Original Articles Urdu Articles

Rauf Klasra on Shah Mahmood Qureshi


Rauf Klasra belongs to Southern Punjab from Bhakkar and knows very well the character of leaders coming from the belt. PM Gilani and former FM Qureshi belong to the same belt, however, their power comes from their positions as Sajada Nasheen of various Pirs. Rauf Klasra has in his article in Express News on 20th February, 2011 has deconstructed the role of Shah Mahmood Qureshi that the day he is not made the Foreign Minister, he begins to do press conferences, bad mouthing the very regime he was part of until 24 hours ago. He has also talked about the myth of SMQ becoming a Bhutto. Read on. In all a very fine article.

 

Express News, 20th February, 2011

About the author

SK

9 Comments

Click here to post a comment
  • کج فہم و بے عقل…نجم سیٹھی

    سب سے زیادہ جس چیز نے پی پی پی کی حکومت کی معاملات سے نبردآزما ہونے کی نا اہلی کو نمایاں کیا ہے وہ ریمنڈ ڈیوس کیس ہے اور اس عمل میں پی پی پی نے اپنے ایک مضبوط رہنما شاہ محمود قریشی کو بھی کھو دیا ہے۔ ایک دانا اور متحرک حکومت 48 میں یہ کیس نمٹا دیتی۔ صرف یہ دیکھنا تھا کہ سفارتی استثنا ثابت کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے اور قومی مفاد کس چیز میں ہے۔ اس مسلےٴ پر ایک واضح فیصلے کی ضرورت تھی۔ اگر ڈیوس کو امریکیوں کے حوالے کرنا تھا تو دفتر ِ خارجہ کو واضح طور پر اس کی وضاحت کرنا چاہیے تھی اور پنجاب میں شریف حکومت کو بتانا چاہیے تھا کہ اس معاملے میں عدالتی کاروائی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر اس معاملے میں امریکی کو استثنا حاصل نہیں تھا تو بھی پی پی پی حکومت کو اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر پی ایم ایل (ن) کو عوام اور میڈیا میں سیاسی نمبر بڑھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس معاملے میں شواہد تو یہی بتاتے ہیں کہ صدر زرداری ڈیوس کو امریکیوں کے حوالے کرنا چاہتے تھے مگر شاہ محمود قریشی اور دفترِخارجہ نے اُن کے پاؤں جکڑ لیے اور مبہم حقائق فاش کرتے ہوئے پی پی پی حکومت کے اقدامات کے راستے میں رکاوٹ بنے۔
    شاہ محمود قریشی کا کردار بھی قدرے مشکوک ہے۔ اُس نے دفتر ِ خارجہ کو مبہم افشائے راز کی اجازت کیو ں دی اور حکومت کی ہزیمت کا باعث کیو ں بنے؟ اُنھوں نے پانی اور بجلی کی وزارت لینے سے انکار کرتے ہوئے صدر اور وزیرِ اعظم کو عوامی طور پر شرمندہ کیوں کیا؟ اُنھوں نے ایک رپورٹر کو انٹر ویو کے دوران دفتر ِ خارجہ کے نکتہ نظر کو کیوں بیان کیا جبکہ یہ بیان عدالت کے میں دیا جانا تھا۔ اب اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہاکہ مسٹر قریشی بیک وقت دوہرا کرادر ادا کر رہے تھے۔ وہ حکومت کے نمائندے بھی تھے اور جی ایچ کیو کے بھی ، جو نہیں چاہتا کہ حکومت امریکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے ۔۔۔عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور جی ایچ کیو گفت و شنید کے لیے ذرا سخت شرائط کا خواہاں ہے کیونکہ یہ امریکہ سے ممبئی حملوں کے متعلق ڈی جی آئی ایس آئی پر امریکی عدالت میں کیس پر سخت نالاں ہے۔ مسٹر قریشی کو اب پی پی پی کے چھوٹے بڑے حلقوں میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اُسے ایک اور بے وفا، بلکہ سازشی اور فاروق لغاری جیسا باغی قرار دیا جائے گا۔ سینیٹر جان کیری اس مسلےٴ کا کوئی حل تلاش کرنے پاکستان آیا۔ لیکن اب معاملہ محض گفت و شنید تک محدود نہیں رہ گیا ہے، نہ ہی اس کو سلجھانا کوئی بچوں کا کھیل ہے۔ پی پی پی کی معاملات پر کوئی گرفت نہیں ہے اور مسلم لیگ نواز کو امریکی دباؤ کی کوئی پروا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ بہترین ممکنہ حل ۔۔۔ ذاتی تحفظ کو دلیل بنا کر ڈیوس کو دیت یا زرِتلافی ادا کرکے رہا کیا جاسکتا ہے۔۔۔ بھی ہنوز کوسوں دور ہے۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=506824

