Original Articles

پاکستان میں ترقی پسند قوتوں کا فلسطین پہ موقف کیا ہو؟ – عامر حسینی

ورمونٹ سے امریکی سینٹر جو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیفٹ ونگ کے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ہیں کا مضمون نیویارک ٹائمز کی اشاعت میں شامل ہے ۔ یہ مضمون امریکہ میں ترقی پسند قوتوں ، بائیں بازو کے حلقوں کی سوچ کی آئینہ داری کرتا ہے۔ فلسطین کے سوال پہ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پہلی بار واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اسی اشاعت میں ایک اور مضمون بھی شامل کیا ہے جو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر فلسطین اور اسرائیل کو لیکر پہلی بار اتنی واضح تقسیم کے نظر آنے کو بیان کررہا ہے جو پبلک میں بھی صاف نظر آرہی ہے۔ جبکہ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امریکہ میں جو امریکی نوجوان یہودی ہیں ان کی پہلی بار اپروچ امریکہ میں بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے رجعت پسند امریکی یہودیوں سے خاصی مختلف نظر آتی ہے اور امریکی یہودی رائے عامہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پہ تقسیم ہے اور انسانی حقوق کے مختلف ایشوز پہ کام کرنے والی سو سے زیادہ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے پہلی بار

#PalestinianLivesMatter #PalestinianHaveRights

ہیش ٹیگز کے ساتھ تحریک لانچ کی ہے۔ بلیک لائیوز میٹر کا سلوگن لیکر چلنے والی طاقتور تنظیموں نے بھی امریکی حکومت پہ دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی نسل پرستانہ حکومت کی جارحیت کے خلاف قدم اٹھائے۔ اور بائیڈن انتظامیہ اس حوالے سے خاصے دباؤ میں نظر آتی ہے۔

اس وقت یورپ میں بھی قریب قریب یہی رجحان غالب نظر آرہا ہے۔ یہ ایک ہیومنٹیرین، سیکولر اپروچ ہے جس کے ساتھ دنیا فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی بنارہی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں جو بنیاد پرست سیاسی اسلام کے علمبردار ہیں وہ اسے ایک مذہبی جنگ بناکر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور درپردہ وہ سردجنگ کے زمانے سے قومی آزادی کی تحریکوں کے ساتھ نظریہ کے نام پہ جو کھیلواڑ کرتے رہے ہیں اسے جواز فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مثبت تبدیلی یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں صہیونیت اور اسرائیل کے جبر و ظلم کو جو فوری طور پہ سامیت مخالف اور یہودی مخالف قرار دے دیا جاتا تھا وہ رجحان کافی کمزور پڑگیا ہے اور ایسے ہی فلسطین کی تحریک آزادی کو “دہشت گردی” سے جو منسوب کردیا جاتا تھا اس کی بھی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔

پاکستان میں ترقی پسند قوتوں اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں جیسے پی پی پی ، اے این پی، پی ٹی ایم ، سرائیکی لوک سانجھ ، خدمت خلق موومنٹ، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ، انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان لیفٹ گروپس اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور گروہ ہیں ان کو اسی اپروچ کے ساتھ فلسطین، افغانستان، کشمیر، یمن وغیرہ پہ اپنا موقف بنانے اور اس کے گرد تحریک کی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ رجعت پرست ، بنیاد پرست، فرقہ پرست قوتوں کو ان سوالات پہ ہمارے سماج میں غالب آنے سے روکا جائے۔ ہمارے لیے افغانستان ، کشمیر پہ انسان دوست ترقی پسند موقف کےساتھ محاذ /فرنٹ کی تشیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Bernie Sanders: The U.S. Must Stop Being an Apologist for the Netanyahu Government

برنی سینڈرز: امریکہ کو نیتن یاھو حکومت کی عذر خواہی بند کرنی لازم ہے

“Israel has the right to defend itself.”

“اسرائیل کو اپنے دفاع کا ہے۔”

These are the words we hear from both Democratic and Republican administrations whenever the government of Israel, with its enormous military power, responds to rocket attacks from Gaza.

