Original Articles

Excerpts from an Interview of Ghaus Bakhsh Bizenjo Part 1 – by Dr Feroze Ahmed

غوث بخش بزنجو کے انٹرویو کے اقتباسات – ڈاکٹر فیروز احمد

قومی جمہوریت کا نظام –  موجودہ نو آبادیاتی نظام جو انگریز چھوڑ گئے تھے لیکن جو اب تک ہم پر مسلّط ہے، اس میں ایک آزاد ملک کےاقتصادی، سیاسی اور  سماجی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیّت نہیں ہے، اسلئے اس نظام کی جگہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہئیے جو اس ملک کی پچاسی فیصد سے زیادہ انسانی آبادی، جو محنت کش طبقے پر مشتمل ہے، کی خواہشات وضروریات کو پورا کرسکے۔ میرے خیال میں وہ نظام پاکستان کے معروضی حالات کے تحت قومی جمہوریت کا نظام ہے۔

مسلمان قوم کا تخیّل – مسلمان قوم یا نظریئہ پاکستان جس کا مجھے مخالف ہونے کا الزام دیا جاتا ہے، وہ واقعتاَ کوئی چیز ہی نہیں  ہے،چوں کہ ان چیزوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، تو میں کیسے ان کی مخالفت کر سکتا ہوں۔

اس سلسلے میں مسلمان قوم کے بارے میں، میں نے اپنے دلائل پیش کئے تھے، اور کہا تھا کہ قرآن مجید سے بھتر کوئی معیار یا کسوٹی ممکن نہیں ہوسکتی، قرآن شریف میں مسلمان کو کسی جگہ بھی قوم کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ جب بھی مسلامانوں کا ذکر کیا گیا تو بحیثیت امّت یا ملّت کے کیا گیا، میں نے یہ بھی کہا کہ “مسلمان قوم” جو فی الواقع کوئی وجود نہیں رکھتی، وہ نا قابل عمل تصوّربھی ہے۔

۴۔ مثلاُ ہم کسی ایرانی، افغان یا عرب کو اپنے ہاں ووٹ کا حق نہیں دیتے ہیں، ان کو اپنے ملک میں کسی بڑے عہدے پر نہیں لے سکتے، حالانکہ ہم کسی ہندو، عیسائی اور پارسی کو ووٹ کا حق دیتے ہیں اور وہ اکثر اعلٰی عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں،تو ظاہر ہے کہ یہ خیالی تصوّر ہے جس کی کوئی عملی حقیقت نہیں ہے اور اگر ہم اس کو” مسلمان قوم” کہیں تو اسلام اور قرآن کی سرشت کی نفی ہوتی ہے، کیوں کہ یہ بات اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت کو مجروح کرتی ہے۔

مسلمانوں کے لئے قرآن میں جو امّت اور ملّت کا لفظ آیا ہے، وہ کثیرالقومی اور عالمگیر کیفیت رکھتا ہے، مذاہب عالم میں خود اسلام کا طرّہ امتیاز بھی اس کی عالمگیریت اور آفاقیت ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگرہم مسلمان قوم کے تخیّل کو قبول کرتے ہیں تو پاکستانی قوم کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی۔

واحد پاکستانی قوم کے فطری اجزاء-  میرے نزدیک ہر ملک کے اتّحاد، استقامت اور خوشحالی کے لئے اس میں ایک واحد قوم کا ہونا ضروری ہے، پاکستان میں بھی جب تک ایک واحد قوم نہیں بنے گی، جو اس کی وارث بن کر اس کے اتّحاد، استقامت اور خوشحالی کی ضامن ہو، اس وقت تک پاکستان میں یہ خصوصیات پیدا نہیں ہوسکتی۔ واحد پاکستانی قوم اس وقت تک نہیں بن سکتی جب تک اس کےفطری اور لازمی اجزائے ترکیبی یعنی پنجابی، سندھی، پختون اور بلوچ قومیّتوں کی باہمی رضامندی،سودوزیاں کے اشتراک اور ہم سری کی بنیاد پر اس کو تشکیل نہ دیا جائے،

سیاسی استحکام کی کلید– اس لئے میرایہ یقین ہے کہ جب تک ہم اس ملک پاکستان میں موجودہ نو آبادیاتی نظام کو نہیں بدلتے اور مختلف علاقوں کے مسائل نہیں کرتے تب تک ملک میں جمہوریت پھل پھول نہیں سکتی، سیاسی استھکام پیدا نہیں ہوسکتا اور ہمیں وقتا فوقتاَ سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میرے نزدیک قومیتوں کا مسئلہ پاکستان میں جمہوریت کے مسئلے سے الگ چیز نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کا جزولانیفک ہے اور اس کے بغیرجمہوریت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔(جاری ہے۔

شائع شدہ: پاکستان فورم، اکتوبر ،۱۹۷۸ ، کمپو زڈ فار ایل یو بی پی، علی ارقم