  • Share
    حب الوطنی کا بخار… ایازا میر

    پاکستانی حب ا لوطنی کا معبد اور مرکزی دھارا شمالی پہاڑ یا بحرہ عرب کے ساحل نہیں بلکہ پانچ دریاؤں کی لافانی سرزمین پنچاب ہے جواپنے دامن میں نظریہء پاکستان کے انمٹ نقوش سموئے ہوئے ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر المیہ ڈراموں کا سٹیج یہی حب ا لوطنی رہی ہے۔ بطور نوجوان کپتان، جب میں 1971 کی جنگ کے تجربے سے گزرا، تو مجھے یاد ہے کہ لاہور میں ہر کار کے پیچھے لکھا ہوتا تھا ” انڈیا کو کچل دو“ ہم انڈیا کو کچلنے کے عزم میں راسخ تھے مگر ہمیں پتا ہی نہ چلا کہ آدھا ملک ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ یہ تو ہماری فراموشی کی بے مثل صلاحیت کو داد دیں کہ ہم نے یہ سانحہ اپنی اجتماعی یاد داشت سے کھرچ پھینکا ہے۔
    آج پنجاب میں مسخ شدہ جذباتیت سے لبریز رویہ ایک جنونی قاتل کو عوامی ہیرو بنانے پر آمادہ ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر اُن اشتہارات کی کمی نہیں جو اُس کو اسکے ” شاندار کارنامے “ پر خراج ِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ اور یہی طوفانی جذبات ریمنڈ ڈیوس کے بار ے میں بھی ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ سفارتی قوانین کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر اُس کو استثنا حاصل نہیں ہے تو ہمیں اپنے قدموں پر کھڑا رہنا چاہیے چاہے امریکہ کی طرف سے کتنے ہی دباؤ کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ لیکن ہم نے اس معاملے کو تماشا کیوں بنا دیا ہے کہ درودیوار حب الوطنی کے نعروں سے گونج رہے ہیں؟ اور پھر اگر ردِ عمل ضروری ہی تھا تو ایک بکھری ہوئی قوم کا تاثر کیوں دیا گیا؟ صدرِ محترم اس الجھن میں ہیں کہ اس معاملے سے کیسے نکلا جائے مگر کوئی راہ سجائی نہیں دے رہی ہے۔ وزیرِ اعظم ، حسبِ معمول، واقعات پر اپنی گرفت نہیں رکھتے ہیں اور امید کر رہے کہ غیب سے کوئی بہتر حل ظہور پذیر ہوئے جائے۔ دفتر ِ خارجہ ایوان صدر سے متحارب راستے پر گامزن ہے اور سابقہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی الجھن کو حب الوطنی کا لبادہ پہنانے کے لیے بے چین ہیں ۔ نیشنل سیکورٹی کے نگہبانوں نے بڑی کامیابی سے یہ تاثر دیا ہے کہ سب طنابیں دراصل اُنہی کے ہاتھ ہیں۔ غلغلہ پرداز میڈیا اسپ تازی پر سوار قومی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے میدان ِ کارزارمیں کود پڑنے کے لیے بے چین، تفریحی ادب کی بے مثل داستانیں رقم کرتا ہے اور نیم خواندہ بقراط زہر کے پیالے دوسروں کے حلق میں انڈیل رہے ہیں۔ ۔۔ لاہور پریس کلب کے سامنے مذہبی عناصر ہوا میں مکے لہراتے، گلا پھاڑ پھاڑ کر دھمکی آمیز نعرے لگا رہے ہوں تو قومی تحفظ کے جہاد میں شہدا کا تعین مشکل نہیں ہو تا ہے۔ پاکستانی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اپنی ذات میں خود ایک ریاست ہے۔ ہر بحران یا واقعے میں، خدا جانے وہ کیا حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔لیکن پرانی عادتیں جاتے ہی جاتی ہیں، اس لیے جری جوان اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتے ہیں، جیسا کہ کہہ رہے ہوں ، ” ہم ہیں نا “ ، اور اگر ہمیں نظر انداز کیا گیا تو اپنا فائدہ نقصان سوچ لیجیے گا۔ اب دوبارہ اُسی موضوع پر آجائیں۔ اگرریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنا حاصل نہیں ہے تو پھر قانونی کاروائی ہونی چاہیے، چاہے جو بھی دباؤ ہو۔ لیکن ہم یہ معاملہ چراغ پا ہوئے بغیر بھی نمٹا سکتے ہیں۔ نرم گفتاری قومی تحفظ کو کوئی آنچ نہیں پہنچاتی ، اور قومی وقار کے نعرے بہت بھلے لگتے ہیں اگر ہم کاسہٴ گدائی سے، ہمیشہ نہیں تو کچھ وقت کے لیے ہی سہی، کنارہ کشی کر لیں۔ شاہ محمود قریشی کی شاندار پریس کانفرنس معنی خیز تھی: ” یہ وقت سے جھکانے کا نہیں بلکہ سر اٹھانے کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ سچ بولنے کی پاداش میں مجھے نقصان ہو گا لیکن میں قومی وقار کا سودا نہیں کر سکتا۔ بتانے کے لیے بہت کچھ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو میں اپنی زبان بند نہیں رکھوں گا۔ “ کیا واقعی؟ کیا یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہو گا کہ وہ ایک اور ذوالفقار علی بھٹو بننے کی کوشش کر رہا تھا؟ اس موقعے پر شاہ محمود کو خامشی کی ضرورت تھی مگر زبان بندی پاکستانیوں کی عادات میں شامل نہیں ہے۔ مسٹر قریشی کے شمشیر بکف میڈیا کے سامنے یہ افشا کرناہی تھا کہ دفترِ خارجہ کے نزدیک ڈیوس سفارتی استثنا نہیں رکھتا جیسا کہ امریکی مطالبہ کر رہے ہیں ِ، پی پی پی وزرا ٴ کا تما م جتھا ۔۔۔ وزارتِ اطلاعات کا دفتر حال ہی میں سنبھالنے والی ”سہرابِ ثانی“ پیش پیش۔۔۔ مسٹر قریشی پر بل پڑا اور اُنھیں ادھیڑ کر رکھ دیا کہ انھیں نافرمانی کی جرات کیوں کر ہوئی۔ اس گرج چمک سے احتراز بہتر تھا۔ بطور خارجہ پالیسی کے نگہبان، مسٹر قریشی کو ذرا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیچ بازار تماشا نہیں لگانا چاہیے تھا، چاہے اُن کو کابینہ کی نئی ساخت میں وزارتِ خارجہ نہیں دی گئی تھی۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=506827

