Original Articles Urdu Articles

Benazir Bhutto – ik kaneez-e-karbala

Benazir Bhutto 21 June 1953 – 27 December 2007


بیاد بے نظیر بھٹو


(کاوش: عبدل نیشاپوری)


اک کنیز کربلا اور اک گروہ اشقیا
اک گلوۓ بے خطا اورایک تیر حرملہ
روشنی کے چارسو تھی ظلمت فکر ضیا٭


در پۓ آزار تھے اس نور بے تمثیل کے
ملا و جرنیل و منصف اور ان کے ہمنوا


دست قاتل ایک تھا منصوبہ فرما تھے ہزار
فوجی استعمار کی کیجے مذمّت بار بار

٭ باقیات جنرل ضیاالحق

———

Related posts: Benazir Bhutto and Karbala – by Naseer Ahmed
Tum kitne Bhutto maro gey – by Hasan Mujtaba‏

About the author

Abdul Nishapuri

10 Comments

Click here to post a comment
  • Yazid and Zia are alive just like Hussain (AS) and Benazir are alive. We must not let the Y-Z win. Evil will continue to challenge Good. It is up to us where to stand.

  • Comment by email:

    By M. AMjad RAshid

    Today……..
    Exactly 2 years have passed………..
    the black day in pakistan history……………
    Our B.B was martyred………………
    Today is 27th December the day of AASHOORA E MUHARRAM & the day of B.B’s murder.
    This was not only B.B’s murder but infact it was the murder of whole nation.
    B.B said that now her own children are capable of their own care, so now it is time to come for the millions children of Pakistan.
    B.B said that those children are also her own children. It was B.B who made possible democracy back in our country.
    The millions of fans all over the world miss you B.B.
    JIYE BENAZIR………………

    M. AMjad RAshid

  • Those….. were….. the ….days …..when …she ….was ….amongst …us…..
    Remembering…….. her.
    with…….. tearful …….eyes.

