Original Articles Urdu Articles

humara hero pagal hai – by Khalid Wasti


ہمارا ہیرو پاگل ہے
============

ممتاز قادری کی ویڈیوز دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح الدماغ شخص نہیں ہے – اب اس انبوہ  ِ کثیر کے بارے میں کیا کہا جائے جو ایک فاتر العقل کو اپنا بلکہ عالم  ِ اسلام کا ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہیں ؟

سلمان تاثیر کے پس ِ پردہ قاتلوں کی اپنے” پیشے” میں مہارت دیکھیئے کہ کتنی ” خوبی ” سے اس قتل کو ممتاز قادری کا انفرادی فعل قرار دلوا دیا ۔۔۔۔۔

“غیر مرئی” قاتلوں تک پہنچنے کے امکانات ختم نہیں ہوئے –  قادری کے محکمانہ افسران کو شامل ِ تفتیش کیا جائے – اس کی اب تک کی سالانہ کانفیڈینشل رپورٹس لکھنے والے تمام لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ انہیں بندر کے ہاتھ میں استرا کیوں نظر نہیں آیا ؟ قادری تو ایک راکٹ تھا – لانچ کرنے والے راکٹ تیار ہی نہیں کرتے بلکہ تیار شدہ راکٹوں پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں کہ وہ ” مطلوبہ ہدف ” سے ادھر ادھر نہ ہونے پائے اور “صحیح ڈائریکشن” میں چلتا چلا جائے – بوقت ِ ضرورت اس کا رخ موڑ دیا جائے ، اس ” ہنر مندی” کے ساتھ کہ راکٹ اسے اپنا انفرادی فعل قرار دے – پھر غیر مرئی طاقتور چہرے ، تفتیش کرنے والے ” افسران ِ زیریں ” کو حکم دیں کہ ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ملزم کے بیان کی روشنی میں آگے چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں سلمان تاثیر کیس بھی لیاقت علی خان کیس اور بینظیر بھٹو کیس بن جائے

ملزم کے بیان کے مطابق قتل سے تین دن پہلے وہ راولپنڈی کی ایک مسجد میں جلسہ سننے گیا تھا – ننانوے فیصد امکان ہے کہ وہ اس جلسے میں اکیلا نہیں گیا تھا بلکہ غیر مرئی طاقت کا کوئی آلہءکار اسے ساتھ لے کر گیا تھا پٹرول ڈلوانے اور فائنل فنشنگ کے لیئے – اگر یہ کھوج لگ جائے کہ ہمارے اس ” غازی” کے ساتھ کون شخص تھا تو اس پوائنٹ سے بھی کھرا آگے چلایا جا سکتا ہے – خدا کرے کہ اس دیوانے کے پیچھے کسی فرزانے کا سراغ مل جائے اور خدا کرے کہ قادری کو تختہ ء دار پر کھینچنے کی ذمہ دار طاقتیں دین فروشوں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیں

About the author

Khalid Wasti

Born in Punjab, Pakistan in 1953. Worked in UBL for 23 years. Migrated to the USA in 2002.
As a poet I have been published in prominent Urdu magazines in Pakistan & India.

10 Comments

Click here to post a comment
  • hero bhi pagal hai, iss kay chahnay walay bhi pagal hain. yeh mumlikat-e-khudad aik pagal khana hai

  • ممتاز قادری کا نفسیاتی خاکہ

    عنبر شمسی
    بی بی سی اردو

    ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے

    واقعہ تو چار جنوری، کوئی چار بجے ایک بھرے بازار میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کا ارادہ اس نے پانچ دن قبل ایک جلسے میں ایک مولانا کی اشتعال انگیز تقریر سن کر کیا۔ جب اس نے اعلیٰ سطح کے کئی رہنماؤں کو نشانہ بنانا چاہا تو آسان ہدف سلمان تاثیر ملا۔ نفیساتی ماہروں کا کہنا ہے کہ قصہ تو اس سے بھی پہلے کا ہے۔

    چند سال پہلے، پنجاب کی ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار کی اقوام متحدہ کے مشن کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی لگی۔ مشن کے افراد کے لیے ٹیکسی روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹیکسی والا رکا نہیں۔ جو بندوق اس مشن کے اراکین کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی، مشتعل اہلکار نے اسے غصے میں چلا دیا۔

    قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟
    ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آْباد بنیامین
    اس واقعہ میں خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، نہ ہی کوئی ہلاک، لیکن اس محافظ کی ذہنیت واضح ہوگئی۔ انگریزی میں اس کو ’ٹریگر ہیپی‘ کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شخص جو بغیر سمجھے سوچے گولی چلا دے۔ یہ ٹرگر ہیپی اہلکار، سلمان تاثیر کے قتل میں ملوث ملک ممتاز قادری تھا۔

    دنیا بھر میں مجرموں کی شخصیت اور نفسیات کا ایک نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ جرم پہلے سے طے شدہ تھا یا جذبات کی رومیں بہہ کر کیا گیا۔ جو مجرم منصوبے کے تحت جرم کرتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غلط یا صحیح میں تفریق کرسکتے ہیں، وہ پاگل نہیں ہوتے اور انہیں اپنے فعل پر کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

    ممتاز قادری کا جرم تو عدالت میں ہی ثابت ہو گا، لیکن اس کے بارے میں گورنمنٹ کالج کے کلینکل نفسیات کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا: ’ایسے لوگوں کے لیے ان کا جذبہ یا ایمان، ان کی سب سے عالی قدر ہے۔ اس لیے ان کو افسوس نہیں ہوتا اور وہ آخر وقت تک یہی کہیں گے کہ میں نے درست کیا‘۔