  • Shame on the PPP government and its ambassador-at-large

    We would like to know the purpose of such trips by its ambassador-at-large and the benefits that Pakistan has received in return. If Mr Klasra’s story is verified and if it is proven that it is a case of nepotism, then Shah Mahmood Qureshi must be asked to return this money to the exchequer from his personal pocket which was so ruthlessly spent on his personal friend’s foreign trips.

    http://criticalppp.com/archives/34405

  • This is an exceptionally good article. First, it has raised Rauf Klasara’s esteem for me – never thought he was so well versed in history (at least recent diplomatic history) and so thoughtful in his analysis.
    Second, he seems absolutely right on Shah Mahmood. For starters we don’t really know if the federal govt was inclined to plead for immunity in the Davis case. No political party, let alone the PPP, can ignore the sentiment on the street and that also in a situation where the Americans have messed up the case themsleves more than anyone else. To go to the press (knowing fully well that it is right wing to boot and plays the military game) he has betrayed the party, full stop. I really don’t care how many votes he has (in any case overestimated)and there should be a rational and strong retort against him from all PPP supporters. Klasara is absolutely right that characters like him never become Bhuttos. If he was unhappy about being removed but was loyal to the party he should have kept quiet even if he was reluctant to accept the Water and Power ministry, which in many ways is more challenging an assignment than the foreign ministry.
    That he is playing the army’s game (to what end perhaps even he does not know once he gets off his delusionary high horse) is also evident from the letter written by the foreign office to the UN investigation report on BB’s assasination regarding the role of the ISI. I am actually glad that AZ had the wisdom to not make him the PM (remember he was in the running) and that he himself has blundered at the wrong time on the wrong issue. This Aasteen ka Saamp could have been far more damaging to the party in the future