“جب کبھی حکومت اسرائیل اپنی زبردست فوجی طاقت کے ساتھ غزہ کی طرف سے راکٹ حملوں کا جواب دیتا ہے تو ہم ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں کی حکومتوں کی طرف سے یہ الفاظ سنتے ہیں”

Let’s be clear. No one is arguing that Israel, or any government, does not have the right to self-defense or to protect its people. So why are these words repeated year after year, war after war? And why is the question almost never asked: “What are the rights of the Palestinian people?”

” ہمیں ایک بات تو صاف دھیان میں رکھنی ہوگي کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ اسرائیل یا کسی بھی حکومت کو اپنے ذاتی دفاع یا اپنے لوگوں کی حفاظت کا حق نہیں ہے ۔ تو پھر ہم کیوں سال بہ سال اور جنگ بہ جنگ یہ الفاظ دہراتے ہیں؟ اور اور کیوں ہم نے قریب قریب کبھی بھی نہیں یہ سوال نہیں پوچھا:” فلسطینی عوام کے حقوق کیا ہیں؟

And why do we seem to take notice of the violence in Israel and Palestine only when rockets are falling on Israel?

اور ہم اسرائیل اور فلسطین میں تشدد کا نوٹس تب ہی کیوں لیتے ہیں جب اسرائیل پہ راکٹ گررہے ہوتے ہیں؟

In this moment of crisis, the United States should be urging an immediate cease-fire. We should also understand that, while Hamas firing rockets into Israeli communities is absolutely unacceptable, today’s conflict did not begin with those rockets.

بحران کی اس حالت میں، امریکہ کو فوری جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جب حماس اسرائیلی برادریوں پہ راکٹ پھینک رہا ہے وہ قطعی قابل قبول نہیں ہے اور آج کا جو ٹکراؤ ہے یہ ان راکٹوں سے شروع نہیں ہوا۔

Palestinian families in the Jerusalem neighborhood of Sheikh Jarrah have been living under the threat of eviction for many years, navigating a legal system designed to facilitate their forced displacement. And over the past weeks, extremist settlers have intensified their efforts to evict them.

یروشلم کے پڑوس میں یا شیخ جراح میں فلسطینی خاندان کئی سالوں سے بے دخل کیے جانے کے خطرے کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ وہ ایسے قانون سسٹم کے اندر سفر کررہے ہیں جو ان کی چبری بے دخلی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اور چند ہفتوں سے متشدد آبادکارون نے انھیں بے دخل کرنے کی کوشیں تیز کررکھی ہیں۔

And, tragically, those evictions are just one part of a broader system of political and economic oppression. For years we have seen a deepening Israeli occupation in the West Bank and East Jerusalem and a continuing blockade on Gaza that make life increasingly intolerable for Palestinians. In Gaza, which has about two million inhabitants, 70 percent of young people are unemployed and have little hope for the future.

اور المناک طور پر وہ بے دخلیاں ایک سیاسی اور معاشی جبر کے بڑے وسیع نظام کا حصّہ ہیں۔ کئی سالوں سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں ہم اسرائیلی قبصء مزید گہرا ہوتے دیکھ رہے ہیں اور غزہ کی ناکہ بندی کو اور سخت پارہے ہیں جو فلسطینیوں کے لیے زندگی کو بہت زیادہ ناقابل برداشت بنارہا ہے۔ غزہ جوکہ 20 لاکھ کی آبادی کا علاقہ ہے اور 70 فیصد نوجوان لوگوں پہ مشتمل ہے جو بے روزگار ہیں اور مستقبل میں ان کے پاس امید بہت کم ہے۔

Further, we have seen Benjamin Netanyahu’s government work to marginalize and demonize Palestinian citizens of Israel, pursue settlement policies designed to foreclose the possibility of a two-state solution and pass laws that entrench systemic inequality between Jewish and Palestinian citizens of Israel.

