Original Articles Urdu Articles

سید خورشید شاہ پہ الزام کیا ہے؟ – عامر حسینی

نیب کی طرف سے سید خورشید شاہ پہ2005ء میں 475 ایکٹر (قریب قریب 19 مربعے) 179 ملین روپے میں خریدنے کا الزام ہے جو اُن کی ظاہر کردہ آمدنی کے باعث اُن کی قوت خرید سے باہر تھی – جبکہ سید خورشید شاہ کا موقف ہے کہ انھوں نے یہ زمین محض 6 ملین روہے (60 لاکھ) میں خریدی ہے- اور وہ 60 لاکھ کا بیع نامہ بھی عدالت میں جمع کروایا ہے

پی پی پی کے اس موقف میں تو کوئی دوسری بات نہیں ہے نیب، ایف آئی اے، عدالتوں کا رویہ پی پی پی سے امتیازی سلوک کا ہے

دوسرا سوال یہ ہے پاکستان میں وہ کون سا علاقہ ہے جہاں پہ ہمیں آج سے سولہ سال پہلے 25 ایکٹر یعنی ایک مربعہ اراضی تین لاکھ کے قریب اور فی ایکٹر اراضی ساڑھے بارہ ہزار روپے میں میسر تھی؟

پھر دوسرا سوال میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ سید خورشید شاہ نے اگر واقعی 19 مربع اراضی کی سیل ڈیڈ 60 لاکھ کی ظاہر کی ہے تو نیب سید خورشید شاہ کو صرف اسی ایک اوپن اینڈ شٹ کیس میں سزا ابتک دلا کیوں نہیں سکا؟

جو سیل ڈیڈ ہیں اس اراضی کی اُس پہ مختلف ضلعی کلکٹرز کی اسٹمپ ڈیوٹی ہیں، اگر 60 لاکھ قیمت غلط ہے تو جن کلکٹرز نے یہ بیع نامہ منظور کیا اُن کو حراست میں کیوں نہیں لیا گیا – حلقہ پٹواری یا مختیار کار کو کیوں نہیں پوچھا گیا؟

پھر ہر علاقے کی زمین کا سرکاری ریٹ طے ہوتا ہے کیا جہاں جہاں یہ اراضی خرید کی گئی وہاں زمین کے شیڈول ریٹ سے اسے ٹیلی کیا گیا؟

سید خورشید شاہ کے وکیل مخدوم سلطان علی خان نے سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ کو بتایا 19 مربع اراضی کی سیل ڈیڈ پہ جن کلکٹرز نے دستخط کیے اور اسٹمپ ڈیوٹی لگائی اُن سے بلاکر پوچھ لیا جائے

نیب نے 21 ماہ میں اپنی طرف سے 40 گواہوں کی فہرست میں سے اب تک چار گواہ ہی پیش کیے ہیں….. یعنی نیب کی اس رفتار یعنی نیب چھے ماہ میں ایک یا دو گواہ لا سکا ہے تو گواہوں کے بیانات ہی قلمبند ہونے میں نیب کو مزید کُل 240 ماہ درکار ہوں گے اور یہ کل 20 سال بنتے ہیں

سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے درخواست ضمانت پہ سماعت کے دوران نیب سے یہ نہیں پوچھا کہ آخر اُس کے پراسیکوٹرز اس کیس کو اتنا لمبا کس لیے کھینچ رہے ہیں؟

آخری بات یہ ہے اگر واقعی سید خورشید شاہ 475 ایکٹر اراضی کی قیمت خرید 60 لاکھ روپے بتاتے ہیں تو اس سے بڑا مذاق اور کوئی نہیں ہوسکتا