  • ’جی ایچ کیو کی سیاست ناپائیدار‘

    حفیظ چاچڑ
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تجزیہ نگاورں کا کہنا ہے کہ مسٹر قریشی کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مدِ مقابل ایک نئی سیاسی شخصیت کے طور پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور حکمران حماعت پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور انہوں نے ایک بار پھر اپنی پارٹی کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے اپنی حکومت کے خلاف اس وقت محاذ کھولا جب نئی وفاقی کابینہ میں ان وزیرِ خارجہ نہیں بنایا گیا۔ حالانکہ ابھی تک کسی کو وزیرِ خارجہ مقرر نہیں کیا گیا لیکن شاہ محمود قریشی کی واپسی کے امکانات بہت کم نظر آ رہے ہیں۔

    انہوں نے نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس معاملے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو بگاڑا گیا اور وہ اُن افراد کے نام بھی جانتے ہیں جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اگر اُنہیں اس بات پر مجبور کیا گیا تو پھر وہ اُن افراد کے نام بھی بتادیں گے جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اگر ملک میں قیادت ایماندار ہو گی تو ملک میں ترقی ہوگی۔

    اس سے پہلے انہوں نے سترہ فروری کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ وزراتِ خارجہ نے انہیں بریفنگ دی تھی اور بتایا تھا دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو ملکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

    شاہ محمود قریشی کی اپنی پارٹی کی قیادت سے دوری بڑھتی جا رہی ہے اور بعض تجزیہ نگاورں کا کہنا ہے کہ ان کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز لیگ کے مدِ مقابل ایک نئی سیاسی شخصیت کے طور پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انیس سو اٹھاسی میں پیر پگاڑہ نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات لڑا تھا تو ان کے مریدوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا

    وفاقی اردو یونی ورسٹی کے پروفیسر توصیف احمد کہتے ہیں ’کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ شاہ محمود قریشی کو آئندہ مہینوں میں ایک متوازن شخصیت کے طور پر پیش کرنے جا رہی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ان کا تضاد نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ مسلم لیگ نواز سے ہو گا۔‘

    انہوں نے مزید کہا ’اس وقت جو ملکی صورتِحال ہے اس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے علیحدہ ہونے والے کےلیے اب تک تو کوئی مستقبل نہیں رہا اس لیے اس بات کے امکان نہیں ہیں کہ وہ سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔‘

    پروفیسر توصیف کے مطابق یہ بات بہت واضع ہے کہ شاہ محمود قریشی جی ایچ کیو سے حرارت لے کر سیاست کر رہے ہیں اور یہ سیاست بہت زیادہ پائیدار نہیں ہو سکتی۔

    انہوں نے کہا ’ذوالفقار علی بھٹو نے بھی تاشقند معاہدہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور تاریخ نے ان کی اس بات کو غلط ثابت کیا کہ تاشقند معاہدے میں کوئی ایسی غلط بات نہیں تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے بھی ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر متنازعہ پیدا کر کے ایک جذباتی فضا کو کیش کرانے کی کوشش کر رہے اور کبھی ملکی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق جب انیس سو اٹھاسی میں پیر پگاڑہ نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات لڑا تھا تو ان کے مریدوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اگر شاہ محمود قریشی ایسا کریں گے تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہوگا۔

    کراچی یونی ورسٹی کے پروفیسر شمیم اختر کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی ہے اور ان کی دوبارہ وزارتِ خارجہ میں واپسی ممکن نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ وزیرِ خارجہ بنانا شاید پیپلز پارٹی کےلیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت آئی ایس آئی کے زیادہ امریکہ کہ تابع ہے اور غالباً آئی ایس آئی اور پیپلز پارٹی کے قیادت میں کشمکش کا سبب بھی یہی ہے کہ یہ امریکہ کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔‘

    بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی پارٹی کے لیے دھچکا ثابت ہوگی۔ کیونکہ ان کے بقول جنوبی پنجاب اور صوبہ سندھ میں شاہ محمود کے ہزاروں مرید ہیں اور آج بھی سندھ کے شمالی شہرگھوٹکی سے جنوب میں عمر کوٹ تک بعض حلقے ایسے ہیں جہاں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو جیتنے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110222_qureshi_factor_si.shtml

