Headlines Original Articles

عام آدمی کا قصور کیا ہے؟ – عامر حسینی

جیسا کہ میں اپنے گزشتہ کالم میں لکھ چکا کہ پاکستان کی ریاست اشراف طبقات کی خدمت پہ مامور ہے اور وہ ایسی پالیساں بناتی ہے جس سے مراعات کا پرنالہ اشرافیہ کے گھروں می برستا ہے۔ کورونا کی وبا پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں جیسے ایک بار پھر پھیلی ہے، اس نے سب سے زیادہ نشانہ عام آدمی کو بنایا ہے۔ کھربوں ڈالر جنگی ساز و سامان پہ خرچ کرنے والا بھارت کورونا کے مریضوں کے لیے آکسجین فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ اور پاکستان جیسا ملک جو اپنے جی ڈی پی کا 8 فیصد سے زیادہ اشرافیہ کی مراعات پہ خرچ کرتا ہے اپنے شہریوں کو کورونا ویکسین فراہم کرنے سے قاصر ہے اور جیسے جیسے کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے ہسپتالوں میں آکسجین سلنڈرز، وینیلیٹرز اور ادویات کی کمی کے مسائل ریاست کی ہنگامی حکلت سے نمٹنے کی صلاحیت کا پول کھول رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں آپ کی قسمت کا تعین اسی وقت ہوجاتا ہے جب آپ جنم لیتے ہیں۔ اگر آپ کسی غریب یا سفید پوش طبقے میں جنم لیتے ہیں تو بہت ساری محرومیوں اور کمیوں کا ٹھپہ آپ کے ماتھے پہ لگ جاتا ہے۔ اور اگر آپ کسی فوجی اشراف، سرمایہ دار، بڑے تاجر یا زمیندار اشراف گھرانے میں پیدا ہوئے تو سمجھ لین ریاست اور سماج دونوں آپ کی خدمت پہ مامور ہیں۔ آپ اچھے سے اچھے اسکول، کالج، یونیورسٹی میں پڑھیں گے، بیرون ملک سفر کی آسائش سے بہرہمند ہوں گے۔ پھر آپ کو یا تو خوب پھلتا پھولتا کاروبار، یا پھر بڑے پمیانے پہ زرعی اراضی یا پھر بڑے پیمانے پہ سرمائے کی تنظیم کاری سونپ دی جائے گی۔ اور اگر آپ ایک غریب گھر میں پیدا ہوگئے تو ہر جگہ اور ہر مرحلے پہ آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں زکر کیا تھا کہ کیسے پاکستان کی حکومت اس ملک کے فوجی، زمیندار، تاجر اور سرمایہ دار اشراف طبقات کو قومی دولت کا اتنا بڑا حصّہ مراعات کی شکل میں دیتی ہے جتنا قومی دولت کی پیداوار میں ان کا کردار نہیں ہوتا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کو لیکر مقبول عام بحث جو چل رہی ہے وہ یہ ہے کون سا صوبہ دستیاب اعداد و شمار ميں کہاں پہ کھڑا ہے۔

پی پی پی کے دوست سندھ بارے بنائے گئے اس تاثر کو توڑ رہے ہیں کہ وہ انسانی ترقی کے اشاریے میں دیگر صوبوں سے پیچھے کھڑا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے عام آدمی کے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ اس بات پہ کم دھیان دے رہے ہیں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ایک فرق سب سے بنیادی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک فیصد امیر ترین طبقہ اس ملک کی کل آمدنی کے 50 فیصد پہ قابض ہے اور 41 فیصد غریب ترین طبقہ کا کل آمدنی میں محض 7 فیصد حصّہ ہے۔ جبکہ یہ ایک فیصد امیر ترین طبقہ انسانی ترقی کے اشاریہ میں غریب ترین 41 فیصد طبقے کے مقابلے میں 6 گنا اوپر ہے ۔ اتنے بڑے پیمانے کی امیر اور غریب کی عدم مساوات پہ دھیان نہ دینا سیاسی جماعتوں کے عام آدمی کے طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں اوران کے حامی سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کے لیے شرم کا مقام ہے۔

ماہر فلسفہ سیاسیات اور قانون دان رافعہ زکریا نے یو این ڈی پی کی پاکستان میں انسانی ترقی کے اشاریہ پہ 2020ء کی مرتب کردہ رپورٹ بارے بات کرتے ہوئے انھوں نے کراچی کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کراچی ایک ایسا شہر ہے جو یو این ڈی پی کے مطابق وفاقی ٹیکسوں میں 54 فیصد اور صوبہ سندھ کے کل ٹیکسوں کی مد میں وصولی کا 84 فیصد پیسہ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ بدلے میں کراچی کو پبلک اخراجات کی مد میں کل اخراجات کا صرف 5 فیصد ملتا ہے۔ کراچی مونپسل کارپوریشن کا جو سالانہ بجٹ ہے وہ 4 ارب 20 کروڑ 80 لاکر(149 ملین ڈالر) ہے جبکہ پڑوسی ملک ہندوستان کے معاشی مرکز ممبئی کی مونسپل کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 625 ارب 40 کروڑ 40 لاکھ روپے سالانہ ہے۔