  • یہ چراغ کس نے بجھا دیا‘
    ظفر سید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    آخری وقت اشاعت: جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 12:39 GMT 17:39 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    عام طور پر اچھے شاعر روزمرہ واقعات کو موضوع نہیں بناتے لیکن آج سے ٹھیک پانچ سال قبل پیش آنے والا یہ سانحہ واقعے کی سطح سے کہیں بلند ہو گیا تھا۔ اس لیے جوں ہی غم کے بادل چھٹے، نظموں اور غزلوں کی جھڑی لگ گئی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں اردو شعرا نے اس سانحے پر لکھا ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔
    اسی بارے میں
    بینظیر قتل مقدمے میں مارک سیگل طلب
    متعلقہ عنوانات
    فن فنکار
    ذیل میں بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت سے متاثر ہو کر رنگارنگ اصناف، ہیئتوں اور انداز میں لکھی جانے والی منظومات کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
    احمد فراز نے اپنا غم غزل کی شکل میں کاغذ پر انڈیل کر رکھ دیا:
    سارا شہر بلکتا ہے
    پھر بھی کیسا سکتہ ہے
    گلیوں میں بارود کی بو
    یا پھر خون مہکتا ہے
    کشور ناہید نے دوہے کی قدیم صنف اختیار کی:
    چار کہار تری ڈولی اٹھائے
    کس کے گھر جاوت ہیں
    تو تو گھر کی رانی تھی
    کیوں مٹی ڈالت ہیں
    قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو شعرا نے مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا ہے۔ تاہم ان تخلیقات کا جائزہ لینے پر کچھ پیٹرن بھی نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی شعرا نے اس سانحے کو واقعۂ کربلا کے تناظر میں رکھ کر پیش کیا ہے:
    مسلم شاہین
    کوفہ نیا بسا ہے نئی کربلا سجی
    شہرِ وفا کی بیٹی سوئے کربلا چلی
    میاں محمود عامر
    دہر میں پیروکارِ زینب تھی
    اس میں بوئے وقارِ زینب تھی
    ریحانہ روحی
    پھر سرخ رو ہوئی ہے پسِ مرگ زندگی
    پھر کربلا میں مات ہوئی ہے یزید کی
    فاضل جمیلی
    یزیدِ وقت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئی
    سلام ہے تجھے بی بی، سلام ہے بی بی
    کچھ شعرا کو شادی کے موقعے پر دلھن کی رخصتی کا منظر یاد آ گیا:
    شبنم شکیل
    اب مجھ کو رخصت ہونا ہے، اب میرا ہار سنگھار کرو
    کیوں دیر لگاتی ہو سکھیو، جلدی سے مجھے تیار کرو
    محمود شام
    ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی
    ایسے بیٹی کو تو میکے سے نہیں بھیجتے ہیں
    دوسری طرف ستار سید نے حملے والے دن کے مناظر کی منظر کشی بڑی وارفتگی سے کی ہے:
    ہار مہکے ہوئے پھولوں کے گلے میں رقصاں
    عرش سے حور کوئی جیسے زمیں پر اترے
    مسکراہٹ میں عجب نشہ ظفریابی کا
    آسماں کم قدوقامت میں تھا تجھ سے اس دن
    عابدہ تقی نے بے نظیر کے آخری لمحوں کا احوال کچھ یوں بیان کیا ہے:
    وہ دستِ سیمیں ہمیں الوداع کہتا ہوا
    لبوں پہ کھلتا تبسم حیات افزا وہ
    کلائی محوِ تکلم ہوا میں پرچم سی
    غزل کے خوش رنگ و تازہ کار شاعر نذیر قیصر نے غزل کی ہی شکل میں نذرانہ پیش کیا:
    پھر لہو صبح کا ستارہ ہوا
    پھر وہی سانحہ دوبارہ ہوا
    آسماں آنسوؤں میں ڈوب گیا
    سرخ رو شام کا کنارہ ہوا
    ثروت زہرا نے بھی شام کی سرخیوں کا منظر عمدگی سے بیان کیا ہے:
    ہر روز شفق کی سرخی میں
    میں ہر آنگن میں پھیلوں گی
    تم جسم کو گولی مارو گے
    میں روح کی صورت ابھروں گی
    نذیر قیصر نے فقط شام کو سرخ رو دکھایا تھا، فہمیدہ ریاض نے پوری قوم کو نواز دیا:
    یہ نام جگمگا رہا ہے آج چار کھونٹ میں
    سلام بے نظیر، آج ہم بھی سرخ رو ہوئے
    شاہدہ حسن نے لمبی بحر میں بڑے رواں دواں اشعار لکھے ہیں:
    ابھی رات ہی کا اندھیر ہے، ابھی صبح ہونے میں دیر ہے
    مری ارضِ جاں تری خیر ہو، یہ چراغ کس نے بجھا دیا
    اس موقعے پر پیر گولڑہ شریف نے بھی ایک طویل غزل لکھی ہے:
    یہ تختِ فاخرہ پہ تاجدار بیٹھے ہیں
    کہ تیرِ وقت کی زد میں شکار بیٹھے ہیں
    تو پھر الطاف بھائی کسی سے کیوں پیچھے رہتے؟ یہ اور بات کہ انھیں شاعری کے نہیں، صرف حوصلہ افزائی کے نمبر دیے جا سکتے ہیں:
    اور ہوا دھماکا زور سے پھر
    اور باپ سے وعدہ کرنے والی
    وعدوں کو پورا کرتے کرتے
    ہمیشہ کے لیے خاموش ہوئی
    اسد رضوی نے اپنی مختصر نظم میں ایک ماہر مصور کی طرح چند برش سٹروکس سے دل کو چھو لینے والا منظر کاڑھا ہے:
    پیڑ زیتون کا ہوا زخمی
    کرگسوں کے پلید پنجوں سے
    شاخِ انجیر سر برید ہوئی
    امن کی فاختہ شہید ہوئی
    اور آخر میں افتخار عارف کے دعائیہ اشعار پڑھیے جو ایک گمبھیر تان کی طرح اٹھ کر فضا میں پھیل جاتے ہیں:
    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل، دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل، دعا کیے جائیں
    غبار اڑاتی، جھلستی ہوئی زمینوں پر
    امنڈ کے آئیں گے بادل، دعا کیے جائیں
    ظاہر ہے کہ یہ تمام مثالیں موضوعاتی شاعری کی ہیں جو ایک جاں کاہ صدمے کے فوری ردِ عمل میں تحریر کی گئیں تھیں، اس لیے ان میں کسی اعلیٰ فن پارے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ پھر بھی اس مختصر جائزے سے ہمارے شعرا کی حساسیت، جذبے، اور خلاقی کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/12/121226_benazir_murder_poetry_zis.shtml