  • قریشی صاحب کا ذوق ہوا پیمائی…نقش خیال…عرفان صدیقی

    عزت مآب شاہ محمود قریشی ان دنوں ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔ برق رفتاری اور ہوا پیمائی کے کیف و سرور میں کسی کو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ایسے شاہسواروں سے کوئی سوال پوچھنا بھی ادب و احترام کے تقاضوں سے خارج خیال کیا جاتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ قریشی صاحب باضابطہ پیر اور گدی نشین بھی ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود ان پر ایک چھوٹے سے سوال کا جواب ضرور لازم ہے۔ وہ یہ کہ جس دن نئی کابینہ نے حلف اٹھایا، اس دن شاہ محمود صاحب کی کرسی بھی لگی تھی۔ سامنے میز پر ان کا نام بھی لکھا رکھا تھا۔ حلف نامے والی فائل بھی پڑی تھی۔ اگر شاہ صاحب کو بتا دیا جاتا کہ وہ بدستور وزیر خارجہ ہی رہیں گے تو کیا وہ واقعی وزارت ٹھکرا کر میدان جہاد میں نکل آتے؟ اور اگر وہ حلف اٹھالیتے تو کیا پاکستان امریکی بالادستی کی گرفت سے نکل آتا؟ کیا ڈرون حملے بند ہوجاتے؟ کیا اس بے چہرہ جنگ کا دفتر لپٹ جاتا جس کا خونی پنجہ ہماری رگ جاں تک آن پہنچا ہے؟ او ر ایک ذیلی سوال یہ بھی کہ قریشی صاحب کی وزارت خارجہ کے تین سالہ دور میں کیا پاکستان امریکی رعونت کی آماجگاہ نہیں بنارہا؟ کیا ریمنڈ ڈیوس اور اس جیسے ہزاروں اوباش اسی عرصے میں پاکستان نہیں آئے؟ برق رفتاری اور ہوا پیمائی کے اس سفر شوق میں وہ کسی سیارے پر دم بھر کو رکیں تو اپنے عشاق کو ان سوالوں کے جواب ضرور عنایت فرمادیں۔
    کیا وہ بھٹو بننے جارہے ہیں؟ کیا وہ فاروق لغاری کے انجام سے دوچار ہونے کو ہیں؟ جلد ہی ان کے مقدر کا فیصلہ ہوجائے گا؟ لیکن ایک بات پیش نظر رکھنا ہوگی کہ 30/ نومبر 1967ء سے لے کر آج تک ذوالفقار علی بھٹو ہی پارٹی کے سینے میں دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی آپس میں جڑ مل چکے ہیں اور گزشتہ چوالیس سالوں کے نشیب و فراز نے اس اٹوٹ رشتے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

    ۔
    قریشی صاحب وزیر خارجہ بنیں، نہ بنیں، ایک بات طے ہے کہ وہ بھٹو نہیں بن سکتے، بھٹو ایک خاص ماحول، ایک خاص کھیتی اور ایک خاص آب و ہوا میں اگا کرتے ہیں۔ انہیں لغاری بننے کا اعزاز بھی حاصل نہیں ہوسکتا کیوں کہ لغاری نے بہر حال محترمہ کی دوسری حکومت کو گھر بھیج کر ایک کاری ضرب لگا دی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق وہ صرف اعتزاز احسن بن سکتے ہیں کیونکہ وہ بغارت کا علم لہرانے کے باوجود پارٹی سے جڑا رہنا چاہتے ہیں اور پارٹی غیر مشروط شخصی وفاداری مانگتی ہے۔ شوق تیز پائی اور ذوق ہوا پیمائی کے باوجود قریشی صاحب سے اتنا التماس ہے کہ وہ پارٹی کی ساخت، نفسیات اور روایات پر ضرور نگاہ رکھیں۔ جے اے رحیم، معراج محمدخان، خورشید حسن میر، شیخ رشید ، مبشر حسن، ممتاز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، مصطفی کھر، مصطفی جتوئی، کوثر نیازی، مختار رانا وغیرہ کی داستانیں شاید انہیں یاد نہ ہوں لیکن صفدر عباسی، ناہید خان، ڈاکٹر اسرار شاہ اور اعتزاز احسن کا باب تو ابھی کل، عین قریشی صاحب کی آنکھوں کے سامنے رقم ہوا ہے۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=508050