مزید ہم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کا کام اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کو کمتر بنانا اور ان کو شیطان بناکر پیش کرنا ہی دیکھے ہیں- وہ آبادکاری کی پالیسیوں پہ عمل پیرا ہے جو دو ریاست حل کے امکان کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہيں ۔ اور وہ ایسے قوانن منظور کروارہی ہے جو اسرائیل کے یہودی اور فلسطینی شہریوں میں عدم مساوات کو اور گہرا بنا رہے ہیں-

None of this excuses the attacks by Hamas, which were an attempt to exploit the unrest in Jerusalem, or the failures of the corrupt and ineffective Palestinian Authority, which recently postponed long-overdue elections. But the fact of the matter is that Israel remains the one sovereign authority in the land of Israel and Palestine, and rather than preparing for peace and justice, it has been entrenching its unequal and undemocratic control.

حماس کے حملوں کے لیے کوئی عذر نہیں بنتا جوکہ یروشلم میں پیدا بے چینی کا فائدہ اٹھانے کی کوششیں تھیں یافلسطین اتھارٹی کے بدعنوان

اور غیر موثر پن سے پیدا ناکامیوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے جس نے حال ہی میںایک بار پھر انتخابات کو ملتوی کردیا ہے۔ لیکن حقیقت پہ مبنی مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل ہی سرزمین اسرائیل و فلسطین میں واحد خودمختار اتھارٹی ہے اور وہ امن اور انصاف کے لیے فضا تیار کرنے کے غیرمساوی اور غیر جمہوری کنٹرول کو گہرا کررہا ہے۔

Over more than a decade of his right-wing rule in Israel, Mr. Netanyahu has cultivated an increasingly intolerant and authoritarian type of racist nationalism. In his frantic effort to stay in power and avoid prosecution for corruption, Mr. Netanyahu has legitimized these forces, including Itamar Ben Gvir and his extremist Jewish Power party, by bringing them into the government. It is shocking and saddening that racist mobs that attack Palestinians on the streets of Jerusalem now have representation in its Knesset.

دوسری طرف ایک عشرے سے دائیں بازو کے برسراقتدار بنجمن نتین یاھو نے بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور آمرانہ قسم کے نیشنلزم کی کاشت کی ہے۔ اقتدار میں رہنے کی جنونی کوشش اور اپنی بدعنوانی پر احتساب سے بچنے کے لیے بنجمن نیتن یاھو نے ان طاقتوں کو قانونی جواز بخش دیا ہے جن میں اتمار بن گور اور اس کی انتہا پسند جیوش پارٹی بھی شامل ہیں جن کو اس نے حکومت میں شامل کررکھا ہے۔ یہ صدمے اور اداس کرنے والی بات ہے کہ نسل پرست ہجوم جو یروشلم کی گلیوں میں فلسطینیوں پہ حملے کرتے ہیں اب وہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی نمآئندگی کرتے ہیں۔

These dangerous trends are not unique to Israel. Around the world, in Europe, in Asia, in South America and here in the United States, we have seen the rise of similar authoritarian nationalist movements. These movements exploit ethnic and racial hatreds in order to build power for a corrupt few rather than prosperity, justice and peace for the many. For the last four years, these movements had a friend in the White House.

یہ خطرناک رجحانات صرف اسرائیل سے خاص نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر میں یورپ، ایشیا، جنوبی امریکہ میں اور یہاں امریکہ میں بھی ہم اسی طرح کی آمرانہ قوم پرست تحریکوں کا ابھار دیکھتے ہیں۔ یہ تحریکیں چند بدعنوانوں کے لیے اقتدار کو مضبوط بننے کے لیے ناکہ اکثریت کے خوشخالی، انصاف اور امن کے لیے نسلیاتی ثقافتی اور نسل پرستانہ نفرت کو ابھارتی ہیں۔ گزشتہ چار سالوں سے ان تحریکوں کے دوست وائٹ ہاؤس میں بھی تھے۔

At the same time, we are seeing the rise of a new generation of activists who want to build societies based on human needs and political equality. We saw these activists in American streets last summer in the wake of the murder of George Floyd. We see them in Israel. We see them in the Palestinian territories.

