Original Articles

Fake Civil Society (FCS) – by Shahid Khan

Related article: Taseer’s murder and the call for a ‘broad-based alliance’ between PPP and the ‘civil society’ – by Ahmad Nadeem Gehla

1. Civil Society, Real or Fake?

The current phenomenon of ‘civil society’ did exist in Pakistan during 1970s. It comprised of trade unions, lawyers, journalists, students organisations and rights groups. During General Zia’s persecution of the PPP and the left wing, the genuine civil society groups were ruthlessly crushed by the military establishment and puppets installed in the media, NGOs, and the JI and other right-wing activists were promoted to the rank of ‘civil society. The label of ‘civil society’ was thus expropriated by the urban middle class opportunists, for sale consultants and media advisers and the lackeys of the ISI and the JI.

What we have today is overly made-up aunties and Che T-shirt wearing urban middle class on the establishment’s payroll. They are afraid of mullahs because they fear their scotch and fun stuff will be taken away by their co-servants of the right-wing.

2. The PPP and the civil society are natural allies.

A naked lie. The PPP has been slaughtered at the hands of the military establishment. Its struggle is against powers of oppression. While the present, FAKE civil society of aunties, uncles and burgers has always been a partner of the establishment who have always shared the booty with their masters. Their interests are common, their socio-economic class, vocabulary, hobbies and lifestyle are common.

The Fake Civil Society’s (FCS) heroes are judges (Ifiakhar Chaudhry, Ramday) and generals (Hameed Gul, Kayani etc) who protect and promote extremism and are staunch enemies of the PPP and the people. The PPP’s heroes are ZA Bhutto and BB who were killed by judges and generals.

The PPP and the fake civil society do not share heroes and enemies; one’s enemy is other’s hero.

3. Civil Society and PPP can work together.

The present fake civil society is, for all practical purposes, establishment’s extension. Their main target is the PPP. They can back-stab but can never be PPP’s allies.

4. Should the PPP isolate itself from the civil society?

Another wrong premise. The PPP has always maintained strong bonds with the genuine civil society, not the fake civil society chatterers who are only to be found on facebook and Twitter, not in the streets, cities and villages of Pakistan.

i) The PPP Lawyers Wing has won every election from District Bar to Pakistan Bar and Supreme Court Bar against the establishment’s sponsored/Chief Justice /PTI group. The PPP has strong roots and support in the genuine civil society, i..e, society of the people of Pakistan, not fake society comprising a few dozen urban chatterers.

ii) The PPP has won every trade union election from the PIA, Steel Mills to Ittefaq Foundries. The labour, rickshaw, wagon, farmers union make biggest support base of the PPP.

iii) The PPP works closely with genuine Human Rights groups like HRCP, genuine journalists, students and women’s rights groups. As a matter of fact, the PPP has always recognised genuine rights workers and awarded medals/national honours to journalists, teachers, rights activists.

The Alliance?

We are willing to work with all groups, persons and organisations who genuinely believe that oppression cannot end unless the real architects of the oppression and religious extremism are identified, confronted and defeated. The judges and generals alliance, mullahs and extremism are just a creation of the dark forces of Aabpara, who have willing tools and naive fools as their operatives in Pakistan’s fake civil society.

We have a strong bond with genuine Civil Society. However, the establishment’s installed fake Civil Society cannot be our ally. Example are journalists and media groups voicing Taliban and Sipah-e-Sahaba, media persons and bloggers silent on the Baloch genocide and the Shia genocide, lawyers showering rose petals on shaheed Taseer’s murderer, fifth columnists drumming up “the-PPP-good-Zardari-bad” theory. They are on the other side of the divide.

That tiny, noisy crowd is FAKE, not genuine, civil society. They deserve neither alliance nor honour!

About the author



Click here to post a comment
  • Civil society is a term for those who like to sit in drawing rooms and discuss politics endlessly, living in a world of utopia. They believe in bridging the gap between rich and poor, yet they have servants and drivers who are not well taken care of. They want to have labor rights in the country but will not be willing to give them to those who work for them. They like to talk about paying taxes, but have evaded taxes through their own businesses.
    They have so many traits. They cannot co-exist with the PPP for the simple reason that PPP contests and either wins or loses elections. They on the other hand stay at home on election day sleeping while remaining up all night commenting on election results.

