Newspaper Articles Urdu Articles

Piddi ka shorba: Opportunists of the PPP – by Abbas Ather


Abbas Ather’s take on Shah Mahmood Qureshi and the Raymond Davis case. Mr Ather also offers a detailed history of the PPP, its ideals, struggles and internal divisions as a context of recent developments. (Source: Express, 21 Feb – 8 March 2011)





About the author

Abdul Nishapuri

3 Comments

Click here to post a comment
  • LUBP should translate these articles by Abbas Ather for the burger of Karachi and Lahore. Aside from LUBP and NFP, not many others are writing anything about the PPP that is not biased.

  • ۔ میں مخدوم شاہ محمود قریشی کو فاروق لغاری ہونے کا طعنہ نہیں دیتا مگر وہ تو قمر زماں کائرہ اور نذر محمد گوندل بھی نہ بن سکے۔
    اور اب بھی ان کا کردار ایکسٹراز سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ جب امریکی اسٹیبلشمنٹ کے بزر جمہروں کے نامہ و پیام پر امریکی عدالت نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے نام سمن جاری کئے تو کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ مدت ملازمت میں وزیراعظم کی بجائے آرمی چیف سے توسیع حاصل کرنیوالے سیاستدانوں کی طرح لاوارث نہیں ہوتے۔ کیا امریکی اسٹیبلشمنٹ کو معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں ڈرون حملوں کے خلاف سی آئی اے کے مقامی سربراہ کے خلاف جب ایف آئی آر درج ہوئی تھی تو مذکورہ سربراہ جوناتھن بنکس 24 گھنٹے بھی اسلام آباد میں نہیں ٹھہر سکے تھے۔ پھر امریکہ نے کیا سوچ کر جوناتھن بنکس کی جگہ ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان بھیج دیا کہ وہ قتل بھی کرے اور کرامات بھی کرے۔
    جنرل ضیاء کے دور میں امریکی سی آئی اے، چارلی ولسن، جوئن ہیرنگ اور گسٹ ایورا کوٹوس کی کامیابیاں آئی ایس آئی کی مرہون منت تھیں۔ امریکی سی آئی اے محض ڈالر، ریال، دینار، اسامہ بن لادن اور اسٹنگر میزائل لائی تھی۔ باقی کام اختر عبدالرحمن، حمید گل اور کرنل امام جیسے لوگوں نے کیا تھا۔امریکی سی آئی اے کو یہ کس نے کہا تھا کہ وہ ڈرون حملوں، سویلین آبادی کی خونریزی اور ٹائیگرز کی پرورش کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کی عزت پر ہاتھ ڈالے اورشاہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو کیا پڑی تھی کہ وہ بھٹو بننے کے زعم میں اپنا سیاسی گھر بار چھوڑ کر ٹرک پر بیٹھ کر جنگل کی راہ لیں۔ کیا انہیں یاد نہیں تھا کہ ٹرک پر بیٹھ کر جنگل کی راہ لینے والے غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی کھر، ممتاز علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، ڈاکٹر مبشر حسن اور فاروق لغاری کوکبھی واپسی کی راہ نہ ملی۔ کیا دو طاقتور ایجنسیوں کی باہمی چشمک کا چارہ بننے سے کوئی سیاست دان بھٹو بن جاتا ہے۔ بھٹو بننے کیلئے بے مہر وقت کی باگوں کو کھینچ کر اسے اپنا مطیع و فرمانبردار بنانا پڑتا ہے۔ بھٹو بننے کیلئے موت کے بعد بھی جینا پڑتا ہے۔ کیا حضرت شاہ محمود قریشی کو واقعی یہ نظر نہیں آرہا کہ بھٹو کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی، ملکی اور غیر ملکی، عسکری اور عسکری مخالف آج بھی بھٹو سے لڑ رہے ہیں، مگر وہ بھٹو کو چت نہیں کر پا رہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی ٹرک پر تو بیٹھ گئے مگر وہ ابھی گھر کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں انہیں محراب والا کی سرزمین کے جینئس انجم لاشاری کا ایک شعر سناتا ہوں اور اپنی راہ لیتا ہوں۔
    دروازے سے دھرتی تک دو چار قدم
    دھرتی سے دہلیز تلک صدیوں کا سفر

    دروازے سے دھرتی تک دو چار قدم…عرض حال…نذیر لغاری

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=509242

  • His masters’ voice

    پی پی پی میں دو گروہ: شاہ محمود

    سابق وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی دو گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور برسرِ اقتدار گروہ کو دوسرے گروہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز سندھ کے شہر میر پور خاص میں ایک جلسے سے خطاب کیا۔

    کراچی سے نامہ نگار حسن کاظمی کا کہنا ہے کہ شاہ محمود نے اپنے خطاب میں عمران خان کی جانب سے پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا دینے کے اقدام کی بھی حمایت کی جبکہ پیپلزپارٹی کے قاف لیگ سے اتحاد پر بھی تحفظات کا اظہار کیا کہ اس میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ قاف لیگ کو قاتل کہا جا چکا ہے اور جب تک بے نظیر بھٹو کے قتل کی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آجاتی کوئی کام عجلت میں نہیں کرنا چاہیے۔

    شاہ محمود نے پیپلزپارٹی کی قیادت پر چیئرمین نیب کی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر صرف ایک صوبے میں ہڑتال کر کےصوبائی تعصب کو ہوا دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زراعت پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس واپس لیا جائے۔

    اس سے پہلے کراچی میں شاہ محمود قریشی نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا دورہ بھی کیا تھا جبکہ سنی تحریک کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110425_shah_mahmood_a.shtml