اور اس کے ساتھ ساتھ ہم کارکنوں کی ایک نئی نسل کو ابھرتا بھی دیکھ رہےہیں جو انسانی ضرورتوں اور سیاسی برابری کی بنیاد پہ معاشروں کی تعمیر چاہتی ہے۔ گزری گرمیوں میں ہم نے ان کارکنوں کو امریکہ کی گلیوں میڑ جارج فلویڈ کے قتل پہ جاگرتی کرتے دیکھا۔ ہم ان کو اسرائيل میں بھی دیکھتے ہیں ۔ ہم ان کو فلسطینی علاقوں میں بھی دیکھتے ہیں۔

With a new president, the United States now has the opportunity to develop a new approach to the world — one based on justice and democracy. Whether it is helping poor countries get the vaccines they need, leading the world to combat climate change or fighting for democracy and human rights around the globe, the United States must lead by promoting cooperation over conflict.

امریکہ میں ایک نئے صدر کے ساتھ اب دنیا کی طرف دیکھنے کی ایک نئی اپروچ کو ترقی دینے کا موقعہ ہے۔۔۔۔۔ جس کی بنیاد انصاف اور جمہوریت پہ ہو۔ چاہے یہ غریب ملکوں کو ویکسین فراہم کرنے کی شکل میں مدد فراہم کرکے کی جائے ، ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والی قوتوں کی قیادت کرکے کی جائے یا دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے لڑائی کی صورت میں کی جائے۔ امریکہ کو ٹکراؤ پہ تعاون کو ترقی دینے میں سب سے سبقت لینی چاہیے۔

In the Middle East, where we provide nearly $4 billion a year in aid to Israel, we can no longer be apologists for the right-wing Netanyahu government and its undemocratic and racist behavior. We must change course and adopt an evenhanded approach, one that upholds and strengthens international law regarding the protection of civilians, as well as existing U.S. law holding that the provision of U.S. military aid must not enable human rights abuses.

ہم مشرق وسطی میں جہاں ہم ہر سال اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی امداد دیتے ہیں ، ہم اب اور دائیں بازو کی نیتن یاہو حکومت کی عذر خواہی نہيں کرسکتے اور نہ ہی اس کے غیر جمہوری اور نسل پرستانہ رویے کا جواز پیش کرسکتے ہیں- ہمیں راستا بدلنا لازم ہے اور ہمیں ایسی سخت اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے جو شہریوں کے تحفظ بین الاقوامی قانون کا لحاظ کرتی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس موجود امریکی قانون کا پالن بھی کرتی ہو جس کے مطابق امریکہ کی فوجی امداد کسی کے لیے انسانی حقوق کی پامالی کا راستا نہ کھول دے۔

This approach must recognize that Israel has the absolute right to live in peace and security, but so do the Palestinians. I strongly believe that the United States has a major role to play in helping Israelis and Palestinians to build that future. But if the United States is going to be a credible voice on human rights on the global stage, we must uphold international standards of human rights consistently, even when it’s politically difficult. We must recognize that Palestinian rights matter. Palestinian lives matter.

اس اپروچ کو یہ تسلیم کرنا لازم ہے کہ اسرائیل کو مکمل امن اور تحفظ کے ساتھ باقی رہنے کا حق ہے لیکن ایسا ہی فلسطینیوں کے لیے بھی کرنا لازم ہے۔ ميں پختگی کے ساتھ یقین رکھتا ہوں امریکہ کا اسرائيلیوں اور فلسطینیوں کو ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد دینے کا بڑا کردار بنتا ہے۔ لیکن امریکہ کو عالمی منظر نامے پہ انسانی حقوق کی معتبر آواز بننا ہے تو ہميں انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کو مستقل طور پہ برقرار رکھنا ہوگا اور اس وقت بھی ایسا کرنا ہوگا جب سیاسی اعتبار سے یہ مشکل تر ہی کیوں نہ ہو۔ ہمين لازم ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ فلسطینیوں کے حقوق ہیں اور ان کی زندگیاں بھی اہم ہیں۔