said sources in the MEA. Pakistan, meanwhile, said that the person arrested by the security agencies is a driver of its mission in New Delhi.

    “A driver from the High Commission was arrested. He has been released. We have protested,” Pakistan Foreign Office spokesperson Tehmina Janjua told a news agency, without giving details. However, officials here denied the claim of arrest and said that he was detained for questioning after he entered a restricted area.

    2 APR, 2011, 04.58AM IST,ET BUREAU
    India Pakistan match over, strain returns
    http://economictimes.indiatimes.com/news/politics/nation/india-pakistan-match-over-strain-returns/articleshow/7848522.cms

  • I HOPE the Pakistani delegation to Mohali didn’t make as many blunders as our cricketers did in the crucial semi-final World Cup match.

    But with Rehman Malik present, I would expect him to make at least as many fumbles with his mouth as Kamran Akmal does with his gloves.

    And as a Pakistani, I was distinctly uncomfortable to see him seated next to Sonia Gandhi at dinner: who knows what pearls of wisdom he uttered to the powerful Congress leader?

    Although our team lost — and it’ll take some time for the pain of the unnecessary defeat to subside — at least it provided an occasion for the prime ministers of the bickering neighbours to meet.

    It’s a sad comment on the state of the relations between India and Pakistan that excuses have to be made for talks: what if India and Pakistan didn’t meet in the semi-final? Would the meeting have been deferred until the next World Cup?

    Irfan Hussain
    http://www.dawn.com/2011/04/02/mohali-peace-in-our-mohallah.html