  • قصور کس کا؟… ایازا میر

    اب یہ کوئی توہین رسالت کا مسئلہ نہیں رہا ہے ، یہ سب سیاست ہو رہی ہے۔ وہ مذہبی طاقتیں جن کو گزشتہ انتخاب میں شکست فاش ہوئی تھی ، اب انہیں انتقام کی وجہ مل گئی ہے۔ آسیہ بی بی کی توہین رسالت کیس میں سزا سے شروع ہونے والا یہ معاملہ عملی طور پر نومبر میں ختم ہوگیا تھا جب حکومت نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ اس قانون میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے اور کوئی قابلِ ذکر حکومتی عہدیدار سلمان تاثیر کے نقطہ نظر کی حمایت نہیں کر رہا تھا۔

    کے انتخابات نے جماعت کو پیوند خاک کردیا جب اس نے ان کا بائیکاٹ کرنے کی غلطی کی اور ضمنی انتخابات میں اس کی کارکردگی نے اس کی دگرگوں ہوتی ہوئی سیاسی حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ جماعت کا توہین رسالت کیس کو ایشو بنانا اپنی ایک کوشش ہے۔ اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جماعت اپنی احتجاجی سیاست کی کامیابی کو کبھی بھی انتخابی کامیابی میں تبدیل نہیں کر سکی ہے۔ اب ہمیں اس معاملے کو براہ راست دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    مولوی صاحبان میدان میں کود چکے ہیں ، اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں ، بلکہ اس لیے کہ اُن کی مخالف طاقتیں کمزور اور بے سمت ہیں اور اُ ن کے پاس اس جنگ کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے

    مولوی صاحبان کبھی بھی پاکستان میں اقتدار میں نہیں رہیں اور ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے( مشرف دور میں ایم ایم اے کا صوبہ سرحد میں حکومت اس زمرے میں نہیں آتی ہے)۔ آج پاکستان جو بھی ہے ، جن اتھاہ گہرائیوں میں گر رہا ہے ، جن ناکامیوں سے دوچار ہے، جن حماقتوں کی طرف پوری تندہی سے گامزن ہے وہ انگریزی بولنے والے طبقہٴ شرفاء کی مہارت کا شاہکار ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے تمام تر اعمال میں سیکولر ہیں ، تاہم یہ مر جائیں گے مگر اپنے آپ کو سیکولر نہیں کہلائیں گے۔

    مولوی ہمارے امریکہ کے ساتھ مختلف معاہدوں ۔۔۔
    Cento اور Seato ،
    انڈیا کے ساتھ ہماری مہم جوئی،جہادی کلچر کو فروغ چڑھانے۔۔۔ کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ موخر الذکر المیہ فوج، جس کی قیادت جنرل ضیاء کے پاس تھی، کا شاہکار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی عناصر اس کھیل میں بڑی لگن سے شامل ہو گئے مگر بہرحال وہ اس کے موجد نہ تھے۔ وہ سازندے تھے نہ کہ موسیقار۔

    پہلی دستور ساز اسمبلی نے دستور تو نہ بنایا جو اسکی ذمہ داری تھی بلکہ ایک ایسے موضوع، قراردادِ مقاصد، پر فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے جس سے کسی کو بھی عملی فائدہ نہ تھا ۔ یہاں بھی مذہبی رہنما ذمہ دار نہ تھے بلکہ مسلم لیگ کی قیادت۔

    نظریئہ پاکستان کی اصطلاح جنرل یحییٰ خان کے وزیرِ اطلاعات میجر جنرل نوابزادہ شیر علی خان کی ٹکسال کردہ ہے۔ یہ تصور کہ انڈیا پاکستان کا جانی دشمن ہے او ر اس کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، کسی مدرسے نہیں بلکہ یہ ہماری دفاعی حکمتِ عملی کا جزو لاینفک جی ایچ کیو کی پیداوارہے اور اس میں بڑی حد تک جاگیردارانہ ذہنیت کارفرما ہے۔ ہمارا شکستہ نظامِ تعلیم ہمارے انگریزی بولنے والے طبقے ، جس نے کبھی بھی پورے ملک کے لیے یکساں تعلیمی پالیسی، کتب اور نصاب اور ذریعہ تعلیم رائج کرنے کی زحمت نہیں کی، کا عطا کردہ ہے۔ فوج ، جس نے پاکستان پر راج کیا ہے، اسکے علاوہ مرکزی سیاسی جماعتیں بھی اقتدار میں رہی ہیں۔ پاکستان کی ناکامی دراصل ان سب کی ناکامی ہے۔ مذہبی جماعتیں تو ثانوی کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے جتنا بھی فائدہ اٹھا سکیں اٹھایا مگر ان کے پاس قوت فیصلہ کبھی بھی نہ تھی۔ یہ پاکستان کے طاقتور جنرلز، سیاست دان اور اسکے ساتھ تعاون پر آمادہ کوتاہ نظر بیوروکریٹس تھے جن کی اگائی ہوئی فصل آج پک چکی ہے۔