    راولپنڈی کے رہائشی، میٹرک پاس، چھبیس سالہ ممتاز قادری کے بارے میں اس کے بھائی دل پزیر اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی ’انتہائی شریف النفس، انتہائی باادب اور ملنسار تھا۔ وہ بہت نمازی تھا۔ ہم سب بھائیوں میں چھوٹا تھا لیکن ہم سب سے زیادہ دین دار تھا۔‘

    لیکن گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سپیشل آپریشنز اسلام آباد بنیامین نے کچھ اور بتایا۔ ’یہ کہناغلط ہے کہ وہ مکمل طور پر مذہبی تھا۔ اس کے پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا دار تھا، کبھی داڑھی منڈوا لیتا تھا تو کبھی بال لمبے رکھتا اور اس کے عشق بھی چلتے رہے ہیں‘۔

    ممتاز قادری کی ایک ایسی ویڈیو بھی انٹرنٹ پر دستیاب ہے جس میں وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے نعت پڑھ رہا ہے۔

    بنیامین نے مزید کہا ’قادری توہینِ رسالت کے ملزمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا ہے، ان کو کورٹ کچہری تک لاتا رہا ہے۔اگر وہ واقعی اتنا پکا عاشقِ رسول تھا تو ان کو کیوں نہیں مارا؟

    جب قادری نے سلمان تاثیر کے ساتھ اپنی ڈیوٹی لگوائی، تو بنیامین کے بقول ’اس کو ہیرو بننے کا چانس ملا۔‘

    دوسری طرف دل پزیر کہتے ہیں کہ قادری محلے بھر کا کوڑا جمع کرکے مسیحی کوڑے والوں کو دیتا تھا۔ ’آپ ان کوڑے والوں کو پوچھیں، جو مسیحی ہیں، کہ گھر کا کوڑا کون سنبھالتا تھا۔ وہ اتنا باادب تھا۔‘

    مگر بنیامین نے اس بات کی تصدیق کی کہ سپشل برانچ نے ممتاز قادری کو گیارہ دیگر اہلکاروں سمیت سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ ’ان سے ہم نے رپورٹ طلب کی ہے، اور اس بنا پر اس کو گورنر تاثیر کی ڈیوٹی پر نہیں لگانا چاہیے تھا۔‘

    پروفسر ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ جن لوگوں میں تشدد کا رحجان پایا جاتا ہے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ ’ان کی بہت بڑی نشانی ان کا ماضی کا کردار ہوتا ہے جو ان کے مستقبل کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ایسے شخص کے ماضی میں کئی جگہ ایسا ہوا ہو کہ وہ بے قابو ہو گیا ہو تو یہ اس کی ذہنی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔‘

    بنیامین کہتے ہیں ’اس کی جذباتی سی طبیت تھی۔ تو اگر بندوق اس کے ہاتھ میں ہو تو پھر اس طرح کا آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔اس سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔‘

    تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسے شخص کو وی آئی پی کے تحفظ کے لیے کیوں رکھا گیا۔

    ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نفسیاتی سکریننگ ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود میجر نڈال جیسی مثالیں ملتی ہیں۔ سال دو ہزار نو میں ایک امریکی مسلمان میجر نے فوجی اڈے میں گولیاں مار کر اٹھارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو نفسیاتی سکریننگ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایسے دوبارہ نہیں ہوگا۔

    سلمان تاثیر کے کیس کے بارے میں ڈی آئی جی پولیس نے کہا: ’میری چھبیس سال کی نوکری میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ورنہ پولیس کانسٹیبل تو بڑے تابع دار ہوتے ہیں۔‘

    لیکن ایک سابق آئی جی پولیس اور کمانڈنٹ قومی پولیس اکیڈمی، چودھری یعقوب کہتے ہیں کہ معاشرے میں جو صورت حال ہے، پولیس اہلکاروں کی ’سکریننگ بہت ضروری ہے تاکہ مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے کہ ان کے کس قسم کے رحجانات ہیں۔‘

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110113_qadri_profile_rza.shtml

  • میرا تائثر یہ ہے کہ اس نفسیاتی کیفیت اور ساخت کے شخص کا پولیس کے محکمہ میں موجود ہونا “بازیگروں” کے علم میں تھا — ملازمت سے فارغ کر دینے سے کہیں بہتر سمجھا گیا کہ اس شخص کو” ملک کے وسیع تر مفاد” کی خاطر حسب ِ ضرورت استعمال کیا جانا “نیک مقاصد” کو آگے بڑھانے کے لیئے بہتر ہے – چنانچہ ریزرو میں موجود اس راکٹ کو مرحلہ وار اپنے ہدف کی طرف بڑھانے میں نادیدہ قوت کا ہاتھ کارفرما ہے –

  • I’m still unable to comprehend how the murderer was able to reload without any intervention from the rest of the guards.
    The extremists have always wished to infiltrate the armed forces as well as the security forces. Looks like they are succeeding in their aim.

  • @zia m, I personally feel that when he was shooting salmaan taseer, the other guards must have been shocked. They must have thought, banda to marr hee gaya hay, humaray oopar ilzam aa jaye ga to be part of the sazish.

  • ic junnony pagal k pechy zaror koi khufia hath hai. Hamari govt ko purzor apeal hai k un na deedah hathon ko benakab kia jaey