Book Reviews Featured Original Articles

پروفیسر عباس زیدی کا ناول کفار مکہ – حیدر جاوید سید

پروفیسر عباس زیدی سے اولین تعارف ان مضامین کے حوالے سے ہوا جو عامر حسینی نے ترجمہ کیئے اور شیعہ نسل کشی کے حوالے سے ان کی مرتب کردہ کتاب میں شامل تھے۔

بیرون ملک مقیم پروفیسر عباس زیدی زیادہ تر انگریزی میں ہی لکھتے ہیں۔ پاکستان میں شیعہ اور صوفی سنی نسل کشی اور دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے ان کا تحقیقی کام انگریزی کے ساتھ اردو دان طبقے میں بھی مقبول ہوا۔ درست اعدادوشمار غیرجذباتی تجزیہ اور دہشت گردی کے فروغ کے بنیادی اسباب پر ان کی رائے اور تجزئیات بلاشبہ خاصے کی چیز ہیں۔

ان کا ناول ’’کفار مکہ‘‘ پاکستان میں دہشت گردی، محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل اور پس منظر کے ساتھ جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ مخصوص فہم کی تنظیموں اور ان کے کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔

’’کفار مکہ‘‘ بظاہر ایک ناول ہے لیکن اس کی سطر سطر اپنے پڑھنے والوں کو کچھ اس طرح حصار میں لیتی ہے کہ قاری خود کو ناول کے کرداروں میں سے ایک کردار سمجھ کر ایسے محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی اجلاس میں اپنے خیالات بیان کررہا ہو یا پھر کسی سرکاری ’’بوچڑخانے‘‘ میں تشدد برداشت کررہا ہو۔

’’کفارمکہ‘‘ کا اردو ترجمہ محمد عامر حسینی نے کیا ہے۔ عامر حسینی ہمارے دوست اور برادرِ عزیز ہیں۔ علم و ادب اور صحافت کی دنیا میں اپنی خاص شناخت کے حامل بھی۔ قبل ازیں ان کی تصنیف ’’کوفہ‘‘ شائع ہوئی وہ بھی موضوع کے اعتبار سے اردو دان طبقے کے لئے ایک منفرد کتاب تھی۔ ’’کوفہ‘‘ میں ان تاریخی مغالطوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جو بنو امیہ و بنو عباس کے ساتھ خوارجی فہم کے حاملین نے اس تاریخی اہمیت کے حامل شہر کے بارے میں پھیلائے تھے۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر ان کی مرتب کردہ کتاب نے بھی خاصی پذیرائی حاصل کی۔ وہ ان دنوں مجدد الف ثانیؒ کے حوالے سے تحقیقی کام کے علاوہ متحدہ پاکستان کی نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ اور مشہور ترقی پسند سیاستدان مولانا بھاشانی کی ’’زندگی اور جدوجہد‘‘ پر بھی کام کررہے ہیں۔

’’کفار مکہ‘‘ کا عام فہم زبان میں ترجمہ پڑھنے والوں میں مختصر عرصہ کے دوران مقبول ہوا۔ اس ناول میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی گھٹن اور امن و انسانیت دشمن کرداروں کے ساتھ پس پردہ ڈوریاں ہلانے والوں کو جس انداز میں بے نقاب کیا گیا وہ دادوتحسین کے لائق ہے۔

ہمارے یہاں اس موضوع (دہشت گردی، مذہبی شدت پسندی اور جمہوری عمل کے خلاف سازشوں) پر ناول کی صورت میں بہت کم لکھا گیا۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری حارث خلیق کہتے ہیں ’’یہ ناول شروع سے آخر تک المناکیوں سے بھرا ہوا ہے مگر اسے ان لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہیے جو یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کیسے افراد کی زندگیوں کی صورت کرتی یا برباد کرتی ہے‘‘۔

سڈنی یونیورسٹی آسٹریلیا میں لسانیات اور جرنلزم کے استاد پروفیسر عباس زیدی کا خصوصی انٹرویو بھی ناول میں شامل ہے جو مرتب نے کیا۔ عباس زیدی ایک جگہ کہتے ہیں ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مذہبی معاشرے میں جہاں انسانی حقوق کا انحصار خدا کی غیرمشروط فرماں برداری پر ہے، انقلاب آسکتا ہے؟ یہ وہ سماج ہے کہ اگر آپ اس (خدا) کی فرماں برداری نہیں کرتے تو آپ کافرِ محض ہوسکتے ہیں‘‘۔

’’کفار مکہ‘‘ اپنے اچھوتے موٗضوع کی وجہ سے ہمیں یہ سمجھاتاہے کہ کیوں اس اور اس طرح کے موضوعات پر ہمارے یہاں نہیں لکھا جاتا۔

صاف سیدھی وجہ یہ ہے کہ گھٹن سے بھرے معاشرے میں جہاں مختلف فہموں کی دو دھاری تلواریں لہراتے سربکف مجاہدین حصول جنت کے لئے انسانی خون بہانے سے دریغ نہ کرتے ہوں وہاں حساس موضوعات پر لکھنا خاصا مشکل ہے۔ پروفیسر عباس زیدی نے ’’کفار مکہ‘‘ کے لئے جس موضوع کا انتخاب کیا اس سے بھرپور انصاف بھی کیا۔ گو ناول پڑھ کر قاری کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ اتنی ہی ضخامت اور ہوتی تاکہ مزید کچھ جان پاتے پھر بھی تین سو صفحات کے اس ناول میں پڑھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔

ناول نگاری بذات خود ایک فن ہے۔ انگریزی ناول کو اردو کے قالب میں ڈھالنا خود سے اردو میں لکھ لینے کے مقابلہ میں خاصا مشکل ہے۔ محمد عامر حسینی اپنے وسیع مطالعے اور موضوعات پر گرفت کی بدولت ’’کفار مکہ‘‘ کا شاندار اردو ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ خود کسی مرحلہ پر ناول نگاری کی طرف آئے تو پڑھنے والوں کو خاص اسلوب میں لکھا ناول یا ناولز پڑھنے کو ملیں گے۔ ’’کفار مکہ‘‘ اردو دان طبقوں میں موضوع کے اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل کرچکا۔ پروفیسر عباس زیدی کا دیباچہ بہت تاریخی اہمیت کا حامل ہے خود مترجم نے بھی ناول اور اس کے موضوع پر تفصیل سے بات کی ہے۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ پروفیسر عباس زیدی کا ناول ’’کفار مکہ‘‘ مطالعہ سے رغبت رکھنے والی نئی نسل کو ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ وہ اس امر سے آگاہ ہوسکیں کہ جدوجہد اور تحریر نویسی اس معاشرے میں کتنے مشکل کام ہیں جہاں دیندار اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی بنے آزاد فکری کو کچلنے میں سبقت لے جاتے ہوئے دیکھائی دیتے ہوں۔