جب پبلک اخراجات میں کراچی کو کل اخراجات کا 5 فیصد دیں گے اور کراچی کی مونسپل کارپوریشن کو 5 ارب روپے سے بھی کم بجٹ ملے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس شہر میں سیوریج، پینے کے صاف پانی، کچی آبادیاں، تجاوزات، کچرا کنڈی، زمینوں پہ قبضے، امن و امان کے مسائل تو اپنے آپ حل نہیں ہوں گے۔ اور بڑھتے بڑھتے یہ مسائل خوفناک شکل اختیار کرجائیں گے۔ اس شہر پہ ایک عرصے تک ایم کیو ایم کی حکمرانی رہی اور اب تیسرا دور جارہا ہے جب پی پی پی صوبہ سندھ میں برسراقتدار ہے اور وفاق میں پہلے پی پی پی پھر نواز لیگ اور اب پی ٹی آئی برسراقتدار ہے لیکن نہ تو کراچی کا وفاقی اور سندھ کے بجٹ میں پبلک اخراجات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بڑی تبدیلی آئی ہے جس سے ہم یہ کہہ سکیں کہ کراچی شہر کے مسائل اب تھوڑے سے رہ گئے ہیں اور اس شہر پہ اخراجات کا بجٹ بھی پانچ فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردیا گیا ہے۔

کراچی میں ملک کی کل آبادی کا 10 فیصدی حصّہ رہتا ہے۔ جبکہ لاہور کارپوریشن کا بجٹ ساڑھے چار ارب روپے کے قریب ہے اور اس کا ملکی معشیت میں حصّہ 11 فیصد اور پنجاب میں انیس فیصد ہے- تو کراچی ملکی آمدنی میں 54 فیصد اور صوبائی معشیت میں 82 فیصد حصّہ ڈال کر 5 فیصد وصول کرتا ہے اور لاہور ملکی معشیت میں 11 فیصد اور پنجاب کی معشیت میں 19 فیصد حصّہ ڈال کر وفاق سے پبلک اخراجات کی مد میں 7 فیصد اور صوبے سے 12 فیصد وصول کرتا ہے۔ ایسا کیون ہے؟ پاکستان انسانی ترقی کے جدول میں ممالک کی فہرست میں 154 نمبر پہ ہے جس سے اس کی پسماندگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہندوستان کا نمبر 121 ہے، جبکہ بنگلہ دیش 133، سری لنکا 72، نیپال 142،ایران 70 پہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا انسانی ترقی کے جدول میں جنوبی ایشیائی ممالک میں ہم صرف اپنے ہمسایہ ملک افغانستان سے آگے ہیں جو 172 پہ کھڑا ہے۔

پاکستان میں جو امیر ترین طبقہ ہے جو کل آبادی کا 1 فیصد ہے وہ ملکی آمدنی کے 50 فیصد پہ قابض ہے جبکہ انتہائی ترین آبادی کل آبادی کا41 فیصد ہیں اور ان کے حصّے میں کل آمدنی محض 7 فیصد آتی ہیں-پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ ملک مين زرعی ملکیت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز وراثت و دیگر عوامل کی وجہ سے کم ہوا ہے۔ لیکن رپورٹ بتارہی ہے 42 سال میں کل کاشت کردہ زرعی رقبے میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا اور ارتکاز ملکیت زمین بڑھ گیا ہے۔پنجاب ميں 20 فیصد امیر ترین آدمیوں کا فی کس جی ڈی پی 20 فیصد غریبوں کے مقابلے میں 6 گنا اور انسانی ترقی کا اعشاریہ ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ جبکہ سندھ میں 20 فیصد امیر ترین آدمیوں کا فی کس جی ڈی پی 20 فیصد غریبوں کے مقابلے میں 5 اعشاریہ 3 گنا زیادہ ہے اور انسانی ترقی کا اشاریہ ایک اعشاریہ 6 فیصد ہے۔اگرچہ پاکستان میں شہری اور دیہی آبادی میں صحت کی بنیادی سہولتوں میں اتنا فرق نہیں ہے جتنا فرق تعلیم اور آمدنی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

چاروں صوبوں میں یہ فرق بہت زیادہ عدم مساوات کو جنم دے رہا ہے۔ایک بات اس رپورٹ میں عام تاثر سے ہٹ کر نوٹ کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی ترقی کے اشاریے میں سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا صوبہ سندھ ہے اور پھر پنجاب ہے اور اس کے بعد کے پی کے ہے اور سب سے پیچھے بلوچستان ہے۔ قدرتی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان پیچھے کی طرف جارہا ہے اور اس اعتبار سے سندھ سب سے آگے ہے۔ پاکستان نے گزشتہ 42 سالوں میں انسانی ترقی کے اشاریے میں 39 فیصد ترقی کی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش اور بھارت نے انسانی ترقی کے اشاریے میں 59 فیصد اور 52 فیصد ترقی کی ہے۔پاکستان کے گزشتہ 42 سال کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں عام آدمی پہ خرچ کا تناسب جمہوری ادوار میں آمریتوں کے دور سے بڑھا ہے چاہے جی ڈی پی کی شرح آمریت دور میں بڑھی ہوئی کیوں نہ ہو۔ لیکن جب ہم امیروں پہ ریاستی خرچ کا غریبوں پہ ریاستی خرچ سے موازانہ کرتے ہیں تو یہ فرق آمریت اور جمہوریت دونوں ادوار میں بہت معمولی سے فرق کے ساتھ ایک سا رہتا ہے۔

اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ پالیس ساز اداروں میں چاہے وہ پارلیمنٹ ہی کیوں نہ ہو ودردی بے وردی اشرافیہ ہی قابض ہے جو اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں بناتی ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی اسی خلیج کو پاٹنے کا ہے -پاکستان میں اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں طاقتور اور پالیسی ساز ادارے ہیں ان کے فیصلہ کن اور سب سے طاقتور عہدوں پہ اشراف طبقات سے لوگ براجمان ہیں اور ان کی ترجیح میں عام لوگ شامل ہی نہیں ہیں۔