    اگر مذہب کا دنیاوی مقاصد کی بجا آوری کے لیے غلط استعمال ہو ا، جیسا کہ ہمارا افغانستان میں نہ ختم ہونے والا جہاد، جس نے ہمارے قومی ماحول کر زہر آلود کر دیا ہے اور گفت و شنید کی فضا گھٹن زدہ ہے تو یہاں بھی قصور اربابِ اختیار کا ہے۔ وہ حالات و واقعات کو تبدیل کیوں نہ کرسکے جب کہ اُن کے پاس وقت تھا اور وہ ایسا کر سکتے تھے۔ یہ درست ہے کہ ضیا دور نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے پاکستان کو مسخ کر دیا، اور بلاشبہ اُس نے ایسا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا۔ لیکن اُس کو رخصت ہوئے 22 سال ہو چکے ہیں، اور یہ اُس کے لگائے ہوئے چرکوں کو مندمل کرنے اور اُس کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے کافی وقت تھا۔ لیکن اگر آج بھی اس کے دور کی سوچ کی بہت سے مندروں میں پوجا ہو رہی ہے تو قصور کس کا ہے؟ آج کا پاکستان جناح کا پاکستان نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم حصولِ پاکستان کے اصل مقاصد کی طرف نہ لوٹ سکے تو یہ پاکستان کے سیکولر حکمرانوں اور فوجی جنرلز کی کج فہمی اور بے بصری ہے۔ ہم مذہبی طبقے کو کیوں موردِ الزام ٹھہرائیں؟

    یہ مولوی نہیں ہے جو حکمران طبقے کو ڈراتا ہے، بلکہ وہ تو اپنے ہی سائے سے خوفزدہ ہے۔ ہمارے حکمران خود اپنے دماغ، اگر کبھی ان کے پاس تھا، سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ غیر ملکی تصورات یا اپنے تخیلات کے دریا کے شناور ہیں۔ یہ ہمارے انگلش بولنے والے طبقے یا نام نہاد سول سوسائٹی جو کسی پوش علاقے کی مارکیٹ میں کیمروں کے سامنے موم بتیاں جلا کر اپنے فرائض منصبی سے دستبردار ہو جاتی ہے، کے بس کی بات نہیں کہ ان مذہبی افواج کے مدِ مقابل آئیں۔ اس مقصد کے لیے تمام منظر نامے میں نیا رنگ بھرنا ہوگا۔ یہ پاکستان کی ریاست کا مسئلہ ہے، اس کے اداروں کا مسئلہ ہے، اس کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے عقائد و نظریات کی درستگی کا معاملہ ہے اور ہم نے ان سب مسائل سے نبردآزما ہوتے ہوئے اپنی حماقتوں بھری ڈگر سے ہٹ کر عقل کی راہ لینی ہے۔ اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بدستور بھارت کو اپنا دشمن گردانتی ہے اور ہمارے لیے ناقابل برداشت اسلحے کی دوڑ میں الجھ کر اس پر بے اندازہ رقم خرچ کرتی ہے ، افغانستان میں ہونے والی ہمارے لیے بے معنی پیش قدمیوں میں ملوث ہوتی ہے اور اپنے ملک کی معاشی بدحالی سے لا تعلق رہتی ہے تو ہم ان مسائل پر کبھی بھی قابو نہیں پا سکیں گے۔ لہٰذامولوی ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو ایک بہت بڑے فساد کی محض ظاہری علامت ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ غلط تصورات کے مارے ہوئے جنرل اور نااہل سیاست دان ہیں اور جب تک یہ درست نہیں ہوتے، مولویوں کی افواج پیش قدمی کرتی رہیں گی۔

    Ayaz Amir


  • @Rizwan

    Thank you for the link. Here is an extract from the English version of Mr Ayaz Amir’s article

    It is not a question of the English-speaking classes – our so-called civil society with its small candle-light vigils, usually in some upscale market – standing up to the clerical armies. This is to get the whole picture wrong. It is a question of the Pakistani state – its various institutions, its defence establishment and the creeds and fallacies held dear as articles of faith by this establishment – getting its direction right and then creating a new consensus enabling it to retreat from the paths of folly.

    If the Pakistani establishment continues to see India as the enemy, keeps pouring money into an arms race it cannot afford, is afflicted by delusions of grandeur relative to Afghanistan, and remains unmindful of the economic disaster into which the country is fast slipping, we will never get a grip on the challenges we face.

    The raging cleric, frothing at the mouth, is thus not the problem. He is merely a symptom of something larger. Pakistan’s problem is the delusional general and the incompetent politician and as long as this is not fixed, the holy armies of bigotry will remain on the march.


  • via Humza Ikram

    A specimen of the saviours restored by the ‘fake’ civil society

    Judge says no to arrest warrants for clerics
    From the Newspaper
    (5 hours ago) Today
    By Munawer Azeem
    ISLAMABAD, Jan 17: An anti-terrorism court (ATC) judge in Rawalpindi on Monday refused to issue warrants for the arrest of two clerics whose fiery speeches reportedly provoked the Elite Force official to assassinate Punjab Governor Salman Taseer, police said.

    The investigators in the governor’s assassination case submitted an application to the ATC Judge Malik Mohammad Akram Awan seeking warrants for the arrest of the clerics – QHQ and IS.

    The investigators pleaded that the governor’s assassin Malik Mohammad Mumtaz Qadri had told them that he got motivated from the speeches of the two clerics which they delivered in a religious congregation held near his house in Sadiqabad, Rawalpindi, on December 31, 2010.

    The court was informed that the two clerics would be interrogated about their speeches during which they had reportedly justified killing of any blasphemer.

    Though Mumtaz Qadri told the investigators that he was solely responsible for the assassination but he also admitted that he was motivated by the speeches of the clerics and killed the governor considering him a blasphemer, the court was further informed. After hearing the arguments, the judge, however, refused to issue the warrants for their arrest.

    Police said QHQ was employed as a teacher at Madressah Darul Uloom Zia, Chirah Road in Muslimabad, Rawalpindi, while the other cleric was working with Amna Masjid in the same locality.

    Shortly after the killing of the governor, the two clerics relocated to another religious seminary in the city to avoid arrest. The investigators feared that there would be law and order problem if they raided the seminary to arrest the two men because over 2,000 students were living in the institution.

    Meanwhile, Chief Commissioner Islamabad Tariq Mehmood Pirzada in a notification ordered hearing of the governor’s killing case and trial of the assassin inside the Adiala Jail due to security concerns and law and order situation.

    The notification was issued in response to a request made by the capital police on January 10.

    A letter sent from the office of the senior superintendent of police (SSP) Islamabad to the capital administration stated that the police were expecting security issues and law and order situation in Islamabad and Rawalpindi during the hearing of the case.

    The police also expressed the fear that the prosecution and defence counsel’s arguments over the motive of the assassination of the governor during the hearings could also provoke people and hurt their sentiments leading to more complications for the law enforcers.

    The shifting of the assassin to Pims, DHQ hospital and the anti-terrorism court in Rawalpindi after his arrest was kept secret by the police.


  • امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے آلہ کار این جی او والوں اور امریکہ کی چاپلوس زرداری حکومت میں کیا فرق ہے . ان کا ایک ہی دین دھرم ہے پیسہ پیسہ

  • Some tips to identify GHQ / ISI’s stooges in Pakistani media:

    1. They published fake stories of fake divisions between ISI & CIA (Raymond Davis saga)

    2. They provide/d undue publicity to renegades of the PPP (Sherry Rehman, SMQ) while ridiculing loyalists, e.g. Babar Awan, Rehman Malik

    3. They mix one oz of truth with one ton of lies. While they cosmetically criticize ISI/GHQ, their main guns remain focused on PPP & PML-N

    4. Their coverage remain clearly urban centric. They totally ignore or twist Baloch genocide and Shia genocide by the GHQ and its proxies.

    5. They completely blackout Saudi Arabia’s ugly role in crushing people’s revolutions in Bahrain, Yemen and Saudi Arabia.

    6. They spread lies that murder of Salmaan Taseer and Shahbaz Bhatti was an act of violence by a lone wolf.

    7. They write on petty issues (e.g. Veena Malik, Angelina Jolie) while completely blacking out the massacres in Parachinar and Khuzdar.

    8. They always try to cover up GHQ’s ugly role in sectarian & jihadi violence by saying: “can’t say for sure”, “it’s too complex”

    9. They present themselves as true sympathizers of PPP while trying to undermine its very leadership, organization and government.

    10. Some of them often enjoy special resources and attention of GHQ while writing misrepresenting reports on FATA and Balochistan.

    11. Some of them operate commercial NGOs to sell stories of women’s and poor people’s oppression to earn a few dollars and fame.

    Conclusion: The ghus-bethias of #FCS in Pakistan’s mainstream and social media are more dangerous than their bloodthirsty